اختیار اور ہنر

(uzma ahmad, Lahore)
اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو صلاحیتوں سے نوازا ہے کوئی ایسا نہیں جو بے ہنر ہو لیکن بعض لوگ اپنی صلاحیتوں کو اپنی سستی و کاہلی کی نذر کر دیتے ہیں اور اپنی قسمت میں خود اپنے ہاتھوں بد قسمتی لکھ دیتے ہیں اپنی روح کو اپنے جذبوں کو بیدار کریں خود آگاہی حاصل کریں خود کو پہچانیں اپنے اندر کی صلاحیتوں سے اپنے ہنر سے اپنی کوشش سے اپنی محنت سے کام لیں اپنا اپنے خاندان کا اپنے ملک کا اپنی قوم کا نام روشن کریں کہ رہتی دنیا تک آپ کا نام آپ کا کام اچھے الفاظ میں یاد رکھا جائے-
اختیار اور ہنر دو ایسی نعمتیں ہیں کہ جن کے پاس ہوں زندگی میں ان لوگوں کی کامیابی مشکوک نہیں رہتی بلکہ یقینی ہو جاتی ہے اگر کبھی ایسا ہو کہ کسی اختیار والے کے پاس ہنر نہ ہو تو عین ممکن ہے جلد یا تاخیر سے اس کے پاس اختیار بھی نہ رہے کہ ہنر مند کو ہی اختیار زیب دیتا ہے اس لئے عین ممکن ہے کہ کسی بے ہنر کو اگرچہ وقتی طور پر قست سے اختیار مل بھی جائے تو تادیر قائم نہیں رہتا اور ایسے فرد کو ایک نہ ایک دن اپنے اس اختیار سے محروم ہونا پڑتا ہے کیونکہ بےہنر لوگ اختیار کا فائدہ نہ خود کو پہنچا پاتے ہیں نہ ہی کسی دوسرے کے کام آ سکتے ہیں سو انہیں اختیار کو خیر باد کہنا ہی پڑتا ہے بلکہ ایسے لوگوں سے اختیار چھین لیا جاتا ہے یا چھن جاتا ہے کہ بے ہنر اختیار کا درست استعمال کر ہی نہیں سکتا لہٰذا کوئی بے ہنر اپنے عارضی اختیار کو زیادہ دیر قائم نہیں رکھ سکتا بلکہ کوئی کسی کا اختیار کیا چھینے گا کہ بے ہنر اپنی بے ہنری کے باعث بہت جلد اپنے اختیار کی نعمت سے ہاتھ دھو بیھٹتا ہے-

اسی طرح جیسے کہ کسی بے ہنر کو قسمت سے اختیار مل جاتا ہے دوسری صورت میں یوں بھی ہوتا ہے کہ اس دنیا میں بیشتر ہنر مند افراد قسمت کی ستم ظریفی، حالات و واقعات کی ناسازگاری، بیماری و مجبوری یا اسی قسم کی دیگر نا مساعد وجوہات کی بنا پر خود میں بے شمار صلاحیتوں اور خوبیوں سے متصف ہونے کے باوجود بھی اپنے حق کے مطابق اختیار کے حصول میں ناکام رہ جاتے ہیں خود کو بہت سے معاملات اور بہت سے مقامات پر بے اختیار محسوس کرتے ہیں جبکہ کسی بے ہنر کے اختیارات کو دیکھ کر دل ہی دل میں کڑھتے رہتے ہیں جس کے نتیجے میں ذہنی اذیت، کوفت یا پریشانی کا شکار ہو جاتے ہیں مایوس ہو کر بیٹھ جاتے ہیں اور رفتہ رفتہ اپنی ان صلاحیتوں کو بیکاری کی نذر کر کے خود کو ضائع کر دیتے ہیں جو کہ ایک منفی ردعمل ہے اور جس کی کسی ہنر مند سے امید کرنا کسی بھی طور مناسب معلوم نہیں ہوتا کسی بھی ہنر مند کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ ایسی صورتحال میں اپنی کیفیت سے اس قسم کے منفی ردعمل کا اظہار کرے ناکامی اور بدقسمتی کو اپنا مقدر سمجھ لے کہ مایوسی تو یوں بھی کفر ہے جبکہ اپنی قسمت خود بنانے کا اختیار اللہ تعالیٰ نے بہت حد تک خود انسان کو دیا ہے یہ تمام کیفیات تو محض وقتی آزمائش ہے اور یہ سب انفرادی طور پر ہر فرد کی اپنی قوت ارادی پر منحصر ہے کہ وہ کیسے ان کیفیات پر قابو پاتے ہوئے خود کو کامیاب انسان کے طور پر دنیا سامنے لیکر آتا ہے اپنا آپ منواتا ہے-

