رپورٹ:تقریب تقسیم اسنادمدارس میڈیا ورکشاپ

(Tanveer Awan, )
 ابلاغ کا معنی ہے بات پہنچانا ،دنیا کی ہر مخلوق ابلاغ کرتی ہے خواہ وہ حیوانات میں سے ہو یا انسان جیسی اشرف واکر م مخلوق ہو ۔انسا نوں میں جن کے پا س ا بلاغ کی قوت اوزیاد ہ ذرائع ہوتے ہیں وہی قیادت وسیادت کے اہل اور حقدار ٹھرائے جاتے ہیں ۔ذرائع ابلاغ کی قوت کو انسان نے ابتداء آفرینش سے نا صرف پہنچا نا بلکہ اس قوت کا بھر پور استعمال بھی کیا ،حیات انسانی کے ساتھ ساتھ ابلاغ کے ذرائع بھی تبدیل ہوتے رہے ایک وقت تک تو میڈیا صرف ’’منادی‘‘تک محدود رہااور ایک زمانہ تک شعراکے منظوم کلام کو مضبوط میڈیا کے طور پر جانا جاتا رہا پھر ابلاغ کی ایک صور ت یہ بھی رہی کہ ایک آدمی اپنے شہر سے دوسرے شہر جاتا اور وہاں جاکر اپنے شہر کی خبریں دوسرے لوگوں تک پہنچاتااور وہاں کی خبریں واپس اپنے شہر میں پہنچاتا تھا زمانہ گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ چیز تحریر کی صورت اختیا ر کر گئی الغر ض انسانی ترقی کے ساتھ ساتھ ذرائع ابلاغ میں بھی جدت اور ترقی و تبدیلی واقع ہوئی ہے۔

اہل مغرب نے نہ صر ف اس کا ادراک کیا بلکہ ابلاغ کے مختلف ذرائع اور شعبوں میں اپنا سکہ منوایا انہوں نے ہمیشہ میڈیا کے ہتھیار کے ذریعہ فریق مخالف کو زیر کیااور دوسری اقوام پر اپنی بالادستی قائم کرنے کی کوشش کی ہے ۔اس جدید دور میں میڈیا کی اہمیت اور ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے اورابلاغیات کو بھی زیادہ پڑھا جارہاہے ۔وقت کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اہل دل حضر ات نے طلبہ وعلما مدارس دینیہ اور کالجز ،یونیورسٹیز کے طلبہ کے لیے میڈیا ورکشاپ کا انعقاد شروع کیا۔جن میں مدارس میڈیا ورکشاپ کو نمایاں حیثیت ومقام حاصل ہے جو مدارس فاؤ نڈیشن کے زیر اہتمام گذشتہ پانچ سالوں سے اپنا سفر جاری رکھے ہوئے ہے۔مدارس میڈیا ورکشاپ ایک ایساپلیٹ فارم ہے جہاں ملاّاور مسڑکی تفریق کے بغیر طلبہ کر ام کو ایک تعلیمی ،تربیتی اور نظریاتی ماحول فراہم کیا جاتاہے،جہاں امت مسلمہ کو درپیش چلینجز سے طلبہ کو آگاہ کیا جاتاہے وہاں ذرائع ابلاغ میں پرنٹ والیکٹرانک میڈیاکو سمجھنے ،سیکھنے اور استعمال کرنے کی عملی مشق کروائی جاتی ہے ۔میڈیا کی دنیا میں وسیع تر تجربہ رکھنے والے حضرات کے تجربات اور مشاہدات سے استفادہ کے ساتھ ساتھ طلبہ میں آگے بڑھ کر ملک وملت کی خدمت کرنے کے جذبہ کو اجاگرکیا جاتاہے۔

