مسکراہٹ

(Javed Iqbal Anjum, )
حضرت علی کرم اﷲ وجہہ فرماتے ہیں ’’لوگوں کی اُمیدوں کا آپ سے وابستہ ہونا اﷲ کا آپ پر کرم خاص ہے‘‘۔ چند دن پہلے ایک دوست عرفان چوہدری کی دعوت پر لاہور جانے کا اتفاق ہوا۔ وہاں اﷲ رب العزت نے بہت ہی پیارے لوگوں سے ملا دیا۔ دُنیا میں اچھے لوگوں کی کمی نہیں ہے۔ اﷲ کے اچھے لوگ دُنیا میں موجود ہیں تو دُنیا چل رہی ہے۔ تبسم وحید اور میجر ریٹائرڈ خواجہ انور سہیل بھی ان چند لوگوں میں سے ایک ہیں۔ تبسم وحید کی شادی بہت چھوٹی عمر میں ہو گئی، عملی زندگی میں طرح طرح کے چیلنجز درپیش رہے تو فیصلہ کیا کہ اُدھوری تعلیم کو دوبارہ شروع کیا جائے۔ جب ارادہ پختہ ہو تو منزل مل جاتی ہے۔ تعلیم مکمل کر لی، اپنی زندگی کو دُوسروں کی مسکراہٹ کی وجہ بنا لیا۔ Help with Smile Foundation بنانے کا فیصلہ کیا۔ اپنے ساتھ میجر ریٹائرڈ خواجہ سہیل انور جیسے صاف گو اور صاف نیت انسان کو شامل کیا جنہوں نے اپنی شریک حیات کا کینسر جیسی موذی بیماری میں بھرپور ساتھ دیا اور تھوڑا عرصہ پہلے اُن کی شریک حیات 35 سال کی رفاقت کو انتہائی بہادری کے ساتھ ختم کر کے اس جہان فانی سے کوچ کر گئیں۔ یقینا اس دُکھ کے بعد میجر ریٹائرڈ خواجہ سہیل انور کو بھی ضرورت تھی ایسے ماحول کی جہاں وہ دُوسروں کی مسکراہٹ بن سکیں، لوگوں کے غم اور دُکھ کو بانٹ سکیں۔ Help with Smile Foundation ایسے بے سہارا بچوں کی تعلیم و تربیت کے لئے بنائی گئی ہے جن کو والدین حالت مجبوری میں سکول بھیجنے کی بجائے کام پر بھیج دیتے ہیں۔ اُن سے ورکشاپ پر کام کرواتے ہیں یا پھر محنت مزدوری کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں اور کچھ بچے ایسے بھی ہیں جو پیشہ ور بھکاری بن جاتے ہیں اور یہاں تک کہ جرائم کی دُنیا میں بھی چلے جاتے ہیں۔ ایسے بچوں کو سکول کا رُخ کرانا ہی اس فاؤنڈیشن کا بنیادی مقصد ہے۔ میں نے ان کے ایک سکول کا دورہ کیا جو کہ لاہور کے ایک غریب اور پسماندہ علاقے کما ہاں گاؤں بینک سٹاپ فیروز پور روڈ میں واقع ہے۔ جناح گرائمر ایلیمنٹری سکول کے نام سے اس سکول میں بچوں کی تعداد 180 ہے جبکہ اس سکول میں خواہش مند بچوں کی تعداد 1 ہزار سے زائد ہو چکی ہے، ان کی تعلیم و تربیت کے لئے اعلیٰ تعلیم یافتہ ٹیچرز رکھی گئی ہیں۔ بچوں کے سالانہ اخراجات جس میں سکول فیس، بکس، کاپیاں اور یونیفارم ملا کر 15 ہزار روپے بن جاتے ہیں اور اگر اس کو ماہانہ کیا جائے تو 1250 روپے بنتے ہیں مگر اس سکول کا ماحول دیکھنے کے بعد قطعی طور پر اندازہ نہیں ہوتا کہ یہ سکول ایک فاؤنڈیشن کا سکول ہے اور یہ بہت حد تک اپنی مدد آپ کے تحت اور کسی حد تک لوگوں کی مدد سے چلتا ہے۔ بچوں کو پڑھانے کے لئے جو ٹیچرز رکھی گئی ہیں اُن کو معقول معاوضہ دیا جاتا ہے۔ اس سکول کے بچے کسی لحاظ سے بھی یہ محسوس نہیں کرتے کہ ان کے پاس وسائل نہیں ہیں یا پھر وہ ایک فاؤنڈیشن کے سکول میں پڑھ رہے ہیں یہاں تک کہ ان کو گرمی سے بچنے کے لئے یو پی ایس کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے۔ ٹھنڈا پینے کے پانی کے لئے کولر بھی لگایا گیا ہے۔ بچوں کی تعلیم و تربیت پر خاص توجہ دی جاتی ہے۔ اگر ان کے پاس بہتر وسائل ہوں تو بچوں کی تعداد کئی گنا بڑھ سکتی ہے۔ حکومت پنجاب جو کہ تعلیم پر بھرپور توجہ دے رہی ہے اگر ایسے بچوں کی فاؤنڈیشن Help with Smile Foundation کو سپورٹ کیا جائے تو یقینا اس کے دُور رس نتائج سامنے آسکتے ہیں اور یہی بچے مستقبل میں معاشرے کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اس وقت ان بچوں کے لئے کمپیوٹر لیب نہیں ہے، پلے گراؤنڈ بھی نہیں ہے، فرنیچر بھی بڑی مشکل سے پورا کیا گیا ہے۔ اگر اس فاؤنڈیشن کی دُنیا بھر میں پھیلے ہوئے ایسے انسان جو کہ اﷲ کی رضا کی خاطر انسانیت کی مدد کرنا چاہتے ہوں تو پھر اس فاؤنڈیشن کے اس اکاؤنٹ نمبر پر مدد کر سکتے ہیں
Account #; PK18 ASCM
0002250100002437
Title: Help with smile
Askari Bank Airport Branch Lahore

