شہیدِ مظلوم حضرت امام حسین رضی اﷲ تعالیٰ عنہ

(Javed Malik, )
نانا ہوں سید الانبیا ﷺ، نانی ہوں خدیجۃ الکبریؓ، باپ ہوں سید الاولیاء، ماں ہوں سیدۃ النساء تو بیٹے پیدا ہوتے ہیں سید الشہداء، نبیؐ کا نور، علی ؑ کا خون، فاطمہ ؑ کا دودھ ایک جگہ اکٹھا ہو جائے تو بنتے ہیں حسن ؑ و حسین ؑ
شہنشاہِ رُوحانیت و شہید کرب و بلا جناب امام عالی مقام امام حسین ؑ کی شرطیہ اگر تفصیل سے بیان کیا جائے تو ہزاروں صفحات بھی کم ہیں لیکن اگر سمندر کو کوزے میں سمونا ہو تو یوں کہا جا سکتا ہے کہ حسین ؑ اپنے نانا رسالت مآب ﷺ نبی کریم کی تصویر تھے۔ حسن و جمال مصطفائی کا روشن آئینہ اور سیرت مصطفی کا مظہر تھے۔ آپ ؑ کا اخلاق خلق رسولؐ تھا۔

امام حسین ؑ وہ برگزیدہ شخصیت تھے جس نے دوش رسولؐ پر سواری کی۔ گردن اطہر بوسہ گاہ رسولؐ تھی۔ ذات و صفات خداوندی کا مظہر بی بی آمنہؓ کا لال اور حلیمہ دائی کا دلبند امام الانبیاء محمد مصطفی ﷺ کا مظہر جناب حسن ؑ و حسین ؑ ہیں۔ اﷲ تعالیٰ کے مبعود و یکتا ہونے کی شہادت مکہ کی گلیوں میں پتھر کھا کر ناناﷺ نے دی تو اس شہادت کی شہادت زہر کا پیلا پی کر امام حسن ؑ اور میدان کرب و بلا میں گردن کٹوا کر امام حسین ؑ نے دی۔ نانا ﷺ نے پتھروں کی بارش میں سجدے کئے تو نواسے نے تیروں کی بارش میں تپتی ہوئی ریت پر سجدے کئے اور دشت و کرب و بلا کی گرم ریت پر تین دن کے پیاسے حسین ؑ کا خون چمن اسلام کی آبیاری کر گیا۔

نبی کریم ﷺ کے ساتھ زیادتی کرنے والے تو کفار تھے لیکن دُکھ کا مقام تو یہ ہے کہ جگر گوشہ رسول ﷺ پر مدینے کی گلیاں تنگ کر دی گئیں۔ صرف ایک حسین ؑ کا نہیں بلکہ خاندان اہلبیت ؑ کے معصوم بچوں، اُبھرتے ہوئے تین دن کے پیاسے جوانوں کو بھی نہایت بے دردی سے شہید کر دیا۔ چشم فلک نے ایسا دلخراش نظارہ کبھی نہ دیکھا ہو گا کہ 72 بے سرو سامان نفوس کے مقابلے پر کیل و کانٹے سے لیس لشکر جرار اُتارا جائے اور حوضِ کوثر کے مالکوں پر دریائے فرات کا پانی بند کر دیا جائے۔ یہ داستانِ ظلم رقم کرتے ہوئے کلیجہ شق ہوتا ہے۔

