فلسفیانہ موشگافیوں کی بجائے عملی خدمت کی ضروت

(Dr. Muhammad Javed, Dubai)
میری نظروں سے برصغیر کے معروف سماجی مفکر عبید اللہ سندھی کا یہ قول گذرا’’ہم انسانیت کی خدمت کرنے کی بجائے فلسفیانہ موشگافیوں اور دوراز کار بحثوں میں پڑ گئے اور کمزوروں کو کمزور رکھ کر ان کا خون چوسنے کے فلسفے کے جواز میں بڑی بڑی بحثیں کرنے لگ گئے حالانکہ چاہئے یہ تھا کہ بیکاروں (un employed) کو کام پر لگانے کے ذرائع پر غور کرتے ۔‘‘اس تناظر میں اگراپنے معاشرے کا جائزہ لیں تو ان کا یہ قول ہمارے معاشرے کی تصویر کشی کرتا نظر آتا ہے،ہم صرف غریبوں کے مسائل پہ ،ان کی پریشانیوں اور استحصال پہ رات دن گفتگو میں مصروف رہتے ہیں، کئی کئی گھنٹے مختلف موضوعات پہ طبع آزمائی کرتے ہیں اور پھر گھروں کو رخصت ہو کر سکون کی نیند سو جاتے ہیں اور اگلے دن پھر تازہ دم ہو کر زمین اور آسمان کے نظریاتی قلابے مارناشروع کر دیتے ہیں، زبانی جمع خرچ کی یہ عادت ہمیں ہر جگہ تقریباً نظر آتی ہے،چاہے حکومتی ادارے اور کرتا دھرتا ہوں یا میڈیا ہو یا غیر سرکاری ادارے ہوں یا نام نہاد انقلابات اور سیاسی تبدیلی کے داعی گروہ ہوں سب عوامی مسائل پہ بات کرتے ہوئے نہیں تھکتے، لیکن عملی اقدامات کی طرف پیش رفت نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے۔ ہماری سو سائٹی میں نہایت ہی کم تعداد میں یقیناً ایسے افراد بھی ہیں جو معاشرے میں فلسفیانہ بحثوں میں اپنے آپ کو غرق کرنے کی بجائے عمل پہ یقین رکھتے ہیں ، وہ افراد معاشرہ کے دکھوں اور پریشانیوں میں ان کا ساتھ دیتے ہیں ان کی مدد اس انداز سے کرتے ہیں کہ وہ اپنے پاؤں پہ کھڑے ہو کر اپنے مسائل حل کرنا سیکھیں ، تاکہ سماجی تبدیلی کی راہیں آسان ہو سکیں۔ایسے ہی ایک درویش صفت شخصیت کے بارے میں نے پڑھا کہ اس نے اعلیٰ تعلیم حاصل کی، بڑے عہدوں پہ رہا ، لیکن اسے انسان دوستی کے سبق نے عمل پہ مجبور کیا اور اس نے کراچی کے ایک علاقے اورنگی ٹاؤن کا انتخاب کیا، جہاں لوگوں کے پاس صاف پانی کی سہولت نہیں تھی، جہاں سینی ٹیشن کا نظام اس قدر خراب تھایا نہ ہونے کے برابر تھا جس سے لوگ بیماریوں میں گھرے ہوئے تھے، اس نے سوچا ان پریشان حال لوگوں کی مدد کیسے کی جائے، انہیں بیماریوں سے کیسے محفوظ کیا جائے، تنہا اس درویش نے گلیوں، محلوں میں لوگوں کے ساتھ بیٹھ کر ان کے مسائل کو سمجھا اور پھر انہیں ساتھ لے کر OPPاورنگی پائلٹ پراجیکٹ کے نام سے اپنے کام کا آغاز کیا، اورسینکڑوں کی آبادی کے اس علاقے کی گلیوں کو صاف ستھرا بنا دیا، لوگ صاف ستھری فضا میں سانس لینے لگے، صاف پانی ان کا مقدر ہوا، یہ سب کچھ انہوں نے اپنی مدد آپ کے تحت لوگوں کو ساتھ لے کر ان کے اندر یہ شعور پیدا کیا کہ اپنی نسلوں کو صاف ستھرا ماحول کیسے مہیا کر سکتے ہیں۔ وہ شخصیت اختر حمید خان کے نام سے جانی جاتی ہے، وہ تو دنیا سے چلے گئے لیکن اپنے پیچھے، ایک اعلیٰ مثال چھوڑ گئے کہ زبانی باتوں کی بجائے عملی کام کرنے کی اہمیت زیادہ ہے، ان کے اس کام کے ماڈل کی آج ایک دنیا معترف ہے اور ان کے اس ماڈل کو اپنا کر تیسری دنیا کے بہت سے ممالک اپنے مسائل پہ قابو پا رہے ہیں اورآج پاکستان میں کئی مقامات اسی طرح کے ماڈل پہ کام ہو رہا ہے اور لوگ اس سے استفادہ کر رہے ہیں۔ان کی تیار کی ہوئی ٹیمیں آج پورے پاکستان میں سینی ٹیشن کے حوالے سے کام کر رہی ہیں، جس سے لاکھوں افراد مستفید ہو رہے ہیں۔

حقیقت میں لوگوں کی مدد یہی ہے کہ انہیں اپنے پاؤں پہ کھڑا کر کے انہیں اپنے سماجی مسائل حل کرنے کا شعور اور تربیت دی جائے۔اس کے علاوہ بھی معاشرے کے دکھ درد بانٹنے جا سکتے ہیں، مثلاًپچھلے دنوں خبروں میں دیوار مہربانی کی خبر گردش کرتی رہی، کچھ نوجوانوں نے پاکستان کے مختلف شہروں میں ’’دیوار مہربانی‘‘ کے نام سے ضرورت کی اشیاء جن میں زیادہ تر کپڑے یا اوڑھنے کی چیزیں شامل تھیں ایک دیوار کے ساتھ لٹکا دیں اور اس دیوار کو دیوار مہربانی کا نام دیا۔ ، اس دیوار پہ افراد معاشرہ جو دوسروں کی خدمت کا جذبہ و استطاعت رکھتے ہیں وہ مختلف اشیاء کو وہاں پہ لا کر لٹکا سکتے ہیں اوراس دیوار سے ضرورت مند افراد بغیر کسی سے پوچھے اپنی مرضی سے اپنی ضرورت کی شئے اتار کے لے جا سکتے ہیں۔ اس ی طرح کی ایک مثال خدا کی بستی(کم آمدنی والوں کے لئے ہاؤسنگ کا منصوبہ) کراچی کی ہے جہاں ایک خاتون نے غریب اور مفلس افراد کے لئے ’’کھاناگھر ‘‘بنایا جہاں وہ انہیں انتہائی سستا کھانا مہیا کرتی ہے۔ ‘‘اس کھانا گھر نے مزدور اور محنت کشوں کے لئے اس بستی میں ایک بہت بڑی سہولت مہیا کر دی ہے۔‘‘

معاشرے میں اس طرح کے اقدامات ایک تو اس حقیقت سے پردہ اٹھاتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں انسانیت کا درد اور انسانوں کی خدمت کرنے کا جذبہ موجود ہے۔اور خاص طور پہ نوجوان طبقہ سب سے آگے نظر آتا ہے۔یقیناًیہاں پہ چند مثالیں صرف توجہ کے لئے دی گئی ہیں، وگرنہ ملک میں ایسی کئی مثالیں موجودہیں۔
معاشرے میں اس طرح کے کام کرنے والے افراد اور اداروں کے حوالے سے ہمارے چند دانشور دوستوں سے بات ہوئی جو انقلاب کے داعی ہیں، انہوں نے اسے سراہنے کی بجائے الٹا ان پہ تنقید کی کہ اس طرح کے کام کرنے سے لوگوں کو انصاف یا نظام ظلم سے چھٹکارا تو نہیں مل جائے گا؟ لوگ جب تک نظام کی تبدیلی کے لئے جدو جہد نہیں کریں گے ان کاموں کا کوئی فائدہ نہیں۔

