بچے کی چاہت

(Kanwal Naveed, Karachi)
آج جس موضوع سے متعلق میں آپ سے اپنے تجربات کو بانٹنا چاہ رہی ہوں وہ ہر ماں باپ کے لیے سب سے اہم موضوع ہے۔ بچہ کی چاہت ۔ایک شادی شدہ جوڑے کی جو سب سے بڑی خواہش ہوتی ہے وہ ایک بچہ ہے جو ان کے خوابوں کی تعبیر بن کر آتا ہے لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ جس بچے کی چاہت ان کی سب سے بڑی خوشی ہوتی ہے وہ اُس بچے کی چاہتوں کو سمجھ ہی نہیں باتے۔آپ کا بچہ آپ سے کیا چاہتا ہے وہ آپ ماں باپ بننے کے بعد سمجھ کر بھی سمجھنے سے انجان رہتے ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ ہمارا بڑا ہو جانا ہے یعنی ہم چیزوں کو بچوں کے حساب سے نہیں بلکہ اپنے حساب سے توڑ مڑور کر پیش کرتے ہیں۔ اس کی سب سے بڑی مثال میں خود ہوں۔

اکثر ایسا ہوتا کہ جب میں اپنے بیٹے سے کوئی بات منوانا چاہتی تو میں اس سے بہت پیار سے سمجھاتی کہ یہ کام اس کے لیے کس قدر مفید ہے مثلا تین سال کے بچے کو سکول بھجنے کے لیے ہم کہتے ہیں کہ بیٹا سکول نہیں جاو گئے تو بڑے ہو کر کچھ نہیں بن پاو گئے۔ جب ہم بات منوانے میں فیل ہو جاتے ہیں تو لالچ دیتے ہیں بیٹا اگر آپ سکول سے واپس آو گئے تو میں آپ کو چاکلیٹ دوں گی ،جب وہ پھر بھی تیار نہیں ہوتا تو ہم کہتے ہیں سیدھے طریقے سے سکول جاو ورنہ تمہاری خیر نہیں بستر سے اُٹھا کر آٹے کی بوری سا لے جاتےہیں جہاں لے کر جانا ہوتا ہے۔

جب میں ایسا کرتی تھی تو مجھے یہ ہی صیح لگتا تھا کیونکہ میں جانتی ہی نہیں تھی کہ یہ طریقہ بچے کو مجھ سے دور لے جائے گا۔ اس طرح کی زبردستی کس کو پسند آئے گی ۔ فرض کریں آپ کو اگر کوئی بستر سے گھسیٹ کر بولے کہ اٹھو جاو باہر بیٹھ جاو جبکہ آپ خوابوں کی دنیا میں کھوئے ہوں تو کیسا لگے گا۔لیکن ہم اپنے آپ کے لیے جو چاہتے ہیں بچے کے لیے نہیں چاہتے اگرچہ بچے کو خود سے ذیادہ چاہنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔یہ بات ماں باپ دونوں پر ایک جیسی لاگو ہوتی ہے۔بچے ماں سے باپ کی نسبت ذیادہ قریب ہوتے ہیں لیکن کچھ بچے باپ سے ذیادہ پیار ملنے کی وجہ سے ماں سے ذیادہ باپ کے قریب ہو جاتےہیں۔

بچے کبھی بھی لوجیکل مائینڈ سے نہیں بلکہ اموشنل مائینڈ سے سوچتےہیں یہ بات مجھے اس وقت سمجھ آئی جب میں نے بچوں کی تربیت سے متعلق سیمینار اور ارٹیکل کا مطالعہ شروع کیا ۔آپ بچے کو محبت سے وہ سب سکھا سکتےہیں جو آپ سختی سے سکھانے کا سوچ بھی نہیں سکتے ۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہم بچے کو اس کا سب سے بڑا حق دینے میں کوتاہی کرتے ہیں وہ ہمارا وقت ہے۔ دنیا میں ہر کوئی ایک جیسے جذبات رکھتا ہے، محبت سب کو چاہیے ،عزت سب کو چاہیے،ہر کوئی بہترین چیز کو خواہاں ہے لیکن مسلہ تب پیدا ہوتا ہے جب ہم چیزوں کو اپنے چشمے سے دیکھتے ہیں نہ کہ جیسی وہ ہوتی ہیں۔

بچے فائدے نقصان کا نہیں سوچتے ان کا دماغ تو محبت اور نفرت کو سمجھتا ہے، بچے ماں ،باپ کی نظر کو سمجھتے ہیں۔ آپ کی پیار بھری تھپکی، ان کو گلے لگا کر یہ احساس دلانا کہ آپ ان کو کتنا پیار کرتے ہیں ان کے لیے سب سے بڑی چیز ہوتا ہے۔ اگرچہ بچے کو پیار سے منوانے میں وقت بہت لگ جاتا ہے جو ہمارا سب سے بڑا مسلہ ہے ۔ہم اپنی جلدی کے چکر میں بچے کی نفسیات و ضروریات کو کچل کر رکھ دیتے ہیں۔ جب آپ کو بچے کے جذبات کا خیال نہیں تو وہ بھلا آپ کے جذبات کا خیال کیوں کرئے ۔ جبکہ میرا یہ تجربہ ہے کہ جب آپ بچے کی چھوٹی چھوٹی خواہشوں کا خیال رکھتے ہیں جو وہ آپ سے کہتا نہیں ہے تو وہ بھی آپ کے جذبات کو سمجھنے لگتا ہے،آپ کی خوشی کا خیال رکھتا ہے۔ بچہ چاہتا ہے کہ دوسروں کے سامنے اس کی تعریف کی جائے۔ دوسروں کے سامنے اسے اہمیت دی جائے لیکن ہمارے ہاں جب اکثر مہمان آتے ہیں بچوں کو ملانے کے بعد ان کو فورا باہر جا کے کھلنے کا حکم دے دیا جاتا ہے ۔ان کی خوبیوں کا ذکر تو درکنار ان سے متعلق بات بھی ان کے سامنے نہیں ہوتی۔ اکثر چھوٹے بچوں کو جو پانچ سال کی عمر تک کے ہوتے ہیں کھانے کی میز پر نہیں بیٹھایا جاتا کہ ممکن ہے وہ کوئی چیز گرا دیں یا پھر کوئی ایسی باتیں کرنا شروع ہو جائیں جس سے ہمیں اچھا محسوس نہ ہوتو ہم بچہ کی وہ ننھی منی خوشی اس سے چھین لیتے ہیں جو ہم اپنے بچپن میں چاہتے تھے کہ ہمیں دی جائے۔ وہ خوشی جو اہمیت ملنے پر محسوس ہوتی ہے وہ ان ہزاروں روپے کے کھلونے دلانے پر بچے کے چہرے پر نہیں آتی۔اس کی وجہ یہ ہے کہ کھلونے ہم بچے کو اکیلے میں دلاتے ہیں اور مہمانوںکے ساتھ کھانے کی میز پر سب کے ساتھ بیٹھنے پر بچے کو اپنی اہمیت کا احساس پیدا ہوتا ہے۔

جذبات کی قوت اس قدر ذیادہ ہوتی ہے کہ انسان آگ میں کود جانے سے بھی گریز نہیں کرتا۔بچوں کےاچھے جذبات کو ابھار کراُن کی بہترین تربیت کی جا سکتی ہے۔اس کی مثال ایک چھوٹی کہانی سے لیں ۔ایک دن ایک آدمی بازار سے ایک بڑی چاکلیٹ لایا گھر میں تین بچے تھے ،جب چاکلیٹ ماں کو دی گئی تو بچوں میں سے ہر ایک نے مکمل چاکلیٹ لینے کی ضد کی ماں نے سب سے پہلے اپنے شوہر کو افسوس سے کہا آپ چھوٹی والی تین ہی چاکلیٹ لے آتے ،آدمی کو بُرا محسوس ہوا ایک تو وہ چاکلیٹ لے کر آیا دوسرا اسے شکریہ ملنے کی بجائے سننے کوایسی بات مل رہی ہے، اس نے بیوی سے بولا تمہیں انہیں مل بانٹ کر کھانا سکھانا چاہیے۔ بچے آپس میں لڑنے لگے ماں چاکلیٹ اُٹھا کر کھڑی رہی ،بڑے والے نے لینے کے لیے چھوٹے بھائی کو دھکا دیا ۔ باپ نے بڑے بچے کو بُرے طریقے سے ڈانٹا،ماں نے فیصلہ صادر کیا کہ اب کسی کو کوئی چاکلیٹ نہیں ملے گی ،چھوٹے دونوں بچے رونے لگے بڑا بچہ بےعزتی محسوس کرتے ہوئے افسردہ ہو کردوسرے کمرے میں چلا گیا۔

اب آپ دوسری صورت حال دیکھیں۔ آدمی گھر میں ایک بڑی چاکلیٹ لے کر آیا بچوں نے چاکلیٹ دیکھی باپ کی طرف لپکے ،باپ تھکا ہو تھا اس نے چاکلیٹ ماں کو دے دیں کہ وہ تینوں بچوں میں چاکلیٹ بانٹ دے۔ ماں نے جب تینوں بچوں کو ہی پوری چاکلیٹ کے لیے ضد کرتا پایا تو بولی یہ بات ٹھیک ہے چاکلیٹ تو پوری ہی ملنی چاہیے ،کس کا دل کرتا ہے کہ وہ اپنی پوری چاکلیٹ نہ لے لیکن تھوڑی دیر کے بعد دوں گی پہلے آپ کے ابو کو پانی ملنا چاہیے جو یہ چاکلیٹ لے کر آئے ہیں اور آپ کی طرف سے شکریہ بھی ۔

تینوں بچے ماں کی بات مان کر چاکلیٹ کاانتظار کر رہےتھے ۔ ماں نے شوہر کو پانی دیا اور بچوں کی طرف متوجہ ہوئی بولی اب کیونکہ چاکلیٹ تو ایک ہی ہے تو یہ فیصلہ کیسے ہو کہ چاکلیٹ کسے ملنی چاہیے اور کسے نہیں ،تینوں بچے ضد کرنے لگے مجھے دیں مما مجھے دیں مما ۔ماں نے کہا ٹھیک ہے آپ لوگ لڈو کھیلو جو جیتے گا پوری چاکلیٹ اس کی بچے فورا مان گئے ۔ ہر ایک کو یقین تھا کہ وہ ہی پہلے جیت کر چاکلیٹ پا لے گا۔ جب کھیل ختم ہو تو دوسرا بیٹا جیت گیا ،بڑے والے کی دوسری اور تیسرے کی تیسری پوزیشن رہی ،کھیل میں جیت کی بچے کو ایسی خوشی تھی کہ پھولا نہیں سما رہا تھا ۔ ماں کو بتا رہا تھا کہ کیسے اس نے کس کس طرح بھائیوں کی گوٹیاں مار مار کے فتح حاصل کی جبکہ کھیل تو اب شروع ہوا تھا ماں نے بولا بیٹا آپ تو جیت گئے کوئی ٹریٹ تو دو تو وہ بولا میں کیا کھلاوں میرے پاس تو کچھ نہیں۔ایسے میں ماں نے چاکلیٹ نکالی اور بولی اپنی جیت کی خوشی میں سب کو برابر برابر دو۔مجھے اور اپنے ابو کو نہ بھولنا۔ بچہ نے چاکلیٹ لی اور خوشی خوشی ٹکڑے کرنے لگا ۔ سب نے مزے سے چاکلیٹ کھائی۔
دونوں حالات میں فرق صرف سوچ کی وجہ سے پیدا ہوا، اکثر بچوں کے جذبات کو ٹھیک طریقے سے استعمال کرنے کا ہم سوچتے ہی نہیں۔اس کی ایک اور مثال یہ ہے کہ میرے پانچ سال کے بچے نے جب پانچ تک ٹیبل یاد کر لیے تو میں نے اس کی حوصلہ افزائی کے لیے سب کو بتانا شروع کیا کہ آپ کو پتہ ہے شایان کو پانچ تک ٹیبل آتے ہیں آپ اس سے سنیں کوئی سا بھی ۔اب میری سہلیاں میرے بیٹے کو پیار سے کہتیں کہ بیٹا چلو چار کا ٹیبل سناو یا کوئی کہتی پانچ کا ٹیبل سناو۔ شایان بہت خوش ہوتا۔ اس نے مزید ٹیبل یاد کرنے کے لیے کوشش کی اور اب صرف دو مہینے میں ماشااللہ اسے بیس تک ٹیبل آتے ہیں ۔

