نام کی سیاست، قانون کی بیٹنگ اور اسٹیڈیم کی قسمت


پشاور کے تاریخی میدان میں اس بار نہ کوئی میچ ہو رہا ہے، نہ کوئی باؤنسر پھینکا گیا ہے، نہ کسی بلے باز نے چھکا لگایا ہے، مگر شور ایسا ہے جیسے آخری اوور میں میچ برابر ہو۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اس بار گیند، بلے اور وکٹ کی جگہ فائلیں، نوٹیفکیشن اور قانونی نکات میدان میں اتر آئے ہیں۔ موضوع یہ ہے کہ **ارباب نیاز کرکٹ اسٹیڈیم** کا نام بدل کر **عمران خان کرکٹ اسٹیڈیم** رکھنا قانونی طور پر درست تھا یا نہیں۔

عام آدمی سمجھے گا کہ بھئی نام ہی تو بدلا ہے، اس میں کیا مسئلہ ہے؟ لیکن پاکستان میں نام بدلنا اتنا سادہ نہیں جتنا سوشل میڈیا پر پوسٹ بدلنا۔ یہاں ایک بورڈ تبدیل کرنے کے پیچھے فائلوں کی اتنی لمبی اننگز ہوتی ہے کہ ٹیسٹ میچ بھی مختصر لگنے لگتا ہے۔

کہانی شروع ہوتی ہے ایک تاریخی اسٹیڈیم سے۔ **1987 میں ارباب نیاز کے نام سے منسوب ہونے والا یہ میدان** پشاور کی کرکٹ شناخت کا حصہ بن چکا تھا۔ یہاں میچ ہوئے، شائقین نے شور مچایا، نوجوانوں نے خواب دیکھے، اور حکومتوں نے تصویریں بنوائیں۔ پھر اچانک فیصلہ ہوا کہ اس کا نام تبدیل کر کے عمران خان کے نام سے منسوب کر دیا جائے۔ سیاسی کارکن خوش، حمایتی پرجوش، اور سوشل میڈیا پر مبارک بادوں کی لائن لگ گئی۔ یوں لگ رہا تھا جیسے ورلڈ کپ دوبارہ جیت لیا گیا ہو۔

مگر مسئلہ یہ ہوا کہ قانون بھی نام کی پلیٹ کی طرح دیوار پر لگا ہوتا ہے، بس فرق یہ ہے کہ قانون کی پلیٹ اتنی آسانی سے نہیں اترتی۔

خیبرپختونخوا کے ایڈووکیٹ جنرل نے جب فائل دیکھی تو شاید ان کے چہرے پر وہی مسکراہٹ آئی ہوگی جو امپائر کو نو بال پکڑنے پر آتی ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ جناب، **قواعد کے مطابق کسی زندہ شخص یا فعال سیاسی شخصیت کے نام پر کسی عوامی جگہ کو منسوب نہیں کیا جا سکتا۔** دوسرا یہ کہ **کسی جگہ کا نام پچاس سال سے پہلے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔**

اب ذرا حساب لگائیں۔ 1987 سے اب تک تقریباً 39 سال بنتے ہیں۔ یعنی قانون کہتا ہے ابھی گیارہ سال اور انتظار کرو۔ مگر ہماری انتظامیہ کا مزاج ایسا ہے کہ وہ کہتی ہے “گیارہ سال کیوں؟ آج ہی کر دیتے ہیں۔”

یہ بالکل ویسا ہی ہے جیسے کوئی کھلاڑی کہے کہ میچ کے قوانین کے مطابق اوور چھ گیندوں کا ہے، لیکن کپتان بول دے کہ “نہیں بھائی، ہماری مرضی ہے، آج چار گیندوں کا اوور ہو گا۔”

پاکستان میں قوانین اکثر اس وقت یاد آتے ہیں جب عدالت پوچھتی ہے کہ “یہ کیا کر دیا؟” اس سے پہلے فیصلے ایسے ہوتے ہیں جیسے محلے کے لڑکے گلی کرکٹ کے رولز بنا رہے ہوں۔ پہلے نام رکھ دو، بعد میں قانون ڈھونڈ لو۔

اس سارے معاملے میں سب سے دلچسپ کردار وہ سرکاری خط ہے جس میں کہا گیا کہ اگر نام تبدیل کرنا ہے تو پہلے رولز میں ترمیم کرنی پڑے گی۔ یعنی پہلے قانون رکاوٹ بنا، پھر مشورہ دیا گیا کہ قانون بدل لو۔ ہمارے ہاں قانون کی یہی خوبصورتی ہے کہ اگر راستے میں آئے تو راستہ بدلنے کے بجائے قانون بدلنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

