دفاع وطن

(Muhammad Amjad, Karachi)
ثوبیہ بٹ

قوموں کے عروج و زوال کی داستانیں تو تاریخ کا ایک مسلمہ باب ہیں مگر اس حقیقت سے بھی انحراف نہیں کیا جا سکتا کہ انسان ناشکرا پیدا کیا گیا ہے۔ دولت و ثروت کے خمار نے انسان کو قارون و ھامان اور فرعون و نمرود جیسے القابات سے نوازا اور دنیاعالم کے لئے عبرت کا نشان بنا کر رکھ چھوڑا۔ اس کے باوجود اقتدار کی ہوس انسان میں ختم ہونے کا نام نہیں لیتی۔ طاقت،دولت اور ثروت کے اسی نشے میں چور دنیا کی نام نہاد سب سے بڑی جمہوری ریاست انڈیا نے جب 6 ستمبر 1965 کو پاکستان پر شب خون مارا تو یہ دیکھ کر حواس باختہ رہ گیا کہ شیر خواہ سویا ہو وہ اپنی ریاست سے بے خبر نہیں ہوتا۔ پاکستان جو اسلام کے نام پر وجود میں آیا تھا، جو قدرت کا عظیم شاہکار اور رب تعالی کی طرف سے ایک معجزہ تھا قطعا دشمن ناپاک کی ہرزہ سرائیوں سے صفحہ ہستی سے مٹنے والا نہیں ہے۔ اس کے وقار، عظمت و جلال کو اپنے پیروں تلے روندنے کے خواب ان کے دیکھنے والوں کی ہی انکھوں میں ناقابل برداشت کرچیوں کی مانند چبھتے ہیں۔

6 ستمبر پاکستان کی تاریخ کا وہ باب ہے جو دہائیوں بعد بھی لوگوں کو یوں ازبر ہے جیسے وہ اسکے عینی شاھد ہوں۔ ہندوستان نے تمام بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کو پس پشت ڈال کر پاکستان پر حملہ کیا۔ بھارتی افواج درحقیقت 7 ستمبر کو پاکستان پر حملہ کا ارادہ رکھتی تھی۔ پاکستانی انٹیلی جنس کو دھوکے میں رکھنے کے لئے 5 ستمبر کو ہیڈ کواٹر ویسٹرن کمانڈ کے بیشتر افسران نے شملہ میں دیئے گئے ظہرانے میں شرکت کی۔ اس وقت تک بھارتی افواج کو بیاس پار کرنے سیبھی منع رکھا گیا۔ لیکن انڈیا کی سازشوں سے پاک فوج کے کمانڈر انچیف جنرل موسی4 ستمبر کو ہی با خبر تھے جنہوں نے آل انڈیا ریڈیو کے اناونسر ڈی میلو کی بریکنگ نیوز جس میں اس نے پاک افواج کے جھمپ کے سامنے کھڑے ہونے کی اطلاع دی تھی کے خبر پڑھنے کے انداذ سے ہی یہ پیغام ڈی کوڈ کر چکے تھے کہ بھارتی فوج اگلے 24 گھنٹوں میں پاکستان پر حملہ کرے گی۔ دوسری طرف بھارتی فوجی اکھنور میں پسپائی کو برداشت نہ کر سکے اور 7 کی بجائے 5اور 6 ستمبر کی درمیانی شب ہی حملے کے لئے مقرر کر دی۔ بھارتی آرمی چیف جنرل چوہدری نے بڑے کروفر سے صبح کا ناشتہ 'لاہورجم خانہ 'میں کرنے کا اعلان کیا۔ بھارت کی طرف سے کئے جانے والے زوردار حملے کو پاکستانی افواج نے پاکستان ائیر فورس کی مدد سے کچل کے رکھ دیا اور دشمن کو ان کی حدود میں دھکیل دیا۔ کہتے ہیں کے دلوں میں ایمان کی دولت ہو تو شیطان بار بار ہر طرف سے حملہ کرتا ہے تو پھر ہی کیسے ممکن تھا کہ بس ایک ہی بار میں ہار مان لیتے۔ بھارتی فوج نے 8 ستمبر کو سیالکوٹ میں چونڈہ کے محاذ پر 500 ٹینکوں اور پچاس ہزار کے فوجی دستہ کے ساتھ حملہ کیا۔ جسکی وجہ سے اسے 'ٹینکوں کی جنگ' بھی کہا جاتا ہے۔ پاکستانی افواج جو ابھی نوجوان مملکت کی ابتدائی مشکلات سے نمٹ رہی تھی،ہتھیاروں سے اس طرح لیس نہ تھی جیسا کہ آج ہے جسکا اقرار بھارت کے ڈیفنس منسٹر نے حالیہ دنوں میں کیا ہے۔ اس کے باوجود وہ کیا کشش تھی، کیا طاقت اور جذبہ ایمانی تھا کہ پاک افواج کے ساتھ پاک عوام بھی جنگ مین بڑھ چڑھ کر حصہ لینے لگی۔ جنرل ایوب خان نے جب پاکستان ریڈیو پر عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہا 'ہم پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ بھارت نے دس کروڑ پاکستانیوں کو للکارا ہے۔ ہم دشمن کو ایسا جواب دیں گے کہ وہ ہمیشہ یاد رکھے گا۔پاکستان حق اور انصاف پر ہے اور فتح اخرکار حق اور انصاف کی ہی ہو گی۔ آزمائش کا وقت آ گیا ہے آگے بڑھو اور دشمن کو تباہ کر دو' یہ سننا تھا کہ جذبہ ایمانی سے سرشار پاکستانی قوم واقعی ایک سیسہ پلائی دیوار کی مانند کھڑی ہو گء۔ یہ وہ وقت تھا جب ایک گروہ حقیقتا ایک قوم کی شکل میں ابھر کر ایا۔ پاکستانی غیور عوام ٹینکوں کے سامنے لیٹ گء ، گولیاں کھائیں ، بموں سے اڑا دئے گئے لیکن اس وقت صرف ایک بات ان کے لئے اہم تھی اور وہ ان کے وطن عزیز کی سالمیت تھی۔ کھیم کرن اور چونڈہ میں شکست کے بعد سرگودھا پر فضائی حملے کو بھی ناکام بنا دیا گیا۔ ملکی خدمت کا جذبہ یوں سر چڑھ کر بول رہا تھا کہ کوئی بھی پیچھے رہنے کو تیار نہ تھا۔ کیسی محبت تھی اپنی زمین اور اس کے رکھوالوں سے کہ جب فوجیوں کے لئے خون کی اپیل کی گء تو بلڈبنک کے باہر لمبی قطاریں لگ گئیں۔

