ملنگ بابا

(M. Zamiruddin Kausar, )
موسلا دھار بارش ابھی ابھی رکی تھی ۔ایک ملنگ بارش کے پانی میں مست چلا جارہا تھا کہ اس نے ایک مٹھائی فروش کو دیکھا جو ایک کڑھائی میں دودھ گرم کر رہا تھا ، تو دوسری طرف موسم کی مناسبت سے ایک کڑھائی میں گرما گرم جلیبیاں تیار کر رہا تھا ۔ ملنگ کچھ لمحوں کے لئے وہاں رک گیا، شاید اسے بھوک کا احساس تھا یا موسم کا اثر۔ ملنگ نے حلوائی کی دکان کو بڑے غور سے دیکھا ، ملنگ کچھ کھانا چاہتا تھا لیکن ملنگ کی جیب ہی نہیں تھی تو پیسے بھلا کہاں ہوتے۔ ملنگ کچھ دیر رکنے کے بعد وہاں سے چلا ہی چاہتا تھا کہ نیک دل حلوائی سے نہ رہا گیا اس نے ایک پیالہ گرم دودھ اور چند جلیبیاں ملنگ کو پیش کردیں ۔ ملنگ نے گرما گرم جلیبیاں گرما گرم دودھ کے ساتھ نوش کیں اور پھر ہاتھوں کو اٹھا کر حلوائی کو دعا دیتا ہو ا آگے چل دیا۔

ملنگ بابا کا پیٹ بھر چکا تھا ‘ دنیا کے غموں سے بے پرواہ، وہ پھر ایک نئے جوش سے بارش کے گدلے پانی کے چھینٹے اڑاتا چلا جارہا تھا ، وہ اس بات سے بے خبر تھا کہ ایک نوجوان نو بیاہتا جوڑا بھی بارش کے پانی سے بچتا بچاتا اس کے پیچھے چلا آرہا ہے ۔ یکبارگی اس ملنگ نے بارش کے پانی میں اس زور سے لات رسید کی کہ پانی اڑتا ہوا سیدھا پیچھے آنے والی نوجوان عورت کے کپڑوں کو بھگو گیا۔ اس نازنین کاقیمتی لباس کیچڑ سے لت پت ہوگیا تھا ۔ اس کے ساتھی نوجوان سے یہ بات برداشت نہیں ہوئی۔لہذا وہ آستین چڑھا کر آگے بڑھا اور اس ملنگ کو گریبان سے پکڑ لیا اورکہنے لگا کیا اندھا ہے تجھے نظر نہیں آتا ، تیری حرکت کی وجہ سے میری بیوی کے کپڑے گیلے اور کیچڑ سے خراب ہوگئے ہیں۔ملنگ ہکا بکا سا کھڑا تھا ، جبکہ اس نوجوان کو اس مجذوب کا خاموش رہنا گران گزر رہا تھا ۔ عورت نے آگے بڑھ کر نوجوان کے ہاتھوں سے ملنگ کو چھڑوانا بھی چاہا لیکن نوجوان کی آنکھوں سے نکلتی نفرت کی چنگاری دیکھ کر وہ بھی دوبارہ پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوگئی۔

راہ چلتے راہ گیر بھی بے حسی سے یہ تمام منظر دیکھ رہے تھے ، لیکن نوجون کے غصے کو دیکھ کر کسی میں ہمت نہ ہوئی کہ اسے روک پاتے اور بلا آخر طاقت کے نشے سے چور اس نوجوان نے ایک زوردار تھپڑ ملنگ کے چہرے پر جڑ دیا۔ بوڑھا ملنگ تھپڑ کی تاب نہ لاسکا اور لڑکھڑاتا ہو کیچر میں جاپڑا ۔ نوجوان نے جب ملنگ کو نیچے گرتا دیکھا تو مسکراتے ہوئے وہاں سے چل دیا۔ بوڑے ملنگ نے آسمان کی جانب نگاہ اٹھائی اور اس کے لب سے نکلا ، واہ میرے مالک کبھی گرما گرم دودھ جلیبیوں کے ساتھ اور کبھی گرما گرم تھپڑ‘ مگرجس میں تو راضی ، مجھے بھی وہی پسند ہے‘ یہ کہتا ہوا وہ ایک بار پھر اپنے راستے پر چل دیا۔

دوسری جانب وہ نوجوان جوڑا جوانی کی مستی سے سرشار اپنی منزل کی طرف چل پڑا، تھوری ہی دور چلنے کے بعد وہ ایک مکان کے سامنے پہنچ کر رک گئے۔ وہ نوجوان اپنی جیب سے چابیاں نکال کر اپنی محبوب بیوی سے ہنسی مذاق کرتے ہوئے بالا خانے کی سیڑھیاں طے کررہا تھا۔ بارش کے سبب سیڑھیوں پر پھسلن ہوگئی تھی اچانک اس نوجوان کا پاؤں پھسلا اور سیڑھیوں سے نیچے گرنے لگا ۔ عورت نے زور زور سے شور مچا کر لوگوں کو اپنے محبوب شوہر کے جانب متوجہ کرنے لگی، جسکی وجہ سے کافی لوگ فوراََ مدد کے لئے نوجوان کے طرف لپکے ، لیکن دیر ہوچکی تھی۔ نوجوان کا سر پھٹ چکا تھا اور بہت زیادہ خون بہہ جانے کی وجہ سے اس کڑیل نوجوان کی موت واقع ہوچکی تھی۔

کچھ لوگوں نے دور سے آتے ملنگ کو دیکھا ، تو آپس میں چہ مگوئیاں ہونے لگیں کہ ضرور اس ملنگ نے تھپر کھا کر نوجوان کے لئے بدعا کی ہے ورنہ ایسے کڑیل نوجوان کا صرف سیڑھیوں سے گر کر مر جانا بڑے اچھنبے کی بات لگتی ہے۔ چند منچلے نوجوانوں نے یہ بات سن کر ملنگ کو گھیر لیا ایک نوجوان کہنے لگا کہ آپ کیسے اﷲ والے ہیں جو صرف ایک تھپڑ کی وجہ سے نوجوان کے لئے بددعا کربیٹھے یہ اﷲ والوں کی روش نہیں کہ ذرا سی تکلیف پر بھی صبر نہ کرسکیں۔ وہ ملنگ کہنے لگا خدا کی قسم میں نے اس نوجوان کے لئے ہرگز بد دعا نہیں کی۔ تو لوگوں کے بھیڑ میں کوئی پکارا۔ اگر آپ نے بد دعا نہیں کی تو ایسا کڑیل نوجوان سیڑھیوں سے گر کر کیسے ہلاک ہوگیا؟

تب اس ملنگ نے حاضرین سے ایک انوکھا سوال کیا کہ یہاں کوئی اس تمام واقعہ کا چشم دید گواہ موجود ہے؟ ایک نوجوان نے آگے بڑھ کر کہا، ہاں میں اس تمام واقعہ کا چشم دید گواہ ہوں۔ ملنگ نے اگلا سوال کیا ’’میرے قدموں سے جو کیچڑ اچھلی تھی کیا اس نے اس نوجوان کے کپڑوں کو داغدار کیا تھا؟ وہی نوجوان بولا نہیں۔ لیکن عورت کے کپڑے ضرور خراب ہوئے تھے، ملنگ نے نوجوان کے بازوکو تھامتے ہوئے پوچھا کہ ، پھر اس نوجوان میں مجھے کیوں مارا؟ نوجوان کہنے لگا ، کیوں وہ نوجوان اس عورت کا محبوب تھا اور اس سے یہ برداشت نہیں ہوا کہ کوئی اس کے محبوب کے کپڑوں کو گندہ کرے اس لئے اپنے محبوب کی جانب سے اس نوجوان نے آپ کو مارا۔

نوجوان کی یہ بات سن کر ، ملنگ نے ایک نعرہ مستانہ بلند کیا اور یہ کہتا ہوا ، وہاں سے رخصت ہوگیا کہ ’’ میں نے بد دعا ہرگزنہیں کی تھی، لیکن کوئی ہے جو مجھ سے محبت رکھتا ہے اور وہ اتنا طاقتور ہے کی دنیا کا بڑا سے بڑا بادشاہ بھی اس کے جبروت سے گھبراتا ہے۔ (ماخوذ)
 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: M. Zamiruddin Kausar

Read More Articles by M. Zamiruddin Kausar: 97 Articles with 189251 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
13 Jan, 2017 Views: 1867

Comments

آپ کی رائے
محترم ضمیرالدین کوثر صاحب
السلام علیکم
کافی عرصہ ہوا آپکی تحریر ھماری ویب پر شائع نہیں ہوئی۔ خیریت ہے ۔ اپکےمضامین معلوماتی اور دلچسپ ہوتے ہیں ۔ آپ اب کیوں نہیں لکھ رہے ۔ آپ کے جاب کا انتظار رھے گا
By: [email protected], Karachi on Jun, 17 2020
Reply Reply
0 Like
Khoobsurat tehreer.... byshak ALLAH apny bndo sy boh mohabbat krta hai..... stay blessed!!!
By: Faiza Umair, Lahore on Jul, 10 2017
Reply Reply
0 Like
اللہ کے نیک بندے کس کس روپ میں اس دنیا میں موجود ہیں ۔ کوئی انھیں مجذوب کیتا ہے ، تو کوئی انیں فقیر کہتا ہے تو کوئی انھیں ملنگ کہتا ہے۔ لیکن اللہ کے یہ نیک بندے سب سے بے نیاز اپنی دنیا میں مگن ہوتے ہیں ۔ جو انھیں نہیں جانتا وہ کبھی بھی ان کے مقام کو نہیں پہچان سکتا ۔ اور ان سے مذاق یا بد تمیزی کرنے والا کبھی ایسے بدترین حالات سے دوچار ہوجا تا ہے کہ اس کا مداوا بھی نہیں ہوسکتا۔ بے ادب بے نصیب ۔ باادب با نصیب
By: Khan Bahadur Yousuf Zai, karachi on Jun, 05 2017
Reply Reply
0 Like