دھرتی کا بوجھ

(Kiran Aziz Kashmiri, )
گزشتہ روز جب دھرتی کانپ اٹھی توہر شخص جیسے خوف کا پیکر بن کر رہ گیا۔کافی بحث مباحثے ہوئے۔کسی نے خدا کی وارننگ کہا تو کسی نے سائینٹفک مسئلہ قرار دیا۔تصویر کے دونوں رخ سامنے رکھ کر ذرہ سوچئیے کہ ہم کس قدر فریب میں مبتلا ہیں۔کسی کھلونے سے جیسے بچے کو کھلایا جاتا ہے۔اپنے دل کو بہلا دیا۔اور وجہ ذلزلہ سے خود کو مطمئن کر دیا۔ہر شخص پھر سے دنیا کے میلے میں کھو گیا میلہ سج گیا پھر سے وہ لمحہ گزر گیا،خوف ٹل گیا،موت ٹل گئی،انسان بہل گیا،دھرتی نہیں۔دھرتی تو احساس ندامت میں مبتلا ہے۔کہ کیسے کیسے انسانوں کا بوجھ برداشت کیے ہوئے ہے۔خوش فہمی میں کیوں مبتلا ہو گئے اے انسانَ؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔موت ٹلی ہے دو قدم آگے بڑھی ہے۔رکی ہے ختم تو نہیں ہوئی۔تمھارے انتظار میں ہے۔کیا جو پل خدا نے تمھیں زندگی کے بخشے ہیں وہ بھی گناہوں میں گزار دو گے؟۔۔۔۔یہ سوال دھرتی کرتی ہے انسان سے۔کوئی انسان گناہوں اور غلطیوں سے پاک نہیں۔لیکن جب یہی گناہ معاشرے میں فیشن کا درجہ اختیار کر جائیں۔اور اسقدر بڑھ جائیں کہ اگر گناہ بازار لگا دیا جائے تو آپکو نت نئے گناہو ں اور نت نئے چہروں کی ایک لمبی قطار نظر آتی۔ابلیس کی کارستانیاں ہیں۔کہ مومن کو بہکنے کی پوری پلاننگ کرو ابیٹھا ہے۔ہمارے قول وفعل میں ابلیس کی کارستانیوں کے اثرات نمایاں ہیں۔اور دین میں ابلیس کی پہچان کو کس قدر آسان بنا دیا ہے۔کہ ایک فعل غصے کو شیطان قرار دیا۔جی ہاں غصہ وہ شدید رد عمل ہے ۔جو ایمان والوں پہ حاوی ہو جائے تو مومن کی پہچان شیطان کہلانے لگتی ہے۔اور جب شیطان کے بہلاوے میں مبتلا مومن ہوش و حواس کھو بیٹھتاہے۔تو خداکو بھول جاتا ہے۔حتیٰ کہ وہ زبان جو خدا کی عبادت کرتی ہے ۔اسی زبان سے ہم اخلاقیات کی دہجیاں اڑا دیتے ہیں ۔میری اس تحریر میں آپکو گناہ کے اس بازار کا سفر کرنا ہو گا۔جو سج پڑا ہے دھرتی کے سینے پہ۔قارئین!

