کینسر ، غربت یا معاشرتی بے حسی ،دردناک کیا !

(Musarrat Ullah Jan, Peshawar)
آٹھویں کلاس کی طالبہ جس کی عمر بھی بمشکل گیارہ برس ہو وہ دو برس تک علاقے سے سکول جانے کیلئے روزانہ آنے جانے کیلئے چھ کلومیٹرپیدل سفر کرے اور یہ سفر بھی مجبوری کی حالت میں ہو-یعنی اس بچی کو یہ احساس ہو کہ مختلف گاڑیوں کے کرائے کے تقریبا تیس روپے برداشت کرنا اس کی والدہ کی ہمت نہیں اور غربت کی وجہ سے اسے پیدل ہی چلنا ہوگا -اسی لئے وہ اپنے تعلیم کے شوق کی خاطر سکول آنے جانے کا چھ کلومیٹر کا سفر پورا کرے - ایسی بچی کی ہمت کو سلام ، جسے یہ بھی پتہ کہ اس کے پاس کھانے پینے کیلئے بھی سکول میں پیسے نہیں اور گھر جانے کے بعد بھی شائد ہی اسے بھوکا سونا پڑے- لیکن زندگی کے ان مشکلوں کے باوجود یہ باہمت بچی زندگی کے سفر میں اپنی بھاگ دوڑ کرتی رہی- لیکن ---
آٹھویں کلاس کی طالبہ جس کی عمر بھی بمشکل گیارہ برس ہو وہ دو برس تک علاقے سے سکول جانے کیلئے روزانہ آنے جانے کیلئے چھ کلومیٹرپیدل سفر کرے اور یہ سفر بھی مجبوری کی حالت میں ہو-یعنی اس بچی کو یہ احساس ہو کہ مختلف گاڑیوں کے کرائے کے تقریبا تیس روپے برداشت کرنا اس کی والدہ کی ہمت نہیں اور غربت کی وجہ سے اسے پیدل ہی چلنا ہوگا -اسی لئے وہ اپنے تعلیم کے شوق کی خاطر سکول آنے جانے کا چھ کلومیٹر کا سفر پورا کرے - ایسی بچی کی ہمت کو سلام ، جسے یہ بھی پتہ کہ اس کے پاس کھانے پینے کیلئے بھی سکول میں پیسے نہیں اور گھر جانے کے بعد بھی شائد ہی اسے بھوکا سونا پڑے- لیکن زندگی کے ان مشکلوں کے باوجود یہ باہمت بچی زندگی کے سفر میں اپنی بھاگ دوڑ کرتی رہی- لیکن ---

تقریبا دو سال سال پہلے روزانہ سکول آنے جانے کے بعد اس کے بائیں پاؤں میں درد اٹھتا اور گھر آنے کے بعد وہ اپنی والدہ کو اس درد کے بارے میں بتاتی تو والدہ اسے معمول کا درد جان کر اسے صبر کا کہہ دیتی اور یہ معصوم بچی یونہی اپنے معصوم جسم پر درد کا پہاڑ اٹھائے زندگی گزار رہی تھی- پھر ایک دن درد کی شدت پر غربت کی ماری والدہ اسے ڈاکٹر کے پاس لے گئی جہاں پر اس کے ٹیسٹ کئے گئے تو پتہ چلا کہ معصوم بچی کو ہڈیوں کا کینسر ہے -ڈاکٹر نے ٹیسٹ کرانے کیلئے کینسر کے ایک بڑے ہسپتال میں بھیج دیا جس کے عطیات کیلئے لوگ کروڑوں روپے دیتے ہیں- وہاں پر عجیب سی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا - معصوم اور بیمار طالبہ کی والدہ کو کہہ دیا گیا کہ چونکہ آپ کی بچی کی عمر گیارہ سال ہے اس لئے وہ اس کا علاج نہیں کرسکتے - ہاں اگر والدہ اپنی بچی کی علاج کے خاطر کم عمر ی کا سرٹیفیکیٹ بنا دے تو اس کا علاج کیا جاسکتا ہے لیکن قرآن پاک کی درس دینے والی والدہ نے اس جھوٹ سے انکار کیا اور پھر اپنی استطاعت کے مطابق بچی کا علاج شروع کردیا لیکن ڈیڑھ سال کے دوران اس کی جمع پونجی ختم ہوگئی- کیونکہ صرف اس معصوم طالبہ ادویات کے اخراجات ہی نہیں تھے بلکہ اس کے ایک بھائی اور دو مزید بہنوں کا بوجھ بھی بوڑھی ماں کو متاثر کررہا تھا اور پھر یوں ہوگیا کہ قرض دینے والے بھی انکاری ہوگئے اور بائیں پاؤں کی درد کی شکایت کرنے والی معصوم طالبہ کا بایاں پاؤں معذر ہوگیا اور اسے اٹھا کر لے جانا مسئلہ بن گیااور یوں معصوم طالبہ ڈیڑھ سال سے بستر کی ہو کر رہ گئی-کیونکہ والدہ کے پاس علاج کیلئے پیسے نہیں ہوتے تھے- کرایہ کے مکان سے انہیں نکال دیا گیا اور پھر خالہ نے اس معصوم بچی سمیت پورے خاندان کو ایک کمرہ مہیا کردیا تاکہ ان کی زندگی کی گاڑی چلنے لگے-

