محتاط آدمی سدا سکھی

(Dr Zahoor Ahmed Danish, Karachi)
زبان انسان کی شخصیت کی ترجمان ہے ۔جو لوگ کم بولتے ہیں وہ زبان کی آفتوں سے محفوظ رہتے ہیں ۔کچھ لوگ بلاوجہ بولتے چلے جاتے ہیں۔بے محل گفتگو ان کا معمول بن چکی ہوتی ہے ۔گھر ہو یا دفتر ،جہاں بھی ہوتے ہیں۔قینچی کی طرح زبان چلتی رہتی ہے ۔اب ہوتایہ ہے کہ بات سے بات نکل جاتی ہے ۔جو کسی کے عزت نفس کو مجروح کرتی ہے یا اس بات میں کسی کی غیبت ،چغلی کا عنصر ہوتاہے ۔یوں اس وقت کا کہاہوا جملہ بہت بڑے جھگڑے کا سبب بنتاہے ۔چھوٹی چھوٹی کہی ہوئی باتوں کی بدولت خاندانوں کے خاندان ایک دوسرے سے دور ہوجاتے ہیں۔زید نے بکر کو میرے بارے میں فلاں بات کہی ہے ۔فلاں ایک گھنٹہ میرادماغ کھاگیا۔اتنی کہانیاں پڑتاہے کہ الامان و الحفیظ ۔

پھر زیادہ بولنے کا نقصان یہ بھی ہے کہ اس میں وقت کا ضیا بھی بہت ہے ۔کہ کہیں بیٹھے تو باتوں میں اس قدر منہمک ہوئے کہ نمازیں بھی گئیں اور دیگر اس دن کے ضروری کام تھے ۔فضول و لغو گفتگو کی نظر ہوگئیں۔اس کے علاوہ زیادہ بولنے میں والے کا وقار بھی باقی نہیں رہتا۔نیز کسی نے خوب کہا کہ خاموشی میں عقل مند کا وقار اور بے وقوف کا پردہ ہے ۔اب بولتے چلے جاء یں تو اس سے سامنے والے پر آپ کی علمی کمزوریاں بھی واضح ہوجاتی ہیں۔اور جو آپ کا بھرم یا وقار ان کے سامنے تھا وہ سب ختم ہوجاتاہے ۔

اﷲ کے مقرب بندے اسی لیے تو زبان کی آفتوں سے بچنے کے لیے ہمیں ذہن دیتے ہیں کہ ہم زبان کالگام دیں۔ ۔صرف کام کی بات کریں فضول باتوں سے محفوظ رہیں۔نہ فضول باتیں ہوں گیں اور نہ کوئی نارضگی بنے گی بلکہ دوسروں کے سامنے شخصیت کی اچھی تصویر بن جائے گی ۔

فضول گفتگو سے پرہیز کرتے ہوئے زبان سے محتاط گفتگو کرنے کی کوشش کریں ۔ اس کا فائدہ یہ ہو گا کہ زبان جتنی کم استعمال ہوگی ذہن کی توانائی اتنی زیادہ محفوظ رہے گی اور یہ توانائی(Energy) سبق یاد کرنے کے وقت ہمارے کام آئے گی ۔ ان شاء اللّٗہ عَزَّوَجَلَّ

اسی لیے کہتے ہیں کہ پہلے تولو پھر بولو۔اور ہمارے بزرگوں نے تو ہمیشہ ایک چپ سو سکھ کا ہی ذہن دیاہے ۔تو پھر نیت کرلیجیے کہ آئندہ فضول باتوں سے بچتے رہنے کی نہ صرف کوشش کریں گے بلکہ دوسروں کو بھی زبان کی آفتوں سے بچنے کا ذہن دیں گے ۔معاشرے میں آج جو ناچاقیوں ،نفرتوں کی آگ بھڑک اُٹھی ہے ۔اس کے پیچھے دیکھیں تو زبان کی آفت ہی نظر آئے گی ۔آج سے کوشش کریں کہ فضول گفتگو سے بچیں گے ۔صرف ایک دن کوشش کرکے دیکھیں ثمرات آپ کے سامنے آجائیں گے۔اﷲ عزوجل کے فضل سے سب سے پہلے تو آپ تسکین ِ قلبی محسوس کریں گے نیز آپ کے اندر ایک باوقار شخصیت کی تعمیر بھی ہوگی۔جو معاشرے میں مثال بنے گی ۔کوشش شرط ہے ۔زندگی میں نافذ کرنے کے بعد اپنے تجربات و مشاہدات سے [email protected] پر ضرور مطلع فرمائیے گا۔
میڈیا ریسرچ انسٹیٹیوٹ
Rate it:
Share Comments Post Comments
Total Views: 370 Print Article Print
About the Author: DR ZAHOOR AHMED DANISH

Read More Articles by DR ZAHOOR AHMED DANISH: 231 Articles with 219392 views »
i am scholar.serve the humainbeing... View More

Reviews & Comments

wao zindabad.kmal me manta hoon aesa he hy.
By: حریم, لاہور on May, 08 2016
Reply Reply
0 Like
Language: