لسبیلہ میں ادھورے تعلیمی منصوبے ،سول سوسائٹی سراپائے احتجاج

(Khalil Ronjooh, )
پاکستان میں تعلیمی ترقی کے حوالے سے کام کرنے والے غیر سرکاری تعلیمی ادارے " الف اعلان" کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق صوبہ بلوچستان میں تعلیمی معیار کے گراف میں ضلع لسبیلہ کا شمار آخری کچھ اضلاع کے نمبر میں ہوتاہے ،جس کی وجہ غربت ، حکومت کی تعلیمی مسائل پر عدم توجہی ۔تعلیمی اداروں کی زبوں حالی ،والدین کی عدم دلچسپی اور تعلیمی انتظامیہ کی نااہلی شامل ہے ۔ضلع لسبیلہ میں موجود تعلیمی ادارے کی ناقص کارکردگی سب کے سامنے عیاں ہے جس کااندازہ میٹرک اور انٹرمیڈنٹ کے سالانہ رزلٹ اور اعلی تعلیمی اداروں میں داخلہ لینے والے نوجوانوں کی میرٹ لسٹ سے لگایا جاسکتاہے ،ان اداروں کی کارکردگی اور اس پر اٹھنے والے سولات ایک لمبی بحث کو جنم لیں گے ،گوکہ بلوچستان کے باقی علاقوں میں بھی سرکاری تعلیم ادارے مفلوج سے ہیں ،لیکن ان علاقوں میں کچھ اعلی تعلیمی ادارے اپنی بہتر تعلیمی کارکرگی کی وجہ سے نوجوانوں کی کچھ نہ کچھ کھیپ کو سامنے لارہے ہیں جو کہ علاقے کا ایک عمدہ انسانی وسائل کہلایا جاسکتاہے ،اورماڑہ، مستونگ ،جعفرآباد ،قلعہ سیف اﷲ اور پشین میں کیڈٹ کالج ،گوادر میں جی ڈی ائے کے اسکول،تربت ،خضدار ،لورلاائی ،ژوب میں بلوچستان ریزڈیشنل کالجز ،سبی،خضدار لورالائی میں ڈوثرنل پبلک اسکولز سمیت بہت اعلی معیار کے پرائیویٹ اسکولز ہیں ۔

ان تمام کے مقابلے میں لسبیلہ میں ایسا کون سا ادارہ ہے کہ یہاں پر اعلی معیار کی تعلیم فراہم کرسکیں؟ ،ایک اندازے کے مطابق ضلع لسبیلہ سے 200 کے قریب طلبہ و طالبات میٹرک و انٹرمیڈٹ کی تعلیم کے لیے ضلع سے باہر مختلف صوبوں کے شہروں کے اعلی تعلیم اداروں میں پڑھ رہے ہیں،جو کہ ایک اہم تبدیلی ہے اس سے یہ بات ضرور سامنے آتی ہے کہ کہ لس کے لوگ اپنے بچوں کو پڑھانا چاہیے اور تعلیم پر سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں ۔

کسی بھی علاقے کے ترقی کا معیار انسانی افکار ،کردار ،معاشرتی اقدار کے ساتھ علا قے میں نوجوانوں کے انسانی وسائل ،ان کے روزگار کے مواقع ،تعلیم و صحت کی شرح سے لگایا جاتاہے ہ مگر بدقستمی سے ہمارے ہاں حب سے لے کر بیلہ تک ترقی کے معیار کو اشتہار بازی ،سولر ،بور ،کمیونٹی ہال ،ٹنکی ،نالی کی پختگی ،سڑک اور گٹر ،اور چھوٹے چھوٹے اعلانات سے ناپا جاتاہے اس کے بعد شہر وں کے وسط میں ایک بہت بڑے بورڈ نصف کرکے اس پر ترقی کے جال کر اسٹمپ لگا دی جاتی ہے ،ہمارے ہاں حکمران تعلیم کی اہمیت و افادیت کے حوالے سے بیان جاری کرتے ہیں ،مختلف کمیونٹی میٹنگ و تقریب میں باشن دیتے ہیں مگر تعلیم کے فروغ کے لیے عملی طور پر اقدامات کرنے سے قاصر ہیں ،جس کی زندہ مثال جام محمد یوسف مرحوم سابقہ وزیراعلی کے دور اقتدار سے شروع ہونے والے اعلی او رفنی تعلیم کے لیے تعلیمی ادارے پولی ٹیکنیکل کالج اور بلوچستان ریزیڈنیشل گزشتہ تیرا سالوں سے فنکشنل نہ ہوسکے یہی وجہ سے لسبیلہ کے بچے اور نوجوان اعلی و فنی تعلیم کے مواقعوں سے محروم ہوتے جارہے ہیں ۔

