ہم بہت کرپٹ ہیں

(Ibn-e-Niaz, )
کچھ سال پہلے محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے پی کے اور دیگر مختلف محکمہ جات میں اینٹی کرپشن کے محکمہ کی طرف سے بینر ز لگائے گئے کہ آپ کو کہیں پر کسی بھی محکمہ میں کوئی رشوت لیتا یا دیتا نظر آئے تو اینٹی کرپشن کے محکمہ کو اطلاع دی جائے۔یہ بینرز نہ صرف محکمہ جات میں بلکہ سڑکوں کنارے مختلف مقامات پر بھی آویزاں کیے گئے۔جس دن اداروں میں یہ بینرز آویزاں کیے گئے اسی دن دوپہر کا کھانا ایٹنی کرپشن والوں نے ان اداروں میں بیٹھ کر کھایا۔ جب مختلف کسٹمرز نے یا کسی بھی کسی قسم کا تعلق رکھنے والوں نے ان اداروں میں کام کرنے والوں کو کہا کہ اب ہم ہر کام کروانے سے پہلے اینٹی کرپشن کے ان فون نمبرز پر اطلاع دے کر آیا کریں گے کہ ہم فلاں محکمہ میں جا رہے ہیں جہاں روپے پیسے کے علاوہ دوسری بات ہی نہیں کی جاتی تو ان اداروں میں کام کرنے والے ان لوگوں پر ہنسنے لگے۔ پوچھنے پر بتایا کہ بھائی جی آ پ بہت سادہ ہیں۔ اندر جا کر دیکھ لیں، اینٹی کرپشن والے اندر بیٹھے ہمارے صاحبان کے ساتھ روسٹ چرغے بھنبھوڑرہے ہیں۔ اور جاتے ہوئے اپنی خالی جیب کو بھر کر جائیں گے۔ آپ کیا سمجھتے ہیں کہ ہم لوگ اگر عوام سے کام کے بدلے میں رشوت لیتے ہیں تو وہ اپنے زور پر لیتے ہیں۔ ہر گز نہیں۔ اس میں سب سے زیادہ حصہ اینٹی کرپشن والوں کو جاتا ہے اور بعد میں اور لوگوں کو۔

میں ٹھہرا سادہ آدمی۔ مجھے جس نے یہ بات بتائی میں ہر گز نہ مانا۔ اس نے کہا کہ یہ تو بہت معمولی بات ہے۔ در حقیقت جس طرح مشہور ہے کہ پولیس کا سپاہی رشوت تب لیتا ہے جب اس کو اوپر سے کوئی روکنے ٹوکنے والا نہ ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سپاہی کو اپنے انسپکٹر کو، اس نے ڈی ایس پی، ایس پی اور اوپر تک سب کو خوش رکھنا ہوتا ہے۔ بے شک ڈی آئی جی، آئی جی نہ لیتے ہوں، جو کہ اندھوں میں کانا راجا والی بات ہے، لیکن صوبائی وزراء، وزرائے مملکت اور دیگر وزیر وں کے گھروں میں راشن پانی دینا پڑتا ہے۔ کیونکہ اگر ایسا نہ کریں تو پھر نہ اس سپاہی، انسپکٹر یا اوپر افسران کی نوکری رہے گی، نہ وہ خود اپنے بال بچوں کو کوئی آسانی مہیا کر سکیں گے۔اسی طرح مختلف محکموں میں بھی یہی ہوتا ہے۔ بے شک ان اداروں کا سربراہ کچھ بھی نہ لے، لیکن اس سے نیچے جو ان کے پرائیویٹ سیکرٹری ، ڈائریکٹران وغیرہ ہوتے ہیں، ان سے اسی کے محکمے کے نیچے کے افراد نے کام نکالنے کے واسطے اپنی فائل کے اندر قائدِ اعظم کی خوبصورت سی تصاویر لگانی بہت ضروری ہوتی ہیں۔ کیونکہ ہر دوسرے شخص کو قائدِاعظم سے بہت پیار ہے۔ جس طرح بلوچستان کے ایک سیکرٹری کے گھر کی پانی کی ٹینکی سے اربوں روپے برآمد ہوئے۔ میڈیا پر چلا کہ کتنے افسوس کی بات ہے کہ ایک سیکرٹری کو قائدِ اعظم سے ازحد محبت بہت مہنگی پڑ گئی۔ تو اسی طرح ان افسران کو بھی قائدِ اعظم سے بہت محبت ہوتی ہے۔ جب تک کام کے ساتھ ساتھ قائدِ اعظم کی تصویر نہ دیکھ لیں، ان کو نہ کھانا ہضم ہوتا ہے، نہ وہ اپنی کرسی پر ٹک کر بیٹھ سکتے ہیں۔ یہ بھی کتنے افسوس کی بات ہے کہ جہاں آج ہر جانب کرسی کی لڑائی ہے، وہاں ان افسران کو اس وقت تک کرسی بھی راس نہیں آتی جب تک اس کو لال، سبز ،نیلے پہیے نہ لگائے جائیں۔

