اک ستارہ تھا وہ کہکہشاں ہو گیا

(Tanveer Awan, Islamabad)
بسم اﷲ الرحمن الرحیم

اﷲ رب العزت نے موت وحیات کے ساتھ نظم کائنات کو جوڑے رکھاہے ،ہمیشہ موت زندگی کی حفاظت کرتی رہتی ہے ، دنیا دار الامتحان ہے ، دائمی کامیابی و ناکامی کا انحصار اسی چندروزہ زندگی پر ہے،جو لوگ کسی مقصد کے تحت اسے بسر کرتے ہیں وہی تاریخ کے اوراق میں زندہ و جاوید ہو تے ہیں،ایسی ہی ایک شخصیت جس نے زندگی کی صرف 23بہاریں دیکھیں مگر اتنی چاہتیں،محبتیں ، ،دعائیں اور ہمدردیاں اپنے دامن میں سمیٹ لیں جو بہت کم لوگوں کا نصیب ہوتی ہیں ۔

ہنس مکھ، ملنسار، خدمت خلق کے جذبہ سے سرشار،ہردلعزیزی،دوستوں کی محفل کی رونق، کسی نے اس کے منہ سے کبھی "انکار"،"نہیں" کا لفظ نہیں سنا،سائل کبھی خالی ہاتھ نہیں لوٹایا،والدین کی آنکھوں کا تارااور بہن بھائیوں کو جان سے پیارا ،یہ سب اوصاف قدرت نے خلیفہ دوم حضرت عمر فاروق ؓ اور خلیفہ چہارم داماد بنی حضرت علی المرتضیٰ ؓ کے ناموں کی نسبت رکھنے والے برادر صغیر عمر علی شہید ؒ کو ودیعت کئے ہوئے تھے ۔

2 جولائی 1993کو رحمان آباد تحصیل حویلیاں موضع کوکل برسین کی معروف و مشہور مذہبی و سماجی شخصیت حاجی محمد ناصر خان مرحوم ؒکے خاندان میں ایک بچے نے آنکھ کھولی ، محمد اشرف کے ہاں پیدا ہونے والے اس مہمان کا نام اس کے دادا حاجی محمد عرفان نے عمر علی تجویز کیا ،عمر علی پانچ بہن بھائیوں میں چوتھے نمبرپر تھے، دینی تعلیم جامع مسجد رحمان آباد سے حاصل کی ، جب کہ ابتدائی عصری تعلیم مقامی پرائمری سکو ل سے حاصل کرنے بعد گورنمنٹ ہائی سکول کوکل برسین سے 2011میں میٹرک کا امتحان پاس کیا ۔اپنے نانا صوبیدار (ر)محمد یٰسین مرحوم کی صحبت میں رہنے کی وجہ سے عمرعلی شہید کی پاکستان آرمی میں شمولیت اختیار کرکے ملک و قوم کے لیے خدمات سرانجام دینا منزل ٹھہری ،وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ والد محترم محمد اشرف جوبفضل اﷲ ہزارہ کے مشہو راور ماہر انجن میکینک شمار کئے جاتے ہیں ،ان سے یہ ہنر بھی سیکھ لیا،پاکستان آرمی کے لیے متعددبار انٹری ٹیسٹ دیا مگر کامیابی حاصل نہ ہوئی ، تو اس ہنرکو منزل پانے کاذریعہ بنایالیا اورFWOمیں کنٹریکٹ پرVM کی حیثیت سے خدمات سرانجام دینی شروع کیں، 2011 سے 2016 تک چلاس ، گلگت ،ناران،فاٹااور پشاور میں ڈیوٹی کی، بہت کم وقت میں نیک نامی ،شہرت اور محبتیں ہی عمر علی شہید کا اثاثہ ہوئیں۔

