جلد بازی حادثات کا سبب

(Malik Muhammad Shahbaz, )
آج کل ہر شخص ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی دوڑ میں مصروف عمل دکھائی دیتا ہے۔ صبر و تحمل سے اپنی باری کا انتظار کرنے کی بجائے دوسروں کو دھکے دے کر آگے نکلنے کا معمول بن چکا ہے۔اسلام میں جلد بازی کو شیطان کا عمل کہا گیا ہے مگر اس کے باوجود جلد بازی کو عادت بنا لیا گیا ہے۔موٹر سائیکل سوار ہوں یا ویگن و بس ڈرائیورسگنل کی خلاف ورزی کرکے دوسروں سے آگے نکلنے کو بہادری کا نام دیا جاتا ہے۔ ہسپتال ، شناختی کارڈ کا دفتر ، ریلوے سٹیشن ہو یا کوئی دوسری جگہ جہاں لائن بندی کا سلسلہ ہو ، لائن میں کھڑے رہنے والے افراد کو احمق سمجھا جاتا ہے جبکہ دھکے دیتے ہوئے لائن میں گھس کر جلدی نمبر لگوانے والے کو داد دی جاتی ہے۔اپنی باری کا انتظار کرنے کی بجائے ہر میدان میں دوسروں سے آگے نکلنے کا یہ سلسلہ بعض اوقات خطرناک ثابت ہوتا ہے اور یہ جلدی بازی حادثات کا سبب بنتی ہے۔جہاں ایک طرف گاڑیوں کی فٹنس کے مسائل، اوور سپیڈنگ ، ٹریفک قوانین سے نا واقفیت اور کم عمر ڈرائیور حادثات کا سبب بنتے ہیں وہاں ہر سال جلد بازی کی وجہ سے بھی سینکڑوں افراد لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔ جلدی پہنچے کی کوشش کرنے والے افراد اپنی منزل تک کبھی نہیں پہنچ پاتے اور اس جلد بازی کے چکر میں زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔جلد بازی کے سبب ٹریفک حادثات اور شرح اموات میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے۔کہیں غلط اوور ٹیکنگ کی وجہ سے کوئی زندگی کی بازی ہار جاتا ہے تو کہیں سگنل کی خلاف ورزی کسی کی موت کا سبب بن جاتی ہے۔ روز انہ قومی اخبارات حادثات کی خبروں سے بھر ے ہوتے ہیں اور ان حادثات کی وجوہات میں جلد بازی کاعمل دخل بہت زیادہ ہے۔ روڈ پرگاڑی چلانے کا معاملہ ہو یا ریلوے پھاٹک کراس کرنے کا ، جلد بازی ہمیشہ حادثات کا سبب بنتی ہے۔

ہمارے وطن عزیز میں جلد بازی کو اوڑھنا بچھونا بنا لیا گیا ہے اور اس کا مظاہرہ ہر ایک شعبہ زندگی میں دیکھنے کو عام ملتا ہے۔ ریلوے پھاٹک ٹرین کے گزرنے کے بعد کھولا جاتا ہے مگر موٹر سائیکل سوارنوجوان پھاٹک کھلنے کا انتظار کرنے کی بجائے پھاٹک سے دور ریلوے ٹریک کے اوپر سے موٹر سائیکل گزارنے کی کوشش میں مصروف عمل دکھائی دیتے ہیں اور اکثر ٹرین حادثات کی زد میں آکر زندگی گنوا بیٹھتے ہیں۔سڑکوں پرموٹر سائیکل کو طیارہ سمجھ کر اڑاتے ہوئے اور کرتب دکھاتے ہوئے منچلے شاذونادر ہی منزل مقصود پر پہنچ پاتے ہیں۔ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی دوڑ میں ایسے نوجوان بخیر وعافیت گھر پہنچنے کی بجائے ہسپتال پہنچ جاتے ہیں۔رکشہ ڈرائیور جب چاہیں جہاں چاہیں اچانک بریک لگا دیتے ہیں اور اکثر پیچھے سے آنے والی گاڑیاں ان رکشوں کو کچل دیتی ہیں۔ بس ڈرائیور اگلے سٹاپ پر دوسری بسوں سے پہلے پہنچنے کے چکر میں حادثات کا سبب بنتے ہیں۔ذرا سی جلد بازی انسان کو موت کے منہ میں دھکیل دیتی ہے۔ کہیں کوئی سگنل کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جلدی پہنچنے کے چکر میں حادثے کا شکار ہو جاتا ہے تو کہیں کوئی گاڑیوں کی فٹنس کی وجہ سے موت کے منہ میں چلا جاتا ہے۔پھاٹک گارڈ کی غفلت سے پھاٹک کھلا ہونے کی وجہ سے یا پھاٹک نہ ہونے کی وجہ سے بھی دوران کراسنگ ٹرین کے آنے کی وجہ سے بھی بہت سے افراد حادثات کا شکار ہو جاتے ہیں۔وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کی پریس کانفرنس کے مطابق 3 سال میں بغیر پھاٹک پر حادثات میں 80 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جوکہ ایک لمحہ فکریہ ہے ۔پاکستان ریلوے لائن کے کراسنگ پوائنٹس میں سے 2 ہزار 470 بغیر گارڈ کے ریلوے پھاٹک ہیں جس کے سبب آئے دن حادثات رونما ہوتے ہیں۔ ایسا ہی ایک حادثہ اتوار کو گوجرہ کے قریب پیش آیا جس میں ایک ہی خاندان کے چھ افراد لقمہ اجل بن گئے۔ڈرائیور محمد افضل کو ٹرین کی آمد کا علم نہ ہو سکا اور جلد بازی میں پھاٹک سے کار گزارنے کی کوشش میں کراچی سے لاہور آنے والی شالیمار ایکسپریس کی زد میں آگیا۔شالیمار ایکسپریس نے اس کار کے پر خچے اڑا دیئے اور تقریباً ایک کلومیٹر تک کار کو گھسیٹتی لے گئی جس کے سبب کار میں سوار تمام افراد جاں بحق ہوگئے ۔بغیر پھاٹک ریلوے ٹریک حادثے کا یہ سلسلہ نیا نہیں ہے اس سے قبل 6 جنوری کو لودھراں کے مقام پربھی بغیر پھاٹک والے ریلوے ٹریک پرحادثے میں آٹھ افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔صرف دو ہفتوں میں 14 افرادپھاٹک نہ ہونے کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے گئے ۔کہیں پھاٹک نہ ہونے کی وجہ سے حادثات ہو رہے ہیں تو کہیں پھاٹک گارڈ کی غفلت کی وجہ سے کھلا پھاٹک حادثات کا سبب بنتا ہے اور یہ سلسلہ جاری و ساری ہے۔خواجہ سعد رفیق کے ریلوے کی باگ ڈور سنبھالنے کے بعد ٹرینوں کی آمد و رفت میں بہتری ضرور آئی ہے مگر حادثات کا خاتمہ بھی ضروری ہے۔ حادثات کا یہ سلسلہ کب تک جاری رہے گا ؟کب عوام جلد بازی کے اس شیطانی مشغلے کو خیر باد کہیں گے ؟انسانی جانوں کے اس ضیاع کا ذمہ دار کون ہے؟ حادثات سے بچاؤ کے لیئے کن اقامات کی ضرورت ہے ؟

انسانی جانوں کا ضیاع روکنے کے لیے انفرادی و اجتماعی اقدامات کرنا ہوں گے ۔ ارباب اختیار کی جانب سے پہلی فرصت میں بغیر گارڈ والے پھاٹک کے لیے گارڈ کی فراہمی کو یقینی بنانا ہوگا۔زیادہ ہجوم والے پھاٹک کر فلائی اوور کی تعمیر کرنا ہوگی۔ حادثات سے بچاؤ کے لیے ٹریفک قوانین سے متعلق تربیت کی فراہمی کو یقینی بنانا ہوگا۔انفرادی و اجتماعی طور پر جلدبازی سے پرہیز کرتے ہوئے مقرہ حد رفتار کے مطابق ڈرائیونگ کرنا ہوگی۔ موٹر سائیکل سواروں کو ٹریفک قوانین کا خیال کرنا ہوگا۔ ریلوے پھاٹک ، گول چکر ہویا آمنے سامنے کراسنگ ہو ہر لحاظ سے احتیاط برتنا ہوگی اور قاتل جلد بازی سے ہر حال میں بچنا ہوگا۔بغیر گارڈ والے پھاٹک سے دوران کراسنگ زیادہ محتاط ہونا ہوگا۔حادثات کا سبب بننے والی اس قاتل جلد بازی سے ہر حال میں پر ہیز کرنا ہوگا۔اﷲ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔آمین
 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Malik Muhammad Shahbaz

Read More Articles by Malik Muhammad Shahbaz: 54 Articles with 24445 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
25 Jan, 2017 Views: 540

Comments

آپ کی رائے