قدرتی آفات۔ آزمائش بھی، شامت اعمال بھی

ترجمہ؛ اور دیکھو ہم تمہیں آزمائیں گے ضرور، (کبھی) خوف سے، اور(کبھی) بھوک سے، اور (کبھی) مال وجان اور پھلوں میں کمی کرکے۔ اور جو لوگ (ایسے حالات میں) صبر سے کام لیں ان کو خوشخبری سنادو۔ (سورۃ البقرۃ آیت 155)۔ قرآن مجید، فرقان حمید کی اس آیت کے بعد سب سے پہلے 26 اکتوبر کو آنے والے زلزلے میں جاں بحق افراد کے لواحقین سے اظہار تعزیت، کہ اﷲ رب العزت تمام جاں بحق افراد کی مغفرت فرمائے اور انہیں اپنی رحمت خاص سے نوازے۔ اس کے علاوہ اﷲ تعالیٰ سے دعا ہے کہ تمام زخمیوں کو جلد ازجلد صحت کاملہ عطاء فرمائے اور متاثرین زلزلہ کے تمام نقصانات کا بھی انہیں جلد اچھا اور بہتر متبادل عطاء فرمائے۔

قارئین کرام! وطن عزیز میں یہ کوئی پہلی بار نہیں ہوا کہ کوئی قدرتی آفت آئی، بلکہ اگر ہم گذشتہ چند سالوں پر نظر ڈالیں توہمیں وطن عزیز مکمل طور پر قدرتی آفات کی زدمیں نظر آتا ہے۔ مثلاً 2005 ء کا زلزلہ آیا ۔ حکومتی ذرائع کے مطابق ہزاروں جبکہ اس وقت کے متاثرین زلزلہ کے مطابق ایک لاکھ سے زائد افراد اس زلزلے کی نذر ہوئے۔ کھربوں کے حساب سے مالی نقصانات ہوئے جبکہ لائیو سٹاک کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ 2010ء میں اہل وطن کو ایک بہت ہی بڑے اور نقصان دہ سیلاب کا سامنا کرنا پڑا۔ خیبر پختون خوا ہ سے سندھ کے ساحل تک آنے والے اس سیلاب میں نہ صرف یہ کہ کئی قیمتیں جانیں چلی گئیں بلکہ معاشی طو پر ملک کو بڑے نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ سیلاب متاثرین کو اس وقت کیا کیا مصیبتیں جھیلنی پڑیں۔ یہ ایک الگ مگر دردناک داستان ہے۔ 2011ء میں ایک بار پھر سیلاب آیا۔ سندھ اس سیلاب کا مرکز تھا جبکہ ضلع بدین بری طرح اس سے متاثرہوا۔ 2012ء وطن کے کئی علاقوں میں سیلاب آیا۔ اس بارخیبر پختون خواہ، جنوبی پنجاب اور بالائی سندھ شدید متاثر ہوئے اور ان علاقوں کے باشندگان کو سخت نقصان اور اذیت کا سامنا کرنا پڑا۔ پنجاب، سندھ اور بلوچستان کے لیے 2013ء بھی آزمائش کا سال رہا۔ اس سال مذکورہ علاقے سیلاب کی لپیٹ میں آئے اور جیسا کہ سطور بالا میں آ پ پڑھ چکے ہیں کہ اس سال بھی لوگوں کو شدید معاشی نقصانات کے علاوہ اپنے پیاروں کی جدائی کا غم بھی سہنا پڑا۔ 2014ء میں اہل کشمیر اور اہل پنجاب سیلاب کی زد میں آئے جبکہ رواں سال سندھ، پنجاب اور خیبر پختون خواہ میں سیلاب اپنا بھیانک روپ دکھا چکا ہے۔ خیبر پختون خواہ کا ضلع چترال شدید متاثرہ اضلاع میں سے تھا، جہاں بڑے پیمانے پر جانی نقصانات ہوئے جبکہ مالی نقصانات اس کے علاوہ تھے۔

