طورو سے سی ایم ہاوس تک، یک طرف نوجوانوں کے پاس گراو¿نڈ نہیں، دوسری طرف اقتدار کی “وی آئی پی پریمیئر لیگ”



خیبر پختونخوا میں کرکٹ دو جگہوں پر سب سے زیادہ کھیلی جا رہی ہے۔ ایک طورو کے اس گراونڈ میں جہاں نوجوان جھاڑیوں سے گیند نکال رہے ہیں۔ دوسری سی ایم ہاوس کے گراونڈ میں، جہاں سیاسی کھلاڑی ایک دوسرے کو نیٹ پریکٹس کرا رہے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ طورو میں پچ نہیں، اور سی ایم ہاوس میں اصول نہیں۔

مردان کے نوجوان صبح بیٹ اٹھا کر میدان ڈھونڈتے ہیں، جبکہ پشاور میں بعض لوگ اقتدار کے گراونڈ میں اپنی “پوزیشن” ڈھونڈ رہے ہوتے ہیں۔ ادھر نوجوانوں کو نیٹ میسر نہیں، ادھر وی آئی پی نیٹ سیشن جاری ہیں۔سی ایم ہاو¿س کی کرکٹ دوبارہ آباد ہے۔پہلے علی امین گنڈا پور اور شاہ فرمان کے سیاسی شاٹس زیر بحث تھے، اب عامر اور نوید کے نیٹ سیشن چرچے میں ہیں۔ یہ وہ گراونڈ ہے جہاں ہر حکومت خود کو اوپنر سمجھتی ہے، مگر عوام کو ہمیشہ بارہواں کھلاڑی رکھا جاتا ہے۔

ادھر طورو اکیڈمی میں نوجوانوں کے لیے گھاس زیادہ ہے، سہولت کم۔ ادھر سی ایم ہاوس میں سہولت زیادہ ہے، مگر کھیل کم اور “سیٹنگ” زیادہ۔ طورو میں اگر کھلاڑی ڈائیو مارے تو زخمی ہونے کا خطرہ ہے۔سی ایم ہاو¿س میں اگر کوئی سیاسی ڈائیو مارے تو وزارت ملنے کا چانس بڑھ جاتا ہے۔ طورو کے نوجوان پریکٹس کے لیے صاف پچ مانگتے ہیں۔ سی ایم ہاوس کے کھلاڑی صرف صاف “امیج” مانگتے ہیں۔

مردان کے اس گراونڈ پر مبینہ طور پر پچاس لاکھ خرچ ہوئے۔ نتیجہ؟ جھاڑیاں۔سی ایم ہاوس کے گراونڈ پر شاید سرکاری خزانے سے ایک روپیہ بھی “کرکٹ” کے نام پر نہ لگا ہو، مگر یہاں کی سیاسی پریکٹس سب سے مہنگی پڑتی ہے۔ یہاں ہر اوور کے بعد نئی پریس ریلیز آتی ہے۔ ہر وکٹ کے بعد وفاداری بدلتی ہے۔ اور ہر حکومت کے بعد ٹیم وہی رہتی ہے، صرف جرسی تبدیل ہوتی ہے۔طورو میں نوجوان گیند ڈھونڈ رہے ہیں۔سی ایم ہاوس میں لوگ ایک دوسرے کی کمزوریاں۔ طورو کے بچے سوچتے ہیں کہ شاید اگلا بابر اعظم بن جائیں۔سی ایم ہاو¿س کے کچھ کھلاڑی سوچتے ہیں کہ شاید اگلا “طاقتور مشیر” بن جائیں۔ ادھر کوچ نہیں مل رہا۔ ادھر ہر بندہ خود کو چیف سلیکٹر سمجھتا ہے۔

