جینٹلمین گیم - بدنامی کے گڑھے میں۔۔!!

(Rehman Mehmood Khan, Islamabad)
دیگرلیگز کی طرح پاکستان سپر لیگ بھی میچ فکسنگ کے جراثیم سے آلودہ ہو گئی

حالیہ دنوں میں پاکستان کرکٹ میں ایک سیکنڈل منظر عام پر آیا جس میں پاکستان کے دو سٹار کھلاڑیوں شرجیل خان اور خالد لطیف کے نام میچ فکسنگ کے حوالے سے لیے جارہے ہیں۔انڈین کرکٹ لیگ(IPL)،بنگلادیش کرکٹ لیگ(BPL)اور آسٹریلن بگ بیش کے میچز میں شکوک شبہات کے بعد دنیا کی نظریں نومولود پاکستان سپر لیگ(PSL)پر جمی ہوئیں تھیں کہ شاید اس ٹورنامنٹ میں بقیہ ممالک کی لیگز کی طرح فکسنگ جیسے ’’کارنامے‘‘سے مبرا میچز دیکھنے کو ملیں گے لیکن پی ایس ایل کے آغاز میں ہی مذکورہ دونوں کھلاڑیوں پر میچ فکسنگ کرنے والے ایجنٹوں کے ان کھلاڑیوں سے رابطے کے انکشافات منظر عام پر آئے۔

دنیا بھر میں دیگر ٹورنامنٹس کی طرح پاکستان سپر لیگ بھی میچ فکسنگ کے جراثیم سے آلودہ ہو گئی، اپنے وجود میں آنے کے ایک سال بعد ہی انڈین پریمیئر لیگ اور دنیا میں دیگر ٹورنامنٹس کی طرح پی ایس ایل کو میچ فکسنگ الزامات کاسامنا کرنا پڑ رہا ہے۔جس پر PCBنے دو نوں سٹار کھلاڑیوں شرجیل خان اور خالد لطیف کو فوری وطن واپسی کا پروانہ تھماتے ہوئے اِن الزامات کی شفاف انکوائری کا عندیہ دے دیا۔کرکٹ جو کبھی صاف ستھرا کھیل ہونے کی وجہ سے’’ جنٹلمین گیم‘‘ کہلا یاجاتا تھا ‘گزشتہ کافی عرصہ سے فکسنگ کے گرداب میں پھنسا ہوا ہے۔کرکٹ کے ایوانوں میں میچ فکسنگ کی بازگشت اکثرسنائی دیتیہے،باالخصوص پاکستان کے کرکٹرز دنیا کے دوسرے ممالک میں شک و شبہات کی نظر سے دیکھے جاتے ہیں،جو پاکستانیوں کے لیے باعث شرمندگی ہے۔زیر نظر مضمون میں پاکستان کے اُن کھلاڑیوں کاذکر کریں گے،جن کانام ماضی میں فکسنگ کرنے والے کھلاڑیوں کے طور پر یا جواریوں سے رابطہ رکھنے کے حوالے سے لیا جاتا رہا۔سب سے پہلے ہم دیکھتے ہیں کہ فکسنگ کا جن کیسے نمو دارہو……

تاریخ کیا کہتی ہے؟
تاریخ کنگھالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ 1919ء کے اوائل میں امریکن بیس بال میں ایک سکینڈل مشہور ہوا ،جس کی وجہ یہ تھی کہ شکاگو وائٹ ساکس کے مالک چارلس چومسکی ٹیم کے کھلاڑیوں کووقت پر پیسے نہیں دیتا۔نہ کبھی بونس دیتا،جس پر ٹیم کے کھلاڑیوں نے ورلڈ سیریز کے میچ فکس کرکے ٹیم کا مالک کو سبق سکھانے کا سوچا۔ٹیم کے مرکزی کھلاڑی تو میچ فکس کرنے پر بضد تھے جب کہ بقیہ سات کھلاڑی بھی نیم رضامند تھے جنھیں فکسنگ پر قائل کر لیا گیا۔اِن کھلاڑیوں کے درمیان سیریز کے آغاز سے قبل ایک میٹنگ ہوئی جس میں سب اس بات پر قائل ہوگئے کہ میچ فکس کرکے ’’چارلس چومسکی‘‘کو سبق سکھایا جائے۔یہ میٹنگ بعد میں بیس بال کی تاریخ کے سب سے بڑے میچ فکسنگ سکینڈل کا پیش خیمہ ثابت ہوئی اوربعد میں یہ سکینڈل’’بلیک ساکس سکینڈل ‘‘ کے نام سے مشہور ہوا۔یہ ذکر ہے 1919ء کی میجر لیگ بیس بال کی ورلڈ سیریز کا جب ’’شکاگو وائٹ ساکس‘‘ اور’’ سنسناٹی ریڈز‘‘ کا آپس میں مقابلہ تھا۔شکاگو وائٹ ساکس کے آٹھ کھلاڑی جو اپنے مالک سے سخت نالاں تھے انہوں نے اپنے رنگ لیڈر چک گنڈل کے اکسانے پر اور کچھ اپنے لالچ کی بنا پر میچز فکس کرنے کے لئے جوئے بازوں سے پیسے لینے پر رضا مندی ظاہر کی۔اس ورلڈ سیریز سے قبل ہی میچز فکس ہونے کے شکوک پھیلنے شروع ہو گئے تھے۔بعد میں ان تمام کھلاڑیوں پر تا حیات پابندی لگا دی گئی۔جچھ عرصہ بعدعدالت نے ان سب کو نا کافی ثبوت کی بنا پر بری کر دیا مگر امریکن بیس بال کے منتظمین نے ان پر تا حیات پابندی برقرار رکھی۔اگر تقریباً سو سال قبل بیس بال کے کرتا دھرتا یہ سخت فیصلے نہ کرتے تو بیس بال کی تاریخ شاید کچھ اور ہی ہوتی۔

شرائط کیسے لگتی ہیں؟
پاکستان میں خاص طور پر لاہور،کراچی،اسلام آباد،پنڈی اور دیگر چھوٹے بڑے شہروں میں میچز پر شرط لگا کر کھیلنے کی روایت کافی پختہ ہے۔اکثرٹیپ بال یا ٹینس بال میچز میں لوگ انعام کے طور پر پھل ،فروٹ،کھانا،کوک وغیرہ لگا لیتے ہیں جس میں قطعا کوئی حرج نہیں سمجھا جاتالیکن شاید یہ جوا کی با لکل ابتدائی اور معصوم سی شکل ہے۔اب جو لوگ منافع کی تلاش میں ہوتے ہیں وہ مختلف میچز،اچھے کھلاڑیوں،مختلف ٹیموں پر شرط لگانا شروع کر دیتے ہیں۔ اکثر یوں ہوتا ہے کہ لوگ کسی بھی کھلاڑی کو میچ میں کچھ خاص کرنے کے لئے رقم دیتے ہیں۔یعنی کہ تم اس بولر کو ایک اوور میں تین چھکے مار دینا یا تم نے پہلا رن سنگل ہی بنانا ہے یا اسی قسم کی کوئی اور شرط۔کھلاڑی اس کے عوض پیسے لیتا ہے۔بظاہر یہ ایک بے ضرر قسم کی فکسنگ ہے۔مگر یہ خام خیالی ہے۔اب لوگ سنگل وکٹ لگا کر ایک کھلاڑی کا دوسرے کھلاڑی سے مقابلہ کرواتے ہیں۔اس سنگل وکٹ میچ پر شرط باز اور جواری اپنی رقم لگاتے ہیں۔یوں اب یہ سلسلہ بڑھتا جاتا ہے۔معمولی سی معصوم سی کھانے ،بریانی اور کوک کی شرطیں اب ہزاروں اور پھر لاکھوں تک چلی جاتی ہیں۔ اب لوگ دنیا بھر کے میچز پر رقم لگانے کا آغاز کرتے ہیں۔یوں ان کا دنیا کے باقی جواریوں اور جوا مارکیٹ سے آشنائی کا آغاز ہوتا ہے۔

جواریوں کے منظم گروہ پھر اس کوشش میں ہوتے ہیں کہ جن میچز پر پیسے لگے ہیں ان کے متعلق انہیں زیادہ سے زیادہ انفارمیشن ہو۔یہ چیز میچ فکسنگ، سپاٹ فکسنگ کی طرف لے جاتی ہے۔بکیز کمزوراور ایسے کھلاڑیوں کی تلاش کرتے ہیں جو اُن کے بچھائے جال میں پھنس سکے۔یوں کھلاڑیوں کو رشوت دینے کی ابتدا ہوتی ہے۔اب معاملہ جوا اور شرط سے بڑھ کر سپاٹ فکسنگ، فینسی فکسنگ اور میچ فکسنگ تک جا پہنچتا ہے۔

سب سے افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ کچھ سابق کرکٹرز اور شائقین کی اکثریت ہر میچ پر ہی شکوک کا اظہار کر دیتی ہے۔ویسے اب اس بات کو بھی لوگوں تک پہنچا دینا چاہئے کہ پاکستان میں اکثر شائقین جو کسی میچ کے فکس ہونے کی افواہ پھیلاتے ہیں وہ خود اسی میچ پر جوا لگاکر بیٹھے ہوتے ہیں اور ہارنے پر اپنی بھڑاس نکالتے ہیں۔اس کا یہ مطلب نہیں کہ میچ فکسنگ نہیں ہوتی ،اب یہ ایک کھلی حقیقت ہے۔

ماضی میں پاکستان کرکٹ کے جن کھلاڑیوں کے نام فکسنگ جیسی عفریت میں سامنے آئے ،اُن میں عطاء الرحمن،سلیم ملک،محمد آصف ،محمد عامر،سلمان بٹ اور دانش کنیریا شامل تھے۔اس حوالے سے ملک محمد قیوم کمیشن بہت مشہور ہوا۔اِن متذکرہ کھلاڑیوں کو تو باقاعدہ عدالتی نظام کے تحت قانون کے مطابق سزائیں بھی ہوئی اور جیل کی ہوا بھی کھانا پڑی،عطاء الرحمن اور سلیم ملک ان پانچ کھلاڑیوں میں شامل ہیں جن پر میچ فکسنگ کے سلسلے میں کرکٹ کھیلنے پر تاحیات پابندی لگائی گئی ہے۔ان کھلاڑیوں میں پاکستان کے سابق کپتان سلیم ملک، سابق بھارتی کپتان محمد اظہر الدین، اجے شرما، اور جنوبی افریقہ کے سابق کپتان ہینسی کرونیے شامل تھے۔ کرونیے کا بعد میں جہاز کے ایک حادثے میں انتقال ہو گیا تھا۔ جب کہ کچھ ایسے کھلاڑی جنھیں میچ فکسنگ کی تحقیقات میں نہ صرف شامل کیا گیا بلکہ ہلکی پھلکی سزائیں یعنی میچ فیس کی کٹوتی کے علاوہ جرمانے اور چند میچز پر شرکت کرنے پر پابندی کی سزائیں سنائی گئی۔ایسے کھلاڑیوں میں وسیم اکرم،وقار یونس،اعجاز احمد،سعید انور،مشتاق احمد، انضمام الحق اور اکرم رضا کے نام شامل ہیں۔

شرجیل خان
سری لنکا کے خلاف شارجہ اور دبئی میں چوکوں اور چھکوں سے شہرت پانے والے نو آموزپاکستانی اوپنر شرجیل خان سابق اوپنرسعید انور کی طرح پرکشش سٹروکس اور فطری صلاحیتوں کے مالک ہیں۔ ڈومیسٹک کرکٹ میں مسلسل تین سیزن اچھا کھیلے اور فرسٹ کلاس ڈبل سنچری بھی سکور کی،جس کے بعد وہ قومی کرکٹ ٹیم میں شامل کیے گئے۔گو کہ ابھی شرجیل خان نے 25ون ڈے میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے6نصف سنچریوں اور152رنز کی برق رفتار سنچری سکور کرتے ہوئے812رنز بنائے ہیں ۔ اپنے کیریئر کے اوائل ہی میں پہلے ہی بین الاقوامی مقابلوں میں اچھی کارکردگی سے شائقین کرکٹ کے دل موہ لیے۔حالیہ PSLمقابلوں کے آغاز ہی میں چند مشتبہ افراد سے ملاقات کے الزام میں شرجیل خان کو دبئی سے واپس پاکستان بھیج کر انکوائری کا آغاز کیا گیا ہے۔

