طورو کرکٹ اکیڈمی یا سرکاری “جھاڑی پریم لیگ”؟
(Musarrat Ullah Jan, Peshawar)
پچاس لاکھ کی پچ، چار کروڑ کی امیدیں اور دس ملازمین کا پراسرار غائب ہونا` خیبر پختونخوا میں اگر کسی چیز کی مستقل کارکردگی پر ریسرچ کی جائے تو دو چیزیں ہمیشہ ٹاپ پر آئیں گی۔ایک، پریس کانفرنسوں میں “نوجوان ہمارا مستقبل ہیں” والا جملہ۔دوسرا، وہ کھیلوں کے منصوبے جنہیں دیکھ کر لگتا ہے کہ شاید انجینئر، اکاونٹنٹ اور مالی سب نے مل کر کوئی کامیڈی سیریز بنائی تھی۔
مردان کے علاقے طورو کی کرکٹ اکیڈمی بھی اب اسی قومی ورثے کا حصہ بنتی جا رہی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ یہاں معاملہ صرف ویران گراونڈ تک محدود نہیں رہا، بلکہ اب یہ ایک مکمل “اسپورٹس تھرلر کامیڈی” بن چکا ہے۔ ایک طرف جھاڑیاں ہیں، دوسری طرف کروڑوں کے دعوے۔ ایک طرف نوجوان ہیں جو کھیلنا چاہتے ہیں، دوسری طرف وہ ملازمین ہیں جنہیں شاید خود بھی معلوم نہیں کہ ان کی اصل ڈیوٹی کہاں ہے۔سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو نے کم از کم اتنا ضرور ثابت کر دیا کہ پاکستان میں عوام اب صرف افتتاحی فیتے نہیں دیکھتے، گراونڈ کی گھاس بھی دیکھتے ہیں۔ اور جب گھاس کے بجائے جنگل نظر آئے تو سوال بھی کرتے ہیں۔
ویڈیو میں مقامی شہری جس انداز میں طورو کرکٹ اکیڈمی کی حالت دکھا رہا تھا، وہ کسی سپورٹس رپورٹ سے زیادہ ایک کرائم سین انویسٹیگیشن لگ رہی تھی۔ بندہ گراونڈ دکھا رہا تھا مگر ماحول ایسا تھا جیسے ابھی کسی نے “سی آئی ڈی طورو برانچ” کو کال کرنی ہو۔ شہری کا دعویٰ ہے کہ اس اکیڈمی پر پہلے ہی تقریباً پچاس لاکھ روپے خرچ ہو چکے ہیں۔ اب اگر کوئی عام آدمی یہ سن لے تو اس کے ذہن میں کم از کم ایک چھوٹا موٹا کرکٹ سینٹر آئے گا۔ دو نیٹس، ایک صاف گراونڈ، شاید چند بچے پریکٹس کرتے ہوئے۔ مگر یہاں صورتحال یہ ہے کہ اگر بابر اعظم بھی وہاں نیٹ پریکٹس کے لیے پہنچ جائیں تو پہلے انہیں گھاس کاٹنے والی مشین ڈھونڈنی پڑے گی۔
یہ پاکستان کا واحد ایسا کرکٹ ماحول ہوگا جہاں فاسٹ بولر سے زیادہ خطرناک جھاڑیاں ہیں۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ویڈیو میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ منصوبہ “کاغذوں میں مکمل” تھا۔ اب یہ جملہ پاکستان کے سرکاری نظام کا اتنا مستقل حصہ بن چکا ہے کہ اسے قومی موٹو قرار دے دینا چاہیے۔ گراونڈ کاغذوں میں بن جاتا ہے۔ سٹاف کاغذوں میں حاضر ہوتا ہے۔ ٹیلنٹ کاغذوں میں تیار ہوتا ہے۔ اور آخر میں تحقیقات بھی اکثر کاغذوں میں ہی مکمل ہو جاتی ہیں۔