رات بھیگتی جا رہی ہے۔ مدینے کے کچھ لوگ آرام کی نیند سو رہے تھے اور کچھ خاندانِ نبوت ﷺ کے مدینہ چھوڑنے پر سخت بے چین اور مضطرب ہیں۔ راہ و کرب و بلا کے مسافر حسین ؑ اپنے نانا جان نبی آخر الزمان ﷺ مزار اطہر پر تشریف لاتے ہیں تو روضہ اقدس پر نور کی بارش ہو رہی ہے۔ نور کا ایک تانتا ہے جو زمین سے آسمان تک بندھا ہوا ہے۔ لاکھوں ملائکہ مزار اقدس کے قریب مؤدب کھڑے صلوٰۃ و تسبیح میں مصروف ہیں۔ حسین ؑ بھی اپنے نانا جان ﷺ کے مزار اطہر پر ہونے والے نور کی بارش میں نہائے فریاد کر رہے ہیں۔ نانا جان ﷺ جس حسین ؑ کو آپ کے دوش مبارک پر سوار ہونے کا شرف حاصل ہے آج آپ ﷺ کی اُمت نے اُس حسین ؑ پر مدینہ منورہ کی زمین تنگ کر دی ہے۔ نانا ﷺ جن لوگوں کے سامنے آپ نے ہمیں اپنی اولاد کہا تھا آج وہی آپ کی اولاد سے مدینہ چھڑا رہے ہیں۔ نانا جان ﷺ آپ اکثر کہا کرتے تھے کہ میرا حسین ؑ میرے دین کو بچائے گا اور شاید آپ کا وہ فرمان پورا ہونے کا وقت قریب آگیا ہے۔ میرے نانا جان ﷺ اﷲ سے دُعا کیجئے کہ میں اور میرے خاندان والے اس امتحان میں ثابت قدم رہیں۔ نانا جان ﷺ آپ کا دین بچانے کے لئے حسین ؑ نہ صرف خود بلکہ اپنے اہل و عیال کی بھی قربانی پیش کرنے سے دریغ نہیں کرے گا۔ نانا جان ﷺ میں جانتا ہوں کہ منشاء ایزدی یہی ہے کہ مجھے علی اکبر ؑ و علی اصغر ؑ کے ذبح ہونے کا غم نہیں، عباس ؑ علمدار کے بازو کٹ جانے کا غم نہیں، روائے زینب ؑ کے چھن جانے کا غم نہیں، بیمار صغرا ؑ اور زین العابدین ؑ کا غم نہیں، اگر غم ہے تو اس مدینے سے دُور جانے کا غم ہے جس کی ایک ایک انچ زمین پر آپ ﷺ کے قدموں کے نشان ہیں۔ جس کے ذرے ذرے سے آج بھی آپ کی خوشبو آتی ہے اور جس مدینے میں آپ ﷺ اور میری پیاری ماں محو خواب ہیں نانا ﷺ مدینے کی جدائی کا تصور ہی دل کے ٹکڑے ٹکڑے کئے جا رہا ہے لیکن نانا جان ﷺ میں جا رہا ہوں۔ آپ ﷺ سے اور اپنی پیاری امی سے دُور کیونکہ کربلا کی تپتی ہوئی ریت مجھے پکار رہی ہے۔ نانا جان ﷺ دُعا کرنا کہ اﷲ تعالیٰ مجھے اس امتحان میں استحکامت بخشے۔

حسین ؑ اپنے نانا جان ﷺ کے مزار اقدس پر ہونے والی نور کی بارش سے نکل کر جنت البقیع میں تشریف لاتے ہیں جہاں بنت رسول ﷺ اور مادرحسین ﷺ کی آخری آرام گاہ مرکز نور بنی ہوئی ہے۔ باپ کی طرح بیٹی کے مزار اقدس پر بھی فرشتے قطار در قطار کھڑے درود و سلام میں مصروف تھے۔ حسین ؑ اپنی شفیق ماں کے مزار سے لپٹ کر روتے ہوئے کہتے ہیں۔

پیاری ماں اپنے لخت جگر حسین ؑ کا آخری سلام قبول کیجئے کیونکہ میں مجبور ہو کر مقدس دیار چھوڑ کر جا رہا ہوں بلکہ یہ کہنا چاہئے کہ اسی فرض کی پکار پر مدینے سے دُور جا رہا ہوں جہاں کی فضاؤں میں آپ کی ممتا بھری دُعائیں آج بھی سرگوشیاں کرتی پھرتی ہیں اور اب اسی رضائے الٰہی کی خاطر تیرا حسین ؑ اس مدینے سے دُور جا رہا ہے جہاں نانا جان ﷺ آپ اور بھائی جان حسن ؑ کے علاوہ اور بھی بہت سی برگزیدہ ہستیاں اپنی آخری آرام گاہوں میں محو استراحت ہیں۔ اﷲ کے نیک بندوں پر اس کی رحمتیں ہوں آج حسین ؑ معہ اہل و عیال اس سرزمین سے دُور جا رہا ہے۔

