جنہیں دیکھ کر شرمائے یہود

(Nida Yousuf Shaikh, )
 ایک مرتبہ ایک نیک دل گورنر نے حضرت عمر ؓ کے بیٹوں کو کچھ فائدہ پہنچانا چاہاجسمیں بیت المال کا کوئی نقصان بھی نہیں تھا مگر حضرت عمر ؓ نے اسکی بالکل اجازت نہ دی ۔آپ کے دو بیٹے حضرت عبداﷲؓ اور عبیداﷲؓ لشکرِ اسلام کے ساتھ جہاد کیلئے عراق گئے واپسی پر وہ بصرہ سے گزرے جہاں حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓگورنر تھے ،گورنر نے امیر المومنین کے بیٹوں کی آوبھگت کی اور محبت سے اپنے پاس ٹھرایا پھر رخصت کرتے وقت کہا میرے پاس کچھ رقم ہے جو میں امیر المومنین کے پاس بھیجنا چاہتا ہوں تم یہ رقم لے کر یہاں عراق سے مالِ تجارت خرید لو ،مدینہ جا کر مال بیچ ڈالنا اور یہ رقم بیت المال میں جمع کرا دینا جو نفع ہوگا وہ تمھارا ہوگااسی مضمون کا ایک خط انہوں نے امیر المومنین کے نام بھی لکھ بھیجا۔

جب امیر المومنین کے بیٹے مدینہ پہنچے اور خبر دی تو فوراََ پوچھا کیا سارے لشکریوں کو گورنر نے رقم دی ہے کہ تجارت کر کے نفع کمائیں ؟انہوں نے کہا ـــــ’’نہیں ‘‘ فرمایا ـــ’’ اچھا تو پھر راس المال اور اس سے حاصل ہونے والا سارا نفع بیت المال میں جمع کرادو ‘‘۔ یہ سن کر حضرت عبداﷲ تو خاموش رہے مگر حضرت عبیداﷲ ؓنے کہا ’’امیرالمومنیےن آپکا یہ حکم درست نہیں کیونکہ مال کے ضائع ہوجانے یا تجارت میں خسارہ ہوجانے کا احتمال بھی تھا ،ایسی صورتِحال میں ہم یہ رقم بیت المال کو لوٹانے کے ضامن تھے۔‘‘حضرت عمرؓنے فرمایا ’’حجت بازی مت کرو بیت المال میں رقم اور منافع جمع کرادو ‘‘ حضرت عبیداﷲؓ نے اپنی بات دہرائی مگر حضرت عبداﷲؓ خاموش رہے اہلِ مجلس میں سے کسی صاحبِ رائے نے فیصلہ دیا کہ نفع میں سے نصف راس المال کیلئے اور نصف عاملین کیلئے ہونا چاہیئے ۔حضرت عمر ؓ نے اسکے فیصلے کو قبول کر کے نصف منافع بیت المال میں جمع کرادیا اور نصف دونوں کو دیدیا۔

حضرت عمرؓ جس بات کی دوسراں کو اجازت نے دیتے تھے اسکی اجازت اپنے بیٹوں کیلئے بھی جائز نہ سمجھتے تھے ۔ابو موسیٰ اشعریؓ کی تجویز غیر شرعی نہیں تھی مگر حضرت عمر ؓ نے اپنے زہدوتقویٰ کے مقام سے اسے فروتر جانا اور رخصت کی بجائے عزیمت کو ترجیح دی ۔ ہر صاحبِ مرتبہ شخصیت کو چاہئے کہ وہ شکوک و شبہات کے کاموں سے اپنا دامن بچا کر رکھے ۔آپ کو خلافت کے مقام اور اُسکے تقاضوں کا پوری طرح ادراک تھا اسی لئے آپ ؓ زمہ دارانِ حکومت کے معاملات کی کڑی نگرانی کیا کرتے تھے ۔اپنے اہل و عیال پر بھی ہمیشہ نظر رکھتے تھے کہ اُن سے کوئی ایسی حرکت سر زد نہ ہوجائے جسکی بنا پر لوگوں کی اُنگلیاں اُٹھنے لگیں کہ سربراہِ مملکت کے اہل وعیال غیر زمہ داری کا مظاہرہ کر رہے ہیں ۔آپ ؓ کی احتیاط کا یہ عالم تھا کہ بظاہر معمولی معمولی سی چیزوں کو بھی پوری اہمیت دیتے تھے ،جو شخص سرحد کے اوپر پہنچ جائے اس کے لئے ہر وقت یہ خدشہ موجود رہتا ہے کہ وہ اس سے بھی تجاوز کر جائیگا ، اسکے لئے عقلمند وہی ہے جو سرحد پر پہنچنے سے پہلے ہی اپنے قدم روک لئے۔

یہ ہمارے ہی اسلاف کے حکمراں ہیں کہ جنکی عظمت اور دورِ حکومت کی مثال اغیارِعالم بھی دیتے ہیں انکے دورِحکمرانی میں نظام کے اندر کہیں بھی کسی بھی قسم کا جھول یا رخنے کی گنجائش نہیں پائی جاتی تھی جبھی تو اس دور میں پورے کرہِ ارض میں مشرق ومغرب ،شمال و جنوب تک مسلمانوں کا طوطی بولتا تھا انصاف ہر طبقے فکر ہر مذہب کے ساتھ برابری کے اصول پر ہوتا تھا اور جسکا انحراف کوئی بھی زی روح نہیں کر سکتا تھا مسلم ہوں یا غیر مسلم تمام ہی آپ کے فیصلوں کو دل سے تسلیم کرتے تھے،جبھی تو آج بھی غیر قومیں اور لادینی قوتیں ہمارے اسلاف کے دورِ حکومت کے سنہری اصولوں کو اپنے قوانین کا حصہ بنا کر ترقی کی منازلیں تیزی سے طے کرتی ہوئی نظر آتی ہیں اور ہم اُسکے برعکس اُلٹی روش اپنائے ہوئے ہیں اب آپ خود اپنے ملک پاکستان کے حکمرانوں پرہی نظر ڈالئے اُ نکی حالتِ زار یہ ہے کہ وہ اپنی مشکوکانہ سرگرمیوں اور فطرت کی بنیاد پر ناصرف ملک پاکستان میں تنقید اور ملامت کا نشانہ بنے ہوئے ہیں بلکہ بین القوامی نوعیت پر بھی پاکستان کے لئے ایک بد نما داغ ہیں اور جسکا اُنہیں کوئی دُکھ بھی نہیں شرمندگی تو بہت دور کی بات ہے ۔

آج ہمارے حکمرانوں کے کارناموں نے ہماری قوم کو کس دوراہے پر لا کھڑا کیا ہے کہ نا ہم خود کو آسمان پر تصور کرتے ہیں نا ذمین پہ بلکہ گزشتہ اور موجودہ نظامِ حکومت سمیت خود کو خلا میں معلق پاتے ہیں اب جیسا کہ ہم دیکھ ہی رہے ہیں کہ اس وقت ہماری قوم کی یہ حالت ہے کے ہر جانب لوٹ مچی ہوئی ہے ہر طرف کرپشن کا دہشت گردی کا باز ار گرم ہے ہمارا ہرسیاستدان ہو حکمراں ہوں یا کوئی دانشور ہرکوئی ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچتا نظر آرہا ہے پانامہ لیکس ،ڈونلڈ ٹرمپ اور دہشت گردی نے اس وقت پوری دنیا میں تہلکہ مچایا ہوا ہے ۔پانامہ لیکس کی حقیقت کو اب تک کسی نے بھی چیلنج نہیں کیا ہے کچھ حکمرانوں نے اس جُرم کی پاداش میں شرافت کے ساتھ اپنی اقتدار کی کُرسی چھوڑ دی اور لیکن پاکستان میں یہ معاملہ دن بدن طول پکڑتا جا رہا ہے سپریم کورٹ نے اس کیس کو ڈیل کرنے کیلئے پانچ رُکنی ججز کا بینچ مقرر کیا ہے جو چابکدستی کے ساتھ اس معاملے کو حل کرنے میں مصروف ہیں قوم کو پوری امید ہے کہ ہمارے تجربہ کار ججز یقینا کوئی بہتر فیصلہ کر کہ قوم کے سامنے لاینگے جو یقینا انصاف پہ مبنی ہوگا لیکن فی الوقت ہمارے قابلِ احترام جسٹس عظمت سعید شیخ صاحب جو کہ اس بینچ کے ایک اہم رُکن بھی ہیں اچانک عارضہ قلب لاحق ہونے کی بنا پر بسترِ علالت پر ہیں ا نشاﷲ جلد صحتیاب ہو کر اس اہم کیس کو انجام تک پہنچانے میں اپنا کلیدی کردار ادا کرینگے ۔

مختلف چینلز میں روزانہ پانامہ لیکس کے متعلق ہمارے سیاستدان اور ماہرین گفتگو کرتے نظر آتے ہیں ایک چینل میں شیخ رشید نے کہا ہے کہ ’’میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ کیس برصغیر ایشیا میں دنیائے سیاست کا پاکستان کی تاریخ میں سب سے بڑا کیس ہے پانچوں جج پاکستان کے چوٹی کے جج ہیں آگے انہی میں سے چیف جسٹس بننا ہے اور یہ انصاف کی ایسی بنیاد اس ملک میں رکھینگے کہ اس ملک میں کوئی بھی آدمی جمہوریت کو میلی نظر سے نہیں دیکھ سکے گا اور نہ ہی سپریم کورٹ کو کوئی بیٹھک سمجھے گا نیز انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر فیصلہ ہمارے برعکس بھی آیا تو ہم اسکو حق پر مبنی سمجھیں گے قوم میرا رکارڈ رکھ لے کیونکہ میرادل گواہی دے رہا ہے کہ ججز سمجھتے ہیں کہ کیس کیا ہے ‘‘ جبکہ اس کے بر عکس جاوید ہاشمی ایک چینل پہ کہتے ہیں کہ’’ ہم پانامہ کی سماعت کو سنگین نہیں سمجھتے الزام لگا ہی نہیں سکے اگر ثبوت ہیں بھی تو پیش نہیں کئے گئے‘‘۔

