یادِ حسین

(Tanveer Hussain, )
 محرم الحرام شروع ہو گیا ہے ۔ذکرِ حسین کی پکار اور للکار ہر طرف بکھرتی اور نکھرتی جا رہی ہے۔اس متعلق صوفیہ بیدار کیا خوب لکھتی ہیں․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․․

موج فرات چاہئے آنکھوں کے چین کو ، اک عمر اور چاہئے ذکرِ حسین کو۔خیرات خاک پا ہو محبت میں صوفیہ، سرمہ وفا کا چاہئے عاشق کے نین کو۔

محرم اسلامی تاریخ کا عظیم مہینہ ہے جس میں دین اسلام کو بقاء ملی،ظلم و استحصال،یزیدیت اور فرعونیت کا خاتمہ ہوا،پوری انسانیت میں اسلام کا حقیقی تصور اجاگر ہوا۔ محرم الحرام اپنے اندر کئی تاریخی واقعات کو سموئے ہوئے ہے،ان واقعات میں سب سے اہمیت کا حامل واقعہ کربلا ہے جو کہ ہمیں ایک پیغام دیتا ہے ۔اس پیغام کا نام ہے یاد ِ حسین یعنی حضرت امام حسینؓ کے نقش قدم پر چلنا،انکی سیرت کی مکمل پیروی کرنا۔ حضرت امام عالی مقام امام حسینؓ کی یاد کو تازہ کرنا،اس کا اسل مفہوم یہ ہے کہ ہم اپنی زندگیاں ،اپنے شب و روز نواسۂ رسول حضرت امام حسینؓ کے نقش قدم پر گزاریں،انکی ذات کو اپنا آئیڈیل بنائیں،انکی حیات طیبہ کو اپنی زندگی کا نصب العین بنا لیں۔

حضرت امام عالی مقام امام حسینؓ کی سوانح:
مولانا غلام رسول سعیدی نے اسد الغابہ کے حوالے سے نواسہ رسول حضرت امام حسین ؓ کا نام و نسب یہ لکھا ہے․․․․․․․حسین بن علی بن ابی طالب بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبد مناف القرشی الہاشمی۔امام حسین کی کنیت ابو عبد ﷲ ہے۔آپ ؓ نبی کریمﷺ کے خوشبودار پھول تھے اور بالکل رسول اﷲ ﷺ کے مشابہ تھے،جب آپکی ولادت ہوئی تو حضور اکرم ﷺ نے آپ کے کان میں اذان دی۔نواسہ رسول امام حسینؓ جنت کے جوانوں کے سردار ہیں۔

حضرت علی بن ابی طالب بیان کرتے ہیں جب حسن پیدا ہوئے تو میں نے انکا نام حرب رکھا ، رسول اﷲ تشریف لائے اور فرمایاـ: مجھے میرا بیٹا دکھاؤ،تم نے اس کا کیا نام رکھا ہے؟ ہم نے کہا حرب،آپ نے فرمایا نہیں وہ حسن ہے․ پھر جب حسین پیدا ہوئے میں نے ان کا نام حرب رکھا،نبی کریم تشریف لائے اور فرمایاـ: مجھے میرا بیٹا دکھا دو،تم نے اس کا نام کیا رکھا ہے؟ ہم نے کہا حرب،آپ ﷺ نے فرمایا نہیں وہ حسین ہے۔پھر جب میرا تیسرا بیٹا پیدا ہوا میں نے اس کا نام حرب رکھا، حضور ﷺ میرے گھر آئے اور فرمایا میرے بیٹے کا نام کیا رکھا ہے؟ میں نے عرض کی اس کا نام حرب رکھا ہے آپ ﷺ نے فرمایا نہیں وہ محسن ہے․ پھر فرمایا میں نے حضرت ہارون کی اولاد پر ان کے نام رکھے ہیں․شبر،شبیر،مبشر۔ ( شرح صحیح مسلم،جلد ۶،ص ۹۸۶)

حضرت عمران بن سلمان سے روایت ہے حسن و حسین اہل جنت کے دو ناموں میں سے دو نام ہیں جو کہ دور جہالیت میں نہ تھے(الصواعق المحرقہ،ص۱۹۲) حضرت عبد اﷲ بن مسعود روایت کرتے ہیں کہ میں نے آقا ﷺ کو دیکھا کہ آپ نے حسن و حسین کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا یہ میرے بیٹے ہیں․ (سیرا اعلام النبلاء) حضرت امام حسینؓ میں نہایت عاجزی و انکساری تھی،تکبر سے سخت نفرت تھی۔آپ کو کسی کام کے کرنے یا کسی طبقے کے لوگوں میں بیٹھنے سے کبھی کسی قسم کا کوئی عار نہ تھا۔علامہ ابن عساکر بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ امام حسینؓ کہیں جا رہے تھے کہ راستے میں کچھ غریب و نادار لوگ کھانا کھا رہے تھے،انہوں نے حضرت امام حسین کو جو دیکھا تو دوڑے چلے آئے اور عرض کی حضور آئیے ہمارے ساتھ کھانا تناول فرمایئے،آپ اسی وقت ان غریبوں کے حلقے میں جا بیٹھے اور ان کے ساتھ کھانا کھایا،پھر فرمایا کہ مجھے کھانے کی حاجت نہیں تھی لیکن تمہاری خوشی کی خاطر چند لقمے کھا لیئے ہیں (مناقب آل نبی،ص۴۶۶)
علامہ ابن عساکر بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ آپ کو بیت المال سے بڑی رقم ملی،آپ وہ رقم لے کر مسجد میں بیٹھ گئے اور ضرورت مند کا انتظار کرنے لگے ، ایک شخص نے عرض
 کی حضور آپ کے کپڑے پھٹے ہوئے ہیں آپ یہ رقم اپنے لباس اور اپنی ضروری اشیا پر خرچ کر لیں آپؓ نے فرمایا اپنے آرام و آرائش سے بہتر یہی ہے کہ یہ رقم کسی محتاج کی ضرورت پر صرف کی جاے․چناچہ ایک حاجت مند آیا تو آپ ؓ نے تمام رقم اسے عنایت فرما دی(مناقب ال نبی،ص۴۶۷) مذکورہ بالا دونوں واقعات سے ہمیں امام حسینؓ کی طرز زندگی کا پتہ چلتا ہے کہ آپ کس طرح غریبوں ،محتاجوں و بے کسوں سے محبت اور انکی مدد کے لئے کس طرح کوشاں رہتے تھے۔لیکن آج ہمارا کردار حضرت امام حسینؓ کی حیات طیبہ کے برعکس ہے۔آج کوئی دولت مند شخص کسی غریب کے ساتھ کھانا کھانا تو دور کی بات، ساتھ بیٹھنا،ساتھ چلنا بھی گوارہ نہیں کرتا۔شاہد اسی نظر اندازی کی وجہ سے بہت سے مجبور و غریب لوگ اپنی بے بسی و غربت کے ہاتھوں مجبور ہو کر خودکشی، دہشت گردی اور قتل و غارت گری کا شکار ہو جاتے ہیں۔ہم تو امام حسین کے پیروکار ہیں۔ہمیں چاہے کہ نفرتیں مٹائیں،محبتیں بڑھائیں۔ہمیشہ امن و سلامتی کو فروغ کو دیں۔امام عالی مقام امام حسینؓ نے اسلام کی بقاء کے لئے اپنے تن،من دھن کی قربانی دی۔ہمیں بھی اپنے مذہب و ملک کی سلامتی و بقاء کے لیے کسی بھی قربانی کے لیے ہر وقت خود کو تیار رکھنا چاہے۔
اپنا خیال رکھیئے گا۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: tanveer

Read More Articles by tanveer: 4 Articles with 1382 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
17 Oct, 2016 Views: 382

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