گھر کی عزت سڑکوں پر

(Shahid Raza, )
آتے جاتے جو حالت میں دیکھتا ہوں بس کوشش کرتا ہوں اُس پر ایک مختصر سا آرٹیکل لکھ دوں شاید کسی کے دل میں میری بات اُتر جائے شاید ہم اس گناہ اور غلطی سے اپنے آپ کو بچا لیں شاید آئندہ میں سڑکوں پر ایسی خواتین کو نہ دیکھوں جو مال و دولت کے لئے اپنی عزتوں کا پامال کر رہی ہیں ،خدا سلامت رکھے میڈیا والوں کو وہ ایسے پروگرام نشر کرتے رہتے ہیں ،ایک دن میں نے ٹی وی پر ایسی ہی ایک مستور کو دیکھا جو نقاب میں تھی جب اینکر نے اُس سے سوال کیا کہ آپ ایسا غلط کام حرام کام کیوں کرتی ہیں تو اُس نے جواب دیا تا کہ میرے گھر کا چولہا جل سکے میرے بچے کھانا کھا سکیں،اب میں سوال کرتا ہوں کس کتاب میں لکھا ہے کہ کھانے کے لئے اپنی عزتوں کو پامال کرو ،کتابوں میں تو یہ لکھا ہے کہ اﷲ کہتا ہے تمہارا رزق تم کو ضرور ملے گابس تم حلال طریقوں سے اپنی کوشش جاری رکھو باقی میں اﷲ برکت دینے والا ہوں،کس کتاب میں لکھا ہے کہ اپنے بچوں کو حرام کی کمائی پر پالا جائے،اگر آپ پڑھی لکھی ہیں تو جاب کریں اگر جاہل ہیں تو لوگوں کے گھروں میں صفائی ستھرائی کا کام ایمانداری کے ساتھ کریں دیکھیں اﷲ کتنی برکت عطا کرے گا ،اب یہ بات اور ہے کہ آپ کو حرام کھانے کی عادت پڑ چکی ہے ،آپ کو نا محرم مرد اور ہر روز ایک نئے مرد کی عادت پڑ چکی ہے آپ کیا سمجھتی ہیں کیا اس طرح کے کام کر کے آپ بچ جائیں گی ،آج آپ یہ کام کر رہی ہیں کل آپ کی اولادیں بھی یہی کام کریں گی ،صرف سندھ میں ’’ایڈز ‘‘کے ۸۰ ہزار افراد موجود ہیں جن میں سے 32830 جسم فروش خواتین،19320 مرد اور 14750 خواجہ سرا اس مرض کے فروغ کا باعث ہیں ،آخر کیوں مستورات جسم فروشی کرتی ہیں لیکن کام نہیں کرتیں اگر ان سے کہا جائے آئیے ہم آپ کو کام دلا دیتے ہیں عزت کے ساتھ کام کریں تو اکثر ایسی خواتین منع کر دیتی ہیں وہ سمجھتی ہیں اس کا م میں پیسہ زیادہ ملتا ہے ایک اچھی دھاڑی بن جاتی ہے یہ سوچ غلط ہے کیوں کہ کل ہم کو مر کر اﷲ کے حضور جانا ہے کیا منہ دیکھائیں گے اﷲ کو،رسول کو،اولیاء کو،اوصیاء کو یاد رکھئے گا قرآن پاک کی آیت ہے اُس دن سب کہیں گے یا اﷲ غلطی ہو گئی دنیا میں واپس بھیج اب نہیں کریں گے لیکن توبہ کا بھی اﷲ نے ایک وقت رکھا ہے توبہ زندگی میں قبول ہوتی ہے مرنے کے بعد توبہ قبول نہیں ہوا کرتی آج کا وقتی مزہ جہنم کی آگ ہے ،جب کہیں پر ایسا غلط کام ہوتا ہے تو اﷲ کے فرشتے ایسے افراد پر لعنت بھیجتے ہیں ،حرام کا پیسہ حرام میں ہی جاتا ہے اورنہ کوئی عزت ہوتی ہے انسان کی نہ مال میں برکت۔تھوڑے سے لطف کے لئے اپنے آپ کو ’’ایڈز‘‘جیسے مرض میں مبتلاء کرنا یہ کہاں کا انصاف ہے ،حکومت کیوں اس معاملے میں ایکشن نہیں لیتی،کیوں ان کو خواتین سمجھ کو چھوڑ دیا جاتا ہے یہ حکومت سمجھے ایسے مرد و خواتین اس ملک کے لئے ایک ناسور ہیں ان کو کڑی سے کڑی سزا ملنی چاہئے ،پولیس اور رینجرز کو ان کے خلاف سخت ایکشن لینا ہو گا،اگر کبھی ایک کو بھی سزا مل گئی تو دیکھئے گا کہ کس طرح معاشرے میں سدھار پیدا ہوتا ہے۔لیکن یہ سب باتیں صرف سننے سے حل نہیں ہوتیں عمل سے حل ہوتی ہیں یاد رکھئے گا شیطانی کاموں میں مزہ بھی ہے جانتے ہیں کیوں صرف اس لئے کہ یہ بھی ﷲ کا ایک امتحان ہے کہ کون کون آپ میں سے ایسا ہے جو اﷲ کی محبت میں مسلمان ہونے کا ثبوت دے اور دنیا کے حرام مزوں کو چھوڑ کر وہ کام کرے جو اﷲ نے انسان پر حلال قرار دئیے ہیں ،اﷲ نے کتنا خیال رکھا ہے آپ کا ایک شادی سے انسان کی ضرورت پوری نہیں ہوتی تو حرام کام کی ضرورت نہیں ہے آپ دو بیویوں میں عدالت رکھ سکتے ہیں تو دوسری بھی کر لیں اسی طرح تیسری اور چوتھی بھی کر لیں لیکن خدا را حرام کام نہ کریں ایڈز ایک موزی اور لا علاج مرض ہے ایک شریف آدمی کو پتہ بھی نہیں اُس کو بھی لگ گیا تو بیچارہ جان سے بھی گیا معاشرے میں عزت بھی گئی ایسے مظلوم افراد کے لئے وہ مثال اچھی ہے کہ ’’نہ کھایا نہ پیا گلاس توڑا بارہ آنے‘‘میں نے ٹی وی وغیرہ پر دیکھا کہ ایسی خواتین کو اﷲ کا تو ڈر لگتا ہی نہیں،عزت کی تو فکر ہی نہیں جس کو یہ سرعام سڑکوں پر پامال کرتی ہیں لیکن ان کو قانون سے بھی ڈر نہیں لگتا کہ پکڑے جائیں یہ ایسے اکڑ کر ٹی و ی وغیرہ پر بات کر رہی ہوتی ہیں جیسے کوئی نہ کوئی ہے جو ان کی پشت پناہی کر رہا ہے ،ہر وہ شخص جو حرام کام کو روکنے کی طاقت رکھتا ہے اور نہیں روکتا تو سمجھ لو وہ بھی اُس جرم میں برابر کا شریک ہے اﷲ روز قیامت اُس سے بھی سوال کرے گا ہم نے زمین پر تم کو طاقت دی تھی کہ ظلم اور گناہ کو ختم کرو کیوں نہیں کیا،اے مسلمانوں بیدار ہو جاؤ اس سے پہلے کہ موت تمہاری آغوش میں آجائے یا تم موت کی آغوش میں چلے جاؤ۔
Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 356 Print Article Print
About the Author: Shahid Raza

Read More Articles by Shahid Raza: 162 Articles with 120401 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>

Reviews & Comments

Language: