زلزلوں کی حقیقت اورہماری ذمہ داریاں

(Dr. Muhammad Javed, Karachi)
زمین پر آفات ،زلزلے ،طوفان اور وبائی امراض وغیرہ کیوں ظہور پذیر ہوتے ہیں اور لاکھوں انسانوں کو لقمہ اجل بنا دیتے ہیں؟جب کوئی آفت ظاہر ہوتی ہے تو وہ ہر ذی روح کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے معصوم بچوں سے لے کر بیمار کمزور ونعیف سب اس کے نرغے میں ہوتے ہیں۔ذہنوں میں ان گنت سوال اٹھتے ہیں۔کہ یہ سب کچھ کیوں کر ہوتا ہے؟کیسے ہوتا ہے؟کیا اس کے پیچھے طبعی عوامل ہوتے ہیں یا قدرت کی طرف سے سزا ہوتی ہے؟یہ ایسے سوالات ہیں جو کبھی نہ کبھی ضرورذہن میں آتے ہیں۔کچھ لوگ کھلم کھلا برملا کہتے ہیں اور کچھ لوگ اندر ہی اندر شکایت کرتے ہیں ۔

ایک مذ ہبی ذہن چاہے اس کا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو اس کا یہ عقیدہ ہے اس کائنات کے نظام کو معتدل رکھنے والی ایک قوت خدا کی ذات ہے وہ جب چاہتی ہے اس کائنات کے اندر تبدیلیاں پیدا کرتی ہے۔لیکن اس کے مقابلے میں ایک سائنسدان جب تحقیقی میدان میں اترتا ہے وہ کائنات کے اسرار رموز کو جاننا شروع کرتا ہے تو وہ دیکھتا ہے کہ پوری کائنات ایک خاص ضابطے اور قانون کے تحت رواں دواں ہے اور اس کے اندر تبدیلیاں یا تغیرات کچھ قوانین اور اصولوں کے تحت ہو رہی ہیں۔وہ کسی مافوق ہستی کو ماننے کی بجائے انہیں ایک ریاضیاتی عمل کا نتیجہ قرار دیتا ہے۔اب ان دونوں نکتہ ہائے نظر کو مدنظر رکھتے ہوئے تجزیہ کیا جائے تو دونوں کی رائے اپنی جگہ معتبر ہے ،کیونکہ اتنی وسیع وعریض کائنات اور بے شمار مخلوقات اور یہ توازن واعتدال یہ موت وحیات آخرکوئی تو ہے اس کا کارساز اور کاریگر ،جس نے اس کو اتنے احسن طریقے سے تخلیق کیا اور ہر ہر شئے کے اصول اور قاعدے متیعن کر دیئے۔اب مذہبی انسان کا فکر کہ خالق خدا ہے تو سوال یہ اٹھتا ہے کہ وہ کائنات میں اپنا اثر رسوخ کیسے بناتا ہے اس کا عملی اظہار کیا ہو گا؟ تو اس کا جواب سائنسدان ہمیں دیتا ہے کہ ایسے قوانین فطرت ہیں جن کے تحت کائنات ارتقاء وتبدیلیوں کا سفر طے کر رہی ہے اور انسان ان قوانین کو جتنا سمجھتا جائے گا ویسے ویسے وہ ان تبدیلیوں کے نقصانات اور فائدوں سے باخبر ہوتا جائے گا۔اور اسی طرح سے فائدے بھی اٹھاتا جائے گا اور نقصانات سے اپنے آپ کو محفوظ بھی کرتا جائے گا۔