یہ ہی وہ زبان ہے جس سے ایک سیاستدان جھوٹا وعدہ کر کے قوم کا حکمران بن جاتا ہے۔قوم سے کیئے ہوئے وعدے سے مکر جاتا ہے۔یہی زبان ہے جس سے حق بات ادا نہیں ہو تی۔ہر چند کے جھوٹ کا بازار سج پڑتا ہے۔اور پھر اپنے مفادات کے تحفظ کی خاطر ایک ایسا ٹولہ تشکیل پاتا ہے۔جسے قوم وقت گزاری اپنی بد قسمتی مان کر قبول کر لیتی ہے۔ذرہ غور کیجئے کہ بد زبانی نے کتنی ترقی پائی ہے۔کہ ہمیں میڈیا جب بھی حکمرانوں کی گفتگو سنوائے اسقدر شرمناک ہوتی ہے کہ ورطحہ حیرت میں مبتلا ہو جاتے ہیں ۔کہ کیا یہی وہ لوگ تھے جو خدا اور رسولﷺکے نام پہ وعدے کرتے ہیں ۔اور پھر اسقدر بے حودہ زبان استعمال کرتے ہیں۔کہ ابلیس بھی شرما جائے۔اگر ہم اخلاقیات کو وسیع معنوں میں سمجھنے کی کوشش کریں تو بد نصیبی سے ایک ایسا وقت آئے گاکہ اخلاقیات کو ایک معجزہ سمجھا جائے گا۔وگرنہ تو ادب و احترام صبر کی ایک کڑی ہے۔صبر قناعت مومن کے ایمان کا زیور ہیں۔اور ابلیس نے یہ زیور چرا لیا ہے۔ہر طبقہء فکر کے لئیے لمحہء فکریہ ہے۔کہ یہ جو جھوٹ اور فریب کا بازار گرم ہے۔معاشرہ بے بسی کی سیاہ چادر اوڑھے ہوئے ہے۔اس کی بنیادی وجہ کہیں ہم خود تو نہیں؟۔۔۔۔ہم غلطیوں کا دفاع کر رہے ہیں۔گناہوں کا دفاع کر رہے ہیں۔تو چاہے وہ غلطی کسی طاقتور یا کسی کمزور سے ہی کیوں نہ سرزد ہوئی ہو۔اگر ہم گناہوں کا دفاع کر رہے ہیں تو پھر آج ہم سراپا احتجاج کیوں ہیں۔کوئی بھی المیہ جب بھی رونما ہوتا ہے۔کچھ عرصے تک تو بازگشت سنائی دیتی ہے پھر یہ جا وہ جا۔ہر پلیٹ فارم سے مذمتی بیانات سنائی دیتے ہیں۔اور پھر کہانی ختم ہو جاتی ہے۔طاقتور اہل ظلم و ستم کی مضبوطی میں وہ خاموشی اہم کردار ادا کرتی ہے۔بااثر شخص کامیاب ہو جاتا ہے۔اور کمزور کو اسقدر کمزور بنا دیا جاتا ہے۔کہ اسے اپنا احتجاج شکوہ بھی ایک گناہ کی مانند نظر آتا ہے۔دھرتی کی بے چینی میں اضافہ ہو تا جا رہا ہے۔کیونکہ آدمؑ کی بیٹی جسے ماں ،بیٹی،بہن ،بیوی جیسے عزت دار مقام عطاکیے گئے آج گناہ کے اس بازار میں مکروہ ٹولے کے مفادات و عیاشیوں کی بھینٹ چڑھ رہی ہے۔اخلاقیات ،انسانیت،شرم و حیا ساری حدود پار کرنے والا گروہ پھل پھول رہا ہے۔یہ گورکھ دہندہ نوابوں کی گناہگاروں کی طاقتوروں کی حیات کا اب تو کاروبار بنتا جا رہا ہے۔کیا خوب چمک رہا ہے اس بازار میں گناہگاروں کا کسی بھی واقعے کو فرضی من گھڑت قرار دے کر سچائی سے نظریں چرانے کا فن بھی خوب اجاگر ہو رہا ہے۔یہی وجہ ہے کہ کاروبار طاقتورکا چمک رہا ہے۔کمزور بھٹک رہا ہے۔دھرتی کو اب انتہا لگنے لگی ہے۔انسانیت نے تمام حدود پار کر لیں۔ہر روز ستم ظریفوں کے کارنامے معاشرے کی جڑوں کو مزید کھوکھلا کرتے جا رہے ہیں۔کٹرا وقت ایک عام آدمی کے لیئے کڑوا وقت بنتا جا رہا ہے۔جہنم خریدنے والے خوش فہمیوں کے چراغ جلائے بیٹھے ہیں۔جنکے بجھنے کا وقت مقرر ہے۔خوب ہے فریب زندگی۔بذات خود اگر ہم تجزئیہ کریں تو حقیقتایہ سلسلہ چل نکلا ہے ۔پڑھنا پڑھ کے نظر انداز کرنا۔سن کر ان سنی کر دینا۔ہاں دھرتی کے کانپنے کی آواز خوب سنائی دی ۔بوجھ بڑھنے لگا گناہوں کاتو کانپ اٹھی ایک ہی میدان میں سب جمع کر دیا۔لیکن یہ انسان کیا خوب فریب میں مبتلا ہے۔جب دھرتی کانپی تو خدا کو یاد کر لیا جب موت ٹلی تو ایک گناہ اور کر لیا۔اﷲتعالیـــؔہم سب کو ہدایت دے ۔۔۔۔اٰمین
Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 383 Print Article Print
About the Author: kiran aziz

Read More Articles by kiran aziz: 13 Articles with 5261 views »
write truth is my passion.. View More

Reviews & Comments

Language: