حسد ایک بیماری

(Aqsa aziz, Bahawalnagar)
" یار مجھے ایسا جوڑا کیوں نہیں ملا ؟ کاش مریم سے پہلے میں یہ جوڑا لے آتی تو آج میں بی اتنی پر کشش لگتی . آج محفل میں مجھ سے زیادہ اسے سب غور کے دیکھ رہے تھے میرا تو بلڈ پریشر ہائی ہو رہا تھا اسکا جوڑا دیکھ کر " مناہل اپنی بہن کو پارٹی کے بعد اپنی دکھ بھری داستان کافی جلے کٹے انداز میں سنا رہی تھی .

" کاش ! میرے پس بھی یہ کار ہوتی . . کاش میرے پس بھی یہ گھر ہوتا ، کاش میری شخصیت بھی اتنی ہی پر اصرار ہوتی جیسے اسکی تھی ، یہاں تک کے " کاش میری بِیوِی بی ایسی ہوتی . . . " . ایسی بیشمار باتیں آپ نے اپنے ارد گرد کے ماحول میں ضرور سنی یا دیکھی ہونگی . اِس معمولی سی کو " جلن " یا " حسد " کا نام دیا جاتا ہے جسکا شکار نازک مطلب عورتیں ذیادہ ہیں . یہ بیماری اوپر اور مڈل کلاس عورتوں میں پائی جاتی ہے لیکن امیروں میں اس کا تناسب زرا زیادہ ہے .

اِس بیماری کی وجہ سے کچھ لوگ احساس کم تری کا شکار ہوجاتے ہیں اور کچھ لوگ دیگر نفسیاتی بیماریوں کو اپنے گھر دعوت دیتے ہیں . جن میں غصہ ، لڑائی جھگڑا ، ہر وقت جلے ٹاپے رہنا ، بات کرو تو لگتا ہے کے کاٹ کھا ےں گے ، اور دیکھ کر محسوس ایسا ہو کے ہنسے ہووے جیسے صدیاں ہوئی ہوں جو سراسر خود پر ہی نہیں بلکہ دوسروں پر بھی ظلم ہے .

اگر ہم میں سے کوئی ایسی کیفیت کا شکار ہے اور اِس فضول سی چیز سے نجات حاصل کرنا چاہتا ہے تو ناممکن نہیں ، وہ بے حد آسانی سے چھٹکاڑا پا سکتا ہے . ضرورت صرف خود پے یقین کی ہے . اپنی زندگی کو خوش حال بنانے کا زندگی آپکو بار بار موقع دیتی ہے جن میں سے دو کے نام " صبر " اور " شکر " ہیں . اگر آپ اپنی زندگی میں بس ان دو چیزوں کو شامل کرلیں تو زندگی پلک جھپکتے ہے بَدَل جائے گی . زندگی اتنی ہی پر سکون ہوجائے گی جیسا کبھی بہت بولنے کے بعد چُپ رہنے میں سکون ملتا ہے . جو اللہ نے آپکو عطا کر دیا اُس پے بے حد شکر ادا کرنے اور اسی میں خوش رہنے کی کوشش کریں ہم . جو نصیب میں نہیں وہ اگر کبھی مل سکتا ہے تو دعاؤں سے حسد یا جلن سے نہیں .

اِس بات کو دِل سے تسلیم کیجیے . . خوش رہیے مسکرائیے اور دن مئى اک بار . . صرف اک بار کسی کو خوش کرنے کی کوشش ضرور کیجیے . . . آپ کی ہنسی آپکی خوشی آپکے آس پاس کے لوگوں کے لیے واقعی اہمیت کی حامل ہے .
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Aqsa Aziz

Read More Articles by Aqsa Aziz: 7 Articles with 3244 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
06 Jan, 2015 Views: 515

Comments

آپ کی رائے