خالد لطیف
ٹاپ آرڈر بیٹسمین خالد لطیف کا کیریئر گو کہ اتنا نمایاں نہیں رہالیکن حالیہ PSLمقابلوں میں شرجیل خان کی طرح وہ بھی میچ فکسنگ کی زد میں آگئے۔خالد لطیف کے کیریئرکا آغاز 2008ء میں زمبابوے کے خلاف ہوااور وہ 2008ء سے2010ء کے دوران صرف5ون ڈے میچز ہی کھیل سکے جب کہ 13ٹی20میچز میں ایک ففٹی سکور کرتے ہوئے 218رنز سکور کیے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے جارح مزاج بیٹسمین شرجیل خان اور خالد لطیف کو معطل کرکے انہیں متحدہ عرب امارات سے پاکستان واپس بھیج دیا جبکہ دبئی میں ہوٹل لابی کے اندر ایک مشتبہ شخص کے ساتھ مبینہ مشکوک رابطوں کی تحقیقات شروع کردی گئیں۔پی سی بی نے اینٹی کرپشن کوڈ کی مبینہ خلاف ورزی پر پی ایس ایل سے معطل ہونے والے شرجیل خان اور خالد لطیف کو تحقیقات مکمل ہونے تک معطل کیا۔تادم تحریر ان کھلاڑیوں پرانکوائری کا آغاز ہونے جارہا ہے اور اگر ان پر الزامات ثابت ہوگئے تو اِن پر تاحیات پابندی بھی لگ سکتی ہے۔

پاکستان کے جارح مزاج اوپننگ بیٹسمین شرجیل خان اورخالد لطیف ان بدنام زمانہ25 عالمی کرکٹرزکی فہرست میں شامل ہوچکے ہیں جنہیں گزشتہ 17 برسوں کے دوران میچ فکسنگ میں ملوث ہونے کے سبب سزا کا سامنا کرنا پڑا۔پاکستان کے محمد عامر اور ویسٹ انڈیز کے مارلن سیموئیلز بھی ان کھلاڑیوں میں شامل ہونے کے باوجود پاکستان سپر لیگ (PSL)میں شامل ہیں، تاہم وہ اپنی سزائیں بھگت چکے ہیں۔

عطاء الرحمن
پاکستان کرکٹ ٹیم کے فاسٹ باؤلرعطاء الرحمن جب صرف 17 سال کے تھے تو انہوں نے 1992ء میں پاکستان کے لیے بین الاقوامی کرکٹ کھیلنی شروع کی تھی۔انہوں نے اپنا پہلا میچ انگلینڈ کے خلاف کھیلا تھا۔عطاء الرحمن نے کل 13 ٹیسٹ میچزکی22اننگز میں31 اور30 ایک روزہ میچوں میں27وکٹیں حاصل کیں،فاسٹ باؤلر نے تقریباً2سال پاکستان کی نمائندگی کی۔

سال2000ء میں میچ فکسنگ سے متعلق جسٹس ملک قیوم کی انکوائری میں ایک حلفیہ بیان میں کہا تھا کہ 1994ء میں نیوزی لینڈ کے خلاف ایک میچ میں وسیم اکرم نے انہیں خراب گیند کرنے پر ایک لاکھ روپے رشوت دی تھی لیکن بعد میں انہوں نے اپنا بیان بدل دیا اور کہا کہ انہوں نے وسیم اکرم کے خلاف جھوٹ بولا تھا۔17سال قبل2000ء میں پاکستان میں ایک میچ فکسنگ انکوائری کے سامنے جھوٹ بولنے کی وجہ سے عطاء الرحمن کے کرکٹ کھیلنے پر تاحیات پابندی لگا دی گئی تھی۔بعدازاں 2003ء میں کرکٹرکو الزامات سے بری کردیا گیا۔

سلیم ملک
سلیم ملک پاکستان کرکٹ ٹیم کے دائیں ہاتھ کے مڈل آرڈر بلے باز تھے۔سلیم ملک نے کل 103 ٹیسٹ میچزکی154اننگزمیں5768 اور283ایک روزہ میچوں میں7170رنز سکور کیے اور 89وکٹیں بھی حاصل کیں۔مڈل 2آرڈر بلے باز سلیم ملک نے تقریباً17سال پاکستان کرکٹ کی نمائندگی کی۔