میرا یہ سوال تھا کہ کیا ہم آرام سے بیٹھ کر کمروں میں انقلاب کے فلسفوں کا پرچار کرتے رہیں؟ اور لوگ بھوک و افلاس سے ہمارے سامنے مرتے رہیں، کیا ہم بغیر دوا کے بچوں کوتڑپتا چھوڑ دیں؟، بغیر علاج کے لوگوں کو مرتا چھوڑ دیں؟ کیا لوگوں کی عزتوں کو معاشرے میں تار تار ہوتے ہوئے چپ بیٹھے رہیں؟ کیا لوگ گندے پانی، گندے ماحول سے بیماریوں میں پڑے رہیں؟ اور ہم تماشہ دیکھتے رہیں؟ کیا ہمارا دین ہمیں معاشرے سے اس طرح کی چشم پوشی کی تعلیم دیتا ہے؟ کیا صر ف کمروں میں بیٹھ کرانسان دوستی کے سبق پڑھائے جائیں یا اٹھ کر انسان دوستی کے سبق پہ عمل کرتے ہوئے معاشرے کی خدمت کریں، لوگوں کے دکھ بانٹیں، ہسپتالوں میں جائیں، جہاں بغیر دوا کے لوگ مرتے ہیں، جہاں ان کے لئے علاج کی مناسب سہولتیں نہیں ان کی مدد کریں،سڑکوں پہ فٹ پاتھوں پہ نظریں دوڑائیں، جہاں بے گھر لوگ سردیوں کی ٹھٹھرتی راتوں میں بغیر بستر کے پڑے نظر آتے ہیں، معاشرے پہ نظر دوڑائیں بچے معاشی وسائل نہ ہونے کی وجہ سے سکول نہیں جا پاتے۔اور نہیں تو کم از کم انسان دوستی کے اس فلسفے کی عملی مشق کے لئے اپنی گلی اور محلے کے لوگوں کو ہی منظم کر لیں تاکہ وہ اس کی متواتر صفائی رکھیں تاکہ ماحول صاف رہے اور لوگ بیماریوں سے بچ جائیں۔بھائی کچھ تو عملی طور پہ کرو، اگر فقط انسان دوستی اور خدمت انسانیت کے اسباق پڑھ کے انقلاب رونما ہوتے تو یقیناً یہ دنیا کاانتہائی آسان ترین کام تھا۔لیکن جب انبیاء اکرام کی سیرت کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں حقیقت سمجھ میں آتی ہے کہ انہوں نے یقیناً وقت کی جابر قوتوں کو للکارا لیکن انہوں نے معاشرے کو تنہا نہیں چھوڑا، مفلوک الحال اور پریشان حال لوگوں کو کبھی نظر انداز نہیں کیا، انہوں نے لوگوں کو یہ کہہ کر تسلی نہیں دی کے انقلاب آئے گا تو تب ہی تمارے لئے کچھ کریں گے ابھی مرتے ہو تومرتے رہو۔ ہمارے پیارے نبی ﷺ جو کہ انسانی دنیا میں سماجی انقلابات کے امام ہیں انہوں نے اپنے نوجوانی سے لے کر بعثت تک اور آخری ایام تک اپنی زندگی کا ایک ایک لمحہ انفرادی اور اجتماعی سماجی خدمت میں وقف رکھا۔ سیرت رسول ﷺ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے جن میں آپ ﷺ نے معاشرے کے عام کاموں سے لے کر اجتماعی نظاموں کی تبدیلی تک کے کام میں ہمیشہ اپنے آپ کو مصروف رکھا۔آپ نے لوگوں کو سودا سلف بھی لا کر دیا، لوگوں کے بوجھ اٹھائے، لوگوں کی ہر طرح سے مدد کو شعار بنایا، یہی وجہ ہے کہ جب آپ ﷺ پہ پہلی وحی نازل ہوئی تو آپ ﷺ کی بے چینی کے وقت حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے یہ کہہ کر آپ ﷺ کو تسلی دی کہ’’ آپ تو یتیموں، مسکینوں اور معاشرے کے مفلوک الحال لوگوں کی مدد کرنے والے ہیں‘‘ کوہ صفا پہ آپ ﷺ نے جب دعوت اسلام دی تو انہوں نے آپ ﷺ کو صادق اور امین اس لئے کہا کہ وہ جانتے تھے کہ آپ ﷺ کس قدر محبت کرنے والے اور دوسروں کے کام آنے والےتھے۔ آج ہم غور کریں کہ زبانی انقلاب کے فلسفوں اور انسان دوستی کے اسباق کا رٹہ لگانے والے تو ہم بن گئے، لیکن اپنے ارد گرد سے غافل ہیں، ہم میں اتنی جرات اور اخلاق نہیں کہ ہم معاشرے کے دکھوں میں عملی طور پہ ان کے ساتھ شریک ہوں، معاشرے میں بکھرے ہوئے دکھ اور اذیتوں کو عملی طور پہ محسوس کریں، بھوکوں کو کھانا کھلائیں، پریشان حال لوگوں کی مدد کریں، جو لوگ علاج کے لئے خرچ نہ ہونے کی وجہ سے دم توڑ رہے ہیں ان کی مدد کو آگے بڑھیں،تو یقیناً یہ ایک طرح کا وہ سیاسی اور سماجی عمل ہے جو آگے چل انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہو گا۔کیونکہ جب انقلاب کا سبق دہرانے والے افراد معاشرہ سے دور ہوں، ان کے دکھ درد میں ان کے ساتھی نہیں بنیں گے تو یہ کیسے ہو سکتا ہے جب یہ انقلابی فلسفے پڑھ کر لوگوں میں آئیں تو لوگ ان کی پذیرائی کریں گے، ہمیشہ عوام ان کے ساتھ ہوتی ہے جو عوام کے ساتھ ہوتے ہیں۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ سماجی انقلاب کے لئے لوگوں کے ساتھ اپنے رشتوں کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے،نیکی چھوٹی نہیں ہوتی،ہمیشہ نیکی کے لئے کوشش کرتے رہنی چاہئے،’’ آپ ﷺ نے فرمایا صدقہ دوتو اگرچہ کہ ایک کھجور ہی کیوں نہ ہو‘‘ ہمیں اپنے نبی ﷺ کی سیرت کو ہمیشہ اپنے مد نظر رکھنا چاہئے، جیسے وہ بیماروں کی عیادت کرتے تھے بلا کسی تفریق کے ، اسی طرح ہمیں بھی بلا کسی تفریق مسلک، نظریاتی اختلاف اور مذہب ہسپتالوں میں جا کر لوگوں کی عیادت کرنی چاہئے اور حسب استطاعت ان کی خدمت اور مدد کرنی چاہئے۔ ہمیں آپ ﷺ کی سیرت کی روشنی میں دوسروں کے کام آنا چاہئے، جو انسان دوستی کا سبق ہم پڑھتے ہیں جب تک اس پہ عمل نہیں کریں گے تو کبھی بھی معاشرے کے اندر تبدیلی پیدا نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی‘‘ اور یہ بھی حقیقت ہے کہ جو بھی فلسفہ یا فکر ہم سیکھتے ہیں اس پہ عمل کرنے ہی سے وہ ہماری شخصیت کا حصہ بن سکتی ہے۔صرف کتابیں پڑھ کے انقلابی نہیں بناجا سکتا ، بلکہ حقیقی نقلاب عمل کا متقاضی ہے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr. Muhammad Javed

Read More Articles by Dr. Muhammad Javed: 104 Articles with 68755 views »
I Received my PhD degree in Political Science in 2010 from University of Karachi. Research studies, Research Articles, columns writing on social scien.. View More
18 Sep, 2016 Views: 325

Comments

آپ کی رائے