سہگل آباد اسکول کے ہونہار طالبعلم احرار احمد کا اعزاز

(Javed Iqbal Anjum, )
لاہور کا دورہ مکمل کر کے ابھی چکوال کی حدود میں داخل نہیں ہوا تھا کہ فون کی گھنٹی بجی۔ محترم چوہدری محمد فاروق بھائی کی کال تھی جو کہ عسکری بنک چکوال میں منیجر ہیں۔ اُنہوں نے میری توجہ نیکیوں کو اکٹھا کرنے کے ایک اور سلسلے کی جانب مبذول کرائی۔ موضع سرکال مائر کے رہائشی ہونہار طالبعلم احرار احمد نے میٹرک کے امتحان میں 1046 نمبر حاصل کر کے سب کو حیران کر دیا۔ وہ اپنی گاڑی لے کر اڈے پر میرا انتظار کر رہے تھے۔ جب معاملہ نیکیاں اکٹھی کرنے کا ہو اور اﷲ کو راضی کرنے کا ہو تو پھر تھکاوٹ اور موسم راستے کی رُکاوٹ نہیں بن سکتے۔ جیسے ہی چکوال اڈے پر اُترا تو گرد آلود تیز ہواؤں نے بُرا حال کر دیا مگر مجھے احرار احمد کے پاس پہنچنا تھا۔ چکوال سے 16 کلومیٹر دُور سرکال مائر احرار احمد کے گھر پہنچے، وہاں پر موجود بیٹھک میں اُن کے خاندان کے کافی لوگ موجود تھے، اُن کے والد نفیس الرحمن گذشتہ 7 سال سے وہیل چیئر پر ہیں۔ ائیر فورس سے میڈیکل بورڈ حاصل کیا، بمشکل 10 ہزار پنشن ملتی ہے۔ گھر کے مالی حالات کا اندازہ اس بات سے لگا لیں کہ احرار احمد کے پاس سہگل آباد سکول جانے کے لئے گاڑی کا کرایہ تک نہیں ہوتا تھا۔ وہ پیدل سکول جاتا تھا۔ سہگل آباد گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری سکول کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے کر لیں کہ اسی سکول میں احرار احمد کے والد نے تعلیم حاصل کی، اسی میں ان کے دادا غلام سرور نے تعلیم حاصل کی اور پھر اسی سکول میں ان کے دادا نے پڑھایا اور ریٹائرمنٹ حاصل کی۔ احرار احمد نے انتہائی مشکل حالات میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ کتابیں، یونیفارم اور روزانہ اخراجات کے لئے پیسے نہیں ہوتے تھے لیکن اس بچے نے کبھی بھی مسائل کو اپنے راستے کی رُکاوٹ نہ بننے دیا۔ دھیمے مزاج کے احرار احمد نے مڈل امتحان میں 550 میں سے 525 نمبر حاصل کر کے ڈسٹرکٹ ٹاپ کیا تھا مگر اُس وقت بھی ان کو حکومتی سطح پر کوئی پذیرائی نہ ملی۔ اب ایک بار پھر اس بچے نے ثابت کر دیا ہے کہ ’’ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی‘‘۔ میٹرک کے امتحان میں 1100 میں سے 1046 نمبر حاصل کیے۔ خصوصاً ریاضی کے مضمون میں 150 میں سے 149 نمبر حاصل کر کے سب کو حیران کر دیا۔ روزانہ 12 سے 15 گھنٹے پڑھنے والے صوم و صلوٰۃ کے پابند اس ہونہار طالب علم سے جب گفتگو کی تو پتہ چلا کہ اس کا داخلہ سکالرشپ پر پنجاب گروپ آف کالجز میں ہو چکا ہے مگر ان کے پاس گاڑی کا کرایہ دینے کے لئے بھی پیسے نہیں ہیں۔ گاڑی کے ماہانہ اخراجات 2300 روپے بنتے ہیں مگر ان کے لیے 23 روپے دینا بھی محال ہے۔ جب میں نے پوچھا کہ گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری سکول سہگل آباد کے سٹاف یا ڈسٹرکٹ گورنمنٹ نے کوئی مدد کی ہے تو بچے نے انتہائی معصومانہ انداز میں کہا کہ سکول کی جانب سے سرٹیفکیٹ پر تین سٹار دئیے گئے ہیں جبکہ ڈسٹرکٹ گورنمنٹ نے کیا پوچھنا تھا آج آپ پہلے شخص ہیں جو میرے گھر آئے ہیں میں حیران رہ گیا کہ جس سکول کا نام اس بچے نے روشن کیا ہے اس میں 14 ویں گریڈ سے 19 ویں گریڈ تک ٹیچرز موجود ہیں جو کہ ہزاروں میں تنخواہ لیتے ہیں مگر اس بچے کی حوصلہ افزائی کے لئے کسی کی جیب سے چند روپے بھی نہیں نکل سکے۔ کیا تین سٹار اس بچے کے مالی حالات کو درست کر پائیں گے؟ مگر اس بچے نے پھر بھی اپنی زبان پر حرف شکایت نہ لایا اور کہا کہ میری کامیابی میں میرے والد، دادا، کلاس ٹیچر مسعود شاہ اور انچارج پرنسپل نثار احمد ملک کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ بچے کا داخلہ پری انجینئرنگ میں ہو چکا ہے۔ اگر ایسے ہونہار طالب علم پر حکومت پنجاب محنت کرے اور اس کو مالی سپورٹ کرے تو یقینا یہ بچہ پاکستان کا مستقبل ثابت ہو سکتا ہے۔ چکوال، پاکستان اور دُنیا بھر میں پھیلے ہوئے انسانیت اور دُکھی انسانیت کی خدمت کرنے والے انسانوں کی کمی نہیں ہے۔ اگر صاحب حیثیت اس بچے کی مدد کرنا چاہتے ہیں تو اس بچے کے ذاتی اکاؤنٹ نمبر محمد احرار احمد، برانچ کوڈ 0647، اکاؤنٹ نمبر 232578126 یو بی ایل برانچ سہگل آباد میں بھیج سکتے ہیں۔ سرکال مائر کا نام پوری دُنیا میں روشن کرنے والے کرنل (ر) ظہور الحق شاہ نے اس بچے کی سرپرستی کرنے کا یقین بھی دلایا۔ سوچنے والی بات یہ ہے کہ غریبی اور امیری اﷲ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ اﷲ تعالیٰ جب انسان کو پیدا کرتا ہے تو سب کا دماغ ایک جیسا ہوتا ہے، کچھ لوگ اس دماغ کو مثبت مقاصد کے لئے استعمال کرتے ہیں اور کچھ منفی مقاصد کے لئے۔ اگر احرار احمد کے دماغ سے فائدہ اُٹھایا گیا تو یہ بچہ مستقبل میں پاکستان کا قیمتی اثاثہ بن سکتا ہے۔ شاعر نے کیا خوب کہا ہے ؂
بے ہمتے نے او لوگ یارو جہیڑا شکوہ کرن مقدراں دا
اگن والے اگ پودے نے سینہ چیر کے پتھراں دا
اﷲ تعالیٰ پاکستان کا حامی و ناصر ہو۔
٭٭٭٭٭
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Javed Iqbal Anjum

Read More Articles by Javed Iqbal Anjum: 79 Articles with 35323 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
30 Aug, 2016 Views: 413

Comments

آپ کی رائے