عثمان کی بے نور آنکھیں روشن دل عثمان کی بے نور آنکھیں روشن دل

(Abdul jabbar khan drashak, Rajanpur)
ایک نا بینا نوجوان کے بارے جو کمال کی ذہانت رکھتا ہے جو پاکستان کو دل کی روشنی سے دیکھتا ہے

تحریر:عبدالجبار خان دریشک

اب عمر عثمان 19 سال کا ہو نے والا ہے جس کو میں عرصہ چار سال سے جا نتا ہوں جب میں ریڈیو پر ہفتہ وار شو کر تا تھا تب ایک نوجوان با قاعدگی سے فو ن کر تا اور بڑے آداب اور سلجھے ہو ئے انداز میں با ت کر تا اور پروگرام کا جو بھی مو ضوع ہوتا اس پر بات کر تاکبھی اس نے مو ضوع سے ہٹ کر بات نہ کی اور نہ ہی اس نے باقی کا لرز کی طر ح وقت ضائع کیا پھر اس نے ایک دن مجھ سے میرا مو با ئل نمبر ما نگ لیا میں نے اس کے اچھے پن کی وجہ سے اپنا نمبر دے دیا اس کے بعد وہ میر ے سا تھ فو ن پر رابطے میں رہتا اور ملکی وسما جی مسائل پر میر ے ساتھ بات کر تا اس وقت اس کی عمر 14سال تھی جب اس نے ایک دن اس نے مجھے بتلایا کہ وہ ایک سپیشل پر سن ہے یعنی وہ بصارت سے محر وم ہے وہ دیکھ نہیں سکتا وہ پیدائشی طور پر ایسا ہے اس کی یہ بات سن کر میں ایک منٹ کے لئے خا موش ہو گیا اور میں سوچ میں پڑگیا کہ یہ کتنا سلجھا ہو ا انسا ن ہے آنکھوں کی بینا ئی نہ ہو نے کے با وجود دنیا جہا ن کے بارے میں اتنی معلو ما ت رکھتا ہے عثمان مسلسل چار سال سے میرے ساتھ رابطے میں ہے وہ عید ہو یا کو ئی تہو ار ہو یا پھر اس نے کوئی بات اس نے تخلیق کی ہو مجھے ضرور فو ن کر تا ہے میر ی اس کے ساتھ حا لیہ کچھ دن قبل ملاقا ت ہو ئی جب میں نے اسے بتا یا کہ میں آپ سے ملنے آ رہا ہو ں تو اس کی خو شی کی انتہا نہ رہی اس نے اپنے والد صاحب کو میرے استقبال کے لئے گلی کے شروع میں بھیجا تا کہ وہ مجھے لے جا ئے جب میں ان کے گھر کی گلی پر پہنچا تو ان کے والد صاحب میرے انتظار میں پہلے کھڑے تھے عثمان میری آواز سن کر بہت خوش ہو ا اور اس کے چہرے پر عجیب خوشی میں نے محسوس کی۔ عثمان سے اور ان کے والد صاحب سے گپ شپ ہو نے لگی میں نے عثمان کے والد سے سوال کیا کہ اس کا علاج ممکن ہے ڈاکٹر ز کیا کہتے ہیں انہوں نے جواب دیا یہ پیدائشی طور ایسا ہے اس لئے ڈاکٹرز کہتے ہیں ا س کا کو ئی علا ج نہیں ہے میں نے سوال کیا عثمان کی بصارت نہ ہونے کے بارے میں آپ کو کب معلوم ہو ا تو انہوں نے جواب دیاچا ر ماہ تک ہم مکمل طور پر اس با ت سے لا علم تھے جب ایک ہمارے رشتے دار جو ڈاکٹرتھے ہمارے گھر آئے تو ان کو شک ہو اکہ بچے کے سامنے کسی چیز کی آواز یا بجا تے ہیں تو وہ اس کو دیکھنے کی بجائے دائیں با ئیں دیکھنے کی کو شش کر تا ہے اس کے بعدآنکھوں والے ڈاکٹر کو دیکھایا جس پر ڈاکٹرز نے ساری صورت حال سے آگاہ کیا ۔عثمان کی چھوٹی بہن بھی بصارت سے محروم ہے اس کے والد نے بتا یا وہ عثمان سے بھی زیادہ ذہین ہے ان کی تعلیم کے بارے میں آپ لوگوں نے کچھ کیا تو اس پر عثمان کے والد صاحب نے کہا راجن پور میں خصوصی بچوں کا سکول تو ہے پر وہا ں پر بصارت سے محروم بچوں کی تعلیم کا بند وبست نہیں ہے اور نہ ہی ان جیسے خصوصی افراد کے لئے کو ئی ہنر مندی کا ادارہ ہے ان کا کہنا تھا اب عثمان یہ کہتا ہے میں نے لاہور جانا ہے کام سیکھنا ہے اور خوداپنے پیروں پر کھڑا ہو نا چا ہتا ہوں پر اس کے گھر والے نہیں جا نے دیتے ہیں اس پر عثمان کے والد نے بتا یا کہ ہم اس کو اس حالت میں کیسے اکیلا جا نے دیں وہاں ایسے ادارے ہیں بھی یا نہیں مستقل طور عثمان ریڈیو پر مختلف پر وگرام سنتا ہے ٹی وی پر خبریں تبصرے ٹاک شو اور معلوما تی پر وگرام سنتا ہے جس کی وجہ سے وہ دنیا جہان کی معلومات رکھتا ہے شاید اس عمر کا نارمل نوجوان وکوئی بڑی عمر کافرد اتنی معلو مات نہ رکھتا ہو وہ اپنے ملک پا کستان کو دیکھ تو نہیں سکتا پر دل کی روشنی سے اس کی خوبصورتی محسوس کر تا ہے وہ پا ک فوج سے بہت محبت کر تا ہے اس نے ایک ملی نغمہ بھی بنا یا ہے جو فوج کے اطلاعت کے ادارے آئی ایس پی آر ISPR کو