صحافتی عظمت کی پامالی کیوں ۔۔؟

(Dr B.A Khurram, Karachi)
 تحریر ۔۔۔شیخ توصیف حسین
میں بہت خوش تھا چونکہ میں اُس دن صحافت جیسے مقدس پیشے جسے پیغمبری پیشہ بھی کہا جاتا ہے کو اپنایا تھا جسے اپنانے کے بعد میں سوچوں کے سمندر میں ڈوب کر یہ سوچ رہا تھا کہ میں اپنے قلم کے ذریعے خداوندکریم کی خو شنودگی کے ساتھ ساتھ ملک و قوم کی بقاء کے حصول کی خا طر ہر ظالم و جا بر شخص کے علاوہ راشی افسران جو ڈریکولا کا روپ دھار کر ملک و قوم کا خون چوس رہے ہیں کے کالے کرتوتوں کو بے نقاب کر کے انھیں کیفر کردار تک پہنچا نا اپنا فرض عین سمجھوں گا چونکہ یہ وہ ناسور ہیں جو اپنی طاقت کے نشے میں دھت ہو کر لوٹ مار ظلم و ستم اور ناانصافیوں کی تاریخ رقم کرنے میں مصروف عمل ہیں آپ یقین کریں یا نہ کریں لیکن یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ اُس دور میں اگر کوئی وزیر مشیر یا پھر کوئی اعلی آ فیسر یہاں آتا یا پھر تعنیات ہوتا تو وہ سب سے پہلے میڈیا کے نمائندوں سے میٹنگ کرتا جن کی رائے کے مطا بق مذکورہ آفیسر اپنے فرائض و منصبی صداقت امانت اور شرافت کا ہیکر بن کر ادا کرتا جس کے نتیجہ میں امن و امان اور بھائی چارے کی فضا بر قرار جبکہ منشیات فروشی فحاشی جیسا مکروہ دھندے کے علاوہ چوری ڈکیتی راہزنی لوٹ مار جلاؤ گھیراؤ اغواء برائے تاوان اور قتل جیسی سنگین وارداتوں کا کہیں نام و نشان تک نہیں ملتا تھا یہاں مجھے ایک واقعہ یاد آ گیا ہوا یوں کہ اُس دور میں سرخ اندھیری آئی جس کو دیکھ کر میں نے ایک بزرگ شخص سے پو چھا کہ یہ سرخ اندھیری کیوں آئی ہے جس پر اُس بزرگ شخص نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ بیٹا آج کہیں کسی بے گناہ شخص کا قتل کیا گیا ہے اس دور میں اگر کوئی شخص برف چار آنے میں بھی بلیک کرتا تو اُسے انتظامیہ فل الفور بند سلاسل کر دیتی یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ اُس دور میں میڈیا کے نمائندے اپنے فرائض و منصبی عبادت سمجھ کر ادا کرتے تھے جس کے نتیجہ میں عوام اور انتظامیہ میڈیا کے نمائندوں کو عزت کی نگاہ سے دیکھتی اور احترام کرتی تھی لیکن بعد ازاں بے رحم وقت نے ایسی کروٹ بدلی کہ لاتعداد قانون شکن عناصر اپنے کالے کرتوتوں پر پردہ ڈالنے کیلئے راشی اعلی افسران سے ساز باز ہو کر ٹی وی چینل و اخبارات کے اجازت نامے حاصل کر کے صحافت جیسے مقدس پیشے سے وابستہ ہو کر اس مقدس پیشہ کی عظمت کو پامال کرنے لگے سچ تویہ ہے کہ یہ لا قانونیت کا ننگا رقص کرنے والے قانون شکن عناصر جو بڑے بڑے کالجز کی سر پرستی کرنے کے ساتھ ساتھ قبضہ مافیا اور بلیک میلنگ کے ماسٹر ماہند ہیں اس مقدس پیشے کو اپنی گھناؤ نی سو چ کے مطا بق طوائف کا کو ٹھا بنا نے میں مصروف عمل ہو کر رہ گئے جس کے نتیجہ میں آج لا تعداد قانون شکن عناصر جو منشیات فروشی اور فحاشی جیسے مکروہ دھندے کے ساتھ ساتھ چند کاغذ کے ٹکڑوں کے حصول کی خا طر سر کاری و غیر سر کاری افراد کے خلاف درخواست بازی کے سلسلہ کو جاری رکھ کر صحافت جیسے مقدس پیشہ کی تذلیل کر رہے ہیں اگر ان کے اس گھناؤ نے اقدام کے خلاف کوئی شخص ان کے ادارے کے سر براہ کو شکایت کرے تو ادارے کا سر براہ بڑی ڈھٹائی اور بے شر می کے ساتھ اُس شخص کو جواب دیتا ہے کہ یہ تو ہمارے کماؤ پتر ہیں یہاں مجھے ایک واقعہ یاد آ گیا ہوا یوں کہ ایک شخص نے اشتہار اخبار دیا کہ مجھے ایک عدد نو کر کی ضرورت ہے اشتہار اخبار پڑھ کر ایک غریب شخص اُس شخص کے پاس پہنچا اور اُس سے پو چھنے لگا کہ مجھے آپ کی خد مت کیلئے کیا کر نا ہو گا یہ سن کر اس شخص نے اُسے کہا کہ آپ نے میری کوئی خدمت وغیرہ نہیں کر نی بس تمھیں روزانہ صبح شام داتا دربار پر جا نا ہے اپنا کھا نا وہی سے کھا لینا ہے لنگر سے اور میرے لیے لے آ نا ہے بس یہی حالت لا تعداد ٹی وی چینل و اخبارات مالکان کی ہے جو اپنے نمائندوں کو کارڈ دیتے ہوئے یہ نہیں سو چتے کہ جس نمائندے کو اپنے ادارے کا کارڈ جاری کر رہے ہیں اس کی تعلیم کیا ہے کتنے عرصے کا تجر بہ ہے یہ کام کیا کرتا ہے اس پر کتنے مقدمات ہیں یا نہیں اس کی انھیں کوئی پرواہ نہیں یہ تو بس طوائفوں کی طرح ایک ہی رٹ لگائے رکھتے ہیں کہ تو نوٹ دکھا میرا موڈ بنے جس کے نتیجہ میں آج اس مقدس پیشہ جسے پیغمبری پیشہ بھی کہا جاتا ہے کی عظمت پامال ہو رہی ہے اگر آپ حقیقت کے آ ئینے میں دیکھے تو صحافت کی عظمت کی پا مالی کے ذمہ دار کوئی اور نہیں صرف اور صرف وہ ٹی وی چینل و اخبارات مالکان ہیں جو دولت کے پجاری بن کر نہ صرف صحافت کی عظمت بلکہ ملک و قوم کی بقا سے گھناؤ نا کھیل کھیل رہے ہیں یہاں مجھے ایک واقعہ یاد آ گیا ہوا یوں کہ ایک اخبار کے مالک نے اپنے نمائندے کو کارڈ جاری کرتے ہوئے کہا کہ اگر تم نے اس ماہ مجھے بیس ہزار روپے کا اشتہار نہ دیا تو میں آپ کا کارڈ کینسل کر دوں گا یہ سن کر نمائندے نے اخبار کے مالک سے کہا کہ آپ بے فکر ہو جائے میں آپ کو ہر حالت میں خواہ وہ جائز ہو یا نا جائز طریقے سے آپ کو بیس ہزار روپے کا اشتہار ریفر کر دوں گا یہ کہہ کر وہ واپس اپنے گھر آ گیا دوسرے دن وہ صبح سویرے اُٹھا اور بغیر نا شتہ کیئے وہ ضلع بھر کے تمام کے تمام اداروں میں پہنچا لیکن کہیں سے بھی اُسے کچھ نہ ملا کہ اسی دوران اس نمائندے کو بھوک لگی جس پر وہ گھر جانے کیلئے سڑک پر آ گیا تھوڑی دیر کے بعد ایک رکشہ آیا جس پر وہ بیٹھ کر گھر جا نے لگا کہ اسی دوران اُسے خیال آیا کہ اُس کی جیب میں ایک روپیہ بھی نہیں وہ رکشہ کا کرایہ کہاں سے دے گا وہ نمائندہ اسی سوچ میں مبتلا تھا کہ اچانک اسے خیال آیا کہ اُس کی جیب میں پریس کارڈ ہے جس پر اس نمائندے نے فوری طور پر اپنا پریس کارڈ جیب سے نکالا اور گلے میں ڈال لیا تھوڑی دیر کے بعد اس نمائندے کا گھر آ گیا نمائندہ رکشہ سے اترنے لگا تو اس نے ڈرائیور کو کہا کہ یہ دیکھو میرا پریس کارڈ میں ایک صحافی ہوں اگر میں چاہتا تو تمھیں اور تمھارے رکشہ کو تھانے میں بند کروا دیتا چونکہ تمھارے رکشہ کا سلنسر پھٹا ہوا ہے جس کی بلند آ واز سے میرا دماغ چکرانے لگا لہذا آج میں تم کو معاف کرتا ہوں یہ کہہ کر وہ نمائندہ بغیر کرایہ ادا کیئے جانے لگا تو اسی دوران رکشہ کے ڈرائیور نے اس نمائندے کو گریبان سے پکڑ کر کہا کہ جس اخبار کے تم نمائندے بنے ہو اس اخبار کا میں بیوروچیف ہوں لہذا تم کرایہ ادا کرو ورنہ تمھاری اتنی پٹائی سر عام کروں گا جسے تم ہمیشہ یاد رکھو گے تو آج میں یہاں حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتا ہوں کہ دولت کے پجاری ٹی وی چینل و اخبارات کا محاسبہ کریں کہ جن کی وجہ سے صحافت جیسے مقدس پیشہ کی عظمت پامال ہو رہی ہے -
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr B.A Khurram

Read More Articles by Dr B.A Khurram: 543 Articles with 226371 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
17 Sep, 2016 Views: 320

Comments

آپ کی رائے