انسان کو یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ یہ مال و دولت یہ اختیار و بے اختیاری عہدہ و حکومت کامیابی و ناکامی، غم اور خوشی سب کچھ عارضی اور ثانوی حیثیت رکھتے ہیں زندگی اور انسان کا کوئی بھروسہ نہیں وقت جس تیزی سے گزر رہا ہے کسی پل کا کچھ اعتبار نہیں آج ہے کل نہیں جہاں تک بات اختیار کی ہے تو یہ بھی ایسا ہی ہے کہ آج کوئی بااختیار تو کل کوئی اور آج کسی کے پاس اختیار تو کل کسی اور کے پاس یہ سلسلہ تو چلتا اور بدلتا ہی رہتا ہے-

اصل بات تو یہ ہے کہ کوئی اپنے اختیار کو کس طرح استعمال کرتا ہے اختیار وقتی و عارضی چیز ہے چاہے کسی بے ہنر کی دسترس میں ہو یا کسی باصلاحیت ہنر مند کے قبضہ قدرت میں لیکن اگر ہنر اور اختیار کے ساتھ ساتھ خلوص نیت، کوشش اور محنت شامل ہو جائے تو کامیابی مشکوک نہیں رہتی بلکہ یقینی ہو جاتی ہے جہاں ایک فرد اپنے اختیار کو اپنی بےہنری کی نذر کر دیتا ہے اور اپنی خوش قسمتی کو بدقسمتی سے بدل دیتا ہے وہیں جب اختیار باصلاحیت اور ہنر مند افراد کو ملتا ہے تو وہ اپنی تمام تر صلاحیتوں سے اپنے اختیار کی بدولت ایسے ایسے کارہائے نمایاں سرانجام دیتے ہیں کہ اپنے اختیار کی عارضی مدت کو لازوال بنا دیتے ہیں ناصرف اپنی ذات کو بلکہ دوسروں کو بھی فائدہ پہنچاتے ہیں کہ ان کا نام انکے کام ان کی پہچان بن جاتا ہے-

سو اپنی صلاحیتوں کو کبھی ضائع نہ کریں کسی بھی قسم کے حالات میں مایوسی کا شکار نہ ہوں جلد یا بدیر آپ کی کوشش آپ کی محنت آپ کا جذبہ ء صادق ضرور رنگ لاتا ہے اور آپ کو زندگی کے ہر مقصد میں کامیابی سے ہمکنار کرتا ہے-

اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو صلاحیتوں سے نوازا ہے کوئی ایسا نہیں جو بے ہنر ہو لیکن بعض لوگ اپنی صلاحیتوں کو اپنی سستی و کاہلی کی نذر کر دیتے ہیں اور اپنی قسمت میں خود اپنے ہاتھوں بد قسمتی لکھ دیتے ہیں اپنی روح کو اپنے جذبوں کو بیدار کریں خود آگاہی حاصل کریں خود کو پہچانیں اپنے اندر کی صلاحیتوں سے اپنے ہنر سے اپنی کوشش سے اپنی محنت سے کام لیں اپنا اپنے خاندان کا اپنے ملک کا اپنی قوم کا نام روشن کریں کہ رہتی دنیا تک آپ کا نام آپ کا کام اچھے الفاظ میں یاد رکھا جائے-

اللہ تعالیٰ ہمیں قدرت کی طرف سے ودیعت کردہ صلاحیتوں سے فیض پانے اور دوسروں کو فیض پہنچانے والے شکر گزار بندوں میں شامل کر دے (آمین یا رب العٰالمین)-
 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: uzma ahmad

Read More Articles by uzma ahmad: 32 Articles with 11718 views »
sb sy pehly insan phr Musalman and then Pakistani
broad minded, friendly, want living just a normal simple happy and calm life.
tmam dunia mein amn
.. View More
08 Dec, 2016 Views: 422

Comments

آپ کی رائے
یہی دعا میری جانب سے بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں قدرت کی طرف سے ودیعت کردہ صلاحیتوں سے فیض پانے اور دوسروں کو فیض پہنچانے والے شکر گزار بندوں میں شامل کر دے (آمین یا رب العٰالمین)-
عمدہ تحریر ہے ماضی کی مانند اب بھی آپ کا قلم خوب چل رہا ہے۔
By: Zulfiqar Ali Bukhari, Rawalpindi on Oct, 25 2017
Reply Reply
0 Like