کیا ہم جشن آزادی کے حق دارہیں!

(Faisal Shahzad, Karachi)
چودہ اگست ایک بار پھر آیا اورملک بھر میں جشن آزادی منایاگیا،مگر ایک دن کے جشن سے حالات میں کیاتبدیلی آسکے گی۔یہ دن ایک عہدوپیمان کاتھا۔ہم نے یہ ملک کس مقصد کے لیے حاصل کیا تھا۔اس حقیقت کو یاد کرنے کاتھا؟پاکستان کامطلب کیالاالہ الااﷲ کا نعرہ جو برصغیر کے گلی کوچوں میں لگا ،اس کو عملی شکل دینے کے لیے ہم نے کیاکیا؟سواس بارے میں اپنامحاسبہ کرناتھا۔

اگر ہم نے کچھ کیاہوتا تو چلیں ہم تعریف کے قابل تھے۔لائق مبارکباد تھے ۔پھر ہم جشن مسرت مناتے اچھے لگتے۔مگر ہم تواپنے ہدف کے خلاف جارہے ہیں۔ملک بنایاتھاتاکہ کسی پر ظلم نہ ہونے پائے۔آج ظلم وستم کی ہزارہا داستانیں اس دھرتی کے چپے چپے پر روزانہ لکھی جاتی ہیں ۔ملک بنایا تھا اس لیے تاکہ دنیامیں ہم اسلام کی ایک تجربہ گاہ بنائیں گے مگرہم نے اسے بے دینی کی آماجگا ہ بنادیا۔ملک میں تعلیم عام کرنا تھی اوروہ بھی اسلامی خطوط کے مطابق مگر ہمارانظام تعلیم اب بھی لارڈمیکالے کے نقش قدم پر چل رہاہے۔ملک بنایاتھا تاکہ چادر اورچہاردیواری کاتحفظ ہر خاتون کونصیب ہو مگر آج ہمارامیڈیا فحاشی وعریانی کو رواج دے کر سروں سے دوپٹے اتارنے کی مہم چلارہاہے۔کل قیامت کو ہم ان شہیدوں کو کیاجواب دیں گے جن کی قربانیوں سے یہ ملک حاصل ہوا۔اگر وہ اہل ِپاکستان کوچھیاسٹھ برس بعدبھی اپنی منزل سے اتنادوردیکھتے تو ان کی حسرت کا کیاعالم ہوتا۔جس نسل نے تحریک پاکستان کی قیادت کی تھی وہ تو کب کی گزرگئی۔اس دورکے جوان بھی رخصت ہوچکے ہیں۔ہاں جوحضرات اس وقت بچے تھے ،وہ اب ستر ،اسی برس کی عمر کے درمیان ہیں۔انہی سے پوچھ لیجیے کہ ملک کی اس ابتری پران کے جذبات واحساسات کیاہیں ۔آپ معاشرے کی ان ہستیوں سے جوچراغ سحر بن کرٹمٹمارہے ہیں ذراان کی اس دن کی کیفیات معلوم کریں جس دن پاکستان بناتھااورپوچھیں کہ اب وہ کیامحسوس کررہے ہیں۔آپ کو اندازہ ہوگاکہ اہل وطن نے قربانیاں دینے والوں کی کیسی ناقدری کی ہے۔اﷲ کی اس نعمت عظمیٰ کو کس طرح پامال کیاہے۔کاش کہ ہمیں اپنی کوتاہیوں کی تلافی کی توفیق اب ہوجائے۔

ایک عام سی بات یہ ہوگئی ہے ہم ہرمعاملے میں حکومت کو برابھلاکہہ کر گویااپنی ذمہ داری اداکردیتے ہیں ۔بلاشبہ حکومت ،سیاست دان اورلیڈر اس قومی خیانت کے اولین مجرم ہیں مگر کیا ہماری عملی طورپر کوئی ذمہ داری نہیں۔کیا ہم کم سے کم یہ نہیں کرسکتے کہ اپنے گھر وں میں دین داری کورواج دیں۔اپنی ذات سے کوئی غیراسلامی کام نہ ہونے دیں۔سنتوں کے خلاف نہ چلیں۔پردے کو عام کریں،اسلامی لباس اپنائیں۔اسلامی تہذیب وتمدن کو اپناسرمایہ سمجھیں۔غیروں کی نقالی سے احترازکریں۔اس میں ہمیں کسی نے مجبورتونہیں کیا۔ہم اپنی خوشی سے ان جرائم میں شریک ہیں۔ تو کیا چودہ اگست کے دن جب ہم ملک کی مقصداساسی کویاد کرتے ہیں تو کیا ہی خوب ہوکہ خود بھی اس مقصد پر استقامت کاعہد کریں۔ہم نمازوں کااہتمام کریں ۔ہم علم دین کو عام کریں۔ہم جھوٹ نہ بولیں ۔ہم مال حرام کی طرف نہ دیکھیں۔ہم وقت کی پابندی کریں۔ہم خدمت کوسعادت سمجھیں۔ہمارے اخلاق وکردارکودیکھ کرلوگ کہیں کہ ہاں مسلمان ایسے ہوتے ہیں۔اگر اس جذبے کے ساتھ ہم آہنگ ہوکر لاکھوں کروڑوں افراد اپنی اپنی زندگیاں سنوارلیں تو کیا ملک میں ایک انقلاب نہ آجائے گا؟ہمارامعاشرہ پہلے سے مختلف نہ دکھائی دے گا؟جو تبدیلی بنیاد ی سطح پر آتی ہے وہ خود کو منوا کر چھوڑتی ہے۔جب افراد کی زندگیوں میں دین داخل ہوگا تو ان شاء اﷲ اس کے اثرات پورے معاشرے میں دکھائی دیں گے۔ ہم اس کے لیے کیاکوشش کرسکتے ہیں،یہ ہم میں سے ہرایک کے حالات پر منحصر ہے۔ہر کسی کواﷲ نے الگ الگ صلاحیتیں ،وسائل اورذمہ داریاں دی ہیں۔اپنی اپنی جگہ اپنے اپنے ماحول کے مطابق اسلام کو زندہ کرنے کاعہد کرکے ایک نئی زندگی کاآغازکریں۔
 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Faisal shahzad

Read More Articles by Muhammad Faisal shahzad: 115 Articles with 112018 views »
Editor of monthly jahan e sehat (a mag of ICSP), Coloumist of daily Express and daily islam.. View More
18 Aug, 2016 Views: 343

Comments

آپ کی رائے