قرآن حکیم فطرت کے اصولوں سے آشنا کرتا ہے اور اس کائنات پر غور فکر کی دعوت دیتا ہے،تحقیق وجستجو کا مادہ پیدا کرتا ہے ’’قرآن میں ۷۵۰ دفعہ مسلمانوں کی توجہ سائنسی حقائق اور مشاہدات کی طرف مبذول کرائی گئی ہے ۔کائنات کی ہر شئے کے اندر اللہ تعالیٰ نے ایک خاصیت پیدا کر دی ہے اور اسے ایک خاص ضابطے کا پابند بنا دیا ہے۔اور پوری کائنات کا نظام ایک مقرر ضابطے کا محتاج ہے ایک ایسے پروگرام کے تحت کائنات رواں دواں ہے جو اس کے لئے خالق نے متعین کر دیا ہے۔سائنس اس کی تائید کرتی ہے ۔اسی طرح زمین میں آنے والی قدرتی تبدیلیاں جن سے تباہی و بربادی ہوتی ہے اس میں قدرت کے کار فرما قوانین کا عمل دخل رہتا ہے۔ جس کی وجہ سے زمین پر تباہی پھیل جاتی ہے۔سائنس یہ بتاتی ہے کہ زلزلے آنے کی وجہ زمینی کیمیائی تبدیلیاں ہیں۔کیوں کہ یہ تبدیلیاں ان اٹل قوانین کے تحت پیدا ہوتی ہیں جن کا وقوع پذیر ہونا زمین کی ساخت اور اس کی بہتری کے لئے ضروری ہوتا ہے ۔اگر زمین کی یہ حرکت نہ ہو تو زمینی ساخت میں ہو سکتا کئی خرابیاں نمودار ہو جائیں۔اور زمینی معدنیات کی تیاری میں پہاڑوں کا جو کردار ہے وہ ختم ہو کر رہ جائے نیز زمین کے اندر پانی،تیل اور گیس کے ذخائر جو کہ انسانی دنیا کے لئے فائدے کا باعث ہیں ان کی تیاری نہ ہو سکے۔لہذا خالق کائنات نے زمین کو اس امر اور ضابطے کا پابند بنا دیا ہے وہ اسی طرح حرکت کرتی رہے گی۔اب انسانوں پر کیا ذمہ داری عائد ہوتی ہے ؟کہ کیا کریں کس طرح زمین کے فائدے حاصل کریں ؟اور کس طرح اس کی حرکت کے مضر اثرات سے اپنے آپ کو محفوظ کریں؟

زمین کی حرکت یعنی زلزلے سے اپنے آپ کو محفوظ بنانے کے لئے اقدامات کرنا یہ انسانوں کے لئے انتہائی ضروری ہے،اس کے لئے زلزلہ پیما آلات اور محفوظ عمارات اور دیگر ٹیکنالوجی کی مدد سے پیشگی حفاظت کا بندوبست کیا جا سکتا ہے۔عمارتوں کو اس انداز سے تعمیر کیا جائے کہ زلزلوں سے انہیں نقصان نہ پہنچے، پہاڑوں میں بنائے گئے مکانات کو اس انداز اور ایسی جگہ بنایا جائے جہاں نقصانات کا ندیشہ نہ ہو، اس طرح کی احتیاطی تدابیر نہ کرنے سے زلزلوں سے جان و مال کو محفوظ نہیں بنایا جا سکتا۔لیکن ہمارے ہاں صورتحال ہی مختلف ہوتی ہے، آئے دن زلزلوں سے قیمتی جانیں ضائع ہو رہی ہوتی ہیں، نہ تو اداروں کے کان پہ جوں رینگتی ہے اور نہ ہی لوگ اس حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں، شمالی علاقہ جات میں بعض علاقوں میں باقاعدہ عمارتوں کو بنانے کے حوالے سے کوڈ یعنی ایک قانون موجود ہے لیکن نہ تو ادارے اس پہ عمل در آمد کرانے کے لئے تیار ہیں اور نہ لوگوں کو اس کا شعور ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہو رہا ہے کہ لوگ اپنی من مرضی کے مطابق کئی کئی منزلہ کنکریٹ کی عمارات بنا رہے ہیں، نہ نقشہ، نہ کسی ادارے کی منظوری، اس کا نتیجہ یہ ہوا ہے اور ہو رہا ہے کہ زلزلوں کی وجہ سے قیمتی جانوں کا ضیاء ہو رہا ہے۔لہذا خالق کائنات کی طرف ساری تباہی منسوب کرنا کسی قدر بھی درست سوچ نہیں ہے بلکہ ہمیں اپنے طرز عمل پہ بھی غور کرنا چاہئے۔