اصل مسئلہ یہ نہیں کہ ایک اکیڈمی خراب حالت میں ہے۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں اسپورٹس انفراسٹرکچر اکثر “تصویر برائے افتتاح” کے لیے بنتا ہے، “استعمال برائے نوجوان” کے لیے نہیں۔ ہر حکومت کھیلوں کو ایسے پیش کرتی ہے جیسے اگلے سال اولمپکس ہم ہی جیتنے والے ہیں۔ اشتہار دیکھیں تو لگتا ہے کہ صوبے میں ہر دوسرے محلے سے ایک شاہین آفریدی نکلنے والا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ بیشتر نوجوانوں کے پاس نہ کوچ ہے، نہ سہولت، نہ گراونڈ، نہ میرٹ۔ البتہ بورڈ ضرور لگ جاتا ہے۔ “یہ منصوبہ نوجوانوں کے روشن مستقبل کے لیے ہے۔”روشن مستقبل شاید اس لیے لکھا جاتا ہے کیونکہ گراو¿نڈ میں بجلی تک نہیں ہوتی۔
ویڈیو کا سب سے دلچسپ حصہ وہ الزام تھا جس میں کہا گیا کہ اکیڈمی کے تقریباً دس ملازمین اپنی اصل ڈیوٹی کے بجائے ایک موجودہ ایم پی اے کے گھر پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ اگر یہ الزام درست ہے تو پھر یہ پاکستان کی پہلی “گھریلو کرکٹ اکیڈمی” ہوگی۔شاید یہی جدید اسپورٹس ماڈل ہے۔ کھلاڑی گراونڈ میں نہیں، سیاستدان کے ڈرائنگ روم کے آس پاس تیار ہوں گے۔ممکن ہے اگلے مرحلے میں بیٹنگ کوچ چائے بنا رہا ہو، فیلڈنگ انسٹرکٹر گاڑی دھو رہا ہو، اور فٹنس ٹرینر مہمانوں کو جوس پیش کر رہا ہو۔ پاکستان میں سرکاری ملازمین کے بارے میں ایک دلچسپ چیز یہ ہے کہ ان کی پوسٹنگ کہیں اور ہوتی ہے، خدمات کہیں اور۔ تنخواہ کھیلوں کی، ڈیوٹی سیاسی۔
اور جب پوچھو تو جواب آتا ہے “سر آرڈر اوپر سے تھا۔” یہ “اوپر” پاکستان کا سب سے طاقتور اور سب سے پراسرار مقام ہے۔ وہاں سے ہر حکم آتا ہے مگر وہاں کبھی کوئی ذمہ داری نہیں پہنچتی۔ طورو اکیڈمی کے معاملے میں ایک اور دلچسپ پہلو بھی سامنے آیا۔ شہری کا کہنا ہے کہ اب اسی اکیڈمی پر مزید چار کروڑ روپے خرچ کیے جائیں گے۔ یہ سن کر کئی لوگوں نے شاید پہلی بار محسوس کیا ہوگا کہ پاکستان میں سب سے محفوظ سرمایہ کاری اسپورٹس انفراسٹرکچر ہے۔
پہلے پچاس لاکھ لگاو۔ پھر وہ ٹوٹ جائے۔ پھر چار کروڑ سے دوبارہ بناو۔ پھر نئی حکومت آئے۔ پھر مزید فنڈ دو۔ اور آخر میں نوجوانوں کو کہو: “تم محنت نہیں کرتے۔” اگر کسی اکیڈمی کی پہلی حالت ہی قابل استعمال نہیں رہی تو نئے کروڑوں ڈالنے سے پہلے سوال تو بنتا ہے۔ پچھلا پیسہ کہاں گیا؟ کون ذمہ دار تھا؟ کیا آڈٹ ہوا؟ کیا کوئی انکوائری ہوئی؟ کیا کسی افسر سے پوچھا گیا؟یا حسب روایت صرف فائل پر “ضروری کارروائی کی جائے” لکھ کر اگلے دفتر بھیج دیا گیا؟ پاکستان میں احتساب اکثر اس کرکٹ بال کی طرح ہوتا ہے جو باونڈری کے باہر چلی جائے۔ سب اسے دیکھتے ہیں مگر کوئی واپس لانے نہیں جاتا۔