حسین ؑ کی فریاد سے نہ صرف جن و ملک کا کلیجہ پھٹ رہا تھا بلکہ مرقد بتول کو بھی ایک جھرجھری سی آگئی لیکن رضائے الٰہی کے سامنے سب مجبور تھے۔ ہر قسم کی طاقت رکھنے کے باوجود حسین ؑ کی کوئی امداد نہ کر سکتے تھے۔ اُدھر حسین ؑ کا بھی آنسو بہانے سے ذہنی وزن کم ہو چکا تھا اور رات بھی اپنے سفر کے آخری پہر میں داخل ہو چکی تھی اس لئے حسین ؑ وقت کی پکار پر ماں کے مرقد اقدس سے علیحدہ ہو کر واپس آئے تو قافلہ اہلبیت ؑ روانگی کے لئے تیار تھا اور بیمار و معصوم صغرا ؑ رو رو کر سب کی خوشامد کر رہی تھی کہ اسے بھی ساتھ لے جائیں۔ صغرا ؑ کی پھوپھو جان فاطمہ زہرا ؑ کی بیٹی، حسین ؑ کی بہن اس کے سر پر دست شفقت فرماتے ہوئے فرما رہی تھیں۔

صغرا ؑ بیٹی تم سخت بیمار ہو اس حالت میں تمہارا سفر کرنا تمہارے لئے تکلیف کا باعث بنے گا۔ ابھی بی بی زینب ؑ نے اتنا ہی کہا تھا کہ امام عالی مقام ؑ نے بیمار صغرا ؑ کی چارپائی کے قریب جا کر اس کے سر پر دست شفقت رکھتے ہوئے فرمایا صغرا ؑ بیٹی تمہاری پھوپھو جان صحیح کہہ رہی ہیں، تمہاری حالت ایسی نہیں کہ صحرائے عرب کی جلتی ہوئی ریت پر سفر کی صعوبتیں برداشت کر سکو، انشاء اﷲ مکہ پہنچنے کے بعد جلد ہی تمہارے بھائی علی اکبر ؑ کو بھیج دوں گا اور وہ تمہیں لے جائے گا۔ پھر روئے سخن بہن کی طرف کرتے ہوئے فرمایا:
بہن یہ امتحان تو صرف حسین ؑ کا ہے اس لئے تمہیں تکلیف کرنے کی ضرورت نہیں۔ بھائی جان میں نے نانا جان ﷺ اور امی جان سے وعدہ کیا تھا کہ ہر حال میں آپ کا ساتھ دوں گی اس لئے اپنے شوہر عبد اﷲ بن جعفر طیار ؑ سے اجازت لے کر آگئی ہوں اور پھر جب رات کے آخری پہر شعبان 60 ہجری میں یہ قافلہ روانہ ہوا تو مدینے کا منظر قابل دید تھا۔ انسان اور جن و ملک تو رو رہے تھے، ایک طرف مدینے کی گلیاں دھاڑیں مار کر رو رہی تھیں۔ معصوم صغرا ؑ پر کئی مرتبہ بے ہوشی طاری ہو چکی تھی اور راہ حق کے مسافر مدینے کے درو دیوار کو یوں حسرت بھری نظروں سے دیکھ رہے تھے جیسے یہاں کے ذرے ذرے کو آنکھوں کی چلمن میں محفوظ کر لینا چاہتے ہوں، انسان تو انسان جانوروں کے قدم بھی بمشکل اُٹھ رہے تھے۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ جیسے جانور بھی مدینے کی مقدس و معطر فضاؤں سے دور نہ جانا چاہتے ہوں لیکن ایک فرض کی پکار تھی جس پر لبیک کہنے کے لئے سب ہی مجبور تھے، آخر خاندان اہلبیت کے دوستوں نے آنسو برساتی آنکھوں سے اس قافلہ کو الوداع کیا بلکہ اس موقع پر کچھ کمزور دل لوگوں کی چیخیں بھی مدینے کی غم آلود فضاؤں میں تحلیل ہو کر رہ گئیں اور پھر جلد ہی قافلہ اہلبیت رات کے سیاہ پردوں اور ریت کے ٹیلوں میں گم ہو گیا تو سب محب اہلبیت سینوں پر جدائی کے پتھر رکھے اور سسکیاں بھرتے اپنے اپنے گھروں کو لوٹ گئے۔ انہیں معلوم ہو رہا تھا کہ مدینے کے چند نفوس ہی نہیں گئے بلکہ پورا مدینہ خالی ہو گیا ہے اور اس اُجڑے دیار میں ہوائیں سسکیاں بھرتی پھر رہی ہیں۔ جب یہ قافلہ حق پرست تپتے ہوئے صحراؤں میں آگ برساتے سورج کے نیچے شدت گرمی کی صعوبتیں برداشت کرتا مکہ پہنچا تو ان کی آمد کی خبر مکہ پہلے پہنچ چکی تھی کیونکہ عبد اﷲ ابن عباسؓ اور ابن عمرؓ پہلے ہی وہاں موجود تھے اس لئے ان کی راہنمائی میں اہل مکہ نے نہایت شاندار طریقہ پر قافلہ اہلبیت کا استقبال کیا اور یہ لوگ اپنے نانا ﷺ حضور نبی کریم ﷺ اور دادا ابوطالب ؑ کے مکانوں میں فروکش ہو گئے۔

