انسان کیا ہے؟

(Kanwal Naveed, Karachi)
زندگی میں اکژ ہم مایوسی و محرومی کا شکار ہو جاتے ہیں ،جس کی بہت سی وجوہات ہوتی ہیں کبھی کسی کو اپنی شکل پسند نہیں ہوتی تو کسی کو اپنی فیملی سے گلے ہوتے ہیں کوئی اپنے غریب ہونے کو کوستا ہے تو کوئی کہتا ہے کہ میرے ساتھ ہی برا ہوتا ہے۔

ہم لوگ چیزوں کو سطح سے دیکھنے کے عادی ہیں۔ یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ ہم ظاہر پر نظر رکھتے ہیں اور باطن کو فراموش کر دیتے ہیں لیکن کیسی اہم سی بات ہے کہ ہمارا ظاہر ہمارے باطن کا صرف ایک فی صد ہے جبکہ باطن کی مکمل تعریف نہیں کی جا سکتی ۔

انسان کیا ہے؟ایسا سوال ہے جو ہمارے اذہان میں اگر گھر کر جائے تو راتوں کی نیند اور دن کا چین چھین لے۔ہم کیسے فراموش کر سکتے ہیں کہ ہم کس قدر قیمتی ہیں۔ایک انسان کس قدر انمول ہے ،اس کا ہر لمحہ ہی نا قابل تسخیر کائنات ہے مگر یہ صرف غور کرنے والا ہی سمجھ سکتا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ سب عظیم کتب میں غورو فکر کرنے کا ہی کہا جاتا ہے ۔

قرآن مجید میں بھی غوروفکر کی مشاہدہ کی دعوت ہے ،کیسے تعجب کی بات ہے کہ آج ہم ہر چیز کا مشاہدہ کرتے ہیں لیکن اپنی ذات کو فراموش کر دیتے ہیں۔ایک غریب شخص جو خود کوغریب سمجھتا ہے ،اس سے پوچھا جائے کہ تم خود کوغریب کیوں سمھتے ہو؟ تو وہ کہتا ہے کہ میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے ۔اگر غور کریں تو سچ میں اس شخص کے پاس کچھ بھی نہیں ہے کی یہ سوچ ہوتی ہے جو اس کو نہ آگے بڑھنے دیتی۔ نہ کچھ پانے دیتی ہے۔رب کا وعدہ ہے کہ وہ اپنے بندوں کے لیے ویسا ہی ہے جیسا کہ وہ گمان کرتے ہیں۔ جب وہ یہ گمان کر لیتے ہیں کہ ان کے پاس کچھ نہیں تو وہ سچ مچ کچھ بھی نہیں پا سکتے۔

دوسری طرف دیکھا جائے تو وہی شخص نہ قابل تسخیر دولتوں سے مالا مال ہوتا ہے۔کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ انسان کبھی بھی دنیا کے لیے بوجھ نہیں ہو سکتاکیونکہ وہ ایک منہ اور دو ہاتھ لے کر آتا ہے۔یعنی انسان میں کمانے ،بنانے ،سنوارنے اور حاصل کرنے کے لیے ہاتھ ،کھانے کے عضو سے ذیادہ ہیں لہذا اب یہ ہم پر ہے کہ ہم اپنی صلاحتوں کوکیسےاستعمال میں لاتے ہیں۔ اگر آپ کو کوئی دس لاکھ روپے دے اور بولے کہ کہ ہاتھ کاٹ کر اسے دیے دییے جائیں تو آپ اس کی آفر کبھی بھی نہیں مانیں گئے یا اسی طرح کوئی پچاس لاکھ میں آنکھیں مانگے تو آپ منع کر دیں گئے۔اس سے اندازہ کریں کہ جسم جو انسان کے وجود کا محض ایک فی صد ہے،اس کے چھوٹے سے حصے کی قیمت پچاس لاکھ سے بھی کہیں ذیادہ ہے، تو سوچیں اگر آپ بطور انسان خود کا مشاہدہ کریں تو آپ پر کیسے کیسے انگشافات ہوں گئے۔

