رانگ نمبر، قصوروار کون ۔۔۔۔۔؟؟؟

(Talib Ali Awan, Sialkot)
 ایک گھر کے موبائل نمبر پر رانگ نمبر سے کال آئی،گھر میں ایک عورت نے کال سنی تو آگے سے اجنبی آواز سن کر عورت نے کہا،
’’ سوری رانگ نمبر ہے ‘‘ اور فون بند کر دیا ۔ لڑکے نے جب ہیلو کی آواز سن لی تو وہ سمجھ گیا کہ یہ کسی لڑکی کانمبر ہے ۔ اب اس نمبر کو ملانے والا لڑکا مسلسل اسی نمبر پر کال کرتا رہتا ،لیکن وہ عورت فون نہ اٹھاتی ۔پھر وہ میسج کرتا کہ جانوں بات کرو نا، کال کیوں نہیں رسیو کرتی ؟ یاد رہے عورت کی ساس بڑی مکار تھی اور لڑائی جھگڑا مول لینے والی خاتون تھی ، اس کی وجہ شائد یہ بھی تھی کہ اس کی بیٹی اس عورت کے بھائی کے نکاح میں تھی اور وہ اپنے خاوند کے گھر خوش نہیں تھی ۔نتیجتاً اس کا سارا نزلہ اپنی بہو پر نکلتا تھا ،وہ بہانے بنا بنا کر اپنی بہو سے ہر وقت جھگڑا کیا کرتی تھی ۔ اس واقعہ کے چند دن بعد موبائل فون کی رنگ ٹون بجی تو ساس نے فون کال رسیو کی ،آگے سے لڑکے کی آواز سن کر ساس خاموش ہو گئی ، لڑکا باربار کہتا جا رہاتھا کہ جانی !آپ مجھ سے بات کیوں نہیں کرتی،مجھ سے بات تو کرو پلیز ،تمہاری جادوئی آواز نے مجھے پاگل کر دیا ہے ۔ ۔ ۔ وغیرہ وغیرہ ۔ساس نے خاموشی سے فون سن کر بند کردیا ۔ اب جب رات کو عورت کا شوہر گھر آیا تو ساس نے اپنے بیٹے کوعلیحدہ بلا کر
اپنی بہو پر بدچلنی،زنا اور نامعلوم لڑکے سے یارانے کا الزام لگایا ۔۔۔
شوہر نے اسی وقت جاہلیت کا کردار ادا کرتے ہوئے بیوی کی ایک بھی نہ سنی اور بیوی کو رسیوں سے باندھ کر بدترین تشدد کا نشانہ بنا ڈالا ۔ جب وہ تشدد کرکے فارغ ہوا توساس نے موبائل فون ہاتھ میں تھما تے ہوئے کہا :’’یہ ہے نمبر تمہاری بیوی کے یار کا ۔‘‘ شوہر نے موبائل کالزاور میسجز کا ریکارڈ چیک کیاتو لڑکے کے تمام میسجز پڑھے ۔ جاہل شوہر تمام میسج پڑھ کر اور بھی سیخ پا ہو گیا ، ادھر ساس نے فون کرکے بہو کے بھائی کو بتایا کہ تمہاری بہن اپنے یار کے ساتھ موبائل فون پر باتیں اور میسج کرتے ہوئے پکڑی گئی ہے ، تمہاری بہن نے ہماری عزت خاک میں ملا دی ہے ۔ لڑکی کا بھائی اور ماں فوراًاسی وقت اپنی بیٹی کے گھر آئے ، ادھر لڑکی کی ساس اور شوہر نے انہیں طعنے دیتے ہوئے مذکورہ بالا الزامات دہرانے شروع کر دئیے ۔