قرآن حکیم نے بنیادی حقیقت کی طرف توجہ دلائی ہے کہ فطرت کے جو قوانین دیئے گئے ہیں ان کے دو حصے ہیں ایک حصہ طبعی قوانین کا ہے جس پر عمل کرنے سے طبعی نتائج پیدا ہوتے ہیں اور دوسرا حصہ کا تعلق انسانی زندگی پر ہوتا ہے۔ان دونوں قسم کے قوانین کا ایک ضابطہ معین ہے۔اب جو اقوام ان قوانین کی مکمل پاسداری کرتی ہیں وہ ترقی کرتی ہیں ۔اگرایک قوم اخلاقی ضوابط کو تو پیش نظر رکھتی ہے لیکن طبعی قوانین ،یعنی سائنسی ترقیات اور فطرت پر تحقیق کر کے اسے اپنے استعمال کے قابل نہیں بناتی اور فطرت کی تبدیلیوں سے استفادہ اور بچاؤ کے قابل اپنے آپ کو نہیں بناتی تو لازماً وہ زمینی اور آسمانی آفات کا شکار ہو کر مٹ جائے گی۔اور اگر ایک قوم صرف طبعی قوانین پر انحصار رکھ کر اخلاقی قوانین سے انحراف کرتی ہے تو اس کا پیدا شدہ معاشرہ اخلاقی بے را ہ روی کا شکار ہو کر تباہ ہو جائے گا۔یعنی جب کوئی قوم اخلاقی ناہمواریوں میں مبتلا ہو جاتی ہے اس میں کرپشن بڑھ جاتی ہے تو نتیجتاً اس کی تمام مشینیری عدم استحکام کا شکار ہو جاتی ہے اور طبعی استحکامات اس قدر ناقص اور کمزور ہو جاتے ہیں کہ ارضی یا سماوی حوادث کا مقابلہ کرنے کے قابل نہیں رہتی ۔قرآن حکیم نے ایسی اقوام کی تباہیوں کو ذکر کیا ہے۔جنہوں نے حوادث ارضی و سماوی سے حفاظت کی تدابیر اختیار نہ کیں اور تباہی سے دوچار ہو گئیں۔کیوں کہ خدا کے قوانین اٹل ہیں اگر کسی علاقہ کی زمین آتش فشانی ہے اور زلزلوں کا باعث ہے تو اس علاقے کی تباہی لازمی ہے اب ضرورت اس امر کی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی عقل سے ان تبدیلیوں کے مطالعے اور تحقیق سے اس سے بچاؤ کے لئے ٹیکنالوجی تیار کریں حفاظتی اقدام کریں۔اگر اس تناظر میں تجزیہ کریں توشمالی علاقوں اور کشمیر میں آنے والے زلزلے سے ہونے والی اس تباہی کا ذمہ دار بھی ہمارا معاشرہ اور یہاں کا نظام ہے۔انسان بھیڑ بکریوں کی طرح زندگی گذارنے پر مجبور ہیں۔نہ گھروں کی تعمیر کی کوئی ترتیب اور نہ یہ زحمت گوارا کی کہ جس علاقے میں رہ رہے ہیں وہ سسمک زون تو نہیں؟دنیا کی ترقی یافتہ اقوام نے اس طرح کے حوادث سے نمٹنے کا کتنا اعلیٰ انتظام کیا ہے اس سے سبق سیکھا جا سکتا تھا۔لیکن ایسا نہیں کیا گیا،نتیجہ یہ ہوتا کہ جب لوگ سیمنٹ اور کنکریٹ کے ڈھانچوں تلے دبے ہوئے چیخ و چلا رہے ہوتے ہیں اور ہمارے ارباب اختیار اسلام آباد کی کوٹھیوں میں بیٹھے بیانات پرگزارا کر رہے ہوتے ہیں،ضلعی حکومتوں کے پاس ایسی مشینری نہ ہونے کے برابر ہے جس سے زلزلے کے دوران لوگوں کی مدد کی جا سکے۔کاش خدا کو الزم دینے کی بجائے ہمیں اپنی کوتاہیوں کا احساس ہو جائے۔خالق کائنات تو قرآن حکیم میں اپنی نعمتوں کی یاد دلاتا ہے ،اس کی رحمتوں کی کوئی انتہا نہیں،اس کی رحمت اس کے غضب پر حاوی ہے وہ انسانوں پر ذرا بھر بھی ظلم نہیں کرتا بلکہ انسان اپنے معاشروں کو فطری اصولوں پر ترقی نہ دے کر خود تباہی و بربادی کا شکار ہوتے ہیں۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr. Muhammad Javed

Read More Articles by Dr. Muhammad Javed: 104 Articles with 68295 views »
I Received my PhD degree in Political Science in 2010 from University of Karachi. Research studies, Research Articles, columns writing on social scien.. View More
08 Oct, 2016 Views: 649

Comments

آپ کی رائے
Respected Dr, Sb, zameen ki physical changes ke liye jitne quake zarori hai wo Allah jaanta hai, i.e jab zarorat hoti hai karta hai laken wo negligible magniture me hota hai, awr hamare liye nuqsaan dah nahi hota. jabke Quran Majeed jitne be nafarmaan qaumei guzree hai onko aksar Zalzalo ke azaab se Allah ne halak kiya hai, yani Azaab ke taur par bi Allah zalzala bejta ha, jiska zikar Ahaadees me be maujood hai, lihaza azzaab ka factor kharij az imkaan nahi hai. Thanks
By: shakeel Ahmad, Mingora on Oct, 14 2016
Reply Reply
1 Like