بے حقیقت اور دروغ آمیز تعریفیں

(Inayat Kabalgraami, )
 انسان کے لئے بہت بڑا فتنہ یہ ہے کہ وہ خود اپنے سلسلے میں خوش فہمی کا شکار ہوجائے، اور اسے اپنی ذات خود اپنی نگاہ میں عیوب سے پاک اور کمالات سے متصف نظر آنے لگے۔ نفس کی مٹی میں اس فتنے کے بیج تو شیطان بوتا ہے، لیکن دوسروں کی تعریف اس بیج کو سیراب کرکے تناور درخت بنادیتی ہے، اس کے بعد انسان کی ساری توانائی ’’اپنے منھ اپنی تعریف‘‘کے ذریعہ اس درخت کی پرورش میں خرچ ہوتی ہے۔ اس کے بعد کبھی انسان اپنے جی میں اتراتا ہے اور کبھی سب کے سامنے اتراتا ہے۔

یاد رہے، تعریف سے یہاں وہ تعریف مراد نہیں ہے، جو کوئی کسی کے منھ پر کرتا ہے، کہ اس شخص سے منھ پھیر لینا، یا اس کا منھ کسی اور طرف پھیر دینا فورا مطلوب ہے۔ یہاں دراصل وہ تعریف مراد ہے جو لوگوں کے درمیان ہونے لگے، اور گردوپیش میں سنائی دینے لگے۔ ضروری سوال ہے کہ ایسے میں پھر کیا کرنا چاہئے؟

آٹھویں صدی ہجری کے شیخ ابن عطاء اﷲ اسکندرانی رحمۃ اﷲ علیہ اسلامی تاریخ کے ممتاز حکماء میں شمار ہوتے ہیں، وہ تزکیہ نفس اور تربیت ذات کے ماہر اور دانائے راز تھے، ان کی کتاب ’’الحکم العطائیۃ‘‘ میں حکمت ودانائی کے شاہ پارے سجے ہوئے ہیں، اور ماہرین تربیت کے بہت کام آتے ہیں۔ اس اہم مسئلے پر بھی ان کے یہاں ہمیں قیمتی رہنمائی ملتی ہے۔ یہاں ہم قارئین کی خدمت میں ان کے الفاظ اور اپنا استفادہ پیش کریں گے۔

دوسروں کی تعریف سن کر مگن ہو جانے والے اپنے لئے غفلت کا سامان تیار کرتے ہیں، ابن عطاء اﷲ اس فتنے سے نکل بھاگنے کے راستے بتاتے ہیں، وہ یاد دلاتے ہیں کہ انسان خود اپنے بارے میں جو کچھ جانتا ہے وہی یقین کا درجہ رکھتا ہے، اور دوسرے اس کے بارے میں جو کچھ جانتے ہیں وہ محض ان کا گمان ہوتا ہے جو صحیح بھی ہوسکتا ہے اور غلط بھی ہوسکتا ہے، اس لئے انسان ہمیشہ یہ دیکھے کہ اس کے بارے میں خود اس کی اپنی معلومات کیا کہتی ہیں، اور پھر اپنی معلومات کی بنیاد پر اپنی شخصیت کی اصلاح وتعمیر کے منصوبے بنائے۔ جو منصوبے درست معلومات کی بنیاد پر بنائے جاتے ہیں وہی کامیابی کی نوید سناتے ہیں، اور جو منصوبے غلط معلومات کی بنیاد پر بنائے جاتے ہیں، ان کا ناکام اور بے نتیجہ ہونا عین ممکن ہوتا ہے۔ ابن عطاء اﷲ کے الفاظ ہیں:’’سب سے نادان شخص وہ ہے جو اپنے سلسلے میں دوسروں کی ظنی معلومات کی بنا پر اپنی یقینی اور قطعی معلومات پس پشت ڈال دے-

جب انسان دیکھے کہ لوگ اس کے سلسلے میں محض خوش گمانی کی بنیاد پر اس کی تعریف کررہے ہیں، اور اس کو خدا ترس، نیک وپارسا، مرد کامل اور علامہ وقت قرار دے رہے ہیں، تو چاہئے کہ وہ اپنے آپ کو اپنی تنقیدی نگاہ سے دیکھے، وہ اپنے ان عیوب اور خامیوں پر نظر رکھے جو اس کے اندر موجود ہیں، اور جن سے وہ اچھی طرح واقف ہے، پھر وہ ان کو سختی کے ساتھ نشانہ ملامت بنائے۔ عام حالات میں ہوسکتا ہے خود ملامتی پسندیدہ بات نہیں ہو، لیکن جس وقت دوسرے کسی کی خوبیوں پر روشنی ڈال رہے ہوں اس وقت اس کے لئے اپنی خامیوں کو خود اپنے سامنے لانا بہت ضروری ہوجاتا ہے، ورنہ دوسروں کی تعریف اپنی خامیوں کے لئیحجاب بن جاتی ہے، پھر انسان کو اپنے اندر وہی نظر آتا ہے جو لوگ اپنے اندازے سے بتاتے ہیں اور وہ نظر نہیں آتا جو واقعی ہوتا ہے، اور اس طرح تعمیر شخصیت کا منصوبہ ادھورا اور دھرا کا دھرا رہ جاتا ہے۔ ابن عطاء اﷲ کہتے ہیں:’’لوگ محض اپنے گمان کی بنا پر تمہاری تعریف کرتے ہیں، اس لئے تم اپنے علم ویقین کی روشنی میں اپنے آپ پرنکتہ چینی کرو-

ایک مومن کے لئے انسانوں سے زیادہ خود اپنے علم کی اور سب سے زیادہ اﷲ کے علم کی اہمیت ہوتی ہے، جب وہ دیکھتا ہے کہ وہ خوبیاں اس درجے میں اس کے اندر ہیں ہی نہیں جن کا حوالہ دے کر لوگ اس کی تعریف کررہے ہیں، تو اسے اﷲ سے شرم آتی ہے، کیونکہ کوئی اور جانے یا نہ جانے لیکن اﷲ تو جانتا ہے کہ وہ ان تعریفوں کے لائق نہیں ہے،اﷲ یہ بھی دیکھتا ہے کہ لوگ اس کی تعریف کررہے ہیں، اور اﷲ یہ بھی دیکھتا ہے کہ وہ ان تعریفوں سے خوش ہورہا ہے۔ یہیں پر ایک مومن کا امتحان ہوتا ہے کہ وہ اﷲ کے سامنے دوسروں کی زبانی اپنی جھوٹی تعریف سے شرماتا ہے، یا ڈھٹائی کے ساتھ علییم وخبیر کے سامنے ہوتے ہوئے بھی ان ناحق تعریفوں پر یقین کرتا ہے اور خوش ہوتا ہے۔ابن عطاء اﷲ کے الفاظ میں: ’]مومن کی جب تعریف ہورہی ہوتی ہے تو اسے اﷲ سے شرم آتی ہے کہ اسے ان خوبیوں سے آراستہ بتایا جارہا ہے جو خود وہ اپنے اندر نہیں دیکھتا ہے-

لوگوں سے اپنی تعریف سن کر بندے کے سامنے ایک اور اہم حقیقت بے نقاب ہوجانی چاہئے، اسے سوچنا چاہئے کہ میں تو تعریف کا اہل نہیں ہوں پھر بھی اﷲ نے میری تعریف کے دروازے کھول دئے ہیں، جبکہ اﷲ کے لئے تو ساری حمد ہے، وہی مدح وثنا کا حقیقی سزاوار ہے، اور میں اس محمود حقیقی کی حمد وثنا میں اس قدر کوتاہ ہوں۔ وہ باور کرے کہ اگر لوگوں کے درمیان میری ناحق تعریف ہورہی ہے، تو یہ اﷲ کی طرف سے تنبیہ ہے، کہ میں فرض بندگی کو یاد کروں، اور اپنی تعریف میں خود شریک ہوجانے کے بجائے، اپنی ساری توجہ مدح وثنا کے سزاوار حقیقی کی حمد وتعریف کی طرف مرکوز کردوں، اور اس طرح اس میں مشغول ہوجاؤں کہ مجھے دوسروں کی تعریف سنائی ہی نہیں دے۔بندہ مومن کی شان یہی ہوتی ہے کہ وہ اپنی تعریف سننے کا شوق نہیں رکھتا ہے بلکہ اﷲ کی تعریف کرنے کا شوق رکھتا ہے، اور اگر اسے کہیں گردوپیش میں اپنی تعریف سنائی دے تو اسے ایک یاد دہانی سمجھ کر وہ اور زیادہ اﷲ کی تعریف میں لگ جاتا ہے۔ ابن عطاء اﷲ کے الفاظ میں: ’’جب وہ تمہارے نااہل ہونے کے باوجود تمہاری تعریف ہونے دے، تو تم اس کی وہ تعریف کرو جس کا وہ اہل ہے-

بے حقیقت اور دروغ آمیز تعریفوں سے دھوکہ نہ کھا کر اپنی تعمیروترقی کے لئے فکر مند رہنا افراد پر بھی واجب ہے،اداروں پر بھی اور جماعتوں پر بھی۔ صبح سے شام تک ’’لائیک‘‘ اور ’’بہت خوب‘‘ شمار کرنے اور نفس کو موٹا کرنے کے اس زمانے میں حکیم ابن عطاء اﷲ کی نصیحتوں کا مناسب حال ہونا (Relevance) اور بڑھ گیا ہے۔
 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Inayat Kabalgraami

Read More Articles by Inayat Kabalgraami: 94 Articles with 52015 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
03 Nov, 2016 Views: 356

Comments

آپ کی رائے