میرے ایک جاننے والے نے مجھے قصہ سنایا کہ ان کے آفس میں کسی نے اپنی تبدیلی کرانی تھی جو کہ اس کا حق تھا، کیونکہ اس کی فیملی کہیں اور تھی اور اسکی پوسٹنگ کہیں اور تھی۔ اس کے ساتھ ہی اس کے ایک دوسرے کولیگ کو بھی یہی مسلہ تھا۔انھوں نے آپس میں مل کر آپس میں تبادلے کی درخواست دے دی۔ وہ کہتے ہیں نا کہ جب میاں بیوی راضی تو کیا کرے گا قاضی۔ یہ دونوں راضی تھے، اوپر سے ایک وزیر نے بھی ان کا ساتھ دیا تھا کہ ان کا حق بنتا ہے کہ اپنے اپنے علاقے کے قریبی سٹیشنوں پر ان کی پوسٹنگ ہو۔ اب ہوا یہ کہ فائل ہر طرح سے مکمل ہو کر جب ادارے کے سربراہ تک پہنچی تو دروازے میں اٹک گئی۔ دروازے کا نام پرائیویٹ اسسٹنٹ تھا۔ اس نے کہا کہ فائل تب اندر جائے گی جب اس کو پہیے لگیں گے۔ دونوں میں سے ایک نے کہا کہ وہ تو ہر گز پہیے نہ لگائے، چہ جائیکہ کہ اس میں تو فلاں وزیر کی بھی جائز سفارش شامل ہے۔ پی اے صاحب نے کہا کہ ٹھیک ہے، آپ وزیر صاحب سے کہہ دو کہ پی اے ایسا کہہ رہا ہے۔ دیکھ لیں گے اس وزیر کو بھی۔ اور اب تو جب تک فائل کو سرخی پاؤڈر نہیں لگے گا، تب تک فائل اس کی دراز میں پڑی رہے گی اور اس کے اوپر وزن بڑھتا رہے گا۔جتنی دیر کرو گے، وزن بڑھتا جائے گا، پھر شاید دن ہفتوں، مہینوں میں تبدیل ہو جائیں۔ اگرچہ پی اے کا مطالبہ کچھ زیادہ نہیں تھا، لیکن پھر بھی جائز طریقے سے ہونے والے کام کو روکا جا رہا تھا۔ جب ہر طرف سے ان دونوں کولیگز کی شنوائی نہ ہوئی تو مجبوراً کوئی دو ہفتوں کے بعد اس پی اے کو مطلوبہ رقم دینی پڑی ، تب اس نے وہ فائل سربراہ تک پہنچائی۔ یہ الگ بات کہ سربراہ نے بھی ہرگز نہ پوچھا کہ فائل پر آخری دستخط دو ہفتوں پہلے کا ہے، تو فائل اتنی لیٹ کیوں آئی۔ اگر سربراہ یہ بات پوچھ بھی لیتا تو بھی پی اے کے پاس گڑے گڑھائے جواب تیار ہوتے ہیں۔ کیونک پی اے ہمیشہ وہی لگتا ہے جو ایک تو گولی دینے کا ماہر ہو، دوسرا چرب زبان ہو اور اپنے باس کو ہر حالت میں قابو کرنے کا ہنر جانتا ہو۔