ریجنل سپورٹس آفیسر کا بیان بھی دلچسپ تھا۔ انہوں نے نہ مکمل تردید کی، نہ مکمل تصدیق۔ بس اتنا کہا کہ “سابق دور کے معاملات سے لاعلم ہیں” اور اکیڈمی “انڈر کنسٹرکشن” ہے۔ پاکستان میں “انڈر کنسٹرکشن” ایک خطرناک اصطلاح ہے۔ بعض منصوبے اتنے عرصے انڈر کنسٹرکشن رہتے ہیں کہ نئی نسل پیدا ہو جاتی ہے مگر تعمیر مکمل نہیں ہوتی۔ کچھ سرکاری منصوبوں کو دیکھ کر لگتا ہے کہ شاید ان کی تعمیر انسان نہیں، کچھوے کر رہے ہیں۔ اور دلچسپ بات یہ ہے کہ ہر نئی خرابی کا حل مزید فنڈ ہوتا ہے۔ گراو¿نڈ خراب؟ فنڈ دو۔ بلڈنگ ٹوٹی؟ فنڈ دو۔ پانی نہیں؟ فنڈ دو۔ پچھلا فنڈ کہاں گیا؟ اس سوال پر اچانک سب کا مائیک بند ہو جاتا ہے۔ اس سارے معاملے میں سب سے زیادہ نقصان کس کا ہے؟ نہ افسر کا۔ نہ ٹھیکیدار کا۔ نہ سیاستدان کا۔ اصل نقصان اس نوجوان کا ہے جو واقعی کھیلنا چاہتا ہے۔
وہ نوجوان جو شاید صبح بیٹ اٹھا کر اس امید سے نکلتا ہے کہ اسے بہتر سہولت ملے گی۔ مگر اسے ملتی ہیں جھاڑیاں، ٹوٹا گراو¿نڈ، بند دفاتر اور لمبی تقریریں۔پاکستان میں کھیلوں کا سب سے بڑا مسئلہ ٹیلنٹ کی کمی نہیں، ترجیحات کی خرابی ہے۔ہمیں گراو¿نڈ سے زیادہ افتتاح پسند ہیں۔ ہمیں کوچنگ سے زیادہ بورڈ لگانا پسند ہے۔ ہمیں اکیڈمی چلانے سے زیادہ اس کا اعلان کرنا پسند ہے۔اور جب کوئی شہری ویڈیو بنا کر سوال اٹھا دے تو پھر اچانک سب کو یاد آتا ہے کہ “معاملہ دیکھ رہے ہیں”۔ اصل امتحان اب یہ ہے کہ کیا طورو کرکٹ اکیڈمی کے معاملے میں صرف رسمی وضاحتیں آئیں گی یا واقعی تحقیقات بھی ہوں گی؟
کیا متعلقہ ریکارڈ سامنے آئے گا؟کیا فنڈز کا آڈٹ ہوگا؟ کیا ملازمین کی حاضری چیک ہوگی؟ یا چند دن بعد کوئی نیا اسکینڈل آ جائے گا اور یہ کہانی بھی باقی فائلوں کی طرح گرد میں دفن ہو جائے گی؟ کیونکہ پاکستان میں اکثر منصوبے دو بار بنتے ہیں۔ ایک بار زمین پر۔ دوسری بار خبروں میں۔ اور بعض اوقات خبروں والا ورڑن زمین والے ورڑن سے کہیں زیادہ خوبصورت ہوتا ہے۔
#Mardan #Toru #CricketAcademy #KPKSports #SportsCorruption #PakistanSports #KhyberPakhtunkhwa #YouthSports #Accountability #KikxNow
|