یوں لگتا ہے جیسے کوئی طالب علم امتحان میں فیل ہو جائے اور کہے، “سر، پرچہ مشکل نہیں تھا، بس پاسنگ مارکس کم کر دیں۔”

یہاں بھی منطق یہی ہے کہ چونکہ نام رکھنا ضروری ہے، اس لیے قانون میں ترمیم کر دو۔ اگر رولز کہتے ہیں کہ پچاس سال بعد نام بدلے گا تو رولز بدل دو۔ اگر رولز کہتے ہیں زندہ شخص کے نام پر نہیں ہوگا تو وہ بھی بدل دو۔ گویا قانون کوئی مستقل اصول نہیں بلکہ ربڑ کی لکیر ہے، جسے طاقتور ہاتھ اپنی ضرورت کے مطابق کھینچ لیتا ہے۔

اور مزاحیہ بات یہ ہے کہ عوام کو بتایا جاتا ہے کہ یہ سب “عوامی جذبات” کے تحت ہو رہا ہے۔ پاکستان میں عوامی جذبات ایک ایسی جادوئی دلیل ہے جس سے ہر فیصلہ جائز قرار دیا جا سکتا ہے۔ اگر کوئی پوچھے کہ قانون کہاں ہے، جواب آتا ہے: “عوام یہی چاہتے ہیں۔”

حالانکہ عوام یہ بھی چاہتے ہیں کہ بجلی سستی ہو، پانی صاف ہو، کھیل کے میدان آباد ہوں، لیکن وہاں عوامی جذبات یاد نہیں آتے۔ وہاں فائلیں سست پڑ جاتی ہیں۔ مگر جب کسی عمارت، سڑک یا اسٹیڈیم کا نام بدلنا ہو تو جذبات فوراً جاگ جاتے ہیں۔

اصل سوال یہ نہیں کہ عمران خان کے نام پر اسٹیڈیم ہونا چاہیے یا نہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ **کیا قانون سب کے لیے برابر ہے یا نہیں؟** اگر قانون کہتا ہے کہ نہیں ہو سکتا، تو پھر نہیں ہونا چاہیے۔ اگر قانون بدلنا ہے تو پہلے قانون بدلو، بعد میں بورڈ لگاؤ۔ یہاں الٹا ہوا۔ پہلے بورڈ لگ گیا، پھر قانون ڈھونڈا جا رہا ہے۔

یہ بالکل ایسے ہے جیسے پہلے شادی کر لی جائے اور بعد میں نکاح نامہ تلاش کیا جائے۔

مزید مزے کی بات یہ ہے کہ سرکاری ادارے عدالت میں جا کر خود مان رہے ہیں کہ جی رولز میں ترمیم کی ضرورت ہے۔ یعنی مطلب صاف ہے کہ پہلے کام قواعد کے مطابق نہیں ہوا۔ اب عدالت کے سامنے قانونی جواز ڈھونڈا جا رہا ہے۔

یہ ہماری بیوروکریسی کی کلاسک حکمت عملی ہے:
**پہلے فیصلہ کرو، پھر فائل بناؤ، پھر اگر مسئلہ ہو تو کمیٹی بنا دو۔**

اگر اس منطق کو عام زندگی میں لاگو کیا جائے تو ٹریفک پولیس بھی یوں چالان کرے: “آپ نے غلطی نہیں کی، مگر قانون کو اپڈیٹ کر لیتے ہیں تاکہ آپ درست ثابت ہو جائیں۔”

یہاں اصل تماشہ نام کا نہیں، اختیار کے استعمال کا ہے۔ حکمران جماعت جب اقتدار میں آتی ہے تو سب سے پہلے اسے نام بدلنے کی بیماری لگ جاتی ہے۔ کہیں سڑک کا نام بدل دو، کہیں ہال کا، کہیں ہسپتال کا۔ جیسے اصل ترقی نام بدلنے سے آتی ہو۔

اسٹیڈیم کی پچ خراب ہو، ڈریسنگ روم ٹوٹا ہوا ہو، فلڈ لائٹس ناکارہ ہوں، لیکن نام نیا ہونا چاہیے۔ گویا مریض کی دوا نہ بدلو، بس نام بدل دو تاکہ وہ خود کو صحت مند محسوس کرے۔

کرکٹ اسٹیڈیم کو نام دینے سے کرکٹ بہتر نہیں ہوتی۔ میدان کی مرمت، سہولیات، اکیڈمی، کوچنگ اور انتظامیہ بہتر ہونے سے کھیل بہتر ہوتا ہے۔ لیکن یہ کام مشکل ہیں۔ ان کے لیے محنت چاہیے، بجٹ چاہیے، شفافیت چاہیے۔ اس کے برعکس بورڈ بدلنا آسان ہے۔ چند پیچ کھولو، نیا بورڈ لگاؤ، تصویر کھنچواؤ، اور کامیابی کا اعلان کر دو۔

یہ بالکل ویسا ہے جیسے کوئی خستہ حال اسکول کا نام “ماڈل اسکول” رکھ دے اور سمجھے تعلیم بہتر ہوگئی۔

ہمارے ہاں علامتی فیصلے اصل مسائل پر پردہ ڈالنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ عوام کو نام دیا جاتا ہے، نظام نہیں۔ نعرہ دیا جاتا ہے، اصلاح نہیں۔ تصویر دی جاتی ہے، کارکردگی نہیں۔

اس پورے معاملے میں عدالت کا کردار اہم ہے کیونکہ عدالت کم از کم یہ پوچھ رہی ہے کہ “قانون کہاں ہے؟” ورنہ ہمارے اداروں کا حال یہ ہے کہ اگر کوئی پوچھنے والا نہ ہو تو ہر چیز “اختیارات” کے نام پر جائز سمجھی جاتی ہے۔

یہ مقدمہ صرف ایک اسٹیڈیم کے نام کا نہیں بلکہ حکمرانی کے اصول کا امتحان ہے۔ اگر آج قانون کو نظر انداز کر کے نام بدل دیا جاتا ہے، تو کل کوئی اور حکومت آ کر دوبارہ نام بدل دے گی۔ پھر اگلی حکومت پھر بدل دے گی۔ یوں اسٹیڈیم کرکٹ سے زیادہ سیاسی تبدیلیوں کی یادگار بن جائے گا۔

شاید آنے والے وقت میں بورڈ پر لکھا ہو:
**“اسٹیڈیم کا نام حکومت کے ساتھ تبدیل ہو سکتا ہے”**

اگر یہی روایت چل نکلی تو ہر نئی حکومت پرانی تختیاں اتارنے اور نئی لگانے میں مصروف رہے گی۔ عوام سوچیں گے کہ شاید یہی ترقی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ اسٹیڈیم کا اصل احترام اس کے نام میں نہیں، اس کے استعمال میں ہے۔ اگر میدان آباد ہو، نوجوان کھیلیں، ٹیمیں آئیں، مقابلے ہوں، تو نام خود عزت پا لیتا ہے۔ مگر اگر میدان ویران ہو اور صرف بورڈ چمک رہا ہو تو وہ ترقی نہیں، نمائشی سیاست ہے۔

اس لیے اس معاملے میں اصل کامیڈی یہی ہے کہ ایک حکومت نے نام بدلنے کی جلدی میں قانون کو نظر انداز کیا، اور اب خود سرکاری وکیل بتا رہا ہے کہ “جناب، پہلے قانون بدلنا پڑے گا۔”

یعنی میچ پہلے کھیل لیا گیا، اب رول بک پڑھی جا رہی ہے۔

پاکستان میں یہی روایت ہے:
**فیصلہ پہلے، قانون بعد میں۔**

اور جب قانون آڑے آ جائے تو کہا جاتا ہے:
“کوئی ترمیم نکالو۔”

اگر قانون ہر بار طاقت کے مطابق بدلے گا تو پھر قانون اور سفارش میں فرق کیا رہ جائے گا؟

یہی سوال اس اسٹیڈیم کے گیٹ پر لکھا جانا چاہیے۔

کیونکہ اصل مسئلہ نام نہیں، اصول ہے۔ اور جب اصول مذاق بن جائیں تو پھر سیاست کامیڈی بن جاتی ہے۔

---

**#ImranKhanStadium #ArbabNiazStadium #PeshawarHighCourt #KPPolitics #CricketPolitics #RuleOfLaw #SportsGovernance #PakistanPolitics #LegalComedy #NameChangeDebate**
Musarrat Ullah Jan
About the Author: Musarrat Ullah Jan Read More Articles by Musarrat Ullah Jan: 1000 Articles with 776183 views 47 year old working journalist from peshawar , first SAARC scholar of kp , attached with National & international media. as photojournalist , writer ,.. View More