امت پہ تیری آج آہ کہ عجب وقت پڑا ہے !

(Inayat Kabalgraami, )
اس وقت امت محمدی ﷺ پر جو زوال آیا ہے ،اس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی ،امت کی پستی کے زمہ دار جتنے ہمارے حکمران ہے اتنے ہی ہم بھی ہے ۔ایک وقت تھا جب مسلمان دنیا کی سپر طاقت ہوا کرتی تھی ،خلافت راشدہ کے دور سے ہی اسلامی فتوحات کا سلسلے جاری تھے ،قیصر و کسرا کا خاتمہ ہوچکا تھا ،دنیا کی دو بڑی سلطنت روم اور ایران اسلامی خلافت کا حصہ بن چکے تھے۔ امیر المومنین حضرت عمر بن خطاب رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ کے دور میں بیت المقدس کو فتح کرکے اسلامی سلطنت کا حصہ بنا دیاگیا تھا اسلامی فوج مشرق و مغرب کے معاذ پر بر سر پکار تیں۔ ایک طرف صلیبی جنگ کا سماء تھا ،تا دوسری طرف مشرکین اور منافقین کے خلاف معاذ کھلا تھا ،اور ہر معاذ پر اﷲ تعالیٰ مسلمانوں کو ہی کامیابیاں کامرانیا ں عطاء کر رہے تھے ۔ حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ کے دور خلافت میں اسلامی فوج کا ایک بڑا حصہ اندلس پر فتح کے جھنڈے لہرا رہا تھا اور دوسری طرف مشرق کے ترکستان میں اسلامی لشکر کی پیش قدمی جاری تھی ، اس دوران 92 ہجری میں حجاج بن یوسف جو کوفہ کے گورنر تھے ۔ اس کو اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ ہندوستان کے علاقے سندھ میں ایک راجہ نے مسلمان لڑکی کے ساتھ ظلم کیا ہے تو ایک لشکر محمد بن قاسم کی قیادت میں بھیجتا ہے اور سندھ کو فتح کرکے اسلامی سلطنت میں شامل کردیتے ہیں ۔ خلافت راشدہ اختتام کے بعد مسلمانوں میں کچھ اختلاف آ نے لگا جس کے بعد صلیبی جنگ اور دیگر جنگوں میں حاصل کردہ علاقے جس میں بیت المقدس بھی شامل تھا ان علاقوں پر ایک مرتبہ پھر سے عسٰیوں کا قبضہ ہو جاتا ہے ۔ لیکن مسلمانوں کا یہ اختلاف ذیادہ دن کا نہیں چلتااور جلد ہی سلطان نورالدین اور سلطان ؂صلاح الدین ایوبی کی قیادت میں وہ علاقے پھر سے اسلامی سلطنت میں شامل ہو جاتے ہے ،جن علاقوں کو خلافت راشدہ کے دور میں اسلامی سلطنت میں شامل کیا گیا تھا ،580 ہجری ،1184 عیسوی میں سلطان صلاح الد ین ایوبی نے عیسیٰ وں کو صلیبی جنگ میں دردناک شکست دیکر بیت المقدس کو فتح کیا اور یورپ کے دل پر کالی ضرب لگائی ،حضرت عمر رضی اﷲ تعالیٰ عنہُ کے دور کو گزریں ہوئے تیرہ سو سال سے بھی ذیادہ عرصہ ہوگیا ہے ۔جب کہ سلطان صلاح الدین ایوبی کو گزریں آٹھ سو سال سے بھی ذیادہ عرصہ ہوگیا ہے مگر آج بھی ان حضرات کا نام یورپ والوں کیلئے خوف کی علامت ہے ۔یورپ میں ان ہی حضرات کی بہادری کے قصے عام ہیں ۔

