ٹریفک جام اور حادثات!

(Inayat Kabalgraami, )
پاکستان بھر میں دن بدن ٹریفک حادثات کی بڑھتی ہوئی شرح لمحہ فکریہ ہے، جس میں لاتعداد قیمتی جانیں تسلسل کے ساتھ لقمہ اجل بن رہی ہیں۔پاکستان میں ہر روز کئی لوگ ٹریفک حادثات کا شکار ہوکر اپنی قیمتی جانیں گنواتے ہیں۔ بہت سے لوگ عارضی یا مستقل معذوری کا شکار بھی ہو جاجا تے ہیں۔بروز اتوار کو جہلم چکول روڈ پر کار اور ویگن میں ہولناک تصادم ہوا جس میں 13 افراد جاں بحق اور 20 زخمی ہوئے، اس طرح کے واقعات آئے دن ہو رہے ہیں۔جوں جوں پاکستان میں انسانی آبادی کا حجم بڑھتا جا رہا ہے بستیاں پھیل رہی ہیں۔ صنعتی ترقی کی بدولت لوگوں کا ہجوم‘ مضافات اور دیہات سے قصبوں اور شہروں کی طرف بڑھ رہا ہے۔ لوگوں کو روزانہ اپنے کاروبار اور ملازمت کی جگہوں پر جانے کیلئے سفر اختیار کرنا پڑ رہا ہے۔ جس کی وجہ سے صبح و شام بالخصوص اور تمام دن بالعموم سڑکوں پر عوام اور گاڑیوں کا سمندر امڈ آتا ہے جبکہ زمین کا دامن پہلے دن کی طرح اتنا ہی ہے۔پاکستان میں ڈرائیوروں کی بڑی تعداد بغیرلائسنس گاڑیاں چلا رہی ہے۔ یہ لوگ چونکہ تربیت یافتہ نہیں ہیں اس لیے بہت سے حادثات کی باعس بنتے ہیں۔ تیز رفتاری ایک ایسی واباہے جس سے شاید دنیا کا کوئی بھی ملک بچا ہوا نہیں ہے۔اگرطریقے سے گاڑیاں چلائی جائے تو شاید سانحہ جہلم جیسے واقعات پیش نہ آئے۔ہمارے ملک کے نوجوانوں میں تیز رفتار گاڑی چلانے کا جنون بے شمار حادثات کا با عث بن رہا ہے۔ سڑکوں کے ڈیزائن کے حوالے سے یہ بات ہمیشہ یاد رکھی جانی چاہیے کہ یہ بھی حادثات کی وجہ بنتی ہے۔ بعض اوقات حادثے کی جگہ سڑک پر پیچیدہ خم بھی گاڑی کی رفتار میں اضا فے اور حادثے کا سبب بنتا ہے۔ ناقص انجن کا استعمال جان لیوا ثابت ہوتا ہے۔ اگر خدانخواستہ دورانِ ڈرائیونگ انجن لیک ہوجائے تو ساری گاڑی میں آگ بھڑک اٹھ سکتی ہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ میں چلنے والی گاڑیاں اکسرفٹنس کے مسائل کا شکار ہوتی ہے جو حادثات کا سبب بنتی ہیں۔ متعلقہ محکمہ ناکارہ گاڑیوں کو رشوت کے عواض فٹنس سر ٹیفکیٹ جاری کردیتا ہے۔ گاڑیوں میں نصب غیر معیاری سلنڈر پھٹنے کے باعث حادثات کی شرح میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ ڈرائیور حضرات کا اوور اسپیڈنگ اور اوور ٹیکنگ کا شوق بھی جان لیوا حادثات کا سبب بنتا ہے۔ٹریفک حادثات سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ بہتر اور موثر اقدامات کیے جائیں۔ یہ اقدامات ٹریفک کے قوانین پر سختی سے عمل در آمد کرا کے بھی کیے جا سکتے ہیں اورسڑکوں کے ڈیزائن کو بہتر بنانے کی صورت میں بھی۔ حادثات سے بچنے کے لیے مناسب تربیت حاصل کرنا چاہیے۔ تربیت سے اندازہ ہوتا ہے کہ کس قسم کی ایمر جنسی میں کیا اقدام کیاجائے۔ شہر میں جہاں جہاں ضروری ہو ٹریفک سگنلز لگا کر ٹریفک حاد ثات سے بچا جا سکتا ہے۔ اکثر لوگ اپنے گھر وں کے آگے سپیڈ بریکرز بنا لیتے ہیں۔ یہ سپیڈ بریکر غیر معیاری ہوتے ہیں اس لیے حادثات کا سبب بنتے ہیں۔ ایک محاورہ مشہورہے کہ اگر جاننا ہو کہ کوئی قوم کتنی مہذب ہے توسٹرک پر چلے جائیں اوراس کی ٹریفک کانظام دیکھ لیاجائے اس سے بخوبی اندازہ ہوجائے گا۔بدقسمتی سے ہمارے ہاں ٹریفک کاحال بہت زیادہ براہے۔سٹرک پر چلے جائیں توہروقت اﷲ یادآتاہے اورڈرلگتاہے کہ کہیں کسی حادثے کاشکارنہ ہوجائیں۔ مہذب معاشروں میں سٹرک پرسب سے زیادہ حق پیدل چلنے والوں کا ہوتا ہے مگرہمارے ہاں صورتحال اس کے برعکس ہے اورپیدل چلنے والے سب سے زیادہ پریشان ہیں کیونکہ ان کے لئے سٹرکوں پرچلنا انتہائی دشوارہے۔اول توہمارے ہاں پیدل چلنے کارواج ہی بہت کم ہے۔چھوٹے سے چھوٹے سفرکے لئے بھی پیدل سفرسے گریزکیاجاتاہے،یہ الگ بات ہے کہ اس کی اوربہت سی وجوہات ہیں لیکن اگرکوئی مجبوری کی حالت میں کسی کو سٹرک پرپیدل چلتاپڑتاہے تواسے لگ پتا جاتا ہے اور وہ آئندہ کے لئے پیدل چلنے سے توبہ کرلیتاہے۔صرف یہی نہیں سائیکل،موٹرسائیکل اور گاڑیوں والے بھی اسی قسم کی اذیت سے دوچارہیں اور اس کی بڑی وجہ بھی وہ خودہیں کیونکہ اکثرحضرات ٹریفک قوانین سے نابلدہیں۔ٹریفک کے بڑھتے ہوئے مسائل کی بڑی وجہ ہمارانظام تعلیم ہے کیونکہ ہمارے تعلیمی نظام میں ٹریفک سے متعلقہ تعلیم بالکل نہیں دی جاتی۔ترقی یافتہ ممالک میں افراد کومعاشرے کاکارآمدشہری بنانے کے لئے ہرضروری تعلیم اورتربیت دی جاتی ہے مگرہمارے ہاں اس قسم کی تعلیم کاکوئی رواج نہیں ہے۔سکول سے کالج اورکالج سے یونیورسٹی تک صرف اس بات پرزوردیاجاتاہے کہ کیسے زیادہ نمبرزلینے ہیں،معاشرے کا مفیدشہری کیسے بننا ہے اس پرکوئی توجہ نہیں دیتا۔حالانکہ ہونا یہ چاہیے کہ سکول،کالج اوریونیورسٹی ہردرجے پرباقاعدہ کورس ہوں کہ سٹرک پرکیسے چلنا ہے؟ٹریفک کے قوانین کیاہیں؟مختلف اشارے کیا بتاتے ہیں؟اورباقاعدہ طورپر یہ چیزیں نصاب کاحصہ ہوں۔ٹریفک مسائل کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ لوگ بغیرسیکھے سڑک پرپرگاڑی لے آتے ہیں۔اس قسم کے اناڑی ڈرائیورحادثات کی ایک بڑی وجہ بنتے ہیں۔اس سلسلے میں جب پوچھا گیاتو ٹریفک پولیس کے ایک ذمہ دارنے بتایا کہ ہرایک گاڑی اورڈرائیور کوچیک کرنا ممکن نہیں ہے،گاہے بگاہے چیکنگ کی جاتی ہے اورایسے لوگوں کوجرمانہ بھی کیاجاتاہے۔لیکن یہاں پرایک سوال یہ بھی اٹھتاہے کہ ہمارے ہاں ڈرائیونگ لائسنس کیسے ملتاہے؟ کیا باقاعدہ تربیت اور ٹیسٹ کے بعدلائسنس جاری کیاجاتاہے؟