ہم اپنی ذات کو دوسروں سے منسوب کر کے رکھتے ہیں یہی وجہ ہے رونا روتے رہیتے ہیں،کسی مسلہ سے دوچار ہوتے ہی مسلہ سے متعلق سوچتے ہیں ۔یہ مسلہ میری ہی قسمت میں کیوں لکھا تھا۔جس طرح ہم خود کو محض جسم کے طور پر مانتے اور دیکھتے ہیں اسی طرح اپنے مسائل کو بھی سطحی طور پر دیکھتے ہیں۔ہمیں چیزوں کے مشاہدہ اور غورو فکر کرنے سے متعلق شروع سے سکھایا ہی نہیں جاتا ۔جب ہم بڑے ہو جاتے ہیں تو ہم سیکھنا ہی نہیں چاہتے ۔ہم میں آرام طلبی کی عادت پیدا ہو چکی ہے۔یہ ہی وجہ ہے کہ ہماری باطنی قوتوں کو زنگ لگ چکا ہے ۔کبھی آپ نے غور کیا اللہ تعالی نے انسان کے اندر ایک گھڑی پیدا کر رکھی ہے جو لوگ صبح تہجد کے لیے روز جاگتے ہیں وہ ٹھیک تین بجے جاگ جاتے ہیں انہیں عام گھڑی کی ضرورت نہیں ہوتی۔انسان کا باطن صرف باطنی طور پر گھڑی ہی نہیں رکھتا بلکہ قوت ارادی، مستحکم سوچ، اور بہت سی خوبیوں سے مزین ہے ،جو پڑھی پڑھی زنگ کا شکار ہو جاتی ہیں ہم فقط اپنے ظاہر پر توجہ دیتے ہیں لیکن باطن کو جو خوراک چائیے اس سےمتعلق سوچتے بھی نہیں ۔ہمارے باطن یعنی ہماری روح مکمل الگ وجود کی حامل ہے ۔اس کی الگ خوراک ہے،الگ ضروریات ہیں مگر ہم محض جسمانی ضرورتوں کو پورا کرنے میں ہی الجھے رہتے ہیں ۔یہ ہی وجہ ہے کہ زندگی میں بے چینی اور مایوسی محسوس ہوتی ہے ،لوگ خواہ امیر ہوں یا غریب ان کی روح کے تقاضے جسم سے مختلف ہوتے ہیں۔

ہم جب تک اپنے باطن کا مشاہدہ کر کے اس کے تقاضے نہیں سمجھتے اور انہیں پورا نہیں کرتے تو ہم زندگی میں نہ تو خوشحالی سے ہم کنار ہو سکتے ہیں نہ ہی ہم باطنی خوشی کو ہی پا سکتے ہیں۔ہم نہانے دھونے سے جسم کو پاک کرتے ہیں جب کہ ہماری روح کو بھی پاکیزگی چاہیے۔ہم کھانا کھا کے سمجھتے ہیں کہ بھوک ختم ہو گئی لیکن روح تو بھوکی پیاسی ہوتی ہے چونکہ ہم اس سے متعلق سوچتے ہی نہیں۔ہمارا وجود خود کو دھوکا دیتا رہتا ہے۔ہمیں یہ بات کبھی فراموش نہیں کرنی چائیے کہ پانی کا پیالہ خواہ سونے کا ہو یا چاندی کا اگر اندر سے گندا ہو تو پانی پر بھی اس کا اثر ضرور ہو گا۔ اس لیے اپنی روح کو پاک کریں ،روح کے تقاضوں کا خیال کریں ،جسم خود بخود اثر قبول کرنے لگے گا ،آپ کے باطن کی خوبصورتی پوری کائنات کے لیے کشش کا باعث بنے گی ۔ بدھ سے متعلق تو آپ نے سنا ہی ہو گا وہ کون تھے،ایک دفعہ جب وہ ایک راستہ سے گزر رہے تھے تو لوگوں نے دیکھا کہ ان کا چیرہ روشن ہے ،انہوں نے عجیب کی کشش محسوس کی تو لوگ آپ کے گرد جمع ہو گئے اور وجہ دریافت کرنے لگے۔ایک شخص نے کہا کیا آپ عبادت کر کے آرہے ہیں؟دوسرے شخص نے سوال کیا کہ یہ سب آپ کے علم کی وجہ سے ہے کہ آپ کے چہرے پر نظر نہیں ٹھہر رہی، آپ کے اور ہمارے چہرے میں یہ فرق کیسا ہے؟تو بدھا مسکرا کر بولے۔ فرق صرف یہ ہے کہ تم سو رہے ہو اور میں جاگ رہا ہوں۔ان کا مطلب ظاہری طور پر سونے سے نہیں تھا۔