ہمارے اس دیس میں کرپشن کا یہ حال ہے کہ اکثر اداروں میں جس میں عوامی آمدو رفت بہت زیادہ ہوتی ہے، اس کو اپنا انتہائی معمولی سا کام بھی کرانے کے لیے بہت زیادہ کوفت اٹھانا پڑتی ہے۔ یہاں تک کہ اس کو اپنے ہی متعلق کچھ معلومات چاہیے ہوں، اپنی ہی فائل میں سے کسی لیٹر کی نقل چاہیے ہو ، جو اس کو لکھا گیا ہے اور اتفاق سے اس وقت وہ ساتھ نہیں لا سکا، جب کام کے لیے آیا ہے، تو اس نقل کی قیمت بھی اس کو چپڑاسی کو سو دو سو روپے ادا کرنی پڑتی ہے۔ یہ تو صرف ایک نقل کی مثال دی ہے۔ ورنہ کیا کچھ نہیں ہوتا۔ سب سے بڑا مسلہ یہ ہے کہ ہم سب ہی کرپٹ ہیں۔ ہر لحاظ سے۔ دکاندار ناپ تول میں ڈنڈی مارتا ہے۔ استاد پڑھانے میں کام چوری کرتا ہے۔ اپنی پوری تیاری کرکے نہیں آتا۔ چپڑاسی کو ایک کام کے ساتھ دوسرے کا کہا جائے تو کہتا ہے کہ اس کی یہ ڈیوٹی ہی نہیں ہے۔ حالانکہ کسی بھی دفتر میں کسی بھی فرد کو نوکری پر رکھتے ہوئے جب اس کو تقرر نامہ جاری کیا جاتا ہے تو اس میں ایک شرط یا شق یہ ضرور لکھی ہوتی ہے کہ ’’ کوئی اور اضافی فرض، جو کہ اس کو سینئرز کی طرف سے تفویض کیا جائے گا، اس کی ادائیگی۔‘‘۔۔ تو اصولی طور پر کسی بھی ادارے کا کوئی بھی فرد اس شرط کی رو سے کسی بھی سرکاری ڈیوٹی سے کی انجام دہی سے انکار نہیں کر سکتا۔ لیکن دیکھا گیا ہے کہ ہر تقریباً ادارے میں آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ ہر کوئی اپنے ساتھ کسی نہ کسی بڑے آدمی کا پاوا لے کر آتا ہے۔ اور اس پاوے کو تمام عمر کیش کراتا رہتا ہے۔ یوں پہلے کام چوری اور اس کے بعد کرپشن میں نام پیدا کرتا ہے۔

کرپشن لازمی نہیں کے روپے پیسے کی ہو۔ رشوت ہو یا غبن ہو۔ ہر وہ کام جو اﷲ کی مرضی سے کسی بھی انسان کے ذمے لگایا گیا ہے، اسکی بہترین طریقے سے اپنی پوری استطاعت کے ساتھ ادا نہ کرنا بھی کرپشن ہی کے زمرے میں آتا ہے۔ دھوکہ کرنا، جھوٹ بولنا، فریب کرنا وغیرہ اور اس لحاظ سے دیکھا جائے تو ہر کوئی چاہے وہ کسی ادارے میں کام کرنے والے چپڑاسی ، چوکیدار سے لے کر ادارے کے سربراہ تک کوئی فرد ہو، یا پھر دین فرائض کے انجام دہی سے وابستہ کوئی فرد ہو، یا پھر کسی بھی شعبے سے اس کا تعلق ہو۔ اگر دیے گئے کام کو اس کی روح کے مطابق ادا نہیں کرتا تو میری نظر میں وہ کرپٹ ہے۔ اگر وہ اس کام کو وقت پر نہیں کرتا، جانتے بوجھتے یا سہل پسندی کی وجہ سے، تو بھی وہ کرپٹ ہے۔ ہماری ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہمارے دل و دماغ، وقت و پیسے کی کرپشن ہے۔ اس کرپشن سے ہمیں جان چھڑانی ہو گی۔ تب ہی ہم دنیا میں ترقی کر پائیں گے۔ چین کا کوئی بڑا آدمی کسی زمانے میں پاکستان آیا۔ واپس گیا تو پاکستان کی سیر کے حوالے سے پوچھنے پر اس نے بتایا کہ معلوم نہیں پاکستان چل کس طرح رہا ہے۔ کہ لوگ اس کو اندر سے بھی کھا رہے ہیں اور باہر سے بھی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ibn e Niaz

Read More Articles by Ibn e Niaz: 79 Articles with 41063 views »
I am a working, and hardworking person. I love reading books. There is only specialty in it that I would prefer Islamic books, if found many types at .. View More
29 Jul, 2016 Views: 518

Comments

آپ کی رائے