یہ کہانی نہیں بلکہ پشاور کے علاقے کوہاٹ روڈ پر رہائش پذیرگیارہ سالہ نمرہ کی زندگی کی سچی کہانی ہے-جوکینسر جیسے موذی مرض اور غربت کی وجہ سے ڈیڑھ سال سے خوار ہوتی رہی- اس کی والدہ اپنے بہن کے کمرے میں رہائش پذیر ، پاپڑ اور ٹافیاں بیچ کر زندگی گزار رہی ہیں - اس باہمت والدہ کی کاوشیں رنگ تو لے آئیں کیونکہ صوبہ پنجاب سے تعلق رکھنے والے حمزہ شہباز شریف نے ٹی وی چینل پر چلنے والے پیکج پر نوٹس لیتے ہوئے اس کے علاج کا بیڑہ اٹھانے کا عزم ظاہر کیا اور معصوم نمرہ اپنی والدہ کے ہمراہ علاج کیلئے پنجاب روانہ ہوگئی - لیکن سوال یہ ہے کہ کینسر کے مرض کیلئے بننے والے خیبر پختونخوا کے ایک بڑے ہسپتال جس کیلئے زمین بھی صوبائی حکومت نے مفت دی تھی اور اس کیلئے پیسہ بھی اسی ملک کے عوام نے دیا کیا نمرہ جیسی معصوم بچی کا علاج ممکن نہیں- کیا صرف اعلانات ہی تبدیلی کے آتے رہینگے لیکن کوئی عملی تبدیلی دیکھنے کو نہیں ملے گی- کیا غریب ہونا اس معاشرے میں جرم ہے- کیا گیارہ سال کی بچی کا علاج اس صوبے میں نہیں ہوسکتا-جس کے حکمران منہ پھاڑ کر بڑے دعوے کرتے ہیں- کیا اس صوبے میں ایسے صاحب حیثیت لوگ نہیں جو کروڑوں روپے اپنی عیاشیوں پر خرچ کرڈالتے ہیں لیکن معاشرے کے بے بس اور غریب لوگوں پر ضرورت کے وقت بھی خرچ نہیں کرسکتے-

گیارہ سالہ نمرہ تو علاج کیلئے پنجاب چلی گئی اور یہ اس کی ہمت اور حوصلہ ہے کہ آج بھی وہ ڈاکٹر بن کر غریب لوگوں کے خدمت کرنے کا عزم رکھتی ہے- نمرہ کی آواز تو میڈیا کے ذریعے لوگوں تک پہنچ گئی لیکن اس معاشرے میں کتنے ہی معصوم نمرہ آج بھی بے بسی کی تصویر بنی بیٹھی ہیں اور کوئی ان کی آواز اٹھانے کا روادار نہیں اور نہ ہی انہیں کوئی مدد مل رہی ہیں ہم ویسے کب تک بے حس بن کر خاموش رہینگے یہ وہ سوال ہے کہ زندگی کے ہر شعبے میں کام کرنے والے افراد کو اپنے آپ سے پوچھنے کی ضرورت ہے- اگر ہم کچھ نہیں کرسکتے تو کم ازکم اچھی بات تو لوگوں تک پہنچا سکتے ہیں اور بے بسوں کی آواز بن سکتے ہیں
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Musarrat Ullah Jan

Read More Articles by Musarrat Ullah Jan: 326 Articles with 175025 views »
40 year old working journalist from peshawar , attached with National & international media. as photojournalist , writer , blogger, VJ also.. View More
22 Nov, 2016 Views: 745

Comments

آپ کی رائے