وسائل کا ضیاع سیشن II

(Karamat Masih, Lahore)
ٓاس سیشن کے مطابق مسائل تو دنیا بھر میں ہیں ،خاص طور پر آنے والی نسلوں کے لیے سو ضرورت اس بات کی ہے کہ لو گوں میں شعور اجاگر کیا جائے اور پوری دنیا میں ایسی تنظیمیں بنائی جائیں جوگھر گھر جا کر لو گوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کر یں اس مقصد کے لیے مختلف سیمینار ز منعقد کروائیں جائیں نصابی کورس میں اس بات کو اجاگر کرنے کے لیے بطورسبق شامل کیا جائے کہ وسائل کو ضائع مت کریں پرنٹ میڈیا کے ذریعے وسائل کو ضائع کرنے سے روکنے کیلئے اشتہارات کے ذریعے اس بات پر زور دیا جائے کہ وسائل کو ضائع مت کریں پور ی دنیامیں چین اور جرمنی جیسے ملکوں کی طرح قانون سازی کی جائے تاکہ اس بات کو لوگ جلد سے جلدسمجھ سکیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے وسائل مہیا کیے ہیں اب یہ ہم پرمنحصر ہے کہ کس طرح سے ہم ان وسائل کو استعمال یا پھر ضائع کرتے ہیں اس سیمینار کو مد نظر رکھتے ہوئے ہم پاکستان کے حوالے سے بات کریں گے کہ14اگست 1947کو دنیا کے نقشے پر پاکستان کا نام آیا خدا کا شکر ہے کہ خدا نے ہمیں آزاد ملک دیا اور اس ملک کو ہر نعمت ، برکت اور خوبصورتی سے نوازا، اس ملک میں معدنیات کے خزانے ہیں جن میں قابل ذکر گیس کے ذخائر،پٹرول، کوئلہ اور دیگر قیمتی دھاتیں ہیں، اس ملک میں ہر قسم کی کاشتکاری کے ذریعے مختلف اجناس حاصل کی جاتی ہیں پانی کے ایسے ذرائع موجود ہیں جو کہ پورا سال بہتے رہتے ہیں خدا نے پاکستان کو چار موسم دیئے ہیں غرض کے ملک پاکستان میں کسی بھی چیز کی کوئی کمی نہیں ہے غرض کمی ہے تو صرف پاکستان میں بڑھتی ہوئی آبادی ، تعلیم اور شعورکی ہے جس کی وجہ سے مسائل بڑھ رہے ہیں ملک پاکستان میں بے لوث لیڈر شپ کی قیادت کا فقدان ؂ بھی بڑا مسئلہ ہے آپ کسی ایک ایشو کو دیکھ لیں آپ پریشان ہوجائیں گے ملک کے مختلف علاقوں میں ہر سال سیلاب آتے ہیں جسکی وجہ سے قیمتی انسانی جانوں ، مال و مویشی اور فصلوں کا نقصان ہو جاتا ہے مگرکسی بھی حکمران کی بات کر لیں جو ٹیلی ویژن پر سوائے افسوس کرنے کے کہ سیلاب سے بہت نقصان ہو اہے اُس نقصان کا اذالہ کرنے کے لئے قابل قدر کام نہیں کرتے جب ڈیم بنانے کی بات کی جائے تو چپ سادھ لیتے ہیں باقی نقصانات کے ساتھ ساتھ پانی بھی تو ضائع ہو جاتا ہے پاکستان کے مختلف علاقوں میں پانی کی اہمیت کو در گزر نہیں کیا جاسکتا جن میں کراچی اور لاہور تو سر فہر ست ہیں حالانکہ یہ دونوں شہر پاکستان میں بڑی اہمیت کے حامل ہیں ترکی میں جب ڈیم نہیں تھا تو وہاں پر بھی ایسے ہی نقصانات ہوا کرتے تھے لیکن جب سے ڈیم بنا ہے تو ترکی میں ترقی ہی ترقی ہو تی چلی گئی وجہ صرف یہ تھی کہ انہوں نے اپنے وسائل کو عمدہ طریقے سے ا ستعمال کیا اب پانی سے ملک میں نقصان نہیں ہوتا ڈیم ہونے کی وجہ سے پانی محفوظ ہوتا ہے جس سے کاشتکاری کے لئے پانی استعمال میں آتا ہے اور ساتھ ساتھ بجلی کی پیداوار بھی ہوتی ہے آپکو بھی اتفاق ہوا ہوگاکہ اکثر گھروں میں جب گیس آتی ہے تو لوگ چولہا بند نہیں کرتے میں نے ایک گھر والوں سے پوچھا کہ آپ ایسا کیو ں کرتے ہیں جب ضرورت نہیں تو چولہا بند کر دیں انہوں نے جواب دیا کہ جب دوبارہ جلانا ہو تا ہے تو تب ماچس نہیں ملتی میں حیران ہوا کہ دو روپے کی ماچس کہ جگہ اتنی مہنگی گیس ضائع کی جارہی ہے اس طرح اکثر گھروں میں پانی کے نلکے کھلے ہوتے ہیں اور پانی ضائع ہو تا رہتا ہے اکثر شادی بیاہ اور دیگر تقریبات میں کھانا کھایاکم اور ضائع زیادہ کیاجا تاہے اسی طرح جو صاحب حیثیت لوگ ہوتے ہیں ان کے گھروں میں ہر فرد کے لیے الگ گاڑی ہو تی ہے جب روڈ پر نکلیں تو روڈ بلاک ہوتے ہیں حالانکہ اکثر روڈ کی تو سیع بھی جاچکی ہے مگر پھر بھی روڈ بلاک رہنا ایک معمول بن چکا ہے۔ پاکستان کے مختلف شہروں ، گاؤں میں سکول بنائے گئے ہیں مگر چیک اینڈ بیلنس نہ ہونے کی وجہ سے ان سکولوں پر با اثر افراد کا قبضہ ہے وہاں مویشی بندھے ہیں کئی سکولوں میں تو فرنیچر نہیں ، کہیں سکول کی چھت بو سیدہ حالت میں ہے کہیں ٹیچر مو جو د نہیں ہے سو اس طرح پاکستان تعلیمی میدان میں بھی پیچھے جا رہا ہے اور تعلیمی میدان میں بھی اپنی توانائی اور وسائل ضائع کر رہا ہے۔

گندے پانی کی وجہ سے تیار ہونے والی فصلو ں کی پیداوار اور خوراک کا معیار ناقص ہوتا جا رہا ہے جسکی وجہ سے مختلف بیماریاں پیدا ہورہی ہیں اور ان بیماریوں کی وجہ سے شر ح اموات میں اضافہ ہو تا جارہاہے اگر صحت کے میدان کی بات کی جائے تو ملک میں ہسپتال مریضوں سے بھر ے پڑے ہیں ڈاکٹر آئے دن ہڑتال کر لیتے ہیں ادویات نہیں ملتی جدید طبی آلہ جات کا فقدان ہے ٹیسٹوں کے لیے لیبارٹریز کا نظام بوسیدہ ہے حکمران اپنا علاج تو بیرون ملک بھی جا کر کروالیتے ہیں مگر غریب عوام کا کوئی پُرسانِ حال نہیں ہے اس طرح زندگی کے دیگر شعبہ جات بھی ہیں جن میں وسائل کا ضیاع ہو رہا ہے۔ہر سال صحت ،تعلیم زرعی ، جدید ترقیاتی اور دیگر شعبوں کے لیے کڑوڑوں ، اربوں روپوں کا بجٹ مخصوص کیا جاتا ہے مگر ہر گزرتا ہو ا دن مسائل میں اضافہ کر تا چلا جا تا ہے کرپٹ لوگو ں کے ہاتھوں میں نظام ہے جو کہ ملک کے بارے میں کم اور اپنے بینکوں کے متعلق ذیادہ پلاننگ کرتے ہیںآخر میں اس بات کو واضح کر نا چاہتا ہوں کہ اگر پاکستان کے وسائل کو بڑی حکمت کے ساتھ بروکار لایا جائے تو آنے والی نسلوں کو بہت سے مسائل سے بچایا جا سکتا ہے لو گوں میں شعور پیدا کیا جائے کہ ہمیں اپنی ضرورت کے مطابق وسائل کا استعمال کر نا چاہیئے تاکہ دوسرے ہم وطعنوں کی ضروریات کو بھی پورا کیا جاسکے اسی طرح ملک گیر آگاہی پروگرام چلا یا جائے کہ وسائل کو ضائع مت کریں جیسے ملک میں پولیو، ڈینگی اور دیگر اہم معاملات کے بارے میں خصوصی آگاہی دی جارہی ہے اسی طرح وسائل کے استعمال اور ضائع نہ کرنے پر بھی خصوصی آگاہی دی جائے ملک میں ایک تنظیم قائم کی جائے جو کہ یہ کام کر ے کیونکہ دنیا بھر اور پاکستان میں وسائل کو ضائع ہونے سے روکنا ضروری ہے اس کے ساتھ ساتھ ملک میں اس بات کے لیے قانون سازی کی جائے اگر یہ اقدامات نہ کئے گئے تو صورت حال مزید سنگین ہو گی جوکہ پاکستانی عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دے گی۔ سو ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم بحیثیت پاکستانی ذاتی طور پر وسائل کو ضائع مت کریں اور پا کستان کی ترقی ، بہتری اور اپنی آنے والی نسلوں کی بھلائی کے لیے اپنا کردار ادا کریں ۔
پاکستان زندہ آ باد
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Karamat Masih

Read More Articles by Karamat Masih: 30 Articles with 10809 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
10 Nov, 2016 Views: 322

Comments

آپ کی رائے