حق کی فتح

(Abid Ali Yousufzai, Sawat)
ملاکنڈ ڈویژن کا اہم ترین علاقہ وادی سوات ہے جو تعلیم، صحت، کاروبار اور سیاحت کے لحاظ سے سب سے آگے ہے۔ دینی تعلیم ہو یا دنیاوی، ہر سال طالب علموں میں اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ یہاں کے عوام دیندار ہے۔ دینی مدارس ہوں یا دعوت تبلیغ، سوات میں اس کی کوئی کمی نہیں۔ یہاں کے عوام پانچ وقت کے نمازی ہیں اور سو فی صد روزہ رکھتے ہیں۔ بد قسمتی سے چند سالوں سے کچھ شر پسند عناصر یہاں کے دیندار طبقوں کے درمیان نفرتیں پھیلانے میں مصروف ہیں۔

شر پسند عناصر اس وقت کسی حد تک اپنے مکروہ عزائم میں کامیاب ہوگئے جب دو سال پہلے انہوں نے دار العلوم دیو بند کے فاضل دو علمائے حق کے شخصیات کو ایک دوسرے کے سامنے لا کھڑا کیا۔ مولانا نصیر الحق صاحب ؒ جو کہ خوازہ خیلہ سے تعلق رکھتے تھے۔ انہوں نے اپنے دور میں اوقات الصلوٰۃ کا ایک نقشہ تیار کیا جو علاقے میں رائج کیا گیا۔ اس کے کئی سال بعد مولانا فضل محمد صاحب ؒ المعروف مہتمم صاحب نے جدید تحقیق اور مشاہدات کے بعد نیا نقشہ بنا یاجو سوات کے علاوہ ضلع شانگلہ اور دوسرے اضلاع میں بھی رائج ہوگیا۔ بد قسمتی سے تقریبا دس سال پہلے علما ء کو آپس میں لڑانے کے لیے کچھ افراد نے دونوں نقشوں کا تنازعہ کھڑا کیا جو رفتہ رفتہ شدت اختیار کرتا گیا۔ بلآخر دو سال پہلے علاقے کے جید علماء کے دو گروپ بن گئے اور نقشے کا اختلاف عروج پر پہنچ گیا۔

اختلاف میں تبلیغی حضرات باقاعدہ مدارس کے خلاف فریق بن گئے اور چند افراد لوگوں میں علماء کے خلاف نفرتیں پھیلانے میں مصروف عمل ہوگئے۔ مسئلہ کے حل کے لیے باقاعدہ مختلف مجالس کا انعقاد کیا گیا لیکن ہر مجلس میں ان افراد نے افراتفری پھیلانے کی کوشش کی جو فلکیات کے فن کو جانتے نہ تھے۔ یوں ہر مجلس بے نتیجہ ختم ہوکر دونوں فریقوں کے درمیان خلا بڑھتا گیا۔ نتیجۃًپچھلے سال ایک نیا متنازعہ نقشہ وجود میں آیا۔ نئے نقشے کے بعد عوام میں علماء کے خلاف بد گمانی بڑھ گئی اور باقاعدہ علماء کے خلاف زبان درازی ہونے لگی۔

مسئلے کے حل کے لیے علماء کرام نے کراچی کے بڑے مدارس اور مفتیان کرام سے فتوے طلب کئے جس میں حضرت مہتمم صاحب کے نقشے کی توثیق کی گئی۔ بعض افراد کو علماء کی سچائی اور حق پرستی راس نہیں آئی تو انہوں نے الٹے سیدھے الفاظ لکھ کر دار العلوم دیو بند کو خط لکھا۔ اس خط میں یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ یہاں کون سا نقشہ رائج ہے۔ کس نے مشاہدات کئے ہیں۔ کراچی کے مفتاین کرام نے کیا فتوی دیا ہے۔ بلکہ محض یہ بات کہی گئی کہ دو نقشے رائج ہے ۔ فتنہ بڑھ رہا ہے۔ مسئلے کا حل بتا دے کہ کس پر عمل کریں؟ ان کی غلط بیانی پر دارالعلوم دیو بند نے مشاہدات کا جواب دیا جبکہ مشاہدات سے پہلے ہی حضرت مہتمم صاحب کا نقشہ درست ثابت ہو چکا ہے۔

