سچ کی طاقت

(Kiran Aziz Kashmiri, )
اگر قبرستانوں کا جائزہ لیا جائے تو روحوں کی ہسٹری جاننے کے بعد ذرہ بھی تعجب نہ ہو گا ۔کہ ان میں سچ بولنے والوں کی تعداد زیادہ ابدی نیند سو رہی ہو گی۔یہ کون لوگ ہیں جو سچ سننا نہیں چاہتے۔حق و سچ کی فتح دیکھ نہیں سکتے۔احمق ہیں ،نادان ہیں ،بلکہ یوں کہا جائے کہ خسارے میں ہیں،انتہائی کمزور۔حقیقت کے آئینے سے نظریں چرانے والے بزدل۔نظام کائنات ایک تسلسل سے رواں دواں ہے۔خالق کائنات خوب نگاہ رکھے ہوئے ہے۔حیات کا سب سے بڑا سچ جسے ابلیس کی پیروی کرنے والے جھٹلائے جاتے ہیں۔فناہ ہونے والا انسان کس قدر خسارے میں ہے۔کہ خبر تک نہیں کہ جو نگاہ رکھے ہوئے ہے وہ رب کوئی حساب بھولتا نہیں۔اور یہ بھولا انسان دنیا سے اپنے گناہ کے نشان مٹائے جا رہا ہے۔کبھی تردید کر دی کبھی احتجاج کر لیا۔جھوٹی قسمیں کھا لیں ۔کم عقلی کی انتہا کہ یہ تک معلوم نہیں کہ رب کے پاس سب ریکارڈ ہو رہا ہے۔رب کی نظر اس کیمرے کی نظر نہیں جسے توڑ دے۔پھینک دے جلا دے۔رب کی نظر تو ایک پل کے لیئے بھی نہ جھپکے۔تو پھر یہ خود کو دھوکے دیے جا رہا ہے۔دھوکہ دینے کا ایک لا متناہی سلسلہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا۔سچ سے نظریں چرانے والا سچ کو جھٹلانے والا اگر یہ سمجھے کہ ثبوت مٹ جانے سے گناہ مٹ جاتے ہیں۔تو نادان یہ جان لے کہ دنیا کی نظر سے مٹا سکتا ہے ثبوت،پر جہاں فرشتے اعمال نامہ لکھے جا رہے ہوں۔ظالم کیا پچھتائے گا نہیں؟ بھول گیا کہ اس کی زندگی کا اعمال نامہ فرشتے تو مسلسل لکھے جا رہے ہیں۔سچ تو یہ ہے کہ آج ہم طرح طرح کے مسائل کا شکار ہیں۔ہماری عادتیں ، روزمرہ کی باتیں، رویے اور ہماری سوچ ،خواہشات کے غلام بن کر رہ گئے ہیں۔اور ہمیں جھوٹ کی اس دنیا میں دھکیل رہا ہے۔جہاں بلا خوف و خطر ہم پستی کی جانب بڑھتے ہی چلے جا رہے ہیں۔پھر تو لالچ کی رنگینی ہمارے انجام کی سنگینی یہ کس جہاں میں کھو گئے ہیں ہم۔۔۔؟

ہرگز نہیں یہ رستہ زوال پزیری کی جانب لے جانے والا رستہ ہے۔جہاں کینہ، بغض ،نفرت،حسد،دشمنی ،رنجشیں قدموں کی پازیب بن گئی ہیں۔پازیب کی آواز جسطرح سنی جاتی ہے۔ٹھیک اسی طرح مومن کے ایمان کی زوال پذیری اہل ایمان والوں کیلئے لمحہء فکریہ ہے۔

کہ جو کارہائے نمایاں انجام دیں گے جہاں کو خبر ہو جائے گی۔صد افسوس خبریں مٹا دی جاتی ہیں لیکن حشر اٹل ہے۔

انسانی زندگی برف کی مانند ہے۔لمحہ بہ لمحہ پگھلتی جاتی ہے۔بہت دیر ہو جاتی ہے پانی بننے تک۔یہ سمجھنے تک کہ ہم نے پایا تو کچھ نہیں لیکن بہت کچھ کھو دیا۔مومن کی زوال پذیری کی وجوہات چند نہیں بے شمار ہیں۔اگر آپ سنسنا پسند نہیں کرتے بولنا پسند نہیں کرتے تو کیا سچ مٹ جائے گا؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔سچ کا ستارہ مومن کے ایمان کی شان بن کر ہمیشہ چمکتا رہے گا۔اور قارئین !