سال 2000 ء میں میچ فکسنگ کی تحقیقات کرنے والے جسٹس ملک محمد قیوم کمیشن کی سفارشات پر سلیم ملک کو کرکٹ کی ہر قسم کی سرگرمی میں تاحیات شرکت سے روک دیا گیا تھا۔2000ء میں آسٹریلین سپنر شین وارن، ٹم مے اور مارک وا نے انکشاف کیا تھا کہ سلیم ملک نے 1994 میں آسٹریلیا کے دورہ پاکستان کے موقع پر انہیں اچھی کارکردگی نہ دکھانے کے عوض رشوت کی پیشکش کی تھی۔ان الزامات کی بنیاد پر حکومت پاکستان نے 1998ء میں لاہور ہائی کورٹ کے جج ملک محمد قیوم کی سربراہی میں ایک عدالتی کمیشن تشکیل دیتے ہوئے تحقیقات کا حکم دیا تھا جنہوں نے 2 سال بعد تحقیقات کی بنیاد پر سلیم ملک اور ساتھی فاسٹ باؤلر عطا الرحمان پر تاحیات پابندی عائد کردی تھی۔بعدازاں سلیم ملک پر لگی پابندی بھی 2008ء میں لاہور کی شہری عدالت نے ختم کر دی تھی تاہم پی سی بی اور نہ ہی انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے اس فیصلے کی توثیق کی تھی۔

پاکستان کرکٹ ٹیم کو فاسٹ باؤلنگ کے شعبے میں ہمیشہ بہترین باؤلرز کی دستیابی رہی اسی طرح Two W'sیعنی وسیم اور وقار کے کیرئیر کے اختتام پرفاسٹ باؤلنگ کے شعبے میں محمد آصف کا اضافہ ہوا جب کہ سعید انور کی ریٹائرمنٹ کے چند ماہ بعد ہی سلمان بٹ جیسے کھلاڑی کا اضافہ ہوا۔2009ء میں فاسٹ باؤلنگ کے شعبے میں ہی شعیب اختر اور محمد آصف کی جوڑی میں ایک تیسرے نوجوان باؤلر کی آمد ہوئی جس نے آتے ہی چہاردانگ عالم دھوم مچا دی،اور یہ تھے’’محمد عامر‘‘ ۔لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ ان تینوں جوان عمر کھلاڑیوں پر فکسنگ کے الزمات ثابت ہوگئے۔

سلمان بٹ اور محمد آصف پر نوجوان پاکستانی فاسٹ باؤلر محمد عامر کے ساتھ اسپاٹ فکسنگ کے ایک سکینڈل میں ان کے کردار کی تصدیق کے بعد 2011ء میں پابندی لگا دی گئی تھی۔آج سے7سال قبل برطانوی جریدے ’’نیوز آف دی ورلڈ‘‘ میں اگست 2010ء میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے ساتھ منظر عام پر آنے والے اس سکینڈل نے دنیائے کرکٹ میں بڑی ہلچل مچا دی تھی اور ان تینوں پاکستانی کھلاڑیوں کے کرکٹ کھیلنے پر پابندی اسی سکینڈل میں ان کے کردار کے باعث لگائی گئی تھی۔ان تینوں کھلاڑیوں نے اپنے ایک ایجنٹ مظہر مجید کے ساتھ مل کر اس بات کا اہتمام کیا تھا کہ 2010ء میں پاکستانی ٹیم کے انگلینڈ کے خلاف لارڈز میں کھیلے جانے والے آخری ٹیسٹ میں کس کس وقت جان بوجھ کر نو بالز کرائی جانا تھیں۔ ان کھلاڑیوں نے یہ فیصلہ مالی ادائیگی کے لالچ میں کیا تھا اور اس پورے واقعے میں نیوز آف دی ورلڈ کے ایک رپورٹر کا کردار بھی فیصلہ کن تھا، جس نے خود کو سپاٹ فکسنگ میں دلچسپی رکھنے والا ایک سٹے باز ظاہر کیا تھا۔