ہم اپنے بچوں کو کس طرح سے اور کیا سکھاتےہیں اس سے متعلق بہت سوچ بچار کی ضرورت ہوتی ہے۔ میری ایک دوست نے مجھ سے کہا کہ میری بیٹی دوسروں کے سامنے مجھ سے بہت بدتمیزی کر جاتی ہے اور اکیلے میں تو غصہ میں یہاں تک کہتی ہے کہ تم نے میری بات نہ مانی تو دو تھپر لگا دوں گی تم بتاو؟ میں کیا کروں۔ میں نے اس سے پوچھا تم اسے غصے میں کیا کہتی ہو تو کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد اس نے کہا کہ میں بھی یہ ہی کہتی ہوں ۔ تمہارا شایان غصے میں کیا کہتا ہے ، تو میں نے کہا وہ غصے میں رونے لگتا ہے کچھ نہیں بولتا۔ اس نے پوچھا تم غصے میں اس سے کیا کہتی ہو ۔ میں نے اس کو بتایا میں غصے میں اس سے کہتی ہوں ۔ میں آپ سے ناراض ہوں۔ جب تک آپ میری بات نہیں مانیں گئے تو میں ناراض ہی رہوں گی ، پھر آپ کے ساتھ فٹ بال نہیں کھیلوں گی۔ آپ کی ویڈیو نہیں بناوں گی۔ اور بس۔
بچوں کو پیار کی عادت ڈال دیں جب کبھی آپ کو کوئی بات منوانی ہو تو آپ صرف اتنا بولیں کہ میں آپ سے ناراض ہوں تو بچے کو جو آپ سے ہر وقت پیار مل رہا ہے اس میں کمی آئے گی تو وہ اس کمی کو دور کرنے کے لیے کچھ بھی کرئے گالیکن بچے کو یہ کبھی نہ بولیں کہ اگر آپ یہ کام نہیں کرو گئے تو میں آپ سے پیار نہیں کروں گی۔ بچہ کو یہ احساس دلانا لازمی ہے کہ وہ کچھ بھی کرے آپ اس سے بہت پیار کرتے ہیں ۔آپ کا پیار شرطیہ نہیں لیکن پیار کا اظہار اُسی صورت میں ذیادہ ہو گا جب کہ وہ اپنے فرائض کو سمجھے اور ادا کرئے۔

بچوں کے معملات میں اللہ سے ڈرتے رہیں یہ ہمارے غلام یا کوئی کٹپتلیاں نہیں کہ ہمارے اشاروں پر ناچتے پھریں ،رب نے ہر انسان کو مکمل آزاد پیدا کیا ہے،ہر بچہ جو پیدا ہوتا ہے اپنے ساتھ صلاحتوں اور خواہشوں کے بےپناہ خزانے لے کر پیدا ہوتا ہے بحثیت والدین ہمارا فرض ہے کہ اس خوشحالی کے بیج کو ہر وہ چیزملے جو اس کی ضرورت ہے۔بچے کی چاہت کا ہر ممکن خیال کریں اور اس کی ہر جائز چاہت کو پورا کرنے کی کوشش کریں۔جب یہ بچہ بڑا ہو گا تو کوئی شک کی بات ہی نہیں کے وہ آپ کی چاہتوں کا امین ہو گا۔انشااللہ تعالیٰ
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: kanwalnaveed

Read More Articles by kanwalnaveed: 124 Articles with 182496 views »
Most important thing in life is respect. According to human being we should chose good words even in unhappy situations of life. I like those people w.. View More
04 Dec, 2016 Views: 638

Comments

آپ کی رائے