دوست ملک چین کے تعاون سے شروع ہونے والے اقتصادی راہ داری منصوبے سے مستقبل میں خطے میں یقینا اہم تبدیلیاں رونما ہونگی ،معاشی ترقی کے حوالے سے روزگا ر کے ذرائع پیدا ہونگے مگر یہ مواقع زیادہ تر فنی مہارتوں کے ہونگے اس کے لیے صنعتی اداروں اور منصوبہ سازو ں کو اعلی تعلیم یافتہ اور ہنرمند لوگوں پر مشتمل انسانی وسائل کی طلب ہوگی ،ایک رپورٹ کے مطابق صوبہ پنچاب میں سی پیک کے منصوبے کے منظوری کے بعد اپنے فنی تعلیمی اداروں میں بجٹ کو بڑھا دیا گیاہے اور ان اداروں کی ترقی اور موثر نتایج پر زیادہ توجہ دینا شروع کردی ہے اور باقائدہ نئے ٹیکنیکل کورسز کے ساتھ چائینز زبان کے کورسز بھی شروع کردیے ہیں -

دوسری طرف ہمارے ہاں مکران اور قلات ڈوثرن کے نوجوانوں کے لیے قائم ٹیکنیکل کالج کو قابل استعمال لانے اس کے اندر جدید اور سی پیک سے ہم اہنگ کورسز شروع کروانے کے بجائے کڑروں روپے سے تعمیر بلڈنگ لسبیلہ یونیورسٹی کو ہاسٹل اور اپنے کورسز کے مقاصد کے لیے سونپی جارہی ہے گزشتہ ماہ میڈیا و دیگر باوثوق ذرائع سے یہ بات سامنے آئی کہ گورنر بلوچستان ،وزیر اعلی اور چیف سیکرٹری کی رضامندی سے پولی ٹیکنکل کالج کی عمارت لسبیلہ یونیورسٹی کو دی جارہی ہے ،جس کے بعد لسبیلہ کی سول سوسائٹی مختلف فورمز ر ا پراحتجاج کررہی ہے ،جس میں اوتھل ،بیلہ ،وندر اور حب کے مقامات پر نوجوان ،سول سوسائٹی و دیگر تعلیم دوست جماعتیں نے اپنا بھرپور احتجاج کرکے اپنے تحفظات کا اظہار کیاہے ۔مظاہرین نے پولی ٹیکنکل کالج کی تیارعمارت کو لسبیلہ یونیورسٹی کو دیئے جانے کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے اس میں فوری طورپر فنی تعلیم شروع کرنے کا مطالبہ کررہی ہیں۔ان مظاہروں میں سینکڑوں افراد نے شرکت کی اس دوران مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈ اور بینرز اٹھارکھے تھے جن پر پولی ٹیکنکل کالج کو لسبیلہ یونیورسٹی کو دیئے جانے کے خلاف نعرے درج تھے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پولی ٹیکنکل کالج اوتھل کی عمارت کو لسبیلہ یونیورسٹی کو دینا لسبیلہ کے ساتھ ظلم اور ناانصافی کے مترادف ہے ایک طرف بلوچستان میں سی پیک منصوبے کا آغاز کرکے صوبے میں ترقی کا ڈنڈھورا پیٹا جارہاہے تو دوسری طرف لسبیلہ میں بننے والے فنی تعلیمی ادارے پولی ٹیکنکل کالج کی عمارت کو لسبیلہ یونیورسٹی کو دیاجارہاہے سی پیک منصوبے میں ہنرمندافراد کی ضرورت ہوگی لیکن اگر پولی ٹیکنکل کالج کو بندکردیاجائے گاتو بلوچستان میں ہنرمندافراد کہاں سے پیداکیئے جاسکیں گے انہوں نے کہا کہ ہم کسی صورت پولی ٹیکنکل کالج کی عمارت کو لسبیلہ یونیورسٹی کے حوالے کرنے نہیں دیں گے اور اسکے لئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گاکیونکہ اگر لسبیلہ اور بلوچستان کو ترقی کی جانب گامزن کرنا ہے تو پولی ٹیکنکل کالج کو کھول کر اس میں فنی تعلیم کا آغاز کرنا ہوگا ورنہ ترقی کا خواب ادھورارہ جائے گا ،مظاہریں کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت کن شرائط پر ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے فنڈز سے چلنے والے ادارے کو اپنی صوبائی تعلیمی ادارے کی بلڈنگ فراہم کررہی ہے اور یونیورسٹی اس بلڈنگ کو لسبیلہ کے عوام کے مفاد کس طرح استعمال کرئے گی ،پولی ٹیکنیکل کالج کے اپنے تین سو کے قریب آسامیوں اور اس کے کورسسز کا کیا ہوگا ان تمام کا جواب میں لسبیلہ کے عوام کو مطمین کیا جائے ،