اس قسم کے بحث و مباحثے روزانہ کی بنیاد پر مختلف چینلز پر دیکھنے اور سننے کو ملتے ہیں مگر اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس پانامہ کیس سے ہم یعنی عواپ نے پوری قوم نے کیا سیکھا ۔ہمارے حکمراں قوم کے دانشور ودیگر سیاسی جماعتیں صحافتی ادارے قوم کو یا ہماری آنے والی نسلوں کے اپنے عمل اور اقدامات سے کیا تربیت دے رہی ہے ، ہم کس روش پر چل پڑے ہیں اس لوٹ کھسوٹ کرپشن جھوٹ دھوکا دہی قومی پیسے کا عوام کے خون پسینے کے پیسے کا یوں اسطرح سے پانی کی طرح ضایع کرنا اپنی اپنی ناختم ہونے والی تجوریوں میں بھرنا یہ سب کیا ہے۔یوں لگتا ہے کہ ملک میں کوئی خانہ جنگی کی کیفیت طاری ہے ہمارے ملکی اندرونی معاملات اتنے کَرش ہوچکے ہیں کہ ہمیں اسبات کا کچھ بھی اندازہ نہیں کہ ملک سے باہر لادینی قوتیں ٹرمپ اور مودی کی شکل میں ہم پر کسطرح آہستہ آہستہ اپنا پنجہ کس رہی ہیں ۔

ہماری سوچ بھی ہمارے حکمرانوں کی طرح بھکاریوں جیسی بن گئی ہے ہمیں ٹرمپ کے پے در پے دہشت گردانہ اور انتہا پسندانا اقدامات سے اسبات پر کوئی فرق نہیں پڑ رہا ہے کہ وہ ہماری قومی مذہبی غیرت پر اپنی تعصبانہ سوچ کی خاطر پہ درپہ حملے کر رہا ہے بلکہ ہمارے حکمراں اور قوم کو اس بات کی فکر لاحق ہو گئی ہے کہ اب ہماری امداد کا کیا بنے گا اب ہمارے گرین کارڈ کا کیا ہوگا ہم کہاں جائینگے کس سے مانگینگے کس کے پاس جا کر اپنا دستِ سوال دراز کرینگے ، جبکہ ٹرمپ بھی ہماری ان کمزوریوں سے خوب واقف ہے جسکا اظہار وہ اپنی تقاریر میں بیشمار بار کر چکا ہے جیسا کہ حالیہ ابھی ایک چینل کی رپورٹ میں اُسکی فون کال دکھائی گئی جسمیں اُس سے ڈاکٹر آفریدی کے بارے میں پوچھا گیا کہ کیا پاکستان اُسکو آپ کے حوالے کر دیگا ؟ٹرمپ نے جواب میں کہا کہ’’ مجھے صرف دو منٹ لگیں گیاور پاکستان مجھے ڈاکٹر آفریدی حوالے کر دیگا کیونکہ ہم پاکستان کو پیسے دیتے ہیں اُسکی مالی امداد کرتے ہیں ۔‘‘

آپ اُسکی اس کال سے خود ہی اندازہ لگا لیں کہ ہمارے حکمرانوں اور قوم کی غیرت کا اُسکی نظر میں کیا معیار ہے ۔پھر ایک نظر آپ مسلمانوں کی تاریخ پر ڈالئے سوچئے کہ ہم اُس مشکل دور میں سُپر پاور جانے جاتے تھے یہی یہود و ہنود حضرت عُمرؓ کا خالی نام سُن کر اپنی کُرسی بھول جاتے تھے اور آج ․․آج ہم کہاں ہیں ،ہم نے اپنی تاریخ خود اپنے ہاتھوں سے مٹا ڈالی ہے بالکل علامہ اقبال کا یہ شعر ہم پہ صادق آتا ہے کہ
شور ہے ہو گئے دنیا سے مسلماں نابود
ہم یہ کہتے ہیں تھے بھی کہیں مسلماں موجود
وضع میں تم ہو نساریٰ تمدن میں ہنود
یہ وہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کر شرمائے یہود
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Nida Yousuf Shaikh

Read More Articles by Nida Yousuf Shaikh: 19 Articles with 7824 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
06 Feb, 2017 Views: 440

Comments

آپ کی رائے