امام عالی مقام کو تنہا پا کر لشکر ابن زیاد کے حوصلے بہت بڑھ چکے تھے اس لئے وہ خیام سے بہت زیادہ قریب ہو گئے تھے لیکن جونہی فاطمہ ؑ کا شیر خیموں سے باہر تشریف لایا۔ دُشمن کے گھوڑے جہاں تک پہنچ چکے تھے وہیں رُک گئے اور شمر نے چیخ کر کہا، حسین ؑ اب بھی اگر تم ہماری شرط مان لو تو تمہاری جان بچ سکتی ہے۔ امام عالی مقام نے مضحکہ خیز نظروں سے شمر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ناعاقبت اندیش جسے تو زندگی کا درس دے رہا ہے شہادت جیسے اعلیٰ مرتبہ پر فائز ہونا اس کی عین تمنا ہے اور جسے تو اپنی فتح سمجھ رہا ہے وہ تیری شکست ہے۔ اپنی اس شکست کا تجھے جلد احساس ہو جائے گا لیکن اس وقت آہ و بکا کرنے اور سر دھننے کے سوا کچھ نہ کر سکے گا۔ یاد رکھ میری رگوں میں ہاشمی خون دوڑ رہا ہے اور میرے اس جسم نے جسے تم گھوڑں کی ٹاپوں سے کچلنے کے لئے بے تاب ہو رسول ﷺ کے دوش مبارک پر سواری کی ہے، جس گردن کو کاٹنے کے بے چین ہو وہ بوسہ گاہ رسول ﷺ ہے، اب جو اپنی زندگی سے بیزار ہے وہ میرے سامنے آئے۔

قربان جائیے حسین ؑ ابن علی ؑ کے صبر و استقامت پر جو قدم قدم پر دُشمن کو آگاہ فرما رہے ہیں کہ دنیاوی لالچ کے تحت کس کے مقابلہ میں آکر اپنا دین اور بلکہ دُنیا بھی خراب کر رہے ہیں، چونکہ شمر امام عالی مقام کے مرتبہ سے اچھی طرح واقف تھا اس لئے آپ ؑ کے حقیقت پر مبنی الفاظ سن کر بُری طرح گھبرا گیا لیکن اس لعین کا خیال تھا کہ تین دن کا بھوکا پیاس حسین ؑ پورا دن اپنے عزیزوں کی لاشیں اُٹھا اُٹھا کر لے جاتا رہا ہے لہٰذا اس غم اور تھکاوٹ نے اسے بالکل نڈھا کر کے رکھ دیا ہے اور یہ باتیں بجھتے ہوئے چراغ کی آخری لو ہیں ورنہ اس میں تو نیزہ اُٹھانے یا ڈھال سنبھالنے کی بھی ہمت نہ ہو گی البتہ اسے یہ خطرہ ضرور تھا کہ حسین ؑ کی باتوں سے مرعوب ہو کر اس کی فوج میں بغاوت پر آمادہ نہ ہو جائے کیونکہ یہ بات تو اس پر روز روشن کی طرح عیاں تھی کہ اس کی فوج میں اب بھی حسین ؑ کے چاہنے والوں کی تعداد کافی موجود ہے اس لئے اس نے اپنے قریب کھڑے ابن سنان کی طرف اشارہ کیا اور چونکہ امام حسین ؑ کے متعلق ابن سنان بھی شمر کے خیالات سے متفق تھے اس لئے شمر کا اشارہ پاتے ہی اس نے نہایت فخر و تکبر کے ساتھ اپنے گھوڑا آگے بڑھایا اور بغیر وارننگ دئیے پلک جھپکنے میں پوری طاقت سے اپنی تلوار جسم اطہر پر ماری، اس کا خیال تھا کہ وہ اس دھوکے کے ذریعے پہلے ہی وار میں امام عالی مقام کا سرتن مبارک سے جدا کر دے گا لیکن وہ یہ بات بھول گیا تھا کہ اس کے سامنے خیبر شکن کا فرزند ارجمند ہے بزدل اور دغا باز کوفی نہیں، لہٰذا فاطمہ ؑ کے لال نے نہایت ہوشیاری اور جواں ہمتی سے ابن سنان کے اس اچانک وار کو اپنی ڈھال پر روکتے ہوئے دُوسرے ہاتھ سے حیدری تلوار کا اتنا زبردست وار کیا کہ وہ ابن سنان کی زرہ تکبر کی کڑیوں کو کاٹتی ہوئی نہ صرف اس کو دو حصوں میں تقسیم کر گئی بلکہ اس کے گھوڑے کو بھی درمیان سے کاٹ گئی۔ عمرو بن سعد اور شمر نے امام عالی مقام کی اس ہمت کا مظاہرہ دیکھنے کے بعد گھبرا کر عام حملے کا حکم دے دیا اور فاطمہ ؑ کے لال ابن علی پر ہر چہار طرف سے نیزوں، تیروں، برچھیوں اور تلواروں کے وار ہونے لگے لیکن شیر خدا کا شیر دُشمنوں کے واروں کو اپنی ڈھال پر اور جسم اطہر پر روکتا ہوا جس طرف کا بھی رُخ کرتا اُدھر کشتوں کے پشتے لگ جاتے اور حقیقت تو یہ ہے کہ کوئی شخص بھی نواسہ رسول کا خون اپنے سر نہیں لینا چاہتا تھا۔