لسبیلہ کے شہروں بیلہ ،اوتھل وندراور حب میں ہونے والے مظاہروں میں مظاہرین اوتھل کے مقام پر گزشتہ تیرا سال سے زیر تعمیر ریذیڈنشل کالج اوتھل پر بھی اپنا احتجاج ریکارڈ کرواتے ہوئے کہے رہے ہیں کہ یہ کالج گزشتہ تیرہ سالوں سے تعمیراتی مراحل میں ہے لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑرہاہے کہ اسے جلد مکمل کرنے کی بجائے اسکے تعمیراتی کام کو روک دیا گیاہے جو انتہائی افسوس ناک امرہے،بلوچستان کے ضلع ژو ب میں دوسرے تعلیمی سال کے موقع پر کلاسز کا اجراء کرنے والے بلوچستان ریزیذیشنل کالج کی بنیاد اس ہی کالجز کا ساتھ پڑی تھی مگر افسوس کے لسبیلہ میں ابھی تک کلاسز کجا بلڈنگ کو تیار کرنے کی زحمت نہیں کی گی مظاہرین کا کہنا ہے کہ ا گر تعلیمی اداروں کے ساتھ اسی طرح مذاق جاری رہاتو صوبے میں ترقی ایک خواب بن کررہ جائے گی تعلیمی اداروں میں کروڑوں روپے خرچ کرکے پھر ان کی تعلیم شروع کرنے کی بجائے ان عمارتوں کو ویران چھوڑ دیا جاتاہے جو صوبے کے طلباء اور لوگوں کے ساتھ اور خود حکومتی تعلیمی ایمرجنسی کے ساتھ ایک بڑا مذاق ہے ،

لسبیلہ میں اس سے قبل بیلہ کے مقام پر گرلز کالج کافی عرصے سے غیر فعال رہی مگر سول سوسائٹی کے احتجاج اور تحریک کے بعد کسی حد تک فنکشنل ہوئی اور کلاسز کا آغاز ہو ا ،ابھی اوتھل کے مقام پر یہ پولی ٹیکنکل کالج اور بلوچستان ریزیڈنیشل کالج علاقے کے منتخب نمائندوں جام کمال خان اور پرنس احمد علی کے لیے کسی چیلنچ سے کم نہیں ہے کیونکہ مرکز اور وفاق میں ان ہی کی اپنی حکومت ہے اور گزشتہ تین سالوں میں نہ سہی مگر باقی ماندہ حکومتی دو سالوں میں ان اداروں کو فعال کرنے میں اپنا کس قدر کردار ادا کرسکتے ہیں ؟اس موقع پر جب لسبیلہ کے نوجوان ان اداروں کے غیر فعالی کے خلاف سرا پائے احتجاج ہیں میں سماجی تنظیم وانگ کے طرف سے میڈیا کے اس فورم سے گورنر بلوچستان ،وزیر اعلی بلوچستان ،چیف سیکرٹری بلوچستان ،جام کمال خان اور پرنس احمد علی سے گزارش کرونگا کہ وہ ان تعلیمی اداروں کی غیر فعالی پر توجہ دیں اور پولی نیکنکل کالج کی لس بیلہ یونیورسٹی کے حوالیگی کے تحفظات دور کیے جائیں تاکہ لسبیلہ کے تعلیم دوست تنظیموں،سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کے دوستوں میں پائی جانے والی بے چینی کا خاتمہ ممکن ہوسکے ،اور پڑھے گا لسبیلہ تو بڑھے کا لسبیلہ کا خواب پورا ہوسکے

 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Khalil Ronjooh

Read More Articles by Khalil Ronjooh: 3 Articles with 1254 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
09 Oct, 2016 Views: 524

Comments

آپ کی رائے