مندرجہ بالا قدرتی آفات کے علاوہ بلوچستان کے علاقے ماشکیل میں آنے والے والا زلزلہ بھی اس لحاظ سے ناقابل فراموش ہے۔ کہ اس سانحے کے بعد وہاں کے رہنے والوں کے جو حالات سامنے آئے کہ وہ کس طرح بنیادی انسانی حقوق سے محروم تھے۔ وہ حقائق دل دہلا دینے والے تھے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ آخر ہم ہی قدرتی آفات کے شکار کیوں؟ اس کیوں کا جواب تلاش کرنے کے لیے میں نے عالمی شہرت یافتہ تعلیی ادارے دارالعلو م کراچی کے نائب مفتی جناب حضرت مفتی عبدالمنان صاحب سے رابطہ کیا۔ تعارف کے بعد جب میں نے مفتی صاحب سے قدرتی آفات کے متعلق پوچھا تو انہوں نے سب سے پہلے قرآن شریف کی وہ آیت بمعہ ترجمہ پڑھ کر سنائی جو آپ کالم کی ابتداء میں ملاحظہ کرچکے ہیں۔ اس کے بعد مفتی صاحب نے فرمایاکہ یہ دنیا جائے امتحان ہے۔ یہاں کبھی انسان پر خوشی کے لمحات بھی آتے ہیں تو کبھی غم اور پریشانی کے۔ اب یہ انسان پرمنحصر ہے کہ وہ ایسے حالات میں کیا کرتا ہے۔ آیا وہ صبر و شکر سے کام لے کر اﷲ پاک کی خوشنودی حاصل کرتا ہے یا اپنی من مانی کرکے اﷲ کو ناراض کرتا ہے۔ 26 اکتوبر کے زلزلے کے حوالے سے مفتی صاحب نے فرمایا کہ اس دنیا میں مسلمان پر کوئی تکلیف ایسی نہیں آتی کہ جس سے یا تو اس کے درجات میں اضافہ نہ ہورہا ہو یا پھر گناہ معاف نہ کیے جاتے ہوں۔ اس حوالے سے مفتی صاحب نے ایک مثال دیتے ہوئے فرمایا کہ مسلمان کو اگر ذرا برابر تکلیف بھی پہنچتی ہے مثلاً اگر اسے کوئی چیونٹی بھی کاٹ لیتی ہے تو اس سے یا تو ان کے درجات بلند ہوتے ہیں یا پھر ان کے گناہ دھلتے ہیں۔ لیکن اس کے لیے لازم ہے کہ ہم پر جو بھی مصیبت آئے اس پر صبر سے کا م لیں اور زبان پر ایسا کوئی لفظ بھی نہ آئے جو اﷲ کی ناراضگی کا باعث ہو۔ آخر میں مفتی صاحب نے خبر دار کرتے ہوئے کہا کہ زلزلہ ہو یا کوئی اورمصیبت۔اس میں ہمارے اعمال کا بھی دخل ہوتا ہے۔ لہٰذا عوام کو چاہیے کہ فی الفور گناہوں سے تائب ہوکر اﷲ پاک کے حضور توبہ و استغفار کریں۔ مفتی صاحب کے علاوہ امیر جماعۃ الدعوۃ جناب پروفیسرحافظ محمد سعید صاحب نے اس حوالے سے اپنے بیان میں کہا کہ پوری قوم کو اﷲ کے سامنے جھک جانا چاہیے کیونکہ جب انسان غافل ہوتا ہے تو اﷲ پاک پہلے ہلکے جھٹکے دے کر سمجھاتا ہے۔ لیکن جب غفلت زیادہ ہوجائے تو پھر اﷲ تعالیٰ کی پکڑ آتی ہے۔ لہٰذا ہمارا فرض ہے کہ عوام سے لے کر حکمرانوں تک کو سمجھائیں کہ وہ توبہ و استغفار کریں اور اپنے معاملات کی اصلاح کریں۔

قارئین کرام! محترم مفتی عبدالمنان صاحب اور جناب حافظ محمد سعید صاحب کے بیانات کو سامنے رکھ کر اگر ہم اپنا اور اپنے ارد گرد کے ماحول کا جائزہ لیں تو صورت حال مایوس کن حد تک خراب ہے دکھائی دے گی۔ آج ہمارے معاشرے سے حرام و حلال کی تمیز ختم ہوچکی ہے۔ مساجد نمازیوں سے خالی نظر آتی ہیں اور جو حضرات نماز پڑھ رہے ہوتے ہیں ان میں اکثریت کو نماز کے لازمی احکامات کا علم ہی نہیں ہوتا۔ بے حیائی اور فیشن پرستی نے ہمیں مکمل طور پر اپنے شکنجے میں جکڑا ہوا ہے۔ صورت حال آج اس قدر خراب ہے کہ جس کے گھر میں کھانے کو کچھ نہیں اس کی بیگم بھی پڑوس کی شادی کے لیے تین ہزار روپے کا سوٹ خریدنا فرض عین سجھتی ہے۔ چاہے اس کے لیے کڑی شرائط پر قرض ہی کیوں نہ لینا پڑے۔ آج ہمارے اس مسلم معاشرے میں کئی لوگ ایسے ملیں گے جو قرآن کے بجائے میوزک کو روح کی غذا سمجھتے ہیں۔ ایسی صورت میں ہم پر قدرتی آفات نہ آئیں تو اور کیا آئے؟ یہ تو پھر بھی اس ذات عالی کا رحم و کرم ہے کہ وہ تمام تر نافرمانیوں کے باوجود بھی ہم پر اس قدر مہربان ہے کہ ایسے آفات اور مصائب بھی ہمارے درجات میں اضافے اور گناہوں سے نجات کا ذریعہ بناتی ہے۔ لہٰذا اب یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ اس اﷲ رب العزت کی مہربانیوں کا اعتراف کرکے اور اسے سامنے رکھتے ہوئے اپنے گناہوں سے توبہ و استغفارکرتے ہوئے ان کے سامنے سر بسجود ہوجائیں۔ اب اگر ہم نے اﷲ پاک سے اپنا تعلق جوڑلیا تو یقیناً ہم دونوں جہانوں میں کامیاب و کامران رہیں گے۔ لیکن اگر ہمارا رویہ اس کے برعکس رہا تو کوئی شک نہیں کہ عذاب الٰہی ہمیں گھیر لے۔ اﷲ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہم پر اپنا خصوصی رحم و کرم فرمائے۔ آخر میں کالم کا اختتمام اس آیت قرآنی پر کرتا چلوں ترجمہ؛ ’’اگر اﷲ تمہاری مددکرے تو تم پر کوئی غالب نہیں آسکتا اور اگر وہ تمہیں چھوڑ دے تو اس کے بعد کون ہے جو تمہاری مددکرے؟ اور ایمان والوں کو تو اﷲ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔‘‘ (سورت آل عمران آیت 160)
Saeed ullah Saeed
About the Author: Saeed ullah Saeed Read More Articles by Saeed ullah Saeed: 112 Articles with 105494 views سعیداللہ سعید کا تعلق ضلع بٹگرام کے گاوں سکرگاہ بالا سے ہے۔ موصوف اردو کالم نگار ہے اور پشتو میں شاعری بھی کرتے ہیں۔ مختلف قومی اخبارات اور نیوز ویب س.. View More