محبت ایک انمول جذبہ مگر استعمال غلط کیوں؟

(Maryam Arif, Karachi)
تحریر:قدسیہ عزیز، روالپنڈی
محبت ایک انمول تحفہ ہے، جو ہر کسی کے نصیب میں نہیں ہوتا۔یہ ایک خدائی صفت ہے ۔۔اﷲ مخلوق سے محبت کرتا ہے اور اسی نے انسان کو محبت کرنا سکھایا۔محبت میں کئی رنگ پنہاں ہیں۔یہ چاہے خالق سے ہو یا مخلوق سے اس کا ہر رنگ سچائی اور خلوص پر مبنی ہے بشرطیکہ یہ جذبہ واقعی انسان کے اندر ہو نہ کہ اﷲ اور اس کی مخلوق سے محبت کے زبانی اور کھوکھلے دعویٰ کیے جائیں۔محبت کی پہلی شرط ہی دوسرے کو عزت و تکریم دینا اور اطاعت کرنا ہے۔انسان جس سے محبت کرتا ہے تو اسکی اطاعت بھی خودبخود کرتا چلاجاتا ہے۔

محبت کا جب نام لیا جائے تو سب سے پہلے اﷲ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت ہے۔اﷲ انسان سے محبت کرتا ہے اور انسان کے دل میں اپنے خالق و مالک کی محبت ایک فطری عمل ہے۔اور اﷲ سے محبت کرنے والوں کے لیے اﷲ کے محبوب نبی ﷺ، تمام انبیاء اور ولی اﷲ سے محبت لازم و ملزوم امر ہے۔تمام مسلمان آپ ﷺ سے محبت کا دعویٰ کرتے ہیں اور اس دعوے کو سچ تب ہی ثابت کیا جاسکتا ہے جب ہم آپ ﷺ کی تعلیمات پر خوشی سے عمل پیرا ہونے کی کوشش کرتے رہیں۔لیکن بات جب اﷲ کی انسانوں سے محبت کی کی جائے تو اﷲ تو اس سے بھی محبت کرتا ہے جو اﷲ کی ایک نہیں مانتے۔کیونکہ اﷲ کی محبت بے لوث ہے وہ انسان سے کسی مطلب کے لیے محبت نہیں کرتا جبکہ انسانوں کی محبتوں میں کہیں نہ کہیں اپنی غرض شامل رہتی ہے۔بس وہ کبھی کبھی انسان کو ایسی تکلیف میں ڈال دیتا ہے جس سے انسان یہ سمجھتا ہے کہ اﷲ ہماری سنتا نہیں یا وہ ہم سے پیار نہیں کرتاجو ایک بہت منفی رویہ ہے ۔اس کا احساس ہمیں تب ہی ہوتا ہے جب وہ تکلیف ختم ہوچکی ہوتی ہے۔اصل میں ہم لوگ ایسے ہیں کہ سب کچھ مل رہا ہو تو کہتے ہیں کہ اﷲ نواز رہا ہے اور اگر ذرا سی تکلیف آجائے تو یہ نہیں سوچتے کہ یہ بھی اﷲ کی طرف سے آزمائش ہے جو کہ ہماری کسی غلطی کی وجہ سے بھی ہوسکتی ہے اور اسکو صبر سے برداشت کرنا ہے۔کیونکہ اﷲ اپنے بندوں کو ان کے صبر سے زیادہ تکالیف نہیں دیتا۔

دنیاوی محبتوں کی جب بات آتی تو ماں کی محبت کی مثال دی جاتی ہے۔دنیا میں ماں باپ کی محبت ہی بے غرض اور بے لوث ہوتی ہے۔ماں باپ کی محبت ہی ہے جو خود تو تکلیفیں برداشت کرلیتے ہیں لیکن اپنے بچوں کو تکلیف میں نہیں دیکھ سکتے ۔اﷲ اور ماں باپ کی محبت کے علاوہ باقی سب محبتوں میں کچھ نہ کچھ مطلب شامل ہوتا ہے اور باقی محبتیں وقت کے ساتھ ساتھ کم ہو جاتی ہیں۔ہم نے حقیقی محبت کے بدلے عارضی اور غیر ضروری محبت کو پال لیا ہے۔ یہ وہ محبت کا غلط مطلب اور غیر ضروری جذبہ ہے جس کا استعمال نہ صرف آپ کے لیے نقصان کا سبب بنتا ہے بلکہ آپ کوہمیشہ ایک بے تکا سا احساس دے کر دیمک کی طرح چٹ کرنے لگتا ہے۔ اس سیراب کی ماند محبت کے نام دھوکے سے بچیں اور اپنی حقیقی محبتوں پر اپنی محبتیں نچھاور کریں۔
 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Maryam Arif

Read More Articles by Maryam Arif: 1241 Articles with 519802 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
22 Nov, 2016 Views: 249

Comments

آپ کی رائے