پاکستان میں کرپشن کی کہانی اور دنیا

(Mir Afsar Aman, Karachi)

قارئین پاکستان میں آج کل کرپشن کی کہا نی، پاکستانی میڈیا اور ہر خاص و عام کی زبان پر بڑی زوروں سے جاری ہے۔ یہ ریت رہی ہے کہ کچھ ملکوں میں لوگ اقتدار میں آکراپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کر کے ملک کے خزانے لوٹ لیتے ہیں۔ ملک کے اداروں پر اثر انداز ہو کر اپنے کرپشن کو سامنے بھی نہیں آنے دیتے۔ ان حالت میں میں دنیا میں آزاد ادارے وجود میں آئے ہیں جو مقتدر لوگوں کی لوٹی ہوئی دولت کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر عوام کے سامنے لاتے رہتے ہیں تاکہ عوام کی خون پسینے کی کمائی دولت واپس عوام کے خزانوں میں داخل کی جائے۔ ایسا ہی ایک ادارہ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل بھی ہے جس کی شاخ پاکستان کے ذمہ دار عادل گیلانی صاحب ہیں۔ صاحبو! پاکستان کا میڈیا جب سے آزاد ہوا ہے اس سے لوگوں کو جتنی معلومات ملیں ہیں شاید ہی اس سے قبل ایسا ہوا ہو۔ ملک کی اعلیٰ عدالت میں حکمرانوں اور ان کے خاندان پر کرپشن سے متعلق مقدمات چل رہے ہیں تودوسری طرف میڈیا میں ہر روز اس پر بحث ہو رہی ہے۔ اسی موقعہ ٹرانسپرنسی انٹر نیشنل نے اپنی رپورٹ شائع کی ہے کہ پاکستان میں کوئی بڑا کرپشن کا کیس سامنے نہیں آیا۔ بلکہ ٹرانسپرنسی انٹر نیشنل نے یہاں تک رپورٹ جاری کر دی ہے پاکستان میں کرپشن میں کمی واقع ہوئی ہے۔کرپشن میں نونمبر بہتری آئی ہے۔ایک سو ستر ملکوں میں ایک سو انیس نمبر پر آ گیا ہے۔آزاد ذرائع نے اس رپورٹ پر تجزیہ کرتے ہوئے یہ سوال کیا ہے کہ موجودہ حکومت نے کرپشن روکنے کے لیے کوئی بھی بڑاقدم نہیں اُٹھایا کہ جس سے معلوم ہو کہ کرپٹ لوگوں پرگرفت کی گئی ہے اور کرپشن پر قابو پا لیا گیا ہے۔بلکہ وزیر اعظم صاحب کا یہ بیان ریکارڈ پر موجود ہے جس میں احتساب بیررو کے سربراہ کی سرزنش کی گئی تھی کہ بے گناہ لوگوں کی پگڑیاں نہ اُچھالی جائیں ۔ہاں ایک بات ضرور ہے کہ اپوزیشن کے الزامات کے علاوہ حکومت کے کسی میگا پروجیکٹ میں میگاکرپشن کی نشاندہی میڈیا میں نہیں ہوئی۔شاید اس کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ میگا پروجیکٹ کمپنیاں اپنی ساکھ برقرار رکھنے کے لیے کک بیک کو چھپائے رکھتی ہیں۔آزادذرائع نے اس پر بھی حریت کا اظہار کیا ہے کہ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل اِس سے قبل زرداری صاحب کے اثاثوں کی جان پھٹک کر کے ایک لسٹ میڈیا کو جاری کی تھی جس میں دنیا بھر میں ان کے اثاثوں کو پبلک کیا گیا تھامگر ایسا معاملہ نواز شریف کے حوالے سے نظر نہیں آیا جبکہ وہ چالیس سال سے اقتدار میں رہے ہیں کوئی جانب داری تو نہیں؟۔ البتہ میڈیا میں اپوزیشن ،خاص کر عمران خان کی طرف سے ایسی باتیں گردش کرتی رہی ہیں کہ نوازشریف نے اقتدار میں آنے کے بعد ایک اسٹیل بھٹی سے ترقی کرتے ہوئے لگ بھگ ۳۰؍ ملیں بنا لی ہیں۔ دوسری طرف ہمارے ملک کے ایک صدر نے کرپشن کے الزام میں نو سال قید کاٹی۔ مسٹر ٹین پرسنٹ سے ہینڈرنٹ پرسنٹ کے القاب سے نوازے گئے۔اسی پارٹی کے دو وزیر اعظم کرپشن کے مقدمات میں اب بھی ملوث ہیں ۔ایک صوبے کے سابق وزیر کے گھر سے نیپ نے کرپشن کی کرنسی برآمد کی گئی۔ ایک صوبے کے ایک سابق وزیر پر اب بھی اربوں کی کرپشن کے الزام کا مقدمہ چل رہا ہے ۔اس کے باوجود پارٹی کے شریک چیرمین کے حکم پراسے پارٹی کا ایک عہدہ بھی دے دیا گیا۔ اسی سابق وزیر کے حق میں تقریر کرتے ہوئے پی پی پی کے شریک چیرمین نے سابق فوجی سربراہ کو چلنج کیا تھا کہ تم لوگوں کی بھی فائلیں ہمارے پاس موجود ہیں ۔ہمیں تنگ کیا گیا تو ہم آپ کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے۔ ڈالر گرلز جس پر پانچ لاکھ ڈالر بیرون ملک اسمگل کرنے کا مقدمہ چل رہا ہے اس ہی پارٹی سے منسوب کیا جاتا ہے۔ سابق صدر کی کرپشن کا کیس نیپ نے ان ریمارکس پر بند کر دیا گیا کہ فوٹو اسٹیٹ پر مقدمہ نہیں چلایا جا سکتا۔ موجودہ حکومت کے ایک صوبے کے بیروکریٹ کے گھر سے ۷۵کروڑروپے کی لوٹی ہوئی کرنسی پر آمد ہوئی۔ ان پر نیب نے ستر ارب کی کرپشن ثابت کی اور آخر میں تین ارب کی بارگینگ کے تحت اس کی ضمانت منظور ہو گئی۔ موجودہ حکومت کے ایک حاضر وزیر کی رشوت لیتے ہوئے ویڈیو جاری ہوئیں۔ سپریم کورٹ کے حکم پرنیپ کے سربرا ہ نے ایک سو پچاس کرپشن کے میگا کیس کی لسٹ پیش کی گئی جس میں وزیر اعظم کا بھی نام شامل ہے اس پر نیب نے کوئی کاروائی نہیں کی۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ مسلمان حکمران اپنے پیارے پیغمبرؐ اور اس کے بعد خلفاء راشدین ؓ کے دور حکمرانی سے سبق حاصل کرتے۔مسلمانوں کے بیت المال کو مال یتیم سمجھ کر قرآنی ہدایات کے مطابق اس کی حفاظت کرتے۔ ہم جب اس معیار کی بات کرتے ہیں تو حال ہی میں ہمیں میڈیا کے ذریعے چین اور کچھ دوسرے ملکوں کی کرپشن ختم کرنے کے بارے کچھ معلومات حاصل ہوئی ہیں جو پاکستان میں جاری کرپشن اور اس کو پکڑنے والے کے کردار اور ان کے رویہ پر ہم پاکستان کے عوام کے ساتھ شیئر کر رہے ہیں۔چین کے موجودہ صدر نے عہدہ سمبھالتے ہوئے کہا تھا کہ کرپٹ لوگوں کو نہیں چھوڑوں گا چائے وہ شیر جیسی قوت رکھتے ہو۔چین کے ہاں ایک قانون ہے کہ کوئی بھی شخص جوپندرہ لاکھ زیان یا اس سے زیادہ کرپشن کرے اس کے لیے موت کی سزا ہے۔ اس قانون کے تحت بننے والے مقدمات پرکرپٹ لوگوں کی کرپشن ثابت ہونے پر ۹۹؍ فی صد کو سزا مل جاتی ہے۔ اس قانون کے تحت سیاسی رہنماؤں،فوجیوں اور بیروکریٹس کوکرپشن ثابت ہونے پرموت کی سزا سنائی جا چکی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ عبرت حاصل کرنے کے لیے حکومتی اہلکاروں کو اس جیل کی سیرکرائی جاتی ہے جہاں پر کرپشن کے جرم میں لوگ سزا بھگت رہے ہوتے ہیں۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ سی پیک میں کام کرنے والے ہزاروں چینی قیدی کام کر رہے ہیں۔ چین میں اب تک عدالتوں اور کمیونسٹ حکمران پارٹی کی طرف سے تین لاکھ لوگوں کو سزا سنائی گئی ہے۔افریقہ کے ملک نائجیریا کی بات کی جائے توکرپٹ اہلکاروں نے تیل کی آمدنی کے چار سو ارب ڈالر لوٹ لیے تھے۔وہاں کے صدر نے کرپشن ختم کرنے کے اپنے سات نکاتی پروگرام میں اعلان کیا تھا کہ جو بھی شخص کرپشن کی نشان دہی کرے گا اسے ریاست تحفظ مہیا کرے گی ساتھ ہی ساتھ اسے کرپشن کی مد میں وصول ہونے والی رقم کا پانچ فی صدحصہ بھی ملے گا۔اس اسکیم کے تحت دو سال میں ملک کو تیل آمندنی کی مد میں پہلے کے مقابلے میں تیس فی صد کا اضافہ ہوا۔ ملک میں مختلف محکموں میں چوبیس ہزار گھوسٹ ملازمین کو نکالنے سے ماہ وار اسی لاکھ ڈالر کی بچت ہوئی۔ دنیا میں پاناما پیپرز کے سامنے آنے پر چھ ہزارپانچ سو ٹیکس دہندگان کے خلاف کاروائی شروع ہوچکی ہے۔ گیارہ کروڑ ڈالر حکومتوں کے خزانوں میں داخل ہوئے ہیں۔ اگر پاکستان کی بات کی جائے تو پاکستان سے لوٹے ہوئے دوسو ملین ڈالر سوئس بنکوں میں اب بھی پڑے ہوئے ہیں جن کے لیے الیکشن کے دوران حکمران پارٹی کے لیڈروں نے کہا تھا کہ اس رقم کوواپس لا کر پاکستان کے خزانے میں داخل کیا جائے گا۔صاحبو! کیا ہمارے ملک میں ایساہوا؟ دنیا میں پاناما لیکس کے بعد اناسی شخصیات کے خلاف کے تحقیقات کا آغاز ہوا۔ کیا پاکستان میں ایسی کوئی مہم چلائی گئی؟ الٹا حکمران پارٹی کے ایک صوبے کے وزیر قانون پاناما لیکس کو پاجاما لیکس کہہ کر تمسخر اُڑاتے رہتے ہیں۔ کرپشن میں ملوث ہونے پر حکمران اور ان کے خاندان پر چل رہا ہے ۔ اﷲ کرے اس مقدمے میں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے۔ کرپشن ثابت ہونے کی صورت میں لوٹا ہوا پیسہ واپس عوام کے خزانے میں داخل کیا جائے۔ اسی طرح سابقہ حکمرانوں سے بھی لوٹا ہوا پیسہ واپس عوام کے خزانے میں داخل ہو۔ مہنگائی اور بے روزگاری ختم ہو۔ عوام خوشحال ہوں۔قوم سکھ کا سانس لے۔ پاکستان میں کرپشن کی جاری کہانی ختم ہو ۔پاکستا بھی دنیا میں سرخ رو ہو آمین۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mir Afsar Aman

Read More Articles by Mir Afsar Aman: 943 Articles with 481383 views »
born in hazro distt attoch punjab pakistan.. View More
30 Jan, 2017 Views: 369

Comments

آپ کی رائے