پاک قوم اور افواج نے 17 روز تک اپنے وطن کا دفاع کیا۔ پاک افواج انڈیا میں کھیم کرن تک کا علاقہ فتح کر چکی تھی۔ اور اﷲ کی تائید و نصرت سے اپنے وطن کو بہت بڑے نقصانات سے بچا چکی تھی۔ اس وقت اقوام متحدہ کی مداخلت سے جنگ بندی کا اعلان کر دیا گیا اور افواج واپس بلا لیں گئی۔ دونوں ممالک کو نقصان اٹھانا پڑا مگر ریاستی حدود میں کسی قسم کی تبدیلی وقوع میں نہیں ائی۔

اس گھمسان کی جنگ میں بہت سے جانثاروں نے جرات و بہادری کی نئی داستانیں رقم کیں۔ جن میں ایم ایم عالم سر فہرست ہے جنہوں نے ایک منٹ میں دشمن کے پانچ طیارے مار گرائے جس کا ریکارڈ آج تک قائم ہے۔ انہی شیر دل جوانوں کو خراج عقیدت پیش کرنیاور ملکی دفاع کی داستاں کودلون میں تازہ کرنے کے لئے ہر سال 6 ستمبر کو "یوم دفاع" منایا جاتا ہے۔ یہ پاکستانی فوج کی قربانیوں اور شہادتوں کا ثمر ہی ہے کہ ہم آج کھلی فضا میں سانس لے رہے ہیں اور پاکستان کا نام آج آسمان دنیا پر روشن ستارے کی طرح جگمگا رہا ہے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Amjad

Read More Articles by Muhammad Amjad: 17 Articles with 8416 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
21 Sep, 2016 Views: 311

Comments

آپ کی رائے