ہر وہ انسان جو اپنی روح و ذات کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے تو اس پر اسرار کھلنے لگتے ہیں اور وہ روح کی ترقی کو سمجھتا ہے،ہر وہ بات جو ہم سنتے ہیں اور وہ تصویر جو ہم دیکھتے ہیں ،ہر وہ کام جو ہم جسم کے ذریعے انجام دیتے ہیں وہ ہماری روح پر اثر انداذ ہوتا ہے۔آپ اگر روح سے متعلق سوچ سمجھ کر عمل نہیں کریں گئے تو وہ بھی روز بروز کمزور ہوتی جائے گی لیکن اگر آپ کے اعمال ، مشاہدات اور غور وفکر اچھی ہو گی ،روح کی بہتری و سکون کے لیے ہو گی تو وہ آپ کی مکمل شخصیت کو بہتری کی طرف لے جاے گئی ۔یہ ہی وجہ ہے کہ حضرت حضر اور حضرت لقمان کو حکمت سے بھرے ہونے کی وجہ سے رب کریم نے انہیں پیغمروں اور نبیوں کی صف میں کھڑا کر دیا۔وہ نہ تو نبی تھے اور نہ پیغمر لیکن فقط بندے ہونے کے باوجود وہ جان چکے تھے کہ انسان کیا ہے؟

انسان کے روح کی غذا سے متعلق اپنی اگر حقیر معلومات کو بیان کروں تو ان میں سے چند یہ ہیں ۔

1۔ شکر گزاری۔
جو بندہ اپنی ذات کو اپنا لیتا ہے اپنے جسم و روح سے محبت کرتا ہے ،جو رب نے دیا اس سے راضی ہوتا ہے،رب کی تقسیم پر سوال نہیں اُٹھاتا کہ مجھے کم کیوں ملا ہے فلاں کو ذیادہ کیوں ملا ہے؟بلکہ جو ملا ہے اس کو ترقی دینے فائدہ اُٹھانے کی کوشش کرتا ہے،پھر اسے مذید نوازہ جاتا ہے۔رب کسی انسان کی محنت کو ضائع نہیں کرتا۔جو انسان خواہ کسی بھی مذہب کا ہو جب وہ اپنے طور پر کسی بھی طرح سے عبادت کرتا ہے تو اسے سکون عطا کیا جاتا ہے ،اگر وہ دنیا میں ترقی کے لیے محنت کرتا ہے تو بھی اُسے صلہ دیا جاتا ہے۔اکثر گلہ کرنے والے لوگ عمل کے کھوٹے ہوتے ہیں ،جو خود تو بھلائی کرنے سے کتراتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ کچھ دیے بغیر ہی انہیں سب کچھ حاصل ہو جائے۔ایسے لوگ رب کی بے شمار نعمتوں کی ناشکری کرتے ہیں جس نے بناؑمانگے انہیں انسان ہونے کا شرف عطا کیا،ماں باپ کے دل میں محبت ڈال کر پرورش کا سبب بنا دیا۔انسان کے عقائد کو انسان خود بناتا ہے قبول کر کے یا انکار کر کے پھر وہ عقائد انسان کو بناتے ہیں ،وہ مایوس یا خوش اپنے عقائد ہی کی بنا پر ہوتا ہے۔سوچنا شروع کریں تو آپ کو پتہ چلے گا کہ ہم کس قدر نا شکرے ہیں۔ قرآن مجید میں رب کریم فرماتا ہے۔ترجمہ: بے شک انسان بڑا ہی ناشکرہ ہے۔اگر ہم اپنی اپنی زندگی میں جھانکیں تو سچ بھی یہی ہے۔

2۔لالچ و خود غرضی
سب پا لینے کی تمنا و لالچ کرنے والے ہی اکثرکچھ بھی نہیں پا سکتے ۔ ترقی وہی لوگ کرتے ہیں جو اپنے ساتھ ساتھ دوسروں کی خوشحالی بھی چاہتے ہیں۔یہ ہی وجہ ہے کہ تاریخ میں ہٹلر بہت عقلمند ہونے کے باوجود خودکشی کی موت سے مرا ۔آپ کی لالچ اور خود غرضی آپ کی تسکین کا باعث نہیں بن سکتی ۔انسان کی روح دوسروں کا بھلا چاہتی ہے جبکہ ہم نفسانی خواہشات کی بنا پر روح کو گندہ کر کے اسے اپائج بنا دیتے ہیں ۔

قرآن مجید میں ارشاد باری تعالی ہے۔ترجمہ:دھوکے میں ڈالے رکھا تمہیں بہتات کی حرص نے یہاں تک کہ تم نے قبریں جا دیکھیں۔

اب اس بات کا یہ مطلب نہیں کہ انسان نماز لے کر صبح شام بیٹھا رہے اور دنیا میں ترقی و خوشحالی کی کوشش ہی نہ کریں ۔لالچ و خود غرضی سے مراد سب کچھ پا لینے کی اس طرح خواہش کرنا ہے کہ دوسروں کی بھلائی و معاشرے کی خوشحالی کو مدنظر نہ رکھنا ہےورنہ قرآن مجید میں اللہ ہمیں نعمتوں کو سمیٹنے کا حکم بھی دیتا ہے جیسا کہ سورت جمعہ میں ہے۔کہ نماز کے بعد زمین میں پھیل جاو اور رب کی نعمتوں کی تلاش کرو۔

3۔حقوق العباد سے دوری۔
انسان میں موجود اکثر بُرائیاں ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں مثلاْ خود غرضی و لالچ انسان کو حقوق العباد کا سوچنے بھی نہیں دیتی۔ ہم تو باظاہر دوسروں کو کوئی نقصان نہیں پہنچاتے لیکن کسی کی ضرورت پریشانی اور تکلیف میں منہ موڑ لیتے ہیں۔ہر کسی کو اتنی جلدی ہوتی ہے کہ دوسرے کی طرف دیکھتا بھی نہیں ۔اللہ تعالی اپنے تمام بندوں کو دیکھتا اور سنتا ہے وہ نہ صرف ایک دوسرے کی مدد کا حکم دیتا ہے بلکہ دوسروں کے جذبات و احساسات کا خیال رکھنے کی بھی تلقین فرماتا ہے یہی وجہ ہے کہ دین اسلام میں حقوق العباد بہت ذیادہ ضروری قرار دیے گئے ہیں۔ دین اسلام ہی کیا ہر دین میں بُری باتوں اور بُرے کاموں سے منع کیا گیا ہے۔حضرت عیسی علیہ اسلام نے اپنے حواریوں کو حکم دیا کہ اگر کوئی آپ کے ایک گال پر تھپڑ مارے تو دوسرا گال آگے کر دو ۔اس سے ان کی مراد جھگڑا نہ کرنا تھا۔آپ ﷺ نے حجتہ الوداع کے موقع پر سب سے ذیادہ ذور حقوق العباد پر ہی دیا۔آپ ﷺ نے ایک موقع پر بہت ذور دیتے ہوئے فرمایا:تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ اپنے بھائی کے لیے وہ ہی نہ پسند کرئے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔ہم اگر اپنی ذات کا تجزیہ کریں تو پتہ چلتا ہے کہ ہم کبھی بھی دوسرے کو وہ عزت نہیں دے پاتے یا تحفہ بھی دیتے ہوئے یہ نہیں سوچتے کہ وہ بلکل ہم جیسا ہے،ہم اگر اس کی جگہ ہوتے تو۔ایسا تصور بھی نہیں کرتے۔خاص کر اپنے ماتحت لوگوں کے ساتھ ہمارا رویہ بہت غلط ہوتا ہے۔حضرت انسؓ نے فرمایا کہ آپ ﷺ نے مجھے دس سال کی ملازمت میں کبھی ایک دفعہ بھی سخت الفاظ نہیں بولے ۔اگر ہمارے ملازم ہمارے ہاں دس دن بھی کام کرتے ہیں تو دس دن میں گیارہ بار ضرور ہم انہیں ملازم ہونے کا احساس دے دیتے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ ہمارے لہجے تلخ اور ہمارے دل سخت ہو چکے ہیں ایسے میں بھی ہم سکون باہر سے ڈھونڈتے پھرتے ہیں ،انسانی روح جو بہترین صفات سے بھرپور تھی اسے گندا کرنے کے بعد سوچتے ہیں کہ برائی ہمارے حصے میں ہی کیوں آرہی ہے۔دراصل انسانی روح ایک مقناطیس کی صورت ہے جسے ہم اپنے جسم کے ذریعے سے حاصل کردہ معلومات ،عمل اور سوچ سے مثبت یا منفی مقناطیس بنا لیتے ہیں پھر ہمارے حصے میں وہی کچھ آتا ہے جیسا کہ مقناطیس ہوتا ہے اگر آپ اچھے ہیں تو اچھائی آپ کے حصے میں آئے گی اور اگر آپ برے ہیں تو آپ کو برائی ہی ملے گی۔لہذا اپنے مقناطیس کو مثبت چارج دیتے رہیں۔ہمشہ مثبت رویے سوچیں اپنائیں۔ آپ خواہ کوئی بھی مذہب رکھتے ہوں ،عبادت کریں ،دوسروں کی مدد کریں ۔ہرممکن کریں کہ آپ کی ذات سے کسی کو تکلیف نہ ہو۔اللہ تعالی مجھے اور آپ کو ہمیشہ اچھا کرنے اور اچھا سوچنے کی توفیق دے ۔آمین
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: kanwalnaveed

Read More Articles by kanwalnaveed: 124 Articles with 184838 views »
Most important thing in life is respect. According to human being we should chose good words even in unhappy situations of life. I like those people w.. View More
15 Dec, 2016 Views: 1455

Comments

آپ کی رائے