ایک شام سب کے نام !

(Fareed Ashraf Ghazi, Karachi)
 شاید کہ تیرے دل میں اتر جائے میر ی بات !

کسی بھی معاشرے کی باصلاحیت اور نامور شخصیات کی خدمات اور کارکردگی کے اعتراف میں’’تقریب پذیرائی‘‘ یا شام منا نا ایک بہت اچھی روایت ہے !

آج کل کراچی میں تقریب پذیرائی اور شامیں منانے کے نام پر فن و ادب کے ساتھ جو مذاق کیا جا رہا ہے اگر اس پر فوری طور پر کوئی قدغن نہ لگائی گئی تو کچھ عرصے بعد لوگ اس طرح کی شاموں میں شریک ہونا باعث شرم سمجھا کریں گے ۔

کسی بھی معاشرے کی باصلاحیت اور نامور شخصیات کی خدمات اور کارکردگی کے اعتراف میں’’تقریب پذیرائی‘‘ یا شام منا نا ایک بہت اچھی روایت ہے کہ اس طرح ہم اپنے درمیان موجود اہم ٹیلنٹڈ افراد کی اخلاقی مدد اور حوصلہ افزائی کا ذریعہ بنتے ہیں اوریہ عمل معاشر ے میں اچھے لوگوں کے اچھے کاموں کی تقلید کرنے کا جذبہ پیدا کرتا ہے ۔

تقریب پذیرائی اور شامیں منانا ایک کافی پرانا اور مقبول کام ہے کہ اس میں پروگرام آرگنائرز اور جس شخصیت کے نام یہ شام منائی جارہی ہوتی ہے ،دونوں ہی کے لیئے شہرت ،عزت اور داد حاصل کرنے کے وافر مواقع موجود ہوتے ہیں۔یہ شامیں عام طور پر فنون لطیفہ سے تعلق رکھنے والے مشہور افراد کی پذیرائی اور اعتراف فن کے لیئے منائی جاتی ہیں جن میں شعراء ،فنکار اور دانشوروں کو سب سے زیادہ ترجیح دی جاتی ہے،ویسے اب تو بالکل نوآموز شاعر بھی اپنے کلام کی اشاعت پر ایک تقریب سجوا کر دولہاکی طرح پھولے نہیں سماتے۔ایک زمانہ تھا جب کسی شخصیت کے نام کوئی شام منائی جاتی تھی تو لوگ جوق درجوق اس میں شرکت کرکے اس تقریب کے دولہا کے بارے میں تعریفی کلمات اداکرنے کو اپنے لیئے اعزاز سمجھا کرتے تھے کہ وہ شخصیات فنی طور پر اتنی قد آور ہوتی تھیں کہ ان کو دیکھنا ،ان سے ملنا اور ان کی تقریب پذیرائی میں شرکت کرنا ہر فرد کے لیئے قابل فخر ہوا کرتا تھا ۔

ہم نے بھی ایسی قدآور شخصیات کے نام منائی جانے والی بہت سی شاموں میں شرکت کی اور جب وہاں سے اٹھے تو بہت کچھ سیکھ کر اٹھے اور ہمیں فخر محسوس ہوا کہ ہمیں ایک انتہائی قابل اور نامور شخص کے نام منائی گئی شام میں شریک ہونے کا موقع ملالیکن زمانہ بدلا تو اقدار بھی بدل گئیں ،شامیں منوانا اور شامیں منانا بھی ایک بزنس بن گیا کہ ایک کامیاب تقریب پذیرائی کے بعد شام منانے والے آرگنائزر اور تقریب کے دولہا سمیت اسٹیج پر موجود اکثر افراد کو کچھ نہ کچھ مل ہی گیا ،کسی کو شہرت اور میڈیا کوریج مل گئی تو کسی کے ہاتھ میں کچھ پیسے آگئے اور یوں تقریب پذیرائی کو اتنا سستا اور عام کردیا گیا کہ اب ان لوگوں کے لیئے بھی شامیں منائی جانے لگی ہیں جنہیں ان کے حلیے اور رویے کی وجہ سے کوئی اپنے پاس بٹھانا بھی پسند نہیں کرتا ،نہ ان کو بولنے کا سلیقہ ہے ،نہ لکھنے لکھانے سے کوئی شغف،کہیں سے پیسہ ہاتھ لگ گیا یا کوئی سستی شہرت کا بھوکا مرغا ان کے دام میں پھنس گیا تو بس انہوں نے کسی بھی چھوٹی سی جگہ پر اپنے قریبی حلقہ احباب کو جمع کرکے ایک شام سجالی اور اس میں کسی بھی کالے پیلے ،ایرے غیرے کو پھولوں کے ہاروں سے کسی بکرے کی طرح لاد کراس کی نامعلوم طویل خدمات کا فرضی ڈھنڈورا پیٹتے ہوئے اس کی تعریف میں زمین اورآسمان کے وہ قلابے ملائے کے دیکھنے اور سننے والوں کا منہ کھلا اور آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں اور جس ایرے غیرے کے نام یہ شام سجائی گئی اس کو تو اپنی وہ خوبیاں بھی معلوم ہوگئیں جو اس میں سرے سے کبھی موجود ہی نہیں تھیں۔اس طرح کی نام نہاد شاموں کی اخبارات میں کوریج کے لیئے آرگنائزر کی ہمیشہ یہ کوشش ہوتی ہے کہ وہ کسی نامور اخبار کے ایڈیٹر کو اس میں بلانے میں کامیاب ہوجائے اور اس کے لیئے ایسی تقریبات کے آرگنائزر صحافیوں کے گلوں میں پھولوں کے ہار اور ان کے ہاتھوں میں شیلڈ یا ایوارڈ تھما کر باآسانی اپنا کام نکال لیتے ہیں۔

اس طرح کی شاموں میں ایک اور بات خاص طور پر نوٹ کی جانے والی ہے کہ ان میں شرکت کرنے والے بھی کچھ مخصوص لوگ ہی ہوتے ہیں،شام کسی کے لیئے بھی منائی جارہی ہو یہ مخصوص ٹولہ اس میں پہینچ کر مہمانوں کو ہار پہنا کر تصاویر بنوا کر یہ سمجھتا ہے کہ اس نے یہاں آکر اپنا مقصد حاصل کرلیا کیونکہ چند روز بعدبعض نامور اخبارات میں ان کی تصویریں اس تقریب کی کوریج کے ساتھ شائع ہوجاتی ہیں اور ان لوگوں کا مقصد بھی یہی ہوتا ہے۔اس پر طرفہ تماشہ اب یہ شروع ہوگیا ہے کہ اب یہ مخصوص ٹولہ اپنے گروپ کے اندر ہی موجود لوگوں کے نام شامیں منانے لگا ہے ،پروگرام میں بمشکل35 افراد موجود ہیں اور ان میں سے ہی کسی ایک کے لیئے شام منا دی جاتی ہے اورپھر کچھ ہفتے بعد یہ ہی ٹولہ اپنے ساتھ شامل کسی اور فرد کے ساتھ شام منارہا ہوتا ہے جس کا مقصد سوائے اس کے اور کچھ نہیں ہوتا کہ نامور فلمی اور غیرفلمی اخباروں میں ان کی تصویریں لگا دی جائیں۔

سب سے زیادہ حیرت تو اس وقت ہوتی ہے جب کسی فنکار سے منسوب کسی ثقافتی تنظیم یا فین کلب کے اراکین اپنے پسندیدہ فنکار کے نام ایک شام منانے کا بندوبست کرتے ہیں لیکن ان کی اس شام میں وہ فنکار ہی موجود نہیں ہوتا جس کے لیئے یہ تقریب سجائی جاتی ہے ۔اگر کسی نے اپنے پسندیدہ فنکار سے منسوب کوئی فین کلب بنایا ہوا ہے تو اس کے اند ر اتنی اہلیت اور صلاحیت ہونی چاہیئے کہ وہ اپنے پسندیدہ فنکار کے نام کوئی شام منانے سے پہلے مذکورہ فنکار کو اس تقریب میں آنے کے لیئے راضی کرسکے اور اگر وہ فنکار نہ آئے تو پھر اس طرح کی کوئی تقریب منعقد ہی نہیں کرنی چاہیئے اور جو فنکار اب اس دنیا میں موجود نہیں ہیں وہ جو تقریبات مناتے ہیں اس میں ان کو یہ اہتمام کرنا چاہیئے کہ وہ جس مرحوم فنکار کے لیئے تقریب کا انعقاد کررہے ہیں اس میں مرحوم کے اہل خانہ میں سے کوئی لازمی شرکت کرے ،وگرنہ پھر اس طرح کی تقریبات کے انعقاد کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا ۔

آج کل کراچی میں تقریب پذیرائی ،اعتراف فن اور شامیں منانے کے نام پر فن و ادب کے ساتھ جو مذاق کیا جا رہا ہے اگر اس پر فوری طور پر کوئی قدغن نہ لگائی گئی اور اسی طرح ہرکسی کے نام یعنی سب کے نام شام منائی جاتی رہی تو اس سے اہل اور قابل شخصیات کی حق تلفی ہوگی جبکہ برساتی مینڈکوں کو بانس پر چڑھانے سے یہ شامیں ایک تماشہ بن کر رہ جائیں گی اور کچھ عرصے بعد لوگ اس طرح کی شاموں میں شریک ہونا باعث اعزاز نہیں بلکہ باعث شرم سمجھا کریں گے ۔کراچی اور حیدر آباد میں کچھ ایسے لوگوں کے نام بھی شامیں منائی جارہی ہیں جن کی نہ تو کوئی قابل ذکرخدمات ہیں اور نہ ہی وہ اپنے شعبے میں بہت زیادہ مشہور ہیں بلکہ بعض تو ابھی طفل مکتب ہیں لیکن نہ جانے کون اور کیوں اس طرح کے غیر اہم لوگوں کے ساتھ بڑے پیمانے پر شامیں منا کر اور پھر بڑی دھوم دھام کے ساتھ مشہور اخبارات میں ان شاموں کے پورے ایک صفحے کے رنگین اور بلیک اینڈ وائٹ اشتہارات شائع کرواکرنامعلوم مقاصد حاصل کرنا چاہتے ہیں مزید حیرت کی بات یہ ہے کہ اس طرح کی نام نہاد شاموں میں بعض نامور لوگ بھی شریک ہوکر ان نوآموز اور طفل مکتب خواتین اورحضرات کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہیں جن کو وہ خود بھی اچھی طرح نہیں جانتے ۔

زندگی کے ہرشعبے میں لوگ ایک نہ دکھائی دینے والے ضابط اخلاق پر عمل کرتے ہیں تو پھر اس شعبے کو اس قدر مادر پدر آزادی کیوں دے دی گئی ہے کہ جو چاہے صرف پیسہ خرچ کرکے کسی بھی ایرے غیرے کے نام پر شام مناکرنہایت آسانی کے ساتھ سستی شہرت اور مالی مفادات حاصل کرلے؟اس سلسلے میں سب سے اہم کردار نامور فلمی و غیر فلمی اخبارات کا ہے کہ اگر وہ اس طرح کی نام نہادشاموں کی پریس کوریج کرنا بند کردیں تو یہ برساتی مینڈک خود ہی منظر عام سے غائب ہوجائیں گے یہ نام نہاد مشہور لوگ پاکستان کے نامور قدآور لوگوں کو دیکھ کر ان جیسی پبلسٹی حاصل کرنا چاہتے ہیں لیکن وہ یہ بات بھول جاتے ہیں کہ معاشرے کی اہل اور قابل قدآور شخصیات نے عزت ،شہرت اور مقام حاصل کرنے کے لیئے کتنی محنت اور جانفشانی سے اپنے اپنے شعبوں میں ایسی بے مثال کارکردگی دکھائی ہے کہ ان کے لیئے شامیں منانا آرگنائزر کے لیئے کسی بہت بڑے اعزاز سے کم نہیں،اپنے فن ،ہنر اور شخصیت کے ذریعے لوگوں کے دلوں میں جگہ بنانے والوں کے سامنے یہ ایرے غیرے طفل مکتب غیر اہم لوگ بھلا کیسے خود کو منواسکتے ہیں کہ لوگ ابھی گھوڑے اور گدھے میں تمیز کرنا جانتے ہیں،آجکل خاص طور پر فلمی اخبارات میں ان نام نہاد شاموں اور تقریبات کا جو تماشہ لگاہوا ہے وہ اب ختم ہوجانا چاہیئے کہ پیسہ ہی سب کچھ نہیں ہوتا ،کیا اشتہار حاصل کرنے کے لیئے کچھ بھی شائع کردینا جائز ہے؟آخر سیلف سینسر اور انسان کا ضمیر بھی کوئی چیز ہے ،اخبارات کا کام لوگوں کی اصلاح کرنا اور صحیح لوگوں کو پروموٹ کرنا ہے نہ کہ ایسے لوگوں کو کوریج دینا جن کو صحیح طرح سے بات کرنا اورلکھنا پڑھنا بھی نہ آتا ہو۔صحافت میں جو جتنا بڑا ،مقبول اور کامیاب اخبار ہوتا ہے اس پر اتنی ہی بڑی ذمہ داری بھی عائد ہوتی ہے ،سوال یہ ہے کہ اگر ہم اپنی غلطیوں کی اصلاح خود نہیں کریں گے تو پھر کون ہمیں اچھا برا بتائے گا ؟صحافت نوٹ چھاپنے کی مشین نہیں بلکہ ایک مشن ہے جس کا کام لوگوں کو صحیح رخ پر ڈالنا ہے لہذا ہمارے اخبارات کو ایرے غیرے نتھو خیرے قسم کے لوگوں کے لیئے منائی گئی شاموں کی پریس کوریج اور چند روپوں کے اشتہارات کو نظر انداز کرکے صحافت کی آبرو اور قدر ومنزلت کا راستہ اختیار کرنا ہوگا ورنہ زندگی کے دیگر شعبوں کی طرح اگر صحافت کا شعبہ بھی مفاد پرستی کا شکار ہوکراپنا اعتبار کھوبیٹھا تو پھر اس ملک کے عوام امید کی نگاہوں سے کس کی طرف دیکھیں گے؟

میں ،آپ اور ہم مل کر ہی ایک اچھا معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں لہذا یہ ہم سب کا فرض ہے کہ ہم اس طرح کے غیر اہم اور غیر معروف لوگوں کی شاموں کی تقریبات میں شرکت سے گریز کریں اور اسی طرح اخبارات و رسائل کو بھی صرف اہل اور قابل لوگوں کے اعزاز میں منائی گئی شاموں کو ہی کوریج دینی چاہیئے نہ کہ سستی شہرت کے طالب نوآموز یا طفل مکتب لوگوں کی شان میں من گھڑت قصیدوں پر مشتمل رپورٹ یا اشتہارات شائع کیئے جائیں۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Fareed Ashraf Ghazi

Read More Articles by Fareed Ashraf Ghazi : 111 Articles with 71741 views »
Famous Writer,Poet,Host,Journalist of Karachi.
Author of Several Book on Different Topics.
.. View More
15 Dec, 2016 Views: 411

Comments

آپ کی رائے