آج کا زمانہ

(Saeed Khan, )

اکثر ہم لوگوں کے منہ سے یہ مقولہ سنتے ہیں کہ زمانہ اور وقت بہت بدل گیا ہے ۔ پہلے کا زمانہ کچھ اور تھا اور اب کا زمانہ کچھ اور ہے اکثر لوگوں کے ذہنوں میں یہ ہی سوال آتا ہے کہ واقعی زمانہ بدل گیا ہے یا نہیں یا یہ ایسے ہی لوگوں کی زبانوں پر فیشن کی طرح چڑھا ہوا ہے ۔

اگر ہم موجودہ زمانے کا گزرے ہوئے زمانے سے موازنہ کرائیں تو ہمیں شاید اس بات کا یقین آجائے گا کہ واقعی آج کا زمانہ کتنا بدل گیا ہے ۔ ماضی کے زمانے کی بات کی جائے تو ہمیں اس بات کا علم ہوگا تو وہ زمانہ کتنا اچھا تھا جب ہر کسی کو دوسرے کے جذبات اور احساسات کی قدر ہوتی تھی ہر کوئی ایک دوسرے کو اپنا بھائی سمجھتا تھا اور ہر بہن لوگوں کی میلی اور گندی نگاہوں سے پاک رہتی تھی گلیوں اور محلے کے لوگ ایسے رہتے تھے جیسے ایک ہی خاندان کے افراد مل جل کر رہتے ہیں اور مجازی رشتوں کی صورت میں ہرکوئی دوسرے کا احترام کرتا تھا مثلاً گلی میں کسی کو خالہ تو کسی کو چچا تو کسی کو ماموں وغیرہ کے نام سے پکارہ جاتاتھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب لوگ بلاخوف و خطر اپنے گھروں کے دروازے کھول کر صحن میں چرپائی لگاکر سوجاتے تھے ہر کوئی جیسی سوچ اپنی ماں بہن بیٹیوں وغیرہ کے لیئے رکھتا تھا ویسے ہی دوسروں کی ماں بہن اور بیٹیوں وغیرہ کے لیئے رکھتا تھا اور بے شمار برے کاموں سے بچا رہتا تھا پہلے کے زمانے میں ماں باپ بچوں کو با آسانی باہر گھومنے پھرنے کی اجازت دے دیا کرتے تھے اور حالات سے بلکل بھی نہیں ڈرتے تھے یہاں تک عورتیں بھی بلاخوف و خطر آسانی سے اکیلی پڑھنے چلی جاتی تھیں ۔ پہلے کے زمانے میں بچے جو بھی کرتے تھے اس سے کچھ نہ کچھ سیکھنے کی کوشش کرتے تھے مثلاً کرکٹ کا ہنر کنچوں سے نشانوں میں مہارت وغیرہ لیکن یہ بھی نہیں کہاجا سکتا کہ پہلے کے زمانے میں کسی قسم کی برائی نہیں ہوتی تھی اور نہ ہی کوئی غلط کام کرتا تھا لیکن ہاں یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ پہلے 100%فیصد لوگوں میں سے مشکل سے% 10سے 5%فیصد لوگ بھی خراب ہوتے تھے باقی 95%فیصد لوگ اچھے اور صیح ہوتے تھے۔

اب اگر ہم موجودہ زمانے کی بات کریں تو ہمیں اس بات کا علم ہوگا کہ موجودہ زمانہ گزرے ہوئے زمانے کا بلکل تضاد ہے ہر لحاظ سے آج ہم دیکھتے ہیں کہ بھائی بھائی کے خون کا پیاسا ہے ۔ گلیوں محلے کے لوگوں کا مل کر رہنا تو بہت دور کی بات ہے اب تو ایک ہی خاندان کے لوگ ایک دوسرے کے جانی دشمن ہیں آج کا زمانہ یہ ہے کہ ہر انسان یہی سوچتا ہے کہ "میرا گھر بچ جائے ، دوسرے کا گھر بھلے جل جائے "آج کا انسان اپنی ماں بہن بیٹیوں وغیرہ کو ہی اپنا سمجھتا ہے لیکن دوسرے کی ماں بہن بیٹیوں کی کوئی عزت نہیں سمجھتا آج کے دور میں یہ سوچ عام ہے کہ انسان کسی کی ماں بہن بیٹیوں وغیرہ کے ساتھ تو کچھ بھی کرلے مثلاً دیکھنا ، چھیڑنا، بدتمیزی وغیرہ اور اگر یہی حرکت غلطی سے بھی کوئی اس کی ماں بہن کے ساتھ کردے تو اس کا خون کھول اٹھتا ہے اور وہ قتل و غارت جیسی چیز وں تک پہنچ جاتا ہے جس طرح پہلے کے زمانے میں لوگ تفریح کی چیزوں سے کچھ نہ کچھ سیکھنے کی کوشش کرتے تھے اس طرح آج کے لوگوں کی تفریح کرنے کی چیزیں ٹی وی اور انٹر نیٹ وغیرہ ہیں جن پر وہ اپنی پسندیدہ فلمیں ، ڈرامیں وغیرہ دیکھتے ہیں اور زیادہ تر اپنا وقت سوشل میڈیا پر گزارتے ہیں جیسا کہ "فیس بک ، ٹیوئیٹر ، یوٹیوب وغیرہ جس پر لوگ اپنا قیمتی وقت ضائع کرتے ہیں جس سے ان کے ذہن خراب ہورہے ہیں آج کا زمانہ یہ ہے کہ ہم دوسروں کو تو نصیحت کرتے لیکن اپنے گریبان میں جھانک کر نہیں دیکھتے کہ ہم کیسے ہیں ؟مثلاً آج کل ہر لڑکا چلتی ہوئی لڑکی میں تو ہزار قسم کے عیب نکال دیتا ہے کہ اس نے دوپٹہ نہیں پہنا ہوا، اس کے کپڑے صیح نہیں، اسے ایسا نہیں کرنا چاہیے اسے ویسا نہیں کرنا چاہیے وغیرہ لیکن اپنی خود کی حالت پر توجہ نہیں دیتا اس کے خود کا کردار اور اعمال کیسے ہیں آج کے زمانے میں ماں باپ بچوں کو زیادہ تر گھروں میں رہنے کی ہدایت کرتے ہیں اور ضرورت پہ باہر جانے دیتے ہیں آج کے زمانے کے بارے میں یہ کہا جائے تو یہ غلط نہیں ہوگا کہ آج کے زمانے میں 10%سے 5%فیصد لوگ ہی اچھے ہوتے ہیں باقی 90%سے95%فیصد لوگ برے اور برائی میں مبتلا ہوتے ہیں ۔ لہٰذا آج کا زمانہ وہ زمانہ ہے جس کی اگر تعریف کی جائے تو شاید چند ہی لائنیں لکھی جاسکیں لیکن اگر برائیاں لکھنا شروع کی جائیں تو پورا انسائیکلو پیڈیا تیار ہوجائے۔
 

Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 336 Print Article Print
About the Author: Muhammad Ibrahim Khan

Read More Articles by Muhammad Ibrahim Khan: 2 Articles with 947 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: