راجن پور پہچان کیا؟؟

(Abdul Jabbar Khan, Rajanpur)
یوں تو پنجاب کی دھرتی اپنی الگ پہچان رکھتی ہے پنجاب مری سے لے کر دور دراز سندھ باڈرتک پھیلے رحیم یار خان اور را جن پور تک ہے پنجاب کے ہر اضلا ع اپنی اپنی پہچا ن رکھتے ہیں ۔ان میں سے اک راجن پور بھی ہے جو اپنی ایک خو بصورت اور منفر د پہچا ن رکھتا ہے ۔را جن پور لاہور سے دور ہو نے کی وجہ سے پسما ند ہ شما ر ہوتا ہے جہا ں تعلیم صحت انڈسٹر ی اور دیگر سہو لیات کا فقدان ہے ۔پسما ند ہ اور دور دراز ہو نے کی وجہ سے اکثریت ملک کے دوسر ے علا قوں میں رہنے وا لے خا ص کر بڑے شہر وں کے افر اد راجن پور سے نا آشنا ہیں ۔ را جن پور کے لو گ کسی دوسر ے شہر سفر کر یں تو جب اس شہر میں کسی سے تعارف کر وا یا جاتا ہے تو اگلہ شخص کہتا ہے را جن پور کد ھر ہے اس جو اب پر ہمیں تعجب ضرورہو تا ہے بھا ئی یہ کیا ہم پا کستا نی نہیں ہیں یا را جن پور پا کستا ن کا حصہ نہیں ہے ۔یا یہ حضر ات کسی اور ملک کے با شندے ہیں ۔جو اپنے ملک علاقے کے با رے میں پو چھتے ہیں کہ یہ کد ھر ہے پھر ان کو نشا نیا ں دینی پڑتی میں ہیں ۔ تو پھر ان کو یا د آتا ہے ہاں اچھا اچھا وہ را جن پور ۔جب 2010ء کے سیلا ب آیا تو اس میں ہونے وا لی تبا ہی نے جہا ں پور ملک اس کی لپیٹ میں آ یا تو ادھر را جن پور میں بھی کو ئی کم تبا ہی نہیں ہو ئی ۔جب میڈیا میں اس تباہ حا ل راجن پور کی کو ریج ہو ئی تو را جن پور سیلا ب زدہ علاقے طور پر پہچا نا جا نے لگا۔پھر 2012ء سے 2016ء تک چھو ٹو کی فلم مسلسل میڈیا پر چلتی رہی ۔پھر تو ہر کسی نے بد نا م زمانہ چھو ٹو گینگ کو را جن پور سے جوڑکر اس کا پہچا ن بنا دیا ۔پھر جب را جن پور سے آ نے کا بتا یا جا تا تو اچھا وہ چھو ٹو وا لا راجن پور پھر اس چھو ٹو کی صدائیں ایو نوں تک گونجنے لگی ۔پھر خد ا خدا کر کے کچھ افر اد کا نا م پا نا مہ میں آنے کے بعد چھو ٹو گینگ کو مو ٹو گینگ میں تبدیل کر دیا گیا ۔ میر ا اک سوال پور پا کستا ن سے ہے کیا لا ہو ر کو گلو بٹ کو وجہ سے پہچانا جا تا ہے یا کرا چی عزیر بلوچ یا فیصل مو ٹا کی وجہ سے جا نا جا تا ہے ۔بھائیو !را جن پور کی پہچا ن نہ تو سیلا ب ہے اور نہ ہی چھو ٹو بلکہ ہمیں ایسی پہچا ن اور شہرت کی ضرورت ہی نہیں ۔ہما ری دھرتی کی الگ پہچان ہے جو کسی تعارف کی محتا ج نہیں ۔میں تو ان سب حضر ات کہوں گا جب بھی با ہر کا سفر کریں تو خد ارا ایسی پہچا ن کر وا نے سے گر یز فر ما ئیں ۔اب میں آ پ کو بتا تا ہو ں جب بھی را جن پورسے با ہر جا ئیں کو ئی پوچھے کہ راجن پور کدھر ؟ تو ان کو اک ہی جو اب دیں ۔حضرت خواجہ غلا م فرید ؒاور کوٹ مٹھن شریف والا را جن پور ۔میں یقین سے کہتا ہو ں کہ سا منے والا آ پ کو عزت احترام دے کر آ پ کا وقا ر بلند کر ے گا۔اﷲ پا ک نے را جن پور کی دھر تی کو حضرت خو اجہ غلا م فر ید ؒ جیسی ہستی سے نو ازا ہے جن کے عقدت مند پا کستا ن کیا پور ے برضیعرعرب یورپ امریکہ تک پھیلے ہو ئے ہیں جن کی شا عر ی میں وہ کما ل تھا کہ پڑھنے والا عشق خد ا میں مبتلا ہوجا تا ہے را جن پور کی اصلی پہچان حضرت خو اجہ غلا م فر ید ؒ سے ہی ہے ۔یہ تو ان کی بات ہو گئی جن کا کو ئی ثا نی نہیں ۔ہما رے را جن پور کی پہچا ن بنا نے میں حضرت خو اجہ غلا م فر ید ؒ کی آ ل اور دربار فر ید ؒ کے مو جو دہ گدی نشین حضرت خو اجہ معین الد ین محبوب کوریجہ اس میں پیش پیش ہیں ۔وہ حضرت خواجہ غلا م فریدؒکا امن انسا نیت اور عشق خد ا کا پیغام لے کر گلگت سے لے کر مکر ان کے سا حلو ں کا سفر کرتے ہو میڈل ایسٹ عرب کی ریاستوں یورپ امر یکہ بر طا نیہ جا تے ہیں تو اس پیغا م کے سا تھ را جن پور کی شان بڑھا رہے ہوتے ہیں ۔اس کے علاوہحضرت خواجہ غلا م فریدؒسے منسوب فرید ی ؒ روما ل ہما ری پہچا ن ہے۔اس رومال اور اس کی پہچا ن کا سہرا بھی مو جودہ گدی نشین حضرت خو ا جہ معین الدین محبوب کوریجہ کے سر جاتاہے ۔جو اس پیغام کے سا تھ فرید روما ل کا تعارف لے کر جا تے ہیں ۔آپ کہیں بھی جا ئیں فرید ی رو ما ل آ پ کے گلے میں ہو گا تو آپ کو کسی تعا رف کر وانے کی ضرورت نہیں ہو گی۔دیکھنے والا آپ کو فٹ سے پہچا ن لے گا کہ آپ حضرت خواجہ غلا م فریدؒکے عقدت مند ہیں ۔جن کی دھرتی کو ٹ مٹھن راجن پور ہے ۔راجن پور کی دھرتی میں پا ئی جا نے وا لی ہر ہستی اور ہر چیز اپنی ایک الگ پہچا ن رکھتی ہے جس کو کسی تعا رف کی ضرورت نہیں ۔یہاں پر مغلیہ دور کا قلعہ ھڑند جس کے آثا ر آج بھی مو جود ہیں ۔پانچ دریا ؤں کاکو ٹ مٹھن کے مقام پر ایک ہو نا ہما ری پہچا ن ہے جس کے با رے میں بچوں کو کورس میں پڑھایا جا تا ہے ۔یہاں ماڑی جیساصحت افزامقام ہے جو دن بدن اپنی حیثیت منو ا رہا ہے ۔جو ہما ری پہچا ن ہے ۔یہاں کا قصبہ رسول پور جو تحصیل جامپور میں ہے جس کی پوری آبا دی میں کو بھی ان پڑھ افراد آپ کو نہیں ملے گاجس کے اعتراف میں بی بی سی نے ایک مفصل بصری رپورٹ تیار کر کے اپنے ٹی وی چینل پر نشر کی تھی ۔را جن پور کی ثقافت پورے پا کستان میں اپنی مثال آپ ہے دراصل راجن پور پنجاب کو دو صوبوں سندھ اور بلو چستان سے ملا رہاہے توجس کیوجہ سے آ پ کو یہاں پنجاب کے رنگ سرائیکی بلوچی اور سندھی ثقافت مکس ہو تی ملے گی ۔جو اک منفر د پہلوہے جو را جن پور کی پہچا ن ہے ۔یہاں کی زراعت اپنی مثا ل آپ ہے کپاس کا ریشہ زیادہ یہاں کی کپاس میں پا یا جا تاہے ۔گنا ایساجس میں چینی کی مقدار پورے پا کستان میں سب سے زیادہ‘باغات سب اعلی قسم کے پا ئے جا تے ہیں ۔را جن پور کی تحصیل جام پور پور پا کستان میں تمبا کو کی فصل کے لئے مشہور ہے اور جام پور ہی میں لکڑی اور قلم پر بہتریں کشیدہ کا ری کا کام کیا جاتا ہے جو پورے ملک میں مشہور ہے ۔قربانی آئے اور جانور لینا ہو تو خریدار کی زبان پر سب سے پہلے راجن پور کا نا م آتا ہے ۔جس کے بکر ے اور داجل نسل کے بیل اپنی مثال آپ ہیں ۔اب تو راجن پور کی تحصیل روجھان مزاری کے اونٹ کی مانگ میں آضافہ ہورہا ہے ۔یہاں کا علاقہ پچا دھ روس اور سابیئرا سے آنے وا لے مہمان پر ندوں کی پسندیدہ جگہ ہے جو یہا ں پر آ کر بسیرا کرتے ہیں ۔ہر سال عربی شہزادے شکارکھیلنے آتے ہیں ۔جو ہماری پہچان اور شان ہے ۔پاکستان کی طویل شاہر ا انڈس ہائی وے جو پنجاب کے صرف دو اضلاع راجن پور اور ڈیرہ غا زی خان سے گزرتی ہے ۔صرف راجن پور سے 200کلو میٹر کے لگ بھگ طویل ہے جو ہما ری الگ پہچا ن ہے ۔پاکستان ریل وے کی خوشحا ل خان خٹک ایکسپریس راجن پور ہی سے 200کلو میٹر سے زیادہ کا سفر کر کے گزرتی ہے جو ہما ری پہچا ن ہے ۔راجن پور کے رہن والے اور یہاں کی ہر چیز اپنی الگ اور منفر د پہچا ن رکھتی ہے یہاں پر بسنے والے بہت ہی پیارے خوبصورت دل کے مالک اور میٹھے لو گ ہیں جو ہما ری پہچا ن ہیں ۔یہا ں کے لو گ سادہ دل مہمان نوازاور جیسے بھی حالات ہو ں ہمیشہ خوش رہنے والے لوگ ہیں ۔راجن پور کی دھرتی نے اعلیٰ درجے کے شاعر ادیب صحافی گلوکارفنکار علماء استاد قاری نعت خواں ڈاکٹروکیل پروفیسرآفیسرفوج وپولیس کے جوان کھلاڑی سیاست دان بزنس مین سوشل ورکراورزندگی کے ہر شعبے سے وابستہ افرادی قوت ملک کو فراہم کی ہے جو اپنی مثال آپ ہے جو راجن پور پہچان اور ہماری شان ہیں ۔آخر میں پھر راجن پور کے رہنے والوں اور باقی علاقوں کے رہنے والوں سے اپیل کروں گا کہ چھوٹو جیسے بدمعاش ڈاکو کو ہما ری پہچا ن سے منسوب نہ کر یں ۔ہم راجن پور وا لے امن پسند اور پیارکر نے والے لو گ ہیں ۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Abdul Jabbar Khan

Read More Articles by Abdul Jabbar Khan: 151 Articles with 76988 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
13 Nov, 2016 Views: 641

Comments

آپ کی رائے