دینا چا ہتا ہے جس کو اس نے اپنے مو با ئل میں ریکارڈ کیا ہو ا تھا وہ کشمیری مسلمانوں کے لئے محبت اور ہمدردی کے جذبات رکھتا ہے بھارت کے ظلم پر احتجاج کر تا ہے اور اپنے حکمرانوں کی مسئلہ کشمیر کے لئے مناسب آواز بلند نہ کر نے پر افسردہ ہو تا ہے وہ اپنے ملک کے سیاست دانوں سے ما یوس ہو تا ہے کہ وہ پا کستا نی عوام کے مسائل خاص کر بجلی کی لوڈشیڈنگ کا مسئلہ حکمران اب تک حل نہ کر سکے ہیں اسے پاکستان کے مو جودہ حالات خاص کر پانامہ کے معا ملے پر بھی کافی معلومات ہے اس کو عدالتی کاروائیوں اور مو جو دہ صورت حال کا بھی پتہ ہے اس نے طیبہ کے کیس پر بھی مجھے بتا یا کہ ایک ننھی بچی پر ظلم کے پہاڑ کیسے ڈھائے گئے وہ حالیہ لند ن فلیٹس اور بی بی سی کی رپوٹ بارے بھی آگا ہ ہے وہ جنرل راحیل شریف کو بہترین آرمی چیف کے طور پر یا د کر تا ہے وہ آپر یشن ضرب عضب کی کا میابیوں کے بارے میں بھی جانتا ہے آرمی پبلک سکول اور دہشت گردی کے واقعات پر افسوس کا اظہارکرتے ہوئے ان کی بھر پور مذمت بھی کرتا ہے وہ نئے آرمی چیف جنر ل قمر جاوید باجوہ کے عہدہ سنبھالنے کے بارے میں بھی آگاہ ہے اور ان سے بھی جنرل راحیل شریف کی طر ح تواقعات رکھتا ہے وہ پا کستا ن کے عظیم الشان منصوبے پاک چائینہ راہداری کے بارے بھی کا معلومات رکھتا ہے اور امید کرتا ہے کہ اس سے پا کستا ن کے حالات جلد بدل جائیں گے وہ امریکہ کے سابق صدر بارک اوبا مہ کی رخصتی اور نئے صدرڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں بھی معلو مات رکھتا ہے اور ٹر مپ کے خلاف ہو نے والے احتجاجی مظاہروں سے بھی آگاہ ہے ٹرمپ کے حالیہ سات مسلمان ممالک پر لگائی جا نے والی پابند ی کے بارے میں بھی آگاہ ہے اور ٹر مپ کے اس اقدم کو غلط ما نتا ہے وہ کھیل شوبز کی دنیا کے بارے میں بھی اچھی معلومات رکھتا ہے اس نے بتا یا کہ میری آنکھوں کی بینا ئی ہوتی تو میں پا ک فوج میں جاتا اور اگر اس حالت میں پڑھ جاتا تو لیکچرار بنتا اور ان لوگوں کو لیکچر دیتا جو اس دنیا میں مایوسی کی زندگی گزار رہے ہیں ان کو درس دیتا کہ زندگی کی مشکلات کا سامنا کریں بلکہ مایوس ہو کر خودکشی نہ کر یں عثمان ہمارے لئے ایک مثال ہے عثمان ہم آنکھوں والوںمیں روشن دل کا مالک ہے وہ دل کی روشنی سے وہ سب کچھ محسوس کر سکتا ہے جو ہم اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھ سکتے ہیں ہمارے معاشرے کا المیہ ہے کہ ہم ایسے خصوصی افراد کو نظر انداز کر دیتے ہیں ریاست کے علاوہ ہماری معاشرتی اور انسانی ذمہ داری ہے ان افراد کا خصوصی خیال رکھیں ہم بڑے بڑے لو گوں کے پاس جا تے ہیں ان سے ملنے کے لئے گھنٹوں ان کا انتظار کر تے ہیں ان کی خوشمند کر تے ہیں ان کے ساتھ سلیفیاں بنواکر فخر محسوس کر تے ہیں کہ میں فلاں عزت ماب کے ساتھ پر ان خصوصی افراد کو ملنے کے لئے آپ کو نہ تو انتظارکر نا پڑے گا اور نہ ہی ان کی خوشمند کر نی پڑے گی آپ کو ان سے مل کر جو دلی خوشی اور سکون ملے گا وہ کسی بڑے پیسے والے سے مل کر نہیں ملے گا آپ بڑے لوگوں کو دنیا داری کی وجہ سے ملتے ہیں پر ان کو دلی سکون اور دعاؤں کے حصول کے لئے ملیں ان کے منہ سے نکلی ہو ئی دعا سے آپ کا دل مطمئن اور ان کی طر ح روشن ہو جا ئے گا پھرجو کچھ آپ اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھ سکتے وہ دل کی روشنی سے دیکھنے کے قا بل ہو جا ئیں گے اگر آپ کے آس پاس محلے گاؤں شہر میں ایسے افراد ہو ں تو ان سے ضرور ملا کر یں ان کو وقت دیں ان سے حال احوال کریں ان کا خیال رکھیں میں تو سمجھتا ہو ں ان کی بے نور آنکھیں ضرور ہیں پر ان کے دل بہت روشن ہیں-

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Abdul jabbar khan drashak

Read More Articles by Abdul jabbar khan drashak: 151 Articles with 79858 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
05 Feb, 2017 Views: 657

Comments

آپ کی رائے