اس لڑکی کے بھائی نے بھی زمانہ جاہلیت کو مات دی اور اپنی بہن کو بالوں سے پکڑ کر خوب زدو کوب کیا ۔ لڑکی قسمیں کھا کر اپنی صفائی پیش کرتی رہی ،لیکن جاہل شوہر اور شیطان ساس کے سامنے بے بس رہی ۔ لڑکی کی ماں کے اصرار پر،لڑکی نے نہا دھو کر، قرآن پاک پر ہاتھ رکھ کر اپنی بے گناہی کی قسمیں کھائیں اور صفائی پیش کی ،لیکن شیطان ساس نے اس کو بھی یہ کہتے ہوئے ٹھکرا دیا کہ جو عورت اپنے خاوند سے دغا اور غداری کر سکتی ہے، اس کے لئے قرآن کریم پر ہاتھ رکھ کر قسم کھانا کوئی مشکل کام نہیں ہے ۔اس کے ساتھ لڑکی کے جاہل شوہر نے وہ سارے میسجز لڑکی کے بھائی کو بھی دکھا دئیے ۔ لڑکی کا بھائی یہ سب دیکھ کر آگ بگولہ ہوگیا ، ساتھ لڑکی کی ساس نے جلتی پر تیل چھڑکتے ہوئے کہا کہ تماری بہن مکار،دھوکے باز اور بد چلن ہے ،کیا یہ تربیت کی ہے آپ نے اس کی ؟ لڑکی کے بھائی کو غیرت آئی اور اس نے طیش میں آکر اپنی بہن کی ایک بھی نہ سنی اور پستول نکال کر اپنی بہن کے سر میں چار گولیاں پیوست کردیں ۔ ۔۔۔۔
ایک رانگ نمبر کی وجہ سے ایک خاندان اجڑ گیا اور چھ بچے یتیم ہوگئے ۔جب لڑکی کے دوسرے بھائیوں کو خبر ہوئی تو انہوں نے اپنے بھائی ،بھابھی ،بہنوئی، بہن کی ساس اور نامعلوم نمبر پر ایف آئی آرکٹوا دی ۔ جب پولیس نے اس موبائل فون کے ڈیٹا کو چیک کیا ، تو معلوم ہواکہ لڑکی نے صرف ایک دفعہ رانگ نمبر کورسیو کیا تھا اور پھر وہ رانگ نمبرمسلسل میسجز اور کالز کے ذریعے سے اس لڑکی کو پھنسانے کے چکر میں لگا رہا ۔موبائل فون کی ڈیٹا رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعدلڑکی کے جس بھائی نے بہن کو قتل کیا تھا اس نے اسی وقت جیل میں خودکشی کر لی اور رانگ نمبرملانے والے لڑکے کو پولیس نے گرفتار کرکے جیل میں ڈال دیا ۔
یوں ایک رانگ نمبر نے تین دنوں کے اند ر ایک پاک دامن عورت کو اس کے چھ بچوں سے پوری زندگی کیلئے جدا کردیا اور دس دنوں کے بعدلڑکی کے بھائی نے خود کشی کرکے ایک اور عورت کو بیوہ اور اس کے چار بچوں کو یتیم کردیا ۔یوں تیرہ دن کے اندر اندر دس بچے یتیم اور دو خاندان تباہ وبرباد ہوگئے ۔
ذرا سوچیں اور بتائیں قصوروار کون ۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟
۱۔ بے غیرت رانگ نمبر ملانے والا
۲۔ مکار ساس
۳۔ شکی مزاج وجاہل شوہر
۴۔ نام نہاد غیرت مند بھائی
۔۔۔۔۔۔۔۔یا۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۵۔ ہمارا معاشرہ
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof. Talib Ali Awan

Read More Articles by Prof. Talib Ali Awan: 50 Articles with 52160 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
07 Aug, 2016 Views: 1490

Comments

آپ کی رائے
Thanks a lot Janab Akram Sb for appreciating...............
