"بخشو،بیل نہیں جڑ کاٹو"

(Shahmeer Naqvi, Mailsi)
ایک کسان جس کا نام بخشو تھا کھیتوں میں کام کرتے ھوئے اپنے دوست سے موجودہ ملکی حالات اور دہشتگردی پر گفتگو کر رہا تھا اور کہہ رہا تھا کہ حکومت دہشتگردی کے خلاف بڑی محنت کررہی ہے، دیکھ لو دہشتگرد اب کم ہو گئے ہیں کیونکہ پہلے ہر روز دھماکے ہوتے تھے اور اب ہفتوں میں اکا دکا۔
دوست بولا: "کم ہوئے ہیں ختم تو نہیں، کئی سال گزر گئے لیکن آئے دن اب بھی لوگ مارے جا رہے ہیں۔"
بخشو نے کہا: " حکومت لگی تو ہوئی ہے اتنے عرصے سے۔"
دوست نے سوال کیا: "ویسے تم خود ابھی کیا کر رہے ہو؟
بخشو بولا: "یار کیا بتاؤں' فصل میں یہ کانٹوں والی بیل اگ آئی ہے، آئے دن کاٹٹا ہوں مگر پھربڑھ جاتی ہے! "
دوست بولا: "حکومت بھی یہی کر رہی ہے۔"
بخشو نے حیرت بھرے لہجے پوچھا: "کیا مطلب تمہارا؟"
دوست بولا: "دیکھو! تم بیل کو اوپر اوپر سے کاٹ رہے ہو اور حکومت ان دہشتگردوں کو جو بیل کی طرح نظر آ جا‏ئیں۔ ہاں اگر تم کانٹوں والی بیل کا مکمل خاتمہ چاہتے ہو تو اسےاوپر سے کاٹنے کی بجائے جڑ سے کاٹنا ہو گا۔ اسی طرح دہشتگردی کا مکمل خاتمہ کرنے کیلئے چند دہشتگردوں کو مارنے کی بجائے ان جگہوں کو بیل کی طرح جڑ سے ختم کرنے کی ضرورت ہے جہاں یہ دہشتگرد پیدا ہوتے ہیں۔ اور اگر ایسا نہ کیا تو ہزار سال بھی کوشش کرتے رہو نہ تو تمہاری کانٹوں والی بیل ختم ہو گی اور نہ ہی ملک سے دہشتگردی!"

"لہذا بخشو، بیل نہیں جڑ کاٹو!"
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Shahmeer Naqvi

Read More Articles by Shahmeer Naqvi: 2 Articles with 963 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
01 Dec, 2016 Views: 470

Comments

آپ کی رائے