اس حوالے سے دیکھا جائے تو محمد عامر نے فوراً اپنے جرم کا اعتراف کرلیا تھا جب کہ محمد آصف اور سلمان بٹ میڈیا کا سہارا لے کر خود کو بے گناہ ثابت کرنے کے لیے حیلے بہانے کرتے رہے اور دوسری طرف اپنے کیسز پر بے تحاشا پیسہ لوٹاتے رہے۔سلمان بٹ اور محمد آصف کی جانب سے اپنے قانونی دفاع پر خرچ کی گئی دولت سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ جدید کھلاڑی کافی دولتمند تھے۔اس کیس نے ان تینوں کھلاڑیوں کے کیریئر،کارکردگی کو ناصرف ڈگمگا دیا بلکہ اِن کی اخلاقی پسماندگی کا پول بھی کھول دیا۔محمد آصف،محمد عامر اور سلمان بٹ پر پابندی کے وقت یہ کھلاڑی اپنے عروج پر تھے،2010ء میں محمد آصف اور محمد عامر کا طوطی بولتا تھا جب کہ سلمان بٹ پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان تھے۔ان کا کیرئیر پر ایک سرسری نظر ڈالتے ہیں:۔

محمد عامر
نوجوان فاسٹ باؤلر محمد عامر کی کرکٹ ٹیم میں نوعمری میں اچانک آمدہوئی اور وہ اپنی فاسٹ باؤلنگ ،رفتار اور وکٹوں کے دونوں جانب سوئینگ کرنے کی مہارت کے باعث دیکھتے ہی دیکھتے شہرت کی بلندیوں پر پہنچ گئے لیکن یہ شہرت زیادہ عرصہ برقرار نہ رکھ سکے اور لارڈز کے میدان میں مذکورہ فکسنگ سکینڈل میں ملوث ہونے باعث آ ن کی آن میں پابند سلاسل بھی ہوئے اور اُن کا کیریئر بھی داؤ پر لگ گیا۔

سپاٹ فکسنگ کے الزمات ثابت ہونے کے بعدآئی سی سی نے محمد عامر پر5 برس کے لیے بین الااقوامی کرکٹ کھیلنے پر پابندی عائد کردیلیکن محمد عامر کے ساتھ آئی سی سی کا رویہ دیگر دو کھلاڑیوں کی نسبت بہت ہمدردانہ رہا اور محمد عامر کو ’’اصلاحی جیل‘‘ میں رکھ کر نرم سزا دی گئی۔بعدازاں پاکستان کرکٹ بورڈ کی کوششوں کے بعد انھیں ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے کے اجازت ملی ہے۔سزا کاٹنے کے بعد محمد عامر پر عائد 5سالہ پابندی اپریل 2015ء میں ختم کر دی گئی تھی، جس کے بعد وہ ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے کے قابل ہو گئے۔محمد عامر نے تادم تحریر محض25 ٹیسٹ میچز کھیل کر 81 وکٹیں حاصل کیں جس کا اوسط 33.72 رہا۔ بہترین کارکردگی 71 رنز دے کر 11 وکٹیں تھیں۔عامرنے 29 ایک روزہ میچز میں 45 وکٹیں 27.13 کی اوسط سے جبکہ ٹی20 کے 31 میچز میں 34 وکٹیں حاصل کر رکھی ہیں۔

محمد آصف
پاکستان کرکٹ ٹیم میں وسیم اکرم اور وقار یونس کی ریٹائرمنٹ کے بعدفاسٹ باؤلنگ کے شعبے میں محمد آصف کا اضافہ ہوا۔2005ء میں ٹیسٹ اور ون ڈے کیپ حاصل کرنے والے آصف کا شمار سپیڈ ماسٹرشعیب اختر کی موجودگی میں دنیا کے بہترین فاسٹ باؤلرز میں ہونے لگااور کرکٹر پر ایک ایسا وقت آیا کہ دنیا میں انھیں پاکستان کا’’مک گراتھ‘‘کہنا شروع کردیا گیا۔