جب یہاں بھی ان کو اپنی منہ کی کھانی پڑی تو انہوں نے ایک نیا داؤ کھیلنے کی کوشش کی۔ پاکستان کے معروف ماہر فلکیات ، وفاق المدارس کے نصاب میں شامل کتاب فہم فلکیات کے مصنف مولانا سید شبیر احمد کاکا خیل صاحب کو دعوت دی کہ آپ ماہر فن ہے اور فیصلہ آپ ہی کریں گے۔ چنانچہ 28 جولائی 2016کو ودویہ ہال مینگورہ میں سید شبیر احمد کاکا خیل صاحب کے زیر صدارت ایک نشست کا انعقاد کیا گیا۔ کاکا خیل صاحب نے تقریبا ایک گھنٹہ سیر حاصل گفتگو کے بعد شرکاء کے سوالوں کے جوابات دئے۔ انہوں نے اپنے تقریر میں علماء کے اقوال، مفتی رشید احمد لدھیانویؒ اور جمہور کا اختلاف ذکر کرنے کے بعد مفتی رشید احمد صاحب ؒ کے رجوع من التشدد کا واقعہ بھی ذکر کیا۔

کاکا خیل صاحب نے بتایا کہ میں نے خود پہلے مفتی رشید احمد صاحب کے قول کے مطابق اوقات الصلوٰۃ کے نقشے بنائے۔ جب مجھے اس مسئلے میں اختلاف کا علم ہوا تو دونوں طرف علمائے حق کو پا کر میں نے اپنے مشاہدات کئے۔ چھ ماہ پر مشتمل مختلف مشاہدات سے میں اس نتیجے پر پہنچا کہ جب طلوع سے پہلے سورج 18 درجے زیر افق ہو تو وہ صبح صادق ہے۔ اسی طرح غروب کے بعد جب سورج 18 درجے زیر افق چلا جائے تو عشاء کا وقت ہوجاتا ہے۔ مزید انہوں نے فرمایا کہ پاکستان کے علاوہ دنیا کے مختلف ممالک کے لیے میں اوقات الصلوٰۃ کے نقشے تیار کر چکا ہوں۔

کاکا خیل صاحب نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ جو نقشہ بعض مہینوں میں 18درجے پر اور بعض مہینوں میں 15 درجے پر ہومیں اس کی تغلیط کرتا ہوں۔ یہ نفسانی خواہش کا عکاس ہے۔ جن اصولوں پر میں نقشہ بناتا ہوں مولانا فضل محمد صاحب کا نقشہ عین اس اصول کے مطابق ہے۔ آپ لوگ اختلاف کو ختم کرکے اس نقشہ پر عمل کریں۔

مولانا فضل محمد صاحب کے مشاہدات، مفتیان کرام کے فتاوی اور شبیر احمد کاکاخیل صاحب کے فنی و تحقیقی گفتگو کے بعد یہ بات واضح ہو گئی کہ ضلع سوات میں رائج مولانا فضل محمد صاحب کے نقشے کے علاوہ کوئی نقشہ درست نہیں۔ علماء کرام اور عوام الناس کو اسی نقشے کے مطابق صوم و صلوٰۃ کی پابندی لازمی ہے۔ انتظامیہ کی بھی ذمہ داری بنتی ہے علاقے میں انتشار پھیلانے اور فضل محمد صاحب کے نقشے کے علاوہ دوسرے نقشوں کی ترویج کرنے کا راستہ روک کر علاقے میں امن اور بھائی چارے کی فضا قائم کرنے میں کردار ادا کریں۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Abid Ali Yousufzai

Read More Articles by Abid Ali Yousufzai: 97 Articles with 50281 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
29 Jul, 2016 Views: 972

Comments

آپ کی رائے