طورو اکیڈمی کی وائرل ویڈیو دیکھ کر لگا جیسے کسی نے اسپورٹس گراونڈ نہیں بلکہ جنگلی حیات کا محفوظ علاقہ دریافت کیا ہو۔ بندہ پچ ڈھونڈنے جاتا ہے اور واپس آ کر بتاتا ہے کہ وہاں تو جھاڑیوں کی اپنی لیگ چل رہی ہے۔اگر یہی حالت رہی تو جلد طورو پریمیئر لیگ کے نئے رولز آئیں گے: گیند جھاڑی میں جائے تو “ڈیڈ بال” سانپ نظر آئے تو ٹائم آوٹ، اور اگر پوری پچ نظر آ جائے تو اسے معجزہ تصور کیا جائے دوسری طرف سی ایم ہاوس پریمیئر لیگ کے رولز الگ ہیں: جس کی تصویر زیادہ، اس کی سلیکشن پکی ،جو زیادہ خاموش، وہ لمبی اننگز کھیلے گا اور جو ہر حکومت میں موجود رہے، وہ “مین آف دی میچ”

پاکستان میں شاید یہی واحد نظام ہے جہاں اصل کھلاڑی باہر بیٹھے ہوتے ہیں اور “پویلین پلیئرز” ہمیشہ ناٹ آوٹ رہتے ہیں۔ طورو میں نوجوانوں کو بتایا جاتا ہے: “محنت کرو، آگے بڑھو۔” لیکن سوال یہ ہے کہ کہاں بڑھیں؟ ٹوٹے نیٹس کی طرف؟ جھاڑیوں والی پچ کی طرف؟ یا ان دفاتر کی طرف جہاں فائلوں میں پہلے ہی سب کچھ “مکمل” دکھایا جا چکا ہوتا ہے؟اصل مزاحیہ بات یہ ہے کہ ہمارے ہاں کھیلوں سے زیادہ “کھیل” کھیلوں کے نام پر ہوتے ہیں۔

گراونڈ بننے سے پہلے افتتاح ہو جاتا ہے۔پراجیکٹ مکمل ہونے سے پہلے تصویریں آ جاتی ہیں۔ اور سہولت ملنے سے پہلے اشتہار چھپ جاتا ہے۔ طورو اکیڈمی کی حالت بتاتی ہے کہ نوجوانوں کے لیے اسپورٹس انفراسٹرکچر اکثر ترجیح نہیں، صرف تقریر کا حصہ ہے۔ جبکہ سی ایم ہاوس کا ماحول بتاتا ہے کہ اقتدار کے کھیل میں پریکٹس کبھی بند نہیں ہوتی۔ ایک طرف نوجوان گراونڈ مانگ رہے ہیں۔دوسری طرف طاقتور لوگ “گراونڈ” سنبھال رہے ہیں۔

مردان کے لڑکے اگر شام کو کھیلنے نکلیں تو انہیں روشنی، پچ اور پانی کی فکر ہوتی ہے۔ پشاور کے سیاسی کھلاڑی اگر شام کو اکٹھے ہوں تو انہیں کیمپ، گروپنگ اور اگلی پوسٹنگ کی فکر ہوتی ہے۔یہاں اصل فرق یہی ہے۔ طورو کی کرکٹ میں گیند گم ہوتی ہے۔سی ایم ہاوس کی کرکٹ میں اصول۔ اور آخر میں نقصان ہمیشہ اسی کا ہوتا ہے جو واقعی کھیلنا چاہتا ہے۔کیونکہ خیبر پختونخوا میں اس وقت دو الگ الگ کرکٹ چل رہی ہیں ایک وہ جس میں نوجوان پسینہ بہاتے ہیں۔ اور دوسری وہ جس میں لوگ صرف پوزیشنیں بدلتے ہیں۔ اور افسوس یہ ہے کہ دوسری کرکٹ ہمیشہ پہلی پر بھاری پڑ جاتی ہے۔

#Mardan #Toru #CricketAcademy #CMHouse #KPKPolitics #KPKSports #SportsCorruption #PakistanSports #YouthSports #KikxNow
Musarrat Ullah Jan
About the Author: Musarrat Ullah Jan Read More Articles by Musarrat Ullah Jan: 1000 Articles with 776063 views 47 year old working journalist from peshawar , first SAARC scholar of kp , attached with National & international media. as photojournalist , writer ,.. View More