محمد آصف کو2008ء میں بھارت میں انڈین پریمیر لیگ کھیل کر واپس آتے ہوئے راستے میں دبئی ائیر پورٹ پر کسی ممنوعہ دوا کی برآمدگی پر 19 دن کے لیے حراست میں بھی رکھا گیا۔ پھر محمد آصف کے آئی پی ایل کے دوران لیے گئے ڈوپ ٹیسٹ میں مثبت پائے گئے جس کے نتیجے میں ان پر ایک سال کی پابندی لگا دی گئی۔اس میں کوئی شک نہیں کہ محمد آصف اپنے کیریئر کے دوران پاکستان کے باؤلنگ اٹیک کا ایک اہم ستون بن گئے۔ ان میں گیند کو سوئنگ کرنے کی قدرتی صلاحیت موجود ہے۔ اس وقت پاکستان کی موجودہ ٹیم میں نئی گیند کو وکٹوں کے دونوں جانب سوئنگ کرنے کا جو فن محمد آصف میں تھا وہ کسی اور میں نہیں تھا۔یہی وجہ ہے کہ ایک سال کی پابندی کے بعد جب محمد آصف نے دوبارہ پاکستانی ٹیم میں جگہ حاصل کی تو اپنی کارکردگی سے ایک بار پھر اپنا لوہا منوایا اور ٹیم کے اہم باؤلر بن گئے۔

بلاشبہ محمد آصف پاکستان کے بہترین فاسٹ باؤلر ثابت ہوئے،باالخصوص ٹیسٹ کرکٹ میں ان کی کارکردگی انتہائی متاثر کن رہی۔2005ء سے2010ء تک محمد آصف نے محض 23 ٹیسٹ میچز کھیل کر 106 وکٹیں حاصل کیں جس کا اوسط 24.36 رہا۔ بہترین کارکردگی 71 رنز دے کر 11 وکٹیں تھیں۔ آصف نے 38 ایک روزہ میچز میں 46 وکٹیں 33.13 کی اوسط سے جبکہ ٹی20 کے گیارہ میچز میں 13 وکٹیں حاصل کیں۔ جب محمد آصف پر پابندی عائد کی گئی تھی تو وہ نئی گیند سے باؤلنگ کروانے والے دنیا کے بہترین باؤلرز میں شمار کیے جاتے تھے۔

سلمان بٹ
2003ء میں بین الاقوامی کرکٹ کا آغاز کرنے والے بائیں ہاتھ سے بیٹنگ کرنے والے اوپنر بلے باز سلمان بٹ نے جب کرکٹ کا آغاز کیا تو انہی دنوں اوپنر سٹائلش بلے باز سعید انور نے ریٹائرمنٹ لی تھی اور پاکستانی بیٹنگ میں ابتدائی اوورز میں تیز بلے بازی کا فقدان تھا ایسے میں نوجوان بلے باز سلمان بٹ کی انٹری ہوئی،جنھوں نے اپنے دلکش سٹروکس سے مداحوں کے دل موہ لیے۔2003ء سے2010ء تک سلمان بٹ نے صرف33 ٹیسٹ میچز کی 62 اننگز میں 30.46 کی اوسط سے ’’1889‘‘ رنز تین سنچریوں اور 10 ففٹیز کی مدد سے بنائی تھیں۔ ان کا زیادہ سے زیادہ سکور 122 تھا۔ 78 ایک روزہ میچز میں 2725 رنز 36.82 کی اوسط سے بنائے۔ ان کا زیادہ سے زیادہ سکور 136 رنز رہا۔ ان سنچریوں کی تعداد آٹھ جبکہ 14 ففٹیز بھی بنائیں۔ ٹی20 کرکٹ میں 24 میچز کھیل کر 28.33 کی اوسط سے 595 رنز بنائے ان کا زیادہ سے زیادہ سکور 74 رنز رہا۔ انہوں نے 3 ففٹیز بنائیں۔

سزا پوری کرنے کے بعدگزشتہ سال محمد آصف اور سلمان بٹ کو آئی سی سی اور پاکستان کرکٹ بورڈ نے کلیئر قرار دیتے ہوئے بحالی کرکٹ پروگرام کے تحت دوبارہ انٹرنیشنل کرکٹ میں واپسی کے لیے اجازت دی۔