افسوس یہاں بھی صورتحال بدتر ہے،لائسنس زیادہ ترپیسے اورتعلقات کی بنیادپرجاری کیے جاتے ہیں اورایسے لوگوں کی بھی لائسنس جاری کیے گئے ہیں جن کویہ بھی نہیں پتاکہ گاڑی کے گیئرکتنے ہوتے ہیں،جب ایسی صورتحال ہوتوایسے لائسنس ہولڈرحادثات کاباعث نہیں بنیں گے تواورکیاہوگا۔سی این جی رکشوں نے شہر کی ٹریفک خراب کردی ہے جس کا جہاں دل کرتا ہے رک جاتا ہے اس کو پرواہ ہی نہیں ہوتی کہ پیچھے گاڑیاں کھڑی ہیں یا ٹریفک جام ہورہا ہے ۔پاکستان میں ٹریفک کا حال اتنا بگڑ چکا ہے کہ کسی سلجھے ہوئے ڈرائیور کے لیے یہاں کی سڑکوں پر ڈرائیونگ کرنا تقریب ناممکن ہے۔ آپ کسی ڈرائیور سے کچھ دیر ٹریفک کے قواعد و ضوابط پر بات کر کے دیکھ لیں۔ مایوسی کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آنے والا۔ جہاں سڑکوں کا حال آہستہ آہستہ کافی بہتر ہوتا جا رہا ہے وہیں بے ہنگم ٹریفک کا رش بھی اتنا زیادہ ہو گیا ہے کہ سڑک پر کئی کئی گھنٹے ٹریفک جام ہونے لگا ہے اور کوئی دن ایسا نہیں جاتا کہ حادثات کی منحوس خبریں میڈیا کی بریکینگ نیوز کی شوبھا نہ بڑھاتی ہوں۔ ایک اندازے کے مطابق سالانہ 17 سے 30 ہزار لوگ پاکستان میں ٹریفک حادثات میں جاں بحق ہو رہے ہیں اور 40 سے 60 ہزار لوگ زخمی ہوتے ہیں۔وی آئی پی کلچربھی ٹریفک کی ابترصورتحال کی ایک بڑی وجہ ہے،لوگ جب دیکھتے ہیں کہ بڑے لوگوں کے لئے کوئی اشارہ نہیں،ان کوکہیں رکنا نہیں پڑتاتووہ یہ کہتے ہیں کہ اگریہ لوگ اشاروں کی پابندی نہیں کرتے توہم کیوں کریں۔ہمارے ہاں سڑکوں کی تنگی کارونا رویاجاتاہے کہ گاڑیاں بہت زیادہ ہوگئی ہیں اورسٹرکیں بہت تنگ ہیں جس کی وجہ سے وقت کا ضیاع اور حادثات ہوتے ہیں لیکن میرے خیال سے ٹریفک شعور کانہ ہونااورتربیت کا فقدان اصل وجہ ہے۔لوگ اگرٹریفک قوانین پرعمل کرتے ہوئے گاڑی چلائیں اوردوسروں کاخیال رکھیں تو ہماری سٹرکیں بہت بڑی ہیں۔میری ارباب اختیارسے انتہائی ادب سے گذارش ہے کہ ٹریفک کے بڑھتے ہوئے مسائل کی سنگینی کوسمجھیں اوراس کے تدارک کے لئے آگے آئیں۔ طلباء ہمارامستقبل ہیں ان کی ابھی سے تربیت کریں اورٹریفک شعورکی بیداری کے لئے نصاب میں ٹریفک سے متعلقہ مضامین شامل کریں،آگاہی سیمینارمنعقدکریں اوران کی تربیت کاباقاعدہ انتظام کریں۔ڈرائیونگ لائسنس باقاعدہ تربیت اور ٹیسٹ کے بعدجاری کریں اوروی آئی پی کلچر کا خاتمہ کریں صرف اسی صورت میں حادثات سے بچاجاسکتاہے اورایک صحت منداورمہذب معاشرہ تشکیل دیاجاسکتاہے۔اﷲ ہم سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھیں (آمین)
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Inayat Kabalgraami

Read More Articles by Inayat Kabalgraami: 94 Articles with 52270 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
11 Jan, 2017 Views: 270

Comments

آپ کی رائے