سعودی عربیات (قسط ۴) ۴۰ سال پہلے ایک پاکستانی پر کیا گزری

(Iftikhar Chohdury, )
خیمے میں جیسے ہی پہنچا رات کو پاکستانی بڑی تعداد میں ملنے آئے ہر کوئی پوچھنے لگا کہاں سے ہیں یہاں کیسے؟بہت سوں کو تو یقین ہی نہیں آیا کہ نلہ کے گجروں میں سے کوئی مزدوری کرنے اس صحراء میں آ گیا ہے انہی دنوں پاکستان میں ضیاء الحق نے الیکشن کرانے کا اعلان کر رکھا تھا میرے تایا زاد بھائی مختار گجر بھی ہری پور سے راجہ جارج سکندر زمان کے مقابلے میں اترے تھے۔میرے پاس چند تصویریں تھیں خاص طور پر میرے بڑے بھانجے کی سالگرہ کی تصویریں تھیں جس میں میرے تایا جان اور دیگر فیملی تھی ۔بابو شیر زمان اشرف اور عرفان میرے خیمہ وال تھے۔ایک کا نام گلزار تھا جو لیراں ایبٹ آباد کے رہنے والے تھے ان کی پہچان میرے پھوپھا سے تھی گلزار مطبخ کے انچارج تھے باورچی خانے میں نوع اقسام کے کھانے بھیجے گئے گجر برادری سے تعلق تھا اگلے دن کام پے جانا ہوا وہاں بنگلہ دیشی مکینک اور دوسرا فرانسیسی تھا۔میرے ذمے ٹرکوں کی مرمت کی ذمہ داری آئی۔ عبدالزاق نے جب پوچھا کہ کام کر لیتے ہو میں نے کہہ دیا تھا کہ زبردست۔لیکن کام آتا تو کرتا۔فرانسیسی نے کہا آؤ ایک ٹرک کا ٹائر ہے اسے کھولتے ہیں۔وہ بھاری کم تگڑا کسی امریکی ریسلر سے کم نہ تھا میں چھ فٹا تو تھا مگر اس کے مقابلے میں بہت کمزور تھا۔اس زمانے میں مشینیں نہیں ہوا کرتی تھیں ایک ہتھوڑا اور لیور میرے پاس تھا وہ گورا اپنی جانب سے بڑی زور دار ضرب لگاتا تو اس کی سمت کا ٹائر نیچے ہو جاتا میری طرف سے ایک کمزور سی ضرب کا نتیہجہ صفر نکلتا فرانسیسی میں بڑ بڑایا تو میں سمجھ گیا کی گورزادے نے گالی بکی ہے۔اس میں بھی فیل ہو گیا۔دوسرے روز اس نے کہا چلو ٹرک کا ٹائیر بدلو اس میں بھی ناکامی ہوئی۔بلکہ اﷲ نے بچا لیا ٹرک ایک سائڈ سے جیک کو نیچے دبا گیا بنگالی مدد کو آیا۔اسی طرح ایک ہفتہ گزر گیا پورے کیمپ میں مشہور ہو گیا کہ پاکستانی مہندس ناکام ثابت ہوا ہے۔مجھے اس صحراء کی داستانیں سنائی گئیں وہاں ایک کوا بھی تھا مجھے بتایا گیا کہ یہ گزشتہ آٹھ سال سے ادھر ہی ہے جہاں خیمے ہوتے ہیں وہاں یہ کائیں کائیں کرتا رہتا ہے۔یہ واحد جانور تھا جو ارگاس کمپنی کے اس کیمپ میں موجود تھا۔ایک شام سارے لوگ اکٹھے ہوئے کیمپ باس بھی موجود تھا میں نے پوچھا یہ سب کیوں اکٹھے ہوئے ہیں کہنے لگے آج یہاں دو خوش نصیبوں کی پرچیاں نکلیں گی اور وہ حج کو جائیں گے۔ اﷲ میں جدہ چھوڑ جو مکے سے ۷۰ کل میٹر دور تھا یہاں ۱۶۰۰ کلو میٹر پرچیاں ڈال رہا تھا۔اس سمے خیال آیا افتخار تو کدھر آن پہنچا ہے۔اگلی صبح دفتر پہنچا تو انہوں نے کہا کہ تم جیا لوجسٹس کی ٹیم میں رکھے جاؤ گے تنخواہ ۶۰۰ ریا ل ہو گی۔میں نے کہا کام کیا ہو گا کہنے لگے کیبل مین کی ڈیوٹی ہے ۔ کیبل مین وہ ہوتے ہیں جو اپنے کندھے پر کیبل کا رول رکھ کر ان جیالجسٹوں کے پیچھے پیچھے گھومتے ہیں۔ایک طرف میری نالائقیاں تھیں جو میرے لئے مصیبت بن گئی تھیں دوسری طرف میں ایک طالب علم لیڈر تھا جو اس عمر میں سید مودودی نصراﷲ خان ملک قاسم رانا خداداد دستگیر خان علامہ احسان الہی ظہیر سے مل چکا تھا ۔میں آئینے کے سامنے کھڑا ہو گیا اور اپنے آپ کو حوصلہ دیاکہ یہ کون ہوتے ہیں تمہیں کیبل مین بنانے والے۔میں اپنی زندگی میں ان جیالوجسٹوں کی شان دیکھی وہ فرانس سے جہازوں میں آتے جب ان کا جہاز آنے والا ہوتا پورے کیپمپ کی صفائی ہوتی۔ایک دن میں ریت کی بالٹی پکڑے جہاز اترنے کا انتظار کر رہا تھا ایک فرنچ کٹ والا جوان جہاز کی سیڑھیوں سے اترا ہم نے سر جھکا کے سلامی دی۔میں نے اس دن تہیہ کیا جب میں شادی کروں گا میرا بیٹا ہو گا اور وہ جیالوجسٹ بنے گا۔یہ غالبا اکتوبر کی کوئی گرم دوپہر تھی دنیا کا دوسرا بڑا صحراء تھا ڈی سی ۳ کے پاس ایک لمبا تڑنگا نوجوان خواب بن رہا تھا۔اﷲ نے وہ سچ کر دکھایا آج میرا بیٹا نوید اپنے شعبے کا ماہر جیالوجسٹ ہے اسلام آباد کی ایک کمپنی میں اعلی عہدے پر فائز ہے۔دوستو! یاد رکھنا خواب دیکھنے نہ بھولنا جتنے اونچے خواب دیکھو گئے اتنے اونچے جاؤ گے۔میں اپنی ہڈ بیتی کو لیکچر نہیں بنانا چاہتا۔میں اس فرنچ کٹ نوجوان کا استقبال کر کے واپس آیا تو میں نے دفتر میں آ کر کہا معاف کرنا میں انجینئر ہوں لیکن میں کام نہیں جانتا ۔مجھے آپ سے ان پندرہ دنوں کی تنخوا نہیں لینی مجھے واپس بھیجیں میں حج کروں گا اور اپنے شعبے میں جاؤں گا۔فرنچ آفیسر نے میری آنکھوں میں جھانکا میں نے اسے تصویروں میں بتایا کہ میری نسل میں سے کسی نے مزدوری نہیں کی میں ایک لیڈر کا گھر کا بھٹکا ہوا لیڈر ہوں مجھے جانے دیں۔ اس نے مہربانی کی جب میرا حساب کتاب کیا میرے لئے نیک تمنائیں کیں۔میں نے اس پارٹی کو خیر باد کہا جو تاریں اٹھانے روز جاتے اور شام کو مجھ سے خط لکھواتے ان میں کئی ایک کی آنکھوں میں آنسو تھے۔پردیس میں دوستو! کوئی پاکستانی مل جائے تو وہ بھائی سے بھی اچھا لگتا ہے۔ یہ جو آپس میں کتوں کی طرح لڑتے ہیں کاش یہ پردیس میں مزدوری کر چکے ہوتے ۔وہ میرے بھائی تھے۔ ان میں ایک اشرف تیس سال بعد مجھے ڈھونڈتا ایئر پورٹ سوسائٹی آن پہنچا اس تصویر کے پیچھے گجرانوالہ کا ایڈریس تھا وہ وہاں گیا اور پھر مجھے پانچ سال پہلے ادھر ملا۔ بابو شیر محمد جدون آف جھنگڑا کشکا،محمد اشرف اور عرفان نے مجھ سے ایک ایک تصویر لی۔میں جب جہاز کی سیڑھیاں چڑھ رہا تھا تو بہت سے لوگ سمجھ رہے تھے کہ شکست خوردہ شخص ہے لیکن میرے دل میں تھا میں مورچہ ہارا ہوں۔مجھے حج کرنا تھا مجھے اﷲ ایک چانس دے رہا تھا تین دن بعد حج تھا میں پتہ نہیں کیسے پہنچا ڈیرے پر آیا تو سب نے خوشی کا اظہار کیا ۔مجھے ایک بار پھر اک اور دریا کا سامنا تھا۔جیب میں وہ چند ریال تھے جو وہاں سے ملے کوئی ۳۰۰ ہوں گے اس لئے کہ مجھے کیبل مین کی تنخواہ ملی تھی۔ڈیرے پر آیا ایک آدھ جوڑا خریدا حج کے لئے جائے نماز لوٹا اور چند چیزیں خریدیں۔جانے سے پہلے ایک روز اسی جامعہ چوک میں جا کر بیٹھ گیا۔عربی بلکل نہیں آتی تھی۔کدا کدا کرتا رہتا تھا۔ایک گاڑی میرے پاس آن کر رکی ۔عربی نہیں کہا شغل مع معلم؟(استاد کے ساتھ کام کرو گے)۔میں نے سر ہلا دیا وہ مجھے گلیوں میں سے لے کر گویزہ کی پہاڑیوں میں لے گیا۔میں سمجھا کہ حج کا زمانہ ہے شائد مجھے کسی معلم حج کرانے والے کے پاس لے جا رہا ہے۔یہ جدہ سے نکلتے ہوئے گویزہ کی پہاڑیاں بلکہ کلو ستہ سے اوپر کا علاقہ سارا قبضہ گروپ کا تھا یہاں بدو آ کر قابض ہو جاتے تھے جب کبھی ان کے گھر گرانے بلدیہ آتی تو عورتیں پتھر مارتی تھیں۔آجکل جہاں ریلوے اسٹیشن ہے اس سے پہلے کا سارا علاقہ پہاڑی تھا۔یہاں سے ایک برساتی نالہ نکلا کرتا تھا جو شارع تحلیہ کے ساتھ ساتھ پیپس کبری سے ہوتا ہوا سمندر میں جا گرتا تھا یہ بھی قبضہ گروپوں نے بیچ دیا۔اسٹیشن سے پہلے پرانے ایئر پورٹ کی عقبی دیوار کے ساتھ جو شارع علی مرتضی ہے یہاں پہاڑیاں تھیں جہاں چند سال پہلے ناغی بی ایم ڈبلیو اور ہنڈائی کے شو رومز تھے۔اس پوری لائین پر شو رومز تھے جو اب نہیں ہیں۔گاڑی پہاڑیوں سے ہوتی ہوئی ایک جگہ آن رکی میں سمجھ گیا مجھے غلط فہمی ہوئی ہے وہاں ایک مصری استاد (معلم) تھا عربی میں مستری کومعلم کہتے ہیں ادھر خیمے نہیں تھے میں سمجھا شائد ایک معلم ہو گا جو حج کرواتا ہے ہو سکتا ہے اسے کسی منشی کی ضرورت ہو گی؟لیکن یہاں سیمنٹ ریت مکس کرنی تھی اور استاد جی کو بلاک دینے تھے۔اس نے کہا یلہ! اس اثناء میں مالک مکان فطور لینے چلا گیا تھا فطور ناشتے کو کہتے ہیں افطار سے جڑا یہ لفظ ہے عرب صبح نہار منہ کچھ نہیں کھاتے کھائیں بھی تو تھوڑا بہت مگر دس بجے ٹکا کے فول تمیز جبنہ مربع اور ھلاوہ کھاتے ہیں زیتون کا تیل ڈال کر کمال کا ناشتہ ہوتا ہے۔مجھے بڑی شرمندگی ہوئی مسالہ بنا نہیں سکتا تھا اﷲ بھلا کرے اس مصری بھائی کا اسے پتہ چل گیا کہ مالک مکان غلط آدمی پکڑ لایا ہے۔اس نے بری شفقت سے کہا یہ لو مسالہ میں بنا دیتا ہوں تم بلاک دے دو۔دس بجے آنے تک بلاک بھی اٹھا کر لانے کی وجہ سے ہاتھ سرخ اور کمر میں درد ہونے لگا۔اس وقت آسماں کی طرف نطر اٹھائی اور دو آنسو گرے۔کہ میرے اﷲ میں کہاں آ گیا ہوں۔آتے وقت ماں نے کہا تھا جوان اور گھوڑے کا کوئی دیس نہیں ہوتا والد صاحب نے کہا تھا بیمارہوئے تو ڈاکٹر ادھر ہی ہیں۔جب یہ سطریں لکھ رہا تھا کہ میرے بھتیجے وقار گجر کی یوکے سے کال آ گئی عجیب پر اسرار بیماری میں مبتلا ہے چھ فٹ سے نکلتا قد پتہ نہیں کس کی نظر کھا گئی کہہ رہا تھا کہ میرے چائینیز سسر کہتے ہیں کہ بچوں کو مشکل وقت میں مقابلہ کرنا سکھاؤ انہیں نکال کے گلے سے نہ لگاؤ۔سچ پوچھیں دانہ خاک میں مل کر گل و گلزار ہوتا ہے۔میری کہانی کسی سے مختلف نہیں ہے ہر ایک کی یہی کہانی ہے مجھ میں اور اس میں فرق یہ ہے کہ میں لکھ لیتا ہوں وہ لکھتا نہیں ہے۔(جاری)
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Engr Iftikhar Ahmed Chaudhry

Read More Articles by Engr Iftikhar Ahmed Chaudhry: 408 Articles with 167080 views »
I am almost 60 years of old but enrgetic Pakistani who wish to see Pakistan on top Naya Pakistan is my dream for that i am struggling for years with I.. View More
28 Nov, 2016 Views: 389

Comments

آپ کی رائے