ایک کڑوا سچ یہ بھی ہے کہ بے حیائی کا وائرس کس طرح ملک و قوم کی جڑوں میں سما چکا ہے۔میری تحریر سے آپ سب کا متفق ہونا ضروری نہیں لیکن یہی سچ ہے۔سائنسی ترقی نے جہاں روزمرہ مسائل کا حل آسان بنا دیا ہے۔وہیں خواہشات کے غلام اپنا ایمان بیچ کر اس ترقی سے منفی خوب سے خوب فائدہ اٹھا رہے ہیں۔نفس کے غلام دنیا و آخرت میں ذلیل ہونے کی پوری پلاننگ کرنے کیلیئے کوشاں ہیں۔اخلاقی نا پختگی معاشرے کے کردار کو ڈس رہی ہے۔حسد و نفاق ،عداوت اور ماہمی حقارت ایسے ناگ ہیں جو پوری ملت اسلامیہ کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔معاشرہ اپنے کردار سے اپنے مذہب اپنے ایمان کی پختگی سے آنیوالے طوفان کا راستہ روک سکتا ہے۔گناہوں کا ارتکاب کرتے کرتے سچ کی آواز تو سننا ہو گی۔کتاب الہی کی آواز پکار پکار کے سچ کہہ رہی ہے۔کہ میں ہی ہو ں حقیقت۔میں تمھاری نجات ہوں۔کرب و غم سے مسائل کا حل صرف میرے پاس ہے۔نیت شوق اورلگن سے کتاب الہی کی طرف رجوع کرنے میں انسانی بھلائی پوشیدہ ہے۔کچھ لوگوں کا انجام تاریخ کا المناک باب بن کر رہ جاتا ہے۔یہ وہی لوگ ہوتے ہیں جو سچ کو جھٹلا کر جھو ٹ کی رنگینیوں میں کھو جاتے ہیں۔ایمان کی درستگی قر ب الہی تک کا رستہ بناتی ہے غورو فکر کا وقت ڈوبتے سورج کی طرح ہے۔تو پھر رات ہو جاتی ہے زندگی آزاد ہو جاتی ہے۔موت ایک اٹل حقیقت ہے۔لیکن اس سے بھی اٹل حقیقت آپکا اعمال نامہ ہے۔جو آپ تیار کرنے میں کس قدر سنجیدہ ہیں ؟

کہیں ایسا تو نہیں اپنے دن رات پر سکون بنانے کے لئیے ہم سچ کا سودا کر رہے ہیں؟۔۔۔۔۔۔اعمال نامہ اپنی تیاری کے مراحل سے گزر رہا ہے۔یہ ہی سچ ہے۔اس سچ کا گلا گھونٹنا ناممکن ہے۔اس رستے پہ چلنا صبح کے اجالوں کی طرح ہو گا۔اور نظریں چرانا شب کی تاریکی کہلائے گا۔اپنے روزمرہ حالات سے قطعہ نظر اپنے ایمان کو چھانٹ کر دیکھئیے تو ایک بوند بھی نہیں سچ کی گرے گی۔اور بچے گا کیا ؟ رشوت، جھوٹ ، حسد،تو چاہے پڑوسی سے ہو یا رشتہ دار سے رنجشیں ہی رنجشیں کینہ پروری اور بے سکونی اور غور کیا جائے کہ اپنی عمر کا حساب آپکو یقین دلا دے گا کہ وقت کس طرح گزرا کیسے گزرا اور کتنا جئے گا ۔مر کہ بھی چین نہ پایا تو کدھر جائے گا۔قارئین!

تمام مسائل کا حل ہماری اپنی سوچ ہے جسے تبدیل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔سچے ایمان کی روشنی سوچ کی پگڈندی پر سفر کرتے کرتے جب دل کے پنہاں خانوں میں قیام پزیر ہو گی تو آنکھیں وہی دیکھیں گی جو سچ ہے کان وہی سنیں گے جو سچ ہے اور وح جس کا مرکز قلب ہے نور الہی سے منور رہے گا۔چراغ سے چراغ جلے گا روشنی پھیلتی جائے گی ۔حق و سچ کی فتح ہو گی۔

پروردگار ہم سب کو سچ بولنے کی اور برداشت کرنے کی محبت نصیب فرمائے ۔امین
Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 519 Print Article Print
About the Author: kiran aziz

Read More Articles by kiran aziz: 13 Articles with 5244 views »
write truth is my passion.. View More

Reviews & Comments

Language: