انسان کیوں اور کب جھکتا ہے

(Xahra Tanveer, )
دنیا کا ہر مذہب جھک جانے کی دعوت اور درس دیتا ہے، انسان چاہے وہ دیوی دیوتا کی پوجا کرنے والا ہو، پتھر کے سامنے سر جھکاۓ یا پھر آگ کی پرستش کرتا ہو سب کے سب جھکتے اسی ذات کے حضور ہیں جو ان تمام کا خالق و مالک ہے پتھر ہو یا پھر آگ بے جان ہو یا پھر جاندار ،تخلیق کرنے والی بس ایک ہی ذات ہے جو جھکنے والے کو اپنی وحدانیت کا اقرار کروا کے جھکاتا ہے کہ وہی ہے عبادت کے لائق اول و آخر واحد و لاشریک.پتھر کے پوجاری کو بھی وہی دیتا ہے،بتوں کو ماننے والے کو بھی وہی عطا کرتا ہے،آگ کے پرستار کے پھی وہی سنتا ہے،دینے والی ذات ایک ہی ہے جو ان سب جھوٹے خداؤں کا بھی خالق ہے۔

اور انسان جب کسی انسان کے سامنے جھکتا ہے تو سمجھ لینا کہ وہ اپنی کسی ضرورت و خواہش کی بناء پہ کسی دوسرے کے سامنے جھکا ہے..انسان کا انسان کے سامنے جھکنا کوئ قابل فخر بات نہیں ہے بلکہ یہ اسکی حاکمیت و جبرئیت کا نتیجہ ہے اور جھکنے والے کی مجبوری و بے بسی ..لیکن حقیقت میں اپنی ذات اور روح کے ساتھ جھکنا صرف ایک اسی کی ذات کے سامنے چاہیۓ جہاں نہ تو عزت نفس کے مجروح ہونے کا ڈر ہے اور نہ ہی تذلیل کا..اور جو اپنی ذات کی میں گم ہو کے انسان کو اپنے سامنے جھکاتے ہیں اپنے غرور کے بل بوتے پہ وہ ایک دن خاک ہو جانا ہے اور بے بس جھکنے والا آج بھی سکون میں ہے کیونکہ وہ اپنی فانی حقیقت سے اگاہ ہے اور تم حاکم بن کے آج بھی خسارے میں ہو اور تاقیامت رہو گے .
05 Dec, 2016 Views: 392

Comments

آپ کی رائے