یہ تھی مسلمان حکمرانوں کی غیرت کی کچھ داستانیں ۔جس میں اپنے مسلمان بھائی سے محبت ان کی حفاظت کی فکر مندی مکمل طور پر عیاں ہیں ۔ حضور پاکﷺ کے ایک فرمان ہے ، جس کا مفہوم مبارک ہے کہ مسلمان ایک جسم کے ماند ہے اگر جسم کے ایک حصے میں دردہو تاہے ،تو پوری جسم میں تکلیف ہوتی ہے ۔ اس ہی طرح اگر مشرق کے مسلمان کو تکلیف ہوتی ہیں تو اس کا درد مغرب کے مسلمانوں کو بھی ہوگا ۔ لیکن آج مسلمانوں کی غیرت قومی ختم ہو گئی ہیں ۔ آج مسلمان حکمران کے ساتھ ساتھ عام مسلمان کا بھی ضمیر مرگیا ہے ۔تعیش اور عیش پسندی نے ہمیں اپنے دوسرے مسلمان بھائیوں کو فکر کرنے سے محروم کردیا ، یہی وجہ ہے کی آ ج دنیا کے نقشے پر 57 اسلامی ممالک موجود ہیں اور خطے کے ایک اہم حصے پر مسلمانوں کی حکمرانی ہے ۔ دولت کا وفر حصہ بھی ان کے قبضے میں ہے ، تیل ،گیس، متعد قدراتی ذخائر سے یہ ممالک مالا مال ہیں ۔ لیکن انہیں دنیا کے دوسرے آلام و مصائب کے شکار اور ظلم ،ستم کے چکی میں پیسنے والے مسلمانوں سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ اس پر ٹوٹنے والی قیامت جس نے غیر مسلموں تک کو رولادیا مگر ان مسلمان حکمرانوں کے کھان پر جوں تک نہ پڑی ،مسلم ممالک کے خلاف جنگ میں حصہ لے نا مسلم تنظیموں پر دہشتگردی کا لیبل لگانا منتخب اسلامی حکومتوں خلاف اقدام کرنا جیسے کارنامے تو یہ خوب انجام دیتے ہیں ۔ مگر جہاں بات مسلمانوں پر غیروں کے ظلم کی ہوتی ہے تو ان کو سانپ سونگ جاتا ہیں ۔ آج صورت حال یہ ہے کہ چند ممالک کو چھوڑ کر پوری دنیا کے مسلمان شدید ظلم و جبر کا شکار ہے ۔ وہاں بھی پریشان ہے جہاں ان کی ہی حکومت ہے اور وہاں بھی پریشان ہے ، جہاں یہ اقلیت میں ہے وہاں بھی ظلم اور بربریت کا شکار ، اگر شام ،برما ، کشمیر ، افغانستان ،عراق ، فلسطین اور دیگر اسلامی ممالک کی صورت حال کا بغور جائزہ لیا جائے تو وہاں کے مسلمانوں پر ہونے والے ظلم سے انسانیت بھی شرماجائے ۔ جبکہ مسلمان امریکا ، جرمنی ، فرانس اور دیگر مغربی ممالک میں تعصب ،منافرت اور عدم راواداری مسائل سے دوچار ہے ۔

ان میں سب سے ذیادہ میانمار کے روہنگیا مسلمان اور شام کے مسلمان ظلم و جبر کا شکار ہے ۔ روہنگیا مسلمانوں پر ظلم تو غیر مسلم طبقہ کر رہا ہے ۔ مگر شام کے مسلمانوں پر ظلم کرنے والا ڈکٹکٹر خود کو مسلمان ڈیکلیر کرتا ہے ۔ مسلمانوں کو انسانی حقوق سے دسبر دار کردیاگیا ،شام کی طرح برمی فوج جب جہاں جس کو بھی مارنا چاہتی ہے ،مار کرلاش کو جلا دیتی ہیں ۔ جب بھی ان کا دل چاہئے تو خواتین کا جنسی احتصال کرتے ہیں ۔بچو کو ذندہ آ گ میں جھونک دیتے ہے ۔بنگلا دیش پہنچنی والی ایک عورت اپنے داستان سناتے ہوئے وہاں پر موجود رپورٹرز کو بھی رولا دیا اور ان رپورٹروں کے بھی زبان سے بس کرو کے الفاض نکل گئے ۔ کہا کہ برمی فوج نے جو کیا سو کیا مگر میرے نو جوان بیٹے کو بھی مجبور کیا میرے ساتھ وسہی ظلم پرجو برمی فوج نے کیا ،اور اس کے بعد میرے سامنے میرے بیٹے اور کچھ اور نوجوانوں کو چاقو اور خنجر وں کی وار سے انتہائی بیدردی سے شہید کیا اور اور مجھ سمیت کئی عورتوں کو بندی بنا لیا ، بڑی مشکل سے ہم چند عورتیں اپنی جان بچا کر یہاں پہنچ پائی ہیں ،یہی حال شام میں بھی ہے ، اور اس سے ملتا جولتا حال عراق اور کشمیر میں بھی ہے ۔شام میں بشارت الاسد اپنی تخت کو بچانے کیلئے روس اور ایران کے ساتھ ملکر اپنی ہی عوام پر کیمیائی بموں سے حملے کررہا ہے جس سے انسان کے جل کر راک بن جاتا ہے ۔ مگر ان سے پوچھ نے والا کوئی نہیں ہے ۔ آ ج ہر مسلمان آسمان کی طرف دیکھ کر یہی صدا لگا رہا ہیں ۔
اے خاصا ئے خاصان رسول وقت کی دعا ہے۔
امت پہ تیری آ ج آہ کہ عجب وقت پڑا ہے ۔

ان تمام مظالم پر مسلمان حکمرانوں کی مجرمانہ غفلت اﷲ کی عذاب کو دعوت دی رہی ہے ۔ان حکمرانوں کو اپنی اخرت کی زرہ برابر بھی فکر لائق نہیں ، کیا یہ میدان محشر کو بھول گئے مسلمانوں نے تو ۴۴ لاکھ مربع مل سے بھی ذیا دہ اور کئی سو سال تک حکومت کی مگر ظلم تو دور کی بات انصاف میں بھی دیر نہیں کی آج ان ہی حکمرانوں کی یاد مسلمانوں ساتھ ساتھ غیر مسلم کو بھی ستا تی ہوگی جن کے انصاف پسندی دنیا کی تاریخ میں سونہرے حروفومیں لکھی ہوئی ہیں ۔اﷲ تمام مسلمانوں پر اپنا خصوسی کرم کریں (آمین )
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Inayat Kabalgraami

Read More Articles by Inayat Kabalgraami: 16 Articles with 10684 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
13 Dec, 2016 Views: 537

Comments

آپ کی رائے