امسال مدارس فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام26جون سے 16جولائی تک چار کورسزکا انعقاد کیا گیا جن میں دورہ خطابت ،دورہ صرف ،دورہ اللغۃالعربیہ اور مدارس میڈیا ورکشاپ کا انعقاد کیاگیا۔حسب سابق مولنا عبدالقدوس محمدی کی زیر نگرانی مدارس میڈیا ورکشاپ محمدی مسجد شہزاد ٹاؤن اسلام آبادمیں منعقد ہوئی ۔پورے ملک سے علماء کر ام وطلبہ مدارس دینیہ ،کالجز و یونیورسٹیز کے 55طلبہ نے شرکت کی ،20روزہ دورانیہ پرمشتمل اس منفرد ورکشاپ میں میڈیا اور ابلاغ کے دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے ماہر تجربہ کا راساتذہ کی زیرنگرانی تحریر کی مختلف اقسا م واصناف مثلا اداریہ ،کالم ،مضمون فیچر ،انٹرویو ،فورم ،سروے ،رپورٹنگ ،ایڈیٹنگ،خبر نگاری ،خبر سازی اور قواعد وانشاء،میڈیا کی مختلف اقسام ،ایڈوٹائر زنگ ،قومہ الیکڑانک میڈیا اور ریڈیو جرنلزم سمیت دیگر اہم موضوعات کے بارے میں تعلیم وتر بیت اور مشق کروائی گئی ۔اس دورنیہ میں مدارس میڈیا ورکشاپ کے شرکاء کے کالم اور تحریریں قومی اور علاقائی اخبارات میں چھپتی رہیں ۔

ناظم اعلی وفاق المدارس العربیہ قاری حنیف جالندھری صاحب ،مفکر اسلام شیخ الحدیث مولنا زاہد الراشدی ،معروف کالم نگار جاوید چوہدری ،ڈاکٹر یوسف فاروقی صاحب ،ڈاکٹر الیاس فیصل ،ڈاکٹر حبیب الرحمان عاصم اور مفتی مجیب الرحمان جیسے اہل علم وقلم نے مدارس میڈیا ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب فر مایا ۔قومی اور بین الاقوامی سے وابستہ کئی شخصیات نے اپنے اپنے شعبوں سے متعلق چیزیں سکھلائیں ۔

ہرسال مدارس میڈیا ورکشاپ کے اختتام پر تقریب تقسیم اسناد کا انعقاد بڑے اہتمام سے کیا جاتاہے ۔امسال بھی 16جولائی بروز پیر بمقام علامہ اقبال آڈیٹوریم انٹر نیشنل اسلامک یونیورسٹی فیصل مسجد کیمپس اسلام آباد میں ایک پر وقار تقریب تقسیم اسناد کا اہتمام کیا گیا۔جس میں مدارس فاؤنڈیشن کے تحت ہونے والے چاروں کورسز کے شرکاء کو اسنااور انعامات دیے گئے ۔تقریب کے مہمان خصوصی نائب صدر انٹر نیشنل اسلامک یونیورسٹی ،ڈائر یکٹر دعوہ اکیڈمی صاحبزادہ ڈاکٹر ساجد الرحمان تھے ۔اس تقریب کی سر پرستی عظیم روحانی اور علمی شخصیت مولنا پیرعزیز الرحمن ہزاوی حفظہ اﷲ فرمارہے تھے ،دیگر مہمانوں میں مولنا قاضی شبیر احمد عثمانی ،جناب ٹکا خان ،حافظ اقرار احمد عباسی ،مو لنا عبدالظاہر فاروقی ،مولنا یونس عالم ،مولنا شمشاد احمد اور چوہدری محمد شریف تشریف لائے اورخطاب فرمایا۔مدارس فاؤنڈیشن کے چئیر مین مولنا عبدالقدوس محمدی نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ملٹی میڈیا کی مدد سے مدارس فاؤنڈیشن کے تحت ہونے والے تمام تعلیمی ،اصلاحی اور فلاحی منصوبوں کا تعارف پیش فرمایا ،جس میں جامعہ مسجد محمدی کے تمام تعلیمی منصوبے ،درس نظامی ،شعبہ حفظ ،بچوں کے لیے لغۃالعربیہ کورس، نوجوان فضلاء کے لیے ایک سالہ تخصص فی اللغۃ العربیہ ،شارٹ کورسز ،برائے فضلاء وعلما ء قرآنی عربی کورس،امداد ویلفیر ٹرسٹ کے تمام فلاحی منصوبوں اور مدارس کی سالانہ تعطیلات میں مدارس میڈیا ورکشاپ ،دورہ خطابت ،دورہ صرف اور دورہ لغۃالعربیہ جیسے کورسز کا مختلف جگہوں پر انعقاد کر نا،مساجد اور مکاتب کا قیام شامل تھا۔ملٹی میڈیا پر دکھائے جانے والے اس تعارفی پر وگرام کوتقریب کے شرکاء نے بڑی توجہ سے دیکھا اورسنا۔صدارتی خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے صاحبزادہ ڈاکٹر ساجد الرحمن نے مدارس فاؤ نڈیشن کی ان کاوشوں کی تعریف کی اورکہا کہ علماء کو مسلکی وگروہی حثیتوں سے بالا تر ہوکر جدید دور کے چیلنجز کا مقابلہ کرنا ہوگا۔اگر آج پورا میڈیا چاہے اس کا تعلق پرنٹ سے ہویا الیکٹرانک سے وہ غیر محسوس طریقہ سے ہم سے ہماری مذہبی اقدار ،روایات اور ہمارا کلچر تبدیل کرنا چاہتا ہے ۔تعجب ہے ہمارا دشمن ؓبغیر تفریق کییے ہمارے خلاف ہر محازآرائی کئے ہوئے ہے اور ہم اپنے اپنے مسلکی اختلافات کے خول سے باہر آنا ہی نہیں چاہتے ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ میڈیامیں پید اہونے والے خلاء کو جدید علوم سے آراستہ علماء ہی پرکرسکیں گے ۔

مدارس فاؤنڈیشن کے چارو ں کورسز میں بہترین کارکردگی کا مظاہر ہ کر نے والے طلبہ اور منتظمین میں انعامات تقسیم کیے گئے ۔خطابت کورس کے میزبان مولنا قاضی شبیر احمد عثمانی خطیب وپرنسپل صفہ اسلامک سنٹر کورنگ ٹاؤ ن اسلام آباد تھے ۔مدارس فاؤنڈیشن کی طرف سے ان کی خدمت میں قیمتی تحائف پیش کیے گئے ۔دورہ لغۃ العربیہ کی نگرانی اور تدریس شیخ عاشق الہی نے فرمائی جبکہ دورہ صرف کے مدرس مولنا غلا م مرتضی تنولی مدارس میڈیا ورکشاپ کے روح روا ں مولنا عبدالرؤف محمدی تھے ۔مدارس فاؤ نڈیشن کی طر ف سے ان کو قیمتی تحائف دیے گئے ۔مولنا تنویر احمد اعوان اور مولنا شہزاد عباسی کو انتظامی طور پر بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے پر انعامات دیے گئے ۔مدارس میڈیا ورکشاپ کے کئی ساتھیوں نے تصنیف وتالیف کے میدان میں قدم رکھا اور بہت کم وقت میں اہل قلم حضرات سے دادتحسین وصول کی جن میں مولنا عظمت علی رحمانی مولف’’دخترپاکستان‘‘اورمولنا عرفان ندیم مولف’’دینی مدارس اور جدید دور کے تقاضے ،مولنا ابوبکر صدیق مولف ’’فضیلت علم ‘‘شامل ہیں۔مدارس فاؤنڈیشن کی طرف سے ان حضرات کو بھی قیمتی انعامات دیے گئے ۔اسی طرح مدارس میڈیا ورکشاپ کورس کے دوران سب سے زیادہ تحریریں چھپنے پر غلام نبی مدنی اور کم عمر طالب علم خضر حیات کو بھی انعامات سے نوازاگیا۔

مولناعظمت علی رحمانی مولف ’’دختر پاکستان ‘‘نے چئیرمین مدارس فاؤنڈیشن اور چیف آرگنائزر مولنا عبدالقدوس محمدی کی خدمت میں دختر پاکستان یادگاری شیلڈپیش کی ۔مولنا عزیز الرحمن ہزاروی حفظہ اﷲ نے اختتامی کلمات ارشاد فرماتے کہا کہ میں خود صاحب قلم ہوں ،مولنا غلام غوث ہزاروی رحمہ اﷲ نے مجھے ہفت روزہ الجمعیۃ کا مدیر بنایا تھا او رب دارالعلوم زکریا کاماہنامہ’’زکریا ‘‘کی ادارت کررہاہوں ۔علماء کو میڈیا کے شعبہ میں ضرور آنا چاہیے مگرمیڈیا کے ماحول سے متاثر نہیں ہونا چاہیے ۔مولنا پیر عزیز الرحمن ہزاروی حفظہ اﷲ نے مدارس فاؤنڈیشن کی کوشش کی تعریف کی اور مزید ترقی اور برکت کی دعافرمائی ۔

تقریب کا اختتام مولنا عزیز الرحمن ہزاروی حفظہ اﷲ کی رقت آمیز کی دعاء سے ہوا۔آپ نے ملک ،اسلام ،دینی مدارس ومساجد کی حفاظت اورترقی کے لیے دعافرمائی ۔
 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Molana Tanveer Ahmad Awan

Read More Articles by Molana Tanveer Ahmad Awan: 207 Articles with 140905 views »
writter in national news pepers ,teacher,wellfare and social worker... View More
02 Jan, 2017 Views: 543

Comments

آپ کی رائے