دانش کنیریا
کرکٹ میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے 1980ء کی دہائی کے کرکٹر انیل دلپت کے بعد دانش کنیریا دوسرے فرد بنے‘جنھیں پاکستان کی نمائندگی کا اعزاز حاصل ہوا۔2000ء سے2010ء تک لیگ سپنر کے طورپر قومی کرکٹ ٹیم میں اپنی پہچان بنانے والے ٹیسٹ سپن باؤلر دانش کنیریا پرپاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے2011ء میں تاحیات پابندی عائد کردی گئی۔ ٹیسٹ سپن باؤلر دانش کنیریا پر 2009ء میں ایسیکس کاؤنٹی کے ساتھی کھلاڑی میرون ویسٹ فیلڈ پر اسپاٹ فکسنگ کے لیے دباؤ ڈالنے پر انگلینڈ ،ویلز کرکٹ بورڈ(ای سی بی) نے گزشتہ سال جون 2009ء میں پابندی عائد کی تھی لیکن پاکستانی سپنر اس بات کی مستقل تردید کرتے رہے۔ جب کہ اُن پر ویسٹ فیلڈ نے الزام عائد کیا تھا کہ کنیریا نے ان پر، ایک بک میکر سے ناقص کارکردگی کے بدلے 6,000 پونڈ لینے پر دباؤ ڈالا تھا۔بعدازاں انگلش کرکٹ بورڈ کی طرف سے کنیریا پر ایسیکس کاؤنٹی اسپاٹ فکسنگ کیس میں مرون ویسٹ فیلڈ کی سٹے بازی میں معاونت اور بکیز سے ان کو متعارف کروانے کے الزام ثابت ہونے پر ان پر تاحیات پابندی کا فیصلہ کیا جس کا اطلاق پی سی بی پر بھی ہوا۔انٹرنیشنل کرکٹ کاؤنسل کے اینٹی کرپشن قوانین کے مطابق کسی بھی بورڈ کی طرف سے کسی بھی کھلاڑی پر عائد ہونے والی پابندی کا اطلاق تمام بورڈز کرتے ہیں۔پابندی سے قبل تک لیگ سپنردانش کنیریا نے پاکستانی ٹیسٹ کرکٹ سکواڈ میں رہتے ہوئے، 61 میچوں میں 261 وکٹیں حاصل کی تھیں۔
٭٭٭

میچ فکسنگ کا پردہ 90کی دہائی فاش ہوا تھا جب راشد لطیف اور باسط علی نے فکسنگ کے حوالے سے کئیشکوک کااظہار کیا۔بعدازاں عامر سہیل نے بھی اس عفریت کے بارے میں اظہار کیا لیکن یہ تمام کیفیات مبہم سی رہیں لیکن پہلے پتھر مارنے کے مصداق راشد لطیف،باسط علی اور عامر سہیل کا کردار اور ہمت داد کی مستحق ہے کہ ان کھلاڑیوں نے اپنے کیریئر کی پرواہ نہ کرتے ہوئے 1994ء سے2000ء کے دوران مختلف جگہوں پر فکسنگ کی نشاندہی کی، مگر اس دور میں ان کی بات پر کسی نے کان نہیں دھرے۔اگر اُس دور میں شفاف انکوائری کی جاتیں اور کرپٹ کھلاڑی پہلے ہی پکڑے جاتے تو شاید وطن عزیز مزید کسی بدنامی سے بچ جاتا۔

ایک فکسر کا انکشاف
ویسے توسٹے بازوں کا طریقہ واردات مختلف ہوتا ہے،ایک جواری (فکسر)کے مطابق ،’’میچ فکسنگ کے ذمہ دار کھلاڑی اورمینجمنٹ دونوں ہیں۔ سٹے باز اپنی مرضی کے کھلاڑیوں سے رابطے میں ہوتے ہیں اور اسی ہوٹل میں ٹھہرتے ہیں جہاں کھلاڑی ہوتے ہیں‘‘۔

اینٹی کرپشن کا کام کھلاڑیوں کو سٹے بازوں سے بچانااور ملک میں سٹے بازوں کو گرفتار کرنا ہوتا ہے لیکن ہمارے ہاں ایسا کرنے کا کوئی قانون موجود نہیں ہے۔ میچ فکسنگ روکنا ممکن نہیں لیکن کھلاڑیوں کو اس سے بچانا ہی اصل ذمہ داری ہے۔
 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Rehman Mehmood Khan

Read More Articles by Rehman Mehmood Khan: 38 Articles with 22203 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
21 Feb, 2017 Views: 631

Comments

آپ کی رائے