3 دسمبر لاٹھی والوں پر لاٹھی چارج کو دو سال مکمل

(Qazi Naveed Mumtaz, )
از: افشاں ناز
3دسمبر وہ دن ہے جب دنیا بھر کے بینائی ، سماعت، گویائی، جسمانی و ذہنی معذوری کا شکار افراد اپنا بین الاقوامی دن مناتے ہیں ۔ یہ دن اقوام متحدہ کے تحت منایا جاتا ہے ، اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کی کل آبادی کا 10فیصد کسی نہ کسی طرح معذوری کا شکار ہے یعنی یوں کہا جائے کہ پاکستان میں معذور افراد کی تعداد تقریباً 2کروڑ ہے تو یہ اندازہ حقیقت کے قریب تر ہوگا۔ چنانچہ اسی تعداد کو دیکھتے ہوئے دنیا بھر میں موجود معذور افراد کی تعداد کا تعین کیا جاسکتا ہے ۔3دسمبر 2014کو جب گونگے، بہرے، M.R اور جسمانی معذور مختلف تقریبات میں وہیل چیئر اور دیگر آلات تحفتہً وصول کررہے تھے تو ایسے میں لاہور کے مال روڈ پر سینکڑوں نابینا افراد روز گار کا حق مانگنے کے جرم میں پنجاب پولیس کے ہاتھوں لاٹھیاں کھارہے تھے ۔ اس بار تصویر کے دوسرے رُخ میں آپ کو حقیقت کی وہ تصویر دکھاتے ہیں جو اس سے پہلے ہم سمیت کسی نے بھی بہ زبان قلم نہیں دکھائی ۔ پاکستان میں تمام معذور افراد کو ایک اسپیشل ایجوکیشن کی چھتری میں جمع کر لیا گیا ہے اور پرائیویٹ سیکٹر نے ان کی ایسی نمائش لگارکھی ہے جس کا فائدہ صرف انہیں ہو رہا ہے ۔ سید اسرار شاہ پیپلز پارٹی کے نامور رہنما تھے جو ایک دھماکے میں ٹانگوں سے معذور ہو گئے ۔ بعد ازاں پی پی کا وہ جیالا ق لیگ کا متوالا بن کر معذوروں کی رہبری کرنے لگا اور مشرف دور میں ایڈوائزر بن گیا۔ یہ وہ ایڈوائزرتھے جو معذور ہونے سے پہلے معذوروں سے ملنا پسند نہیں کرتے تھے مگر حادثے کے بعد سرکاری خرچ پر آنے والے معذوروں کو چائے پلا دیتے اور انہی کی بنائی ہوئی پالیسی کا خمیازہ آج ہم بھگت رہے ہیں کیونکہ ان کی پوری پالیسی کا محور صرف اور صرف جسمانی معذور تھے تو انہوں نے اسپیشل کارڈ میں وہیل چیئر کا نشان شامل کرایا، سفید چھڑی رہنے دی۔ جسمانی معذوران کیلئے ڈیوٹی فری درآمد کی پالیسی متعارف ہوئی۔ وہیل چیئر جس کی قیمت سفید چھڑی یا بریل سلیٹ کی نسبت 100گنا زیادہ ہے بڑے پیمانے پر تقسیم ہوئیں ، وہیل چیئر کرکٹ ٹورنا منٹ ہوئے ۔ غرض نابینا افراد کو اس حد تک دیوار سے لگایا گیا کہ انہیں یہ لگنے لگا کہ وہ شاید پاکستانی ہی نہیں اور مشرف احمقوں کی طرح اسرار شاہ کے غیر منصفانہ کاموں کو ڈس ایبل پالیسی کا نام دے کر سمجھتا رہے کہ شاید جنت خرید رہا ہے۔ پیپلز پارٹی کا دور آیا تو پانچ سال تک کسی کی فلاح کیلئے کچھ نہ ہوا ۔زمرد خان بطور M.Dبیت المال بلاتفریق معذور افراد کے کام آئے لیکن لوگ جانتے ہیں کہ وہ زرداری ٹولے کے نہیں بھٹو کے جیالے تھے۔ نابینا افراد کا13سالہ صبر جب بے صبری میں تبدیل ہو اتو تب ملک میں مسلم لیگ کی حکومت تھی جو ہمیشہ معذور افراد اور بالخصوص نابینا افراد کیلئے فرینڈلی رہی ہے تاہم وزیر اعلیٰ کی غیر موجودگی میں مال روڈ پر سفید لاٹھی والوں پر پنجاب پولیس نے لاٹھی چارج کر دیا ۔ اس کے بعد بننے والی انکوائری کمیٹی نے مجرم بری کر دئیے کیونکہ C.Mپنجاب وہ صاف تالاب ہیں جس میں اگر رانا ثناء اﷲ ، رانا مشہود اور زعیم قادری نہ ہوتے تو اسے دشمن بھی میلا نہ کہتے مگر اب تو دوست بھی نہ چاہتے ہوئے کچھ کہنے پر مجبور ہیں ۔ اس واقعہ کے بعد تقریباً 34سو کے قریب نابینا افراد کو روزگار میسر آیا جبکہ حال ہی میں سکیل 5سے 15تک کی بھرتیوں پہ عائد پابندی کو بھی ختم کر دیا گیا ہے۔ نابینا افراد کے ہونے والے تمام احتجاج کا ریکارڈ دیکھیں تو دیگر معذور افراد میں سے کوئی بھی یکجہتی کیلئے ان کے پاس نہیں آیا۔ لیکن بوقت انٹرویو اپائنٹمنٹ ایسی تنظیمیں جو کاروباری حضرات نے اپنے ٹیکس بچانے خود کو سوشل ورکر کہلوانے کیلئے بنائی ہیں اوروہ جسمانی معذور افراد کے سر پرست ہیں وہ ہر چار میں سے تین اسامیاں ہڑپ کر لیتے ہیں ۔ یعنی ماریں کھانے والے اور پکی پکائی پر قبضہ کرنے والے اور۔ اگر ملتان ہی کو دیکھیں تو DCOملتان کوئی بھی ہو سپورٹس گراؤنڈ صرف ایک مخصوص تنظیم کو دیا جاتا ہے ، جس کی سرپرستی ملتان کی بڑی شخصیت کر رہی ہے لیکن کیا نام میں سب اسپیشل پرسن کو شامل کر لینے سے وہ تنظیم سب کی نمائندہ ہو سکتی ہے ؟یہ ایسے ہی ہے جیسے سیٹ ایک بھی نہیں نام آل پاکستان مسلم لیگ یا پھر سیٹ ایک اور نام عوامی مسلم لیگ ۔ ہمارے ہاں زراعت ، تعلیم، صحت و دیگر محکموں میں نابینا افراد کی بھرتیوں کا تناسب صرف 25فیصد رہا ہے جبکہ باقی اسامیاں تعلقات کی بنیاد پر ہڑپ کر لی گئیں۔ سابقDCOکے ساتھ ہونے والی نابینا افراد کی ایک میٹنگ میں DCOنے خود اعتراف کیا کہ ایک با اثر کاروباری شخصیت کا دباؤ ہے کہ اس کی تنظیم کے جسمانی معذور رکھے جائیں کیونکہ نابینا انتشار پھیلاتے ہیں ۔ یہاں حق مانگنا انتشار پسندی ہے مگر کسی کے حق پر ڈاکہ مارنا ذہانت اور اگر ملک میں کام کرنے والی ان تنظیموں کا موقف تسلیم کر لیا جائے کہ جو تمام معذور وں کی نمائندگی کا دعویٰ کرتی ہیں تو پھر ان کے منشور ، دستور، ایجنڈے، دفتر ، سٹاف اور میٹنگ میں نابینا کہیں بھی شامل نہیں ہوتے ، اسی 3دسمبر کے موقع پر جانچ لیجئے گاکہ کسی کو سفید چھڑی بریل سلیٹ تو کیا ٹاکنگ واچ بھی نہیں ملے گی۔ اس غیر منصفانہ پالیسی کا آغاز گو کہ اسرار شاہ نے کیا لیکن اس کے ذمہ دار معذور افراد اس قدر نہیں جس قدر وہ مافیا ہیں جو ٹیکس بچانے کے چکر میں اور رہبری کے شوق میں اپنی بلیک منی کو وائٹ کرنے کیلئے معذوروں کے نام پر خود کو کیش کراتے ہیں ۔US Aidسمیت بین الاقوامی ڈونر ایجنسیاں ان کے ہوا اور خلاء میں موجود منصوبوں کے نام پر انہیں فنڈنگ کرتی ہیں جس کامعمولی سا حصہ معذوروں کو دے کر انہیں استعمال کیا جاتا ہے۔ اربوں روپے کی فنڈنگ کے باوجود پرائیویٹ سیکٹر کوئی مثالی ، تعلیمی یا تربیتی ادارہ نہیں بنا سکا۔ کوئی ایک بھی فری ڈس ایبل ہسپتال نہیں ، کوئی پرائیویٹ ایئر لائن، ٹرانسپورٹ ، ٹرین میں ڈسکاؤنٹ نہیں ۔ حج عمرہ میں کوئی کوٹہ نہیں اور نہ ہی کسی رہائشی کالونی کے کچھ پلاٹ وقف ہیں یہاں تک کہ ان کاروباری حضرات کے جو بزنس لاس ہوں ڈونیشن سے پورے کرتے ہیں ۔ ان کے اداروں میں معذور افراد کیلئے نہ تو رعایت ہے اور نہ ہی روزگار ۔ یہ تلخ حقائق اس یوم معذوران پر سامنے لانا ضروری تھے تاکہ باضمیر لوگ ان پر غور فکر کریں ۔ جہاں تک معذور افراد کے حوالے سے قائم حکومتی اداروں کی کارکردگی ہے تو سوشل ویلفیئر سماجی ویلفریب کی مانند من پسند تنظیموں کو نوازتا ہے۔ ملتان کے DOسوشل ویلفئیر اس کی زندہ مثال ہیں۔ جو ہمیشہ با اثر شخصیات اور تنظیموں کی آلہ کار رہی ہے جبکہ اسپیشل ایجوکیشن پر مناسب چیک نہ ہونے کے باعث سوائے سرکاری وسائل کی بربادی کے یہ وزارت کچھ نہیں۔ اگر ایک آزاد و تحقیقاتی ادارہ اسپیشل ایجوکیشن کے عملے کے انٹر ویوز کرے تو اکثریت نااہل ہوجائے ، بد تمیز چوکیدار اور خدام پرنسپل ڈرائیور سے شروع ہونے والا یہ سلسلہ اعلیٰ افسران تک جاتا ہے ۔ معذور افراد کی خدمت اس کے مساویانہ حقوق اور مسائل کا حل ریاست کا وہ مذہبی ،ملی، قومی اور اخلاقی فریضہ ہے جو مسلسل نظر انداز کیا جارہا ہے اور یہ 10فیصد آبادی وہ ہے جس کی تباہی کے ذمہ دار جج، جرنیل، جرنلسٹ، بیورکریٹس اور سیاست دان سب ہیں کیونکہ ضیاء الحق شہید کے بعد معذور افراد قومی یتیم ہوگئے ہیں ۔ یہ رائے ان تنظیموں کے لیے تو غلط ہوگی جن کے ہوا اور خلاء میں دفتر ہیں لیکن فل کوریج اور فل فنڈنگ کے مزے لوٹ رہی ہیں مگر عملی میدان میں کام کرنے والے ادارے آج بھی سرکاری سرپرستی سے محروم ہیں بلکہ یوں لگتا ہے جیسے نیشنل ایکشن پلان پروگرام کے سارے پروگرام ایک طرف رکھ کر NGO'sکے خلاف کارروائی کی جارہی ہے جو سب سے آسان ہدف ہے۔ ملک میں عملاً سب سے زیادہ پریشان P.W.Dاداروں کو کیا جارہا ہے ری نیول، Exemption، بینک اکاؤنٹس کے معاملات میں غیر ضروری تنگ کیا جاتاہے ۔ نئی رجسٹریشن حاصل کرنا ناممکن ہے ان احمقوں سے کوئی پوچھے کہ معذور افراد کی بے چارگی کو تماشا بنا کر ذلیل کرنا کہاں کا نیشنل ایکشن پروگرام ہے ۔ کالعدم تنظیمیں آج بھی حکومت اور مقتدر طاقتوں کے ماتھے کی جھومر ہیں لیکن معذور افراد کی تنظیموں کو ملنے ولاے فنڈز پر نظر رکھی جاتی ہے ۔ پاکستان کایہ طبقہ جو اس سال 3دسمبر کو نمائش اور پراڈکٹ بنا کر ایک دن کیلئے سامنے لایا جائے گا باقی 364 دن سسکتا رہے گا کیونکہ ہماری کوئی موثر سیاسی آواز نہیں جو ایوانوں میں ہماری نمائندگی کر سکے ۔ مختلف خصوصی اداروں کے بچوں سے اگر اسپیشل ایجوکیشن کے وزیر کا نام پوچھا جائے تو 98فیصد نا واقف ہیں ۔وجہ یہ ہے کہ یہ وزراء صرف اور صرف کمائی کے چکر میں نااہلی کی تصویر بنے 3سال سے حرام کھارہے ہیں ۔ اسی طرح 3دسمبر بھی نہ شہد کی نہریں بہائے گا اور نہ ہی کوئی حق دلوائے گا اور یہ سلسلہ تب تک جاری رہے گا جب تک معذور افراد اپنے مفاد پرست ٹیکس خور سرپرستوں کے چنگل سے آزاد ہو کر خود سامنے نہیں آتے اور اپنے طبقے کو لیڈ نہیں کرتے۔ اگر صرف نابینا افراد نے مار کھانی ہے اور باقی معذور افرا د نے ان کے صدقے مزے لینے ہیں تو پھر ہم دعا گو ہیں کہ کوئی ثانی ضیاء الحق آئے جو نابینا افراد کا دکھ بانٹے اور انہیں ان کے جائز حقوق دلوائے۔
کسی شاعر نے کہا تھا کہ:
؂کٹ گئے ہیں جو پر اپنے تو کوئی غم نہیں
اقبال کے شاہین ہیں اُڑ کر دکھائیں گے۔
اندھیری آنکھوں میں اک روشن جذبہ ہے
جو کر نہ سکے بینا وہ کر دکھائیں گے۔
ہمیں معذور نہ سمجھو ہم میں وہ روانی ہے
خودراہ بنا لیں گے بہتے ہوئے دریا ہیں ۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Qazi Naveed Mumtaz

Read More Articles by Qazi Naveed Mumtaz: 28 Articles with 13264 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
09 Dec, 2016 Views: 243

Comments

آپ کی رائے