تعلیم کا حصول مقصد ہونا چاہیے

(Maryam Arif, Karachi)

 نور بخاری(کھرڑیانوالہ)
علم کی افادیت سے وہی باخبر ہوسکتا جو علم کی اہمیت سے آگاہ ہو۔ جیسا کہ ہمارے مذہب اسلام میں علم کی اہمیت بہت اچھے انداز میں بیان کی گئی ہے۔ مرد اور عورت دونوں کے لیے علم حاصل کرنا بہت ضرور ی قرار دیا گیا ہے۔ایک بات جو غورطلب ہے۔ اگر مرد تعلیم یافتہ ہو تو علم کی روشنی سے صرف ایک گھر منور ہو سکتا پر اگر ایک عورت تعلیم یافتہ ہو تو علم کی روشنی کئی نسلوں تک کو منور کرتی ہے۔ وطن عزیز حاصل کیے ایک طویل عرصہ بیت گیا تاہم آج بھی ملک کے بیشتر علاقے تعلیم سے محروم ہیں۔ بطو ایک مسلم اگر ہم تعلیم کی اہمیت و افادیت کو سمجھیں تو یقینا اسلام نے تعلیم کے حصول کو ہر مسلم مرد و زن پر لازمی قرار دیا ہے۔ شروع اسلام میں جنگوں کے دوران بھی اسلام نے تعلیم کی بنیاد پر بہت سے دشمنان اسلام کے قیدیوں کو رہائیاں دیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ اسلام نے تعلیم کی اہمیت کو اجاگر کیا۔ ہم ہی وہ تھے جنہوں نے تعلیم و تعلم میں وہ کمال حاصل کیا تھا کہ جس کے بہت سے نشانات آج بھی یورپ کی لائبریریوں میں ملتے ہیں۔ شاید ہم نے اسلام اور پھر تعلیم سے کنارہ کشی اختیار کی جس کی وجہ سے ہم پسماندگیوں میں گرتے چلے گئے۔ وطن عزیز کا حصول یقینا ایک آزاد مملکت کا حصول تھا جہاں ہم اپنی آزادی سے جی سکیں۔ تعلیم و تعلم کا حصول اپنے انداز میں جاری رکھ سکیں۔ مگر اﷲ کے فضل و کرم سے ملک تو حاصل کر ہی لیا تاہم وہ مقاصد حاصل کرنے سے تاحال قاصر دیکھائی دیتے ہیں جو حصول وطن کے لیے رکھے گئے تھے۔ غیروں سے خود کو جسمانی طور پر آزاد تو کر الیا تاہم ذہنی طور پر آج تک ہماری قوم ان کی غلامی سے باہر نہیں آسکی۔ ہندوانہ رسم و رواج اور ان کے کلچر کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنانا عام سی بات ہوگئی ہے۔ ایسا لگتا کہ اسلام سے دوری ہی تعلیم سے دوری کا باعث بن رہی ہے۔ تعلیم سے دوری اسلام سے دوری اور اسلام سے دوری تعلیم دونوں ایک دوسرے کے مترافات ہی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمیں سیاسی رسہ کشی کے بجائے اپنے معیار تعلیم کو بہتر کرنا ہوگا۔ ملک کی آزاد قوم کو بھی یہ سوچنا ہوگا کہ یہ ملک ایک مقصد کے تحت حاصل کیا گیا تھا۔ اس مقصد کو سامنے رکھتے ہوئے اسلام اور پھر تعلیم کا حصول یقینی بنا کر معاشرے کو بہتر سے بہتر افراد مہیا کیے جائیں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maryam Arif

Read More Articles by Maryam Arif: 1240 Articles with 518135 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
10 Oct, 2016 Views: 490

Comments

آپ کی رائے