By: Pro. Talib Ali Awan, Sialkot on Sep, 05 2016
Reply Reply
3 Like
Gooooood
By: Muhammad Akram, Sialkot on Sep, 03 2016
Reply Reply
2 Like
محترم پروفیسر صاحب! شاید ہمارے کئی ایسے کمنٹس آپکی نظر سے نہیں گذرے جن میں ہم نے لکھا ہے کہ علم بانٹنے اور پھیلانے کی چیز ہوتا ہے ۔ کوئی اچھی اصلاحی معلوماتی تحریر شیئر کرنا بری بات نہیں ہے ۔ مگر اس کے اصل مصنف کا نام گول کر دینا اور اسے اپنی تخلیق ظاہر کرنا بھی کوئی اچھی بات نہیں ہے ۔ ہمارا ابھی بھی یہی کہنا ہے کہ اپنی تخلیقات کے خزانے کو ملاوٹ زدہ کرنے سے کسی بھی لکھنے والے کی اپنی ذاتی تحریروں کا بھی پھر کوئی اعتبار نہیں رہ جاتا ۔ وہ سب اصل بھی پھر اسی نقل کھاتے میں چلی جاتی ہیں ۔ ابھی آپکا کہنا ہے کہ دو سال پہلے آپ نے اس موضوع پر لکھا تھا ۔ کسی موضوع پر خود لکھنا اور اسی موضوع پر کسی اور کے لکھے ہوئے کو اپنا ظاہر کرنے میں بہت فرق ہوتا ہے ۔ آپ بس اس پوسٹ کے ساتھ اس کے اصل خالق کے نام کا حوالہ دے دیتے تو اتنا ہی کافی تھا ۔ باقی اللہ آپ کو جزائے خیر دے ہمارے اتنے تنقیدی کمنٹس آپ کو قیمتی لگے ۔
By: Rana Tabassum Pasha(Daur), Dallas, USA on Aug, 15 2016
Reply Reply
0 Like
آپ کی بات سے متفق ہوں،کبھی کھبار اگر غلطی سے تحریر شائع کرتے وقت اصل مصنف کا نام دینا بھول جانا اور بات ہے مگر اسکو اسطرح سے شائع کروا لینا کہ وہ اپنی تحریر کردہ لگے تو یہ طرزعمل درست نہیں ہے۔جناب طالب علی اعوان صاحب اصل خالق کے نام کا حوالہ دے دیتے یا بعدازں اپنی غلطی کو تسلیم کر لیتے تو اچھا ثاثر ملتا،بہرحال ہر کسی کی اپنی سوچ ہوتی ہے۔
By: Zulfiqar Ali Bukhari, Rawalpindi on Aug, 30 2016
0 Like
اس مضمون کے مصنف کا نام محمد شعیب تنولی ہے اور آجکل کے دستور کے مطابق انہوں نے بھی اپنی اس تحریر کو 2016-02-25 کو تقریباً ایک درجن جگہوں پر چھپوایا تھا ۔ فیس بک پر یہ سینکڑوں بار شیئر کیا گیا اور اوریجنلی خود مصنف نے کیا تھا ۔ پروفیسر صاحب! آپ نے کسی وضاحت کی ضرورت محسوس نہیں کی اور مسلسل اسے خود اپنی تخلیق ظاہر کر رہے ہیں ۔ نشاندہی کے لئے بہت معذرت ۔
By: Rana Tabassum Pasha(Daur), Dallas, USA on Aug, 14 2016
Reply Reply
0 Like
Muhtram Rana sb! Mein taqreeban 2 saal pehlay Dunya Newspaper aur byadbi blog mein iss mozo per likh chuka hon.....Dunya Newspaper mein meray taqreeban 2013 say 2014 30 articles chhap chukay hain inn mein say chund mein nay dobara Hamariweb mein shamil kiye hain aur kuchh ainda mahino mein shamil ho jaye gen..... Baqi agar achhay kaam ki naqal b ho jaye toh meray khiyal mein koi qabahat nahi. Shaid kisi ka faida ho jaye......
Phir b
Bundles of Thanks for giving precious comments.
By: Pro. Talib Ali Awan , Sialkot on Aug, 14 2016
2 Like
True story of our society
By: Usama, Lahore on Aug, 13 2016
Reply Reply
2 Like
Bundles of thanks to all for giving precious comments...............
By: Pro. Talib Ali Awan, Sialkot on Aug, 13 2016
Reply Reply
2 Like
Achha issue uthaya hai ap nay
By: Liaqat Ali, Sialkot on Aug, 12 2016
Reply Reply
2 Like
apni apni jaga sab responsible hain
saas bhi jis ne ghalat biyani aur jhoot ko bura na samjha
wrong number milaney wala jis ka kaam he ye tha
shohar ka bhi us ne mamley ko investigate nae kiya
bhaiyon ka jin ki ghairat bs talaq aur qatal tak he thi
society ka bhi jahan aurat he qasurwar samjhi jati hai...
girls aisa koii bhi issue ho ...... apne baap bhaai khawand ko inform karain.... is se pehle k koii aur btaye ghalat andaz ma aap khud bta dain
By: sana, Lahore on Aug, 10 2016
Reply Reply
1 Like
Yes, all are responsible ......Thanks for giving precious comments.
By: Pro. Talib Ali Awan, Sialkot on Aug, 11 2016
2 Like
true..
By: Asma, Karachi on Aug, 08 2016
Reply Reply
2 Like
Thank a lot for giving precious comments......
By: Pro. Talib Ali Awan, Sialkot on Aug, 10 2016
2 Like
Thanks a lot for giving precious comments.....
By: Pro. Talib Ali Awan, Sialkot on Aug, 08 2016
0 Like