انتقال ِ خون اورہماری زندگی

(Muhammad Jawad Khan, Havelian)
 زندگی میں حادثات و واقعات کسی کے ساتھ کسی بھی لمحہ ، کسی بھی جگہ ، کیسا بھی رونما ہو سکتا ہے، اس لیے اپنے آپ کو ہمیشہ ان سے نمٹنے کے لیے تیار اور چاک و چوبند رکھنا چاہیے، گو کہ آپ حادثات و واقعات کو روکنے کی طاقت تو نہیں رکھتے مگر اتنی طاقت تو آپ ضرور رکھتے ہو کہ اپنے آپ کو ایسے حالات کے لیے تیار رکھ سکیں، انکا سامنا کر سکیں اور بہترین احتیاطی تدابیر کے پیش نظر آپ کافی حد تک ان سے محفوظ بھی رہ سکتے ہو ، اکثر انسان کی زندگی میں اس کے کیے گئے کام ہی اس پر مشکلات و پریشانیوں لاتے ہیں اور ٹالتے ہیں، صدقہ و خیرات ، ایثا ر و محبت کے دعوے تو ہر چند ہر کوئی کرتا ہوا نظر آتا ہے، مگر جب ضرورت پیش آتی ہے تو تب زندگی کی وفاؤں کی سمجھ آتی ہے۔ ہمیشہ وہ لوگ عزت کی نگاؤں سے دیکھے جاتے ہیں جو اپنی زندگی دوسروں کے لیے امر کر دیتے ہیں ، اور اپنی زندگی سے زیادہ دوسرے کسی انسانیت کی زندگی بچانے کو ترجیح دیتے ہیں ، انسانی زندگیوں کو بچانے کا ایک سب سے بڑا کام خون کا عطیہ دینا ۔۔۔۔ماضی ِ قریب انتقال ِ خون بہت بڑ ا مسلۂ ہوا کرتا تھا ، لوگ ڈرتے تھے ۔۔۔مگر۔۔۔اب ۔۔۔ نوجوان نسل کے اند ر بیداری ِ شعور نے خون کا عطیہ دینے کو ایک اہم فریضہ سمجھ رکھا ہے اور بڑھ چڑھ کر اس کارِ خیر میں حصہ لے رہے ہیں۔ خون انسانی جسم کے لیے انتہائی ضروری اور اہم جزو ہے۔ جسم کے اند ر خون کے بہاؤ کا نام ہی زندگی ہے، خون ہی جسم کا وہ واحد عطیہ ہے جو با نسبت دوسرے اعضاء کے دینا بہت ہی آسان عمل ہے، کہ چند منٹ میں کسی بھی مریض کے لیے زندگی ِ نوع کی نوید بن سکتا ہے خون اگر قدر پوچھنی ہو تو اس شخص سے پوچھو کہ جو خون کی ایک بوتل کے لیے مارا مارا پھر رہا ہو اور اس کا مریض اس کے سامنے آہیں بھر رہا ہو ، اور وہ کبھی اپنے مریض کی آہوں اور سسکیوں کو دیکھ رہا ہو اور کبھی بے بسی کے عالم میں دروازے پر نظریں اس امید پر جمائے ہوئے بیٹھا ہو کہ کا ش کوئی خون کا عطیہ دینے والا آجائے۔۔۔۔۔۔ ایسے وقت میں خون کا عطیہ۔۔۔۔ کسی کے ارمان پورے کرنے کا سبب بن سکتا ہے ، کیونکہ خون ایک انسان کی زندگی کے لیے سب سے قیمتی اور انموں چیز ہے۔
دور ِ جدید میں سائنس کی تحقیقات سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ ہر انسان کے جسم کے اند ر اس کی ضرورت سے 2یا 3 بوتل خون کا ذخیرہ اضافی ہوتا ہے، اکثر اوقات دیکھا گیا ہے کہ کچھ لوگ 3ماہ کے اندر ہی دوسری بوتل یا تیسری بوتل خون کی دے دیتے ہیں (حالانکہ 3ماہ کے اندر ایک بوتل خون دینا چاہیے) ، اس کی وجہ یہ ہی ہوتی ہے کہ ان کے اندر خون کا ذخیرہ موجود ہوتا ہے مگر اس طرح کا عمل نہیں کرناچاہیے۔ خون کا عطیہ دینا آپ کے لیے فائد ہ مند اس لیے ہے کہ ایک تو وہ آپ کے خون کو پتلا کرتا ہے جس کی وجہ سے خون کی سرکولیشن میں آسانی پیدا ہوتی ہے اور دوسرا آپ کا نیا خون بننا شروع ہو جاتا ہے۔ ادھر ایک بات ہمیشہ ذہن نشین رکھیں کہ جب کبھی خون کا عطیہ دیں تو دینے کے فوراََ بعد پانی یا کوئی بھی لیکوڈ چیز جلد از جلد پی لیں تو آپ کی خون کی نئی پیداوار شروع ہو جاتی ہے۔خون کا عطیہ دینے سے آپ کی صحت پر کسی بھی قسم کا کوئی منفی اثر نہیں پڑتا، بلکہ ماہریں طب کا کہنا ہے کہ ہر چند ماہ کے بعد خون کا عطیہ لازمی دینا چاہیے۔ جس کی وجہ سے انسان کافی بیماریوں سے بچا رہتا ہے۔ خون کا عطیہ دیتے وقت کبھی یہ نہ سوچیں کہ یہ میر ا لگتا کیاہے؟ جس کو میں عطیہ دے رہا ہوں یا کسی بھی قسم کی لالچ و طمع نہ رکھیں ، خون کا عطیہ دینا تو ایک عمل صالح ہے مگر عطیہ دینے کے بعد آپ اسکی اجرت یا اسکا احسان جتلاتے پھریں تو یہ آپ کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے یا پھر آ پ خون دینے کے بعد کسی قسم کی الٹ سیدھی ادویات کا استعمال ہر گز نہ کریں ۔ اور ایک بات ہمیشہ یاد رکھیں کہ آپ خون کا عطیہ تو دے رہے ہیں ۔۔۔کہیں آپ کو خدا نخواستہ کوئی مرض تو لائق نہیں۔۔۔۔۔۔؟ جو کہ مریض کے لیے مسلۂ بن جائے۔۔۔! یا پھر آپ خون کا عطیہ کسی ایسے فرد سے تو نہیں لے رہے جو کسی بیماری میں مبتلا ہو۔۔۔اس کی عمر زیادہ یا بہت کم تو نہیں۔۔۔ اس نے آخری ٹائم خون کا عطیہ کب دیا تھا ۔۔۔وغیرہ وغیرہ ۔۔۔ یہ چند ایک خون کا عطیہ دینے والے اور لینے والے دونوں کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔

ہمیشہ یہ بات یاد رکھیں کہ والدین کی فریاد، اولاد کی آئیں اور بہنوں کی دھاڑیں اور بھائیوں کی بے بسی بھی کسی کی جان کو نہیں بچا سکتی جس قدر آپ کی عطیہ کی گی بوتل بچا سکتی ہے۔ آپ کا عطیہ کی گئی ایک خون کی بوتل آپ کسی کو پوری زندگی دے رہے ہوتے ہیں۔قرآن مجید میں بھی حکم آیا ہے کہ : " جس نے ایک انسان کی جان بچائی ۔۔۔گویا اس نے پوری انسانیت کی جان بچائی۔"

اس بات کی آگاہی ہم سب کو اس قدر عام کرنا ہو گی کہ پاکستا ن دنیا کے اندر وہ واحد ملک بن جائے کہ جس مین بلامعاوضہ خون کا عطیہ دینے والوں کی تعداد سب سے زیادہ ہو، اور ہمارے ملک میں بروقت خون نہ ملنے والی اموات کا خاتمہ ہو جائے ۔ خون کا عطیہ دیتے وقت ہمت کے ساتھ کام لیں اور اس بات کو ذہن سے بالکل نکال دیں کہ آپ کسی کو خون کا عطیہ دے رہے ہیں ۔ لوگوں کے اندر ایک انجانا خوف ہوتا ہے ۔۔۔نہ جانے کیوں۔۔۔؟ اور کیسا۔۔۔؟ دراصل ہوتا کچھ بھی نہیں آپ کے طرف سے دیئے گئے چند منٹ کسی کی زندگی کی نوید بن سکتے ہیں۔

لیکن ادھر افسوس اور قابل ِ غور بات یہ ہے کہ جو آج کل ہم اکثر سرکاری ہسپتالوں میں دیکھتے ہیں کہ مریض کو اگر خون کی ضرورت درپیش ہو یانہ ہو آپریشن کے لیے لے جاتے وقت خون کی ڈیمانڈ، مریض کی ضرورت سے زیادہ کی جاتی ہے ، جس کی وجہ سے مریض کے لواحقین مریض کو بھول کر خون کے بندوبست میں لگ جاتے ہیں۔ جس طرح ہر محکمہ کے اندر کچھ کرپٹ لوگ موجود ہیں بالکل اسی طرح اب اس مقدس فیلڈ میں بھی کرپٹ لوگ آ گے ہیں۔ جو بعد میں مجبو ر لواحقین پر فروخت کر دیتے ہیں۔ ادھر ضرورت اس امر کی ہے کہ خون کا عطیہ دینے کے رحجان اجاگر کیا جائے بلکہ اس مقدس فیلڈ میں سے کرپٹ اور بلیک معافیہ لوگوں کو نکال باہر کرنا بھی ہمار ا فریضہ ہے۔ جو کہ موجودہ وقت کی ایک اہم ضرورت بن گئی ہے۔جس طرح علم بانٹنے سے بڑھتا ہے ، محبت تقسیم کرنے سے بڑھتی ہے، اس طرح خون کا عطیہ دینے سے خون بھی بڑھتا ہے۔ اکثر آپ نے یہ بات سنی اور بولی ہو گی کہ: "مجھ کو اس بات کی اتنی خوشی ہوئی کہ ۔۔۔۔میرے خون میں اضافہ ہو گیا۔۔۔"

اچھائی کے کاموں سے ، یا فلاح و بہبود کے کاموں سے انسان کو ایک تو دلی راحت نصیب ہوتی ہے اور دوسرا اسکا خون بڑھتا ہے۔ جس قدر ہم خون کا عطیہ دیں گے، اس سے زیادہ ہمارا خون پیدا ہو گا۔ اور :"ایک درد مند انسان یا ایک سچادوست وہی ہوتا ہے جو آپ کے لیے اپنا خون بھی دینے کے لیے تیار ہو۔۔۔۔!"
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Jawad Khan

Read More Articles by Muhammad Jawad Khan: 111 Articles with 148946 views »
Poet, Writer, Composer, Sportsman. .. View More
21 Jul, 2016 Views: 992

Comments

آپ کی رائے