ہائے میرا دل

(sana, Lahore)
ہمیں مصلحت سے کام لینا اگر آنا چاہئے تو اسکو دوغلے پن کے ریپر میں نہ لپیٹیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایک وقت آتا ہے کہ ہمیں زندگی میں لوگ زہر لگنے لگتے ہیں اور ہمارا دل نہیں کرتا انکے ساتھ چلنے کا۔
ایک کیس سنا جسکا لب لباب یہی تھا کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جی اب میرا دل کسی کام میں نئیں لگتا، حسیناؤں کی شکل تک دیکھنے کا دل نئیں کرتا، میرا دل لوگوں کے ساتھ میل ملاپ کا نئیں چاہتا، میرا دل اندر سے خوش نئیں ہے

سارا کیس سننے کے بعد زندگی کو کھنگالنے کے بعد جو نتیجہ نکلا وہ آپکے سامنے رکھ رہی ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک بات یاد رکھئے گا کہ زندگی میں چاہے ناکامی کی بات کی جائے یا کامیابی کی انیس بیس کے فرق کے ساتھ پس منظر میں موجود وجوہات ،،،، حالات کی تبدیلی اور چہرے کی تبدیلی کے ساتھ ایک سی ہوتی ہیں۔

جھوٹ
ہم پرھتے ہیں تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ انسان جھوٹ بولتے بولتے ایک وقت یہ آتا ہے کہ اللہ کے ہاں جھوٹا لکھ دیا جاتا ہے اور سط بولتے بولتے ایک وقت آتا ہے کہ اللہ کے ہاں سچا لکھ دیا جاتا ہے۔

زندگی میں اس دنیا میں بھی یہی معاملہ ہے جس سے پالا پڑا آمدنی مکان دکان کے حوالے سے ایک جھوٹ بول دیا۔ کچھ لوگوں کو خود کو بڑھا چڑھا کر کچھ کو خود کو ذیادہ بدقسمت بنا کر بتانے کا شوق ہوتا ہے۔ ۔۔۔۔ خواہ صورتحال کوئی بھی ہو لیکن اگر جھوٹ کہہ رہے ہیں جو سچ نہیں ہے وہ بتا رہے ہیں تو ایک وقت آتا ہے کہ لوگ آپکو ویسا ہی دیکھنے لگ جاتے ہیں جیسا کہ آپ بتاتے رہتے ہیں۔

پھر آپکا جو اپنا اند ہے وہ جھوٹ برداشت کر کر کے بھی اندر سے بیمار ہوتا جاتا ہے اور آخر کار آپ کو زندگی بے زار اور خوار نظر آنے لگتی ہے۔

حق کھانا
اللہ کے ہاں شہید کا اتنا مرتبہ ہے مگر پھر بھی شہید کو قرض کی ادائیگی نہ کرنے کے حوالے سے کوئی معافی نہیں ہے۔

ضروری نہیں کہ آپ زندگی میں کسی کا پلاٹ یا مکان ہی ماریں آپ اگر دوسروں کے منہ سے نوالہ چھیننے والے ہیں، جاب کے لئے قابل انسان کو بھی دھکیل دیتے ہیں، کچھ ایسا کہہ دیتے ہیں کہ ایک تیسرا اس سامنے والے کا جق مار جائے، کسی کو اسکے جائز کام کا کریڈٹ نہیں دیتے، کسی کو ناجائز تنقید کا نشانہ بناتے ہیں

یہ سب کر کے آپ کہیں نہ کہیں حق مار رہے ہیں۔ دوسروں کا حق مارنے والا خود بھی اپنے کوشی کے حق سے محروم ہوتا جاتا ہے۔

بدتمیزی
اللہ کے ہاں اعلا اخلاق کی بے حد فضیلت ہے اور ایک حدیث میں تو یہ تک لکھا گیا ہے کہ اس انسان پر جہنم کی آگ حرام ہے جو اپنے اوپر نرم لہجہ لازم کر لے۔

آج ہم لوگ اس دورمیں آگئے ہیں جہاں بدتمیزی سے بولنا ایک فیشن بن گیا ہے۔ چاہے ماں باپ سے بات کریں اولاد سے بات کریں پروسی سے استاد سے دکاندار سے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اکثریت کو لگتا ہے کہ اوئے ارے تو تڑاخ کے بغیر بات کو انجام تک پہنچانا چاہئے۔