پاکستان آرمی اور شہادت دونوں عمر علی کا مقصود حیات تھے،انہوں نے کئی مجلسوں میں اس کا اظہار بھی کیا ،اﷲ کریم نے ان کی دونوں آرزؤں کو پورا کیا ،صر ف 23سال کی عمر میں ملک وقوم کی خدمت کرتے ہوئے شہادت کا اعزاز پاکر والد ین اور پوری قوم کا سر فخر سے بلند کردیا۔6اگست 2016کو عمر علی شہید ؒ چلاس (تتہ پانی )میں ڈیوٹی پر جاتے ہوئے ٹریفک حادثے میں شہید ہوئے ،اسی رات ان کی نماز جنازہ گلگت آرمی ہیڈکوارٹر میں 9:30بجے ادا کی گئی ،7اگست2016کو شہید عمر علی ؒ کا جسد خاکی 10:00آبائی علاقہ رحمان آباد ،حویلیاں میں FWOکے ذمہ داران نے صوبیدار عبدالحفیظ کی سربراہی میں ایک بڑے جلوس کی شکل میں جب گاؤں پہنچا تو ایک قیامت بپا ہوگئی ،آہیں اور سسکیاں ، بچے ،بوڑھے اور جوان ہر ایک کی آنکھ انسو بہا رہی تھی اور دل مغموم تھے ، عمر علی شہید کے" لنگوٹئے" دوستوں شاہد ، عثمان ، عمیر ،فیضان،منیب ،فہیم ،حافظ مسعود احمد ،بابراور برادرم محمد الماس اعوان سمیت تمام نوجوان صدمے سے نڈھال تھے ،برادر صغیر غضنفر علی اپنے چہیتے اور لاڈلے بھائی کی جدائی کو برداشت نہیں کر پا رہے تھے ،کہرام بپا تھا،والدین پر یہ صدمہ جس طرح قیامت بن کے ٹوٹااس کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا ،آ ہ و زاریاں تھیں ،عمر علی کی یادیں زد زبان عام و خاص تھیں ،وقت کی نبض تھی کہ رکنے کا نام نہیں لے رہی تھی ۔

4بجے شام جب عمر علی شہید ؒ کاجسد خاکی جب جنازہ گاہ کی طرف روانہ ہوا تو ایک شان نرالی تھی ، ایک جم غفیر تھاجو میت کے دیدار کا منتظر تھا ،ہر ایک شہید کے نماز جنازہ میں شرکت کو سعادت سمجھتے ہوئے کھینچا چلا آرہا تھا ، اسلام آباد سے مولانا عبدالرؤف محمدی صاحب اور مولانا شہزاد احمد عباسی کی قیادت میں علماء کرام کی بڑی تعداد نے شرکت کی ،لاہور سے مولانا شوکت علی صاحب اور ان کے رفقاء ،ہری پور سے مفتی توصیف احمد صاحب اور دیگر نے بطور خاص شرکت کی،حویلیاں سے مولانا عبدالوحید صاحب ،مفتی آصف صاحب ،مولانا نعمان اعوان ،مولانا فہد صاحب سمیت قرب و جوار کے علماء کرام نے بڑی تعداد میں نماز جنازہ میں شرکت کی ۔ممبر ضلع کونسل بابو جاوید اقبال سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد نے شرکت کی جب کہ اس موقع پر مفتی آصف محمود صاحب نے مجمع سے خطاب کیا اور نماز جنازہ کی امامت بھی فرمائی۔

عمر علی شہیدؒ کی تدفین پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ سبز ہلالی پرچم میں اپنے نانا صوبیدار (ر)حاجی محمد یسین ؒ کے پہلو میں کی گئی اور قبر پر قومی پرچم نصب کیا گیا ،راقم تنویر احمد اعوان اور قاری محمد احمد صاحب(اسلام آباد) کوعمر علی شہیدکی قبر پر تلقین پڑھنے کی سعادت حاصل ہوئی اور مذہبی سکالر اور معروف صحافی مولانا عبدالرؤف محمدی صاحب نے رقت آمیز دعا کروائی ۔برادر عزیز عمر علی شہید سفر آخرت پرروانہ ہوگئے مگر ہر ول کو افسردہ اور ہر آنکھ کو اشکبار کر گئے،عمر علی شہید کی یادوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے ،باتیں ہیں ،ادائیں ہیں اور ان کا مسکراتا ہوا چہرا ہر لمحہ بے چین اور مضطرب کئے دیتا ہے مگر مشیت الہی پہ صبر کے علاوہ کسی کے لیے کوئی چارہ نہیں اور اہل ایمان سے مطلوب بھی یہی ہے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Molana Tanveer Ahmad Awan

Read More Articles by Molana Tanveer Ahmad Awan: 207 Articles with 141271 views »
writter in national news pepers ,teacher,wellfare and social worker... View More
29 Aug, 2016 Views: 413

Comments

آپ کی رائے