انسان سے بندہ بننے کا نسخہ

(Prof Talib Ali Awan, Sialkot)
 انسان سے بندہ بننے کے چندرہنماء اصول :
٭ ہمیشہ اپنے آپ سے نیچے دیکھو (یعنی جوتے والا ،ننگے پاؤں والے کو دیکھے ،کار والا موٹر سائیکل والے کی طرف دیکھے اور مکان والا ، خانہ بدوش یا بے گھر کی طرف دیکھے ) ، اپنے سے اوپر دیکھو گے تو گمراہ ہو گے ۔
٭ اپنی خواہشوں کو کبھی اپنے قدموں سے آگے نکلنے نہ دو ،جو مل گیا اس پر شکر کرو ،جو چھن گیا اس پر افسوس نہ کرو ۔
٭ جو مانگ لے اس کو دے دو ،جو بھول جائے اسے بھول جاؤ ۔
٭ دنیا میں بے سروسامان آئے تھے ، بے سرو سامان ہی واپس جاؤ گے ،سازوسامان جمع نہ کرو ، اتنا جمع کرو جس سے ضروریات ِ زندگی پوری ہو جائیں ۔
٭ ہجوم سے پرہیز کرو ،تنہائی کو ساتھی بناؤ ۔ جسے خدا ڈھیل دے رہا ہو اس کا کبھی احتساب نہ کرو ،اﷲ اس کا احتساب کرے گا ۔
٭ جھوٹ سے بچوکیونکہ جھوٹ تمام برائیوں کی جڑ ہے اور یاد رہے کہ بلا ضرورت سچ بھی فساد برپا کرتا ہے ،کوئی پوچھے تو سچ بولو،نہ پوچھے تو چپ رہو۔
٭ یہ دنیااورلوگ لذت گاہ ہیں، اور دنیا کی تمام لذتوں کا انجام برا ہوتا ہے، جو نصیب میں ہو مل جاتا ہے ہمارا کام بس محنت اور کوشش کرنا ہے ۔
٭ زندگی میں جب خوشی اورسکون کم ہوجائے تو سیر پر نکل جاؤ،تمہیں راستے میں سکون بھی ملے گا اور خوشی بھی ۔
٭ مالی معاملات میں میانہ روی اختیار کرو،دولت کو روکو گے تو خود بھی رک جاؤ گے(یعنی دولت کو خرچ کروگے تو دولت آئے گی) ،چوروں میں رہو گے تو چور ہو جاؤ گے ۔
٭ ہر حال میں اﷲ کا شکر کرو، اﷲ راضی رہے گا تو جگ راضی رہے گا ،وہ ناراض ہوگا تواس کی عطا کردہ نعمتوں سے خوشبو اُڑ جائے گی ۔ سادھوؤں میں بیٹھو گے تو اندر کا سادھو جاگ جائے گا ۔
٭ قوت ِ برادشت کی آخری حد تک جائیں ،پھر بھی اگر تم اپنے عزیزوں ،رشتہ داروں ،اپنی اولاد اور دوستوں سے چڑنے لگو تو جان لوتمہارا اﷲ تم سے ناراض ہے اور تم جب اپنے دل میں دشمنوں کے لئے رحم محسوس کرنے لگو تو سمجھ لو تمہارا خالق تم سے راضی ہے ۔
٭ کبھی یک طرفہ فیصلہ نہ کرنا اور نہ کسی کو خود چھوڑنا ،دوسروں کو فیصلے کا موقع دینا ،یہ اﷲ کی سنت ہے ، اﷲ کبھی اپنی مخلوق کو تنہا نہیں چھوڑتا ، مخلوق اﷲ کو چھوڑتی ہے ۔
٭ جو جارہا ہواسے جانے دینا ، مگر جو واپس آرہا ہو اس پر کبھی اپنا دروازہ بندنہ کرنا ، یہ بھی اﷲ کی عادت ہے ،اﷲ واپس آنے والوں کے لئے ہمیشہ اپنا دروازہ کھلا رکھتا ہے ، تم یہ کرتے رہنا ،تمہارے دروازے پر میلہ لگا رہے گا ۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof. Talib Ali Awan

Read More Articles by Prof. Talib Ali Awan: 50 Articles with 52163 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
26 Aug, 2016 Views: 565

Comments

آپ کی رائے