یہ فاؤنڈیشن تعلیم کے ساتھ ساتھ پولیو فری مہم میں بھی روٹری انٹرنیشنل کے ساتھ مل کر ڈور ٹو ڈور قطرے پلانے میں پیش پیش رہی ہے اور اس فاؤنڈیشن کی ٹیم نے پولیو فری پاکستان میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ یقینا معاشرے میں Help with Smile Foundation جیسی فاؤنڈیشن کی حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے۔ جب معیاری تعلیم ہر خاص و عام تک پہنچ جائے گی تو یقینا اُس کے معاشرے پر دُور رس نتائج سامنے آئیں گے۔ معاشرے سے بے راہ روی اور جرائم کے خاتمے کے لئے ایک اہم قدم ثابت ہو گا۔ ان بے سہارا بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے کا ایک آسان طریقہ یہ بھی ہے کہ مخیر حضرات ماہانہ 1250 روپے ادا کر کے ایک بچے کی ذمہ داری اپنے ذمے لے لیں یا پھر یکمشت 15 ہزار روپے جمع کرا کے ایک سال کی ذمہ داری لے کر ایک بچے کو تعلیم جیسے قیمتی زیور سے آراستہ کر سکتے ہیں۔ Help with Smile Foundation نے گذشتہ رمضان المبارک میں راشن تقسیم پروگرام بھی احسن انداز میں سر انجام دیا۔ ایسے بے شمار گھرانوں تک راشن پہنچایا گیا جو کہ انتہائی کسمپرسی کی زندگی گذار رہے ہیں مگر اپنی سفید پوشی کی وجہ سے کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلا سکتے تو ایسے لوگوں کو چادر اور چار دیواری کے اندر راشن فراہم کیا گیا تاکہ اُن کو کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے کی ضرورت نہ پڑے۔ یقینی طور پر ایسی آرگنائزیشنز معاشرے کے لئے اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ اگر ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہمارے بچوں کی طرح غریب لوگ کے بچے بھی تعلیم حاصل کریں، اُن کے چہروں پر مسکراہٹ آئے تو پھر یقینا ہمیں ایسے اداروں کی حوصلہ افزائی کرنا ہو گی اور درحقیقت اپنے صدقہ و خیرات ایسی آرگنائزیشنز تک پہنچانے چاہئیں جو دُکھی انسانیت کی خدمت میں پیش پیش ہوں اور یقینا یہ صدقہ و خیرات ہماری آخرت میں کام آئیں گے اور یہ وسیلہ بنیں گے صدقہ مسکراہٹ کا۔ اﷲ تعالیٰ پاکستان کا حامی و ناصر ہو۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Javed Iqbal Anjum

Read More Articles by Javed Iqbal Anjum: 79 Articles with 34617 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
29 Aug, 2016 Views: 267

Comments

آپ کی رائے