شاید بظاہر تو اتنا فرق نئیں پڑتا آپکی بدتمیزی سے مگر جو ایک اندر ہمارے لطیف سی شے ہے ججسے روح کہتے ہیں ہم ایسی حرکتیں کرکے اسکو متاثر کررہے ہوتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ جو جتنا ذیادہ بدتمیز ہوتا ہے وہ اکثر اتنا ہی تنہا بھی ہوتا ہے۔

دوغلا پن
منافقین کو قیامت کے دن اس حال میں بلایا جائے گا کہ انکے دومنہ ہوں گے۔

ہمیں جو انسان پسند نہیں ہم انکے سامنے ایسے ہو جاتے ہیں جیسے ان سے اچھا ہمیں دنیا میں کوئی نہیں لگتا ۔ انکے پیچھے ہم انکو ایسی ایسی گالیاں دیتے ہیں کہ اللہ کی پناہ جب آپکو کوئی پسند نئیں تو آپ اسکے سامنے اتنا چمٹتے ہی کیوں ہیں یا پھر پیچھے اتنا برا کہتے کیوں ہیں۔

ہمیں مصلحت سے کام لینا اگر آنا چاہئے تو اسکو دوغلے پن کے ریپر میں نہ لپیٹیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایک وقت آتا ہے کہ ہمیں زندگی میں لوگ زہر لگنے لگتے ہیں اور ہمارا دل نہیں کرتا انکے ساتھ چلنے کا۔
کیونکہ دکھاوا کر کر کے ہم تھک ہی اتنا جاتے ہیں اسی لئے پھر کوئی سچا بھی نہیں ملتا اور اچھا بھی نہیں لگتا۔

دکھاوا

قرآن میں بھی کہا گیا ہے کہ کھاؤ پیو اسراف نہ کرو۔

انسان کو اس بات کی اجازت ہے کہ ہم اپنی بساط کے مطابق پہن کھا پی سکیں اور دوسروں کے ساتھ بھی بانٹیں۔

مگر اب ہم اس ڈگر پر ہیں کہ بے جا خرچ کرنے کے چکر میں حلال حرام کی تمیز کو بھول گئے ہیں۔ حرام کمانا کوئی مسئلہ نئیں لگتا اور پھر اسکو دکھاوے کے لئے کرچ کرنے کا دل کرتا ہے۔

جو پیسہ جتنی تیزی سے آتا ہے اور سب سے بڑھ کر جس آسانی سے وہ اتنی ہی جلدی یاتھ سے نکل بھی جاتا ہے۔ آپ چاہینں ایک سٹوڈنٹ کو دیکھ لیں ایک ہاؤس وائف کو دیکھ لیں ایک کالج گوئنگ انسان ہو یا آفس جاب کرنے والا انسان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہم لوگ دکھاوا اور اچھا اور دستیاب ذرائع کے مطابق پہننا میں تمیز بھول گئے ہیں۔

دکھاوا کرنے کا نقصان یہ ہوا کہ انسان کو اب اندر سے خود کو مضبوط بنانا بے جا سا کام لگتا ہے اور پھر اسکے ساتھ یہ کام چلا آتا ہے کہ انسان اندر سے جتنا کمزور ہوگا دکھاوا اتنا ہی ذیادہ کرتا ہے۔

ایک بات یاد رکھئے گا دنیا میں معاشی دوڑ لگی ہوئی ہے اور اسی لئے یہاں پر دو طبقات کے بیچ حائل خلیج کو مزید بڑھانے کے لئے دن بہ دن ایسے اقدامات کئے جارہے ہیں کہ خلیج بڑھے اور جو نیچے ہوں وہ محروم سے محروم تر ہوں اور اس خلیج کو پاٹنے کے لئے ذیادہ سے ذیادہ منفی ذرائع کی طرف جانا چاہیں۔

آپ کا اندر اگر مضبوط اور متوازن ہو تو آپ کے لئے ان مسائل کے آگے کھڑا رہنا آسان ہوتا جاتا ہے۔ سو جتنا جھوٹ دکھاوا دوغلاپن حق غضب کرنا آپکی زندگی میں کم ہوگا آپکی زندگی اتنی ہی آسان ہوگی۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: sana

Read More Articles by sana: 231 Articles with 179183 views »
An enthusiastic writer to guide others about basic knowledge and skills for improving communication. mental leverage, techniques for living life livel.. View More
06 Dec, 2016 Views: 440

Comments

آپ کی رائے