گو کہ ابن زیاد کے رُعب اور دنیاوی لالچ نے انہیں اندھا کر دیا تھا لیکن مقام حسین ؑ سے پوری طرح واقفیت تو تھے اس لئے امام عالی مقام کا رُخ جدھر بھی ہو جاتا دُشمن سپاہ تیزی سے پیچھے ہٹنے لگتی اور امام عالی مقام ان بھاگتی ہوئی بھیڑوں کو شکار کر ہی رہے ہوتے تھے کہ دُوسری جانب سے دُشمن تیروں، تلواروں کی بارش شروع کر دیتے گو کہ یہ بے دھیانی اور بے دلی سے کئے ہوئے وار امام عالی مقام کو بھی زخمی کر رہے تھے لیکن ان سے زیادہ نقصان دُشمن سپاہ ہی کا ہو رہا تھا اور شاید یہ بھی فیصلہ قدرت تھا۔

یوں تو دُشمن لشکر نے شوروغل اور چیخ و پکار کے ذریعے صبح ہی سے پورا میدان کربلا سر پر اُٹھا رکھا تھا اور امام عالی مقام کا ہر ساتھی کئی کئی سو دُشمنوں کو تہہ تیغ کرنے کے بعد مرتبہ شہادت پر فائز ہوا تھا لیکن جو نظارہ امام عالی مقام پیش کر رہے تھے ایسا منظر چشم فلک نے کبھی نہ دیکھا تھا، علی ؑ کا شیر جس طرف بھی جھپٹتا اُدھر کا صفایا کر کے ہی پلٹتا یعنی کچھ قتل ہو جاتے، کچھ سر پر رکھ کر بھاگ کھڑے ہوتے، عمرو بن سعد اور شمر ریت کے ٹیلے پر کھڑے یہ منظر دیکھ رہے تھے انہیں ایک ذوالفقار حیدری ہی نہیں بلکہ بہت سی تلواریں اپنے ساتھیوں کا صفایا کرتی نظر آہی تھیں اور وہ اس بات کو سمجھنے سے قاصر تھے کہ امام حسین ؑ کے حق میں چمکنے والی تلواریں کس کی ہیں، کئی مرتبہ تو انہیں یہ خیال بھی پیدا ہوا کہ شاید ان کی فوج نے بغاوت کر دی ہے لیکن ہر مرتبہ ہی ان کے اس خیال کی تردید ہو جاتی حالانکہ وہ یہ بات اچھی طرح جانتے تھے کہ ماضی میں امام عالی مقام کے نانا مصطفی ﷺ کو بھی ایسی غائبی امداد مل چکی ہے۔

جب ان خوابوں کے دن کا حساب لگایا گیا تو وہ عشرہ کا دن یعنی 10 محرم 61 ہجری بمطابق ستمبر 681 عیسوی بروز جمعہ تھا اور یہی دن امام عالی مقام کی شہادت کا تھا۔ اﷲ تعالیٰ پاکستان کا حامی و ناصر ہو۔
 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Javed Malik

Read More Articles by Javed Malik: 79 Articles with